انتقامی سیاست اور منقسم معاشرہ
ملک کی سیاسی صورت حال انتہائی مخدوش ہے سیاست میں نفرت اور ذاتی انتقام کا جذبہ خوف ناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس سیاسی رسہ کشی میں ہمیشہ کی طرح پسنے والا ایک مظلوم طبقہ یعنی عوام ہی ہے۔ پاکستان میں فروری 2024 کے عام انتخابات میں بد ترین دھاندلی کے بعد سے ایک ایسی سیاسی جنگ کا آغاز ہوا ہے کہ جس کا بظاہر کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔ ایک بڑی سیاسی جماعت اور اس کے سیاسی کارکنان مسلسل عتاب کا شکار نظر آتے ہیں جن کو شکایت ہے کہ ان کے ووٹوں پر حکومت وقت نے طاقت والوں کی مدد سے ناجائز طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ جو دراصل ان کا ہی مینڈیٹ ہے ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں محض سترہ سیٹوں کے ساتھ حکمرانی کی کرسی پر براجمان ہوا جا سکے۔
دھاندلی زدہ الیکشن کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں دھاندلی کا یہ الزام ہر ہارنے والی جماعت ہمیشہ ہی عائد کرتی چلی آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں حقیقتاً دھاندلی ہوئی ہے اور ریکارڈ لیول کی ہوئی ہے۔ ایک سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان غیر قانونی طور پر چھیننے اور گم نام نشان الاٹ کیے جانے کے با جود اس جماعت سے وابستہ امیدوار نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ گم نام نشانوں کو بھی ایک نئی پہچان بھی ملی۔ اگر یہ واقعی شفاف انتخابات ہوتے تو ان کے نتائج فارم پینتالیس کی بجائے فارم سینتالیس پر جاری کرنے کی نوبت ہرگز نہ آتی اور حتمی نتائج مینیج کرتے کرتے ایک مہینے کا عرصہ ہرگز نہ لگتا۔
گزشتہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے یا نہیں تھے اس کی جنگ لڑنے کے لئے سیاسی جماعتیں اور طاقتور حلقے ہی میدان میں موجود ہیں اور جب تک ملک کے سیاسی اکابرین یہ جنگ لڑنے کے لئے اور سیاسی درجہ حرارت کو بڑھاوا دینے کے لئے میدان میں موجود ہیں عوام بس لسی پی کر آرام ہی کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ وہ اس لئے کہ ہمارے ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے ایک سابق وزیراعظم صاحب نے ”چاہ یوسف“ سے صدا دی تھی کہ فرانس اور پاکستان کے حالات یکسر مختلف ہیں اس لئے انقلاب کی بے پرکی اڑانے والوں کی باتوں پر جو بھی یقین رکھتے ہیں وہ محض دیوانے ہیں۔
خیر سیاست اس وقت ہمارا موضوع گفتگو ہرگز نہیں ہے بلکہ سیاست میں پولرائزیشن یعنی سیاسی تفرقہ بازی اور تقسیم ہمارے موضوع کا حصہ ہے کیونکہ ملک کی موجودہ سیاست میں نفرت اور عدم برداشت کا جو وائرس سیاسی جماعتوں سے منتقل ہوتے ہوتے ورکرز اور عوام کے اندر دیکھنے میں آیا ہے یہ ایک خطرناک رجحان کو فروغ دیتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس سیاسی جارحیت کے نتیجے میں ملک کے چاروں صوبوں میں ہی ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جہاں عدم برداشت کے باعث جو لوگ پہلے ہی سے صوبائی، لسانی اور مذہبی فرقوں میں بٹے ہوئے تھے اب سیاسی طور پر بھی بری طرح منقسم اور کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں ایسے مصروف نظر آتے ہیں کہ اخلاقیات اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ مغلظات اور بد کلامی پہ مبنی بدنما حروف انگلیوں کی پوروں سے اگلتے ہاتھوں کو یہ خبر بھی نہیں رہتی کہ کندھوں پہ سوار منکر نکیر کے ہاتھوں میں جو قلم کاغذ موجود ہے وہ مسلسل مصروف عمل ہیں ہر بات درج ہو رہی ہے ہر ثبوت ان کے خلاف تیار ہو رہا ہے۔
رمضان کے مقدس مہینے میں بھی گالم گلوچ سے اور باہمی تفاوت سے خود کو باہر نہیں نکال پائے۔ ایسی قوم جس میں اتفاق، یکانگت باہمی اخوت کا جذبہ نا پید ہو وہ قوم نہیں رہتی بلکہ ایک منتشر اور بے ہنگم ہجوم بن جاتی ہے۔ اور اپنے اوپر محکومیت اور مظلومیت کی چھاپ لگا کر ظالموں کو خود پر حکومت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور اپنی اس اندھا دھند سیاسی تقلید پر بہت مطمئن بھی رہتی ہے یعنی دوسرے الفاظ میں وہ قومیں جو اصلاح احوال کی حامی نہ ہوں شعور تہذیب اور تعلیم کی اہمیت سے نا واقف ہوں جو اچھائی اور برائی میں فرق نہ جان پائیں جو سوشل میڈیا پر بے لگام ہو کر ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی میں مصروف رہیں جو چھوٹے چھوٹے دو تین سال کے بچوں کو گالیاں سکھا کر ان کی ویڈیوز بنا کر اور بیک گراؤنڈ میں ہنسی والی ریکارڈنگز لگا کر اس معصوم بچے کی لا علمی سے محظوظ ہوتے ہوئے صرف اور صرف ویوز بڑھانے کے چکر میں اس کی اخلاقی تربیت کو پس پشت ڈال دیں اور عملی زندگیوں میں ان کے پاس ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے کے سوا اور کوئی ڈھنگ کا کام نہ ہو تو ایسی قومیں تہذیب و ترقی میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔
بحیثیت قوم ہم وہ لوگ ہیں جنہیں سڑک کنارے بے وجہ جمع ہو کر گھنٹوں کھیل تماشے دیکھنے کی فرصت تو ہوتی ہے مگر کسی اچھے مقصد کی خاطر ایک جگہ جمع ہونے یا کسی ایک بات پر متفق ہونے کا حوصلہ بالکل بھی موجود نہیں ہے۔ ہمارے بارے میں ہر خاص و عام کو یہ کہنے کا پورا پورا حق ہے کہ یہ قوم ایسی ہر گز نہیں ہے جس کے اندر خود کو خواب غفلت سے جگانے کا جذبہ یا احساس موجود ہو اس لئے حکمران انہیں سکون کی لسی پلا کر اور آپسی اختلاف میں الجھا کر خود آرام سے فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا کے مصداق ”سیاسی صحافیوں“ اور ”دروغ گو راویوں“ کے ہاتھوں اپنی مرضی کے سیاسی بیان دلوا کر ہم پر حکمرانی کے ذریعے عیش و عشرت میں مصروف ہیں اور عوام بیچارے جو پہلے غربت، بے روزگاری، اور مہنگائی کا رونا روتے تھے اب ان پر آپسی اختلاف تعصب و تفریق کی جنگ بھی مسلط کر دی گئی ہے تاکہ یہ سب چیزیں اور مسائل انہیں اتنا مصروف کر دیں کہ حکومت کی بری کارکردگی کے خلاف مل جل کر آواز بھی بلند نہ کر سکیں۔
افسوس اسی بات کا ہے کہ سیاسی جماعتیں تو ہمیشہ سے ہی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہتی تھیں مگر اب عوام بھی آپس میں بر سرِ پیکار ہیں۔ باہمی نفرتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں پرانے رشتے اور تعلق ایک پل میں ختم کر دیے جاتے ہیں یعنی آپس کی دوستیاں اور رشتے داریاں بھی اس سیاسی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی تقسیم اور نفرت کی زہریلی فضا سے آزاد ہونے کی خاطر اور ماحول کی تلخی کو کم کرنے کے لئے ہر ایک شخص کو اپنی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہیے معاشرے کی اصلاح کے لئے عوامی سطح پر سب کو اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سیاست میں دلچسپی لینا اور اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنا ہم سب کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اپنی مرضی سے اپنی سیاسی جماعت کو ووٹ ڈالنا بھی نہ صرف عوام کا حق ہے بلکہ یہ ہمارا قومی فرض بھی ہے کہ ملک کی بہتری اور جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنے ووٹ کی طاقت کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اس کا استعمال بھی لازمی کریں۔ مگر اس حوالے سے اپنے آپ کو نفرت، بد کلامی اور حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی سیاسی منافرت اور تقسیم سے محفوظ رکھیں اور ایک بہتر اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں انفرادی طور پر اپنا اپنا کردار ادا کریں کیونکہ انفرادی سطح کی کوشش ہی اجتماعی بہتری کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔


