کوکھ کا ادل بدل (افسانہ)
شہر کی آبادی سے میلوں دور دشوار گزار راستوں سے گزر کر دھن آباد گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھیں۔ چند سو نفوس پر مشتمل اس گاؤں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فطری اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ، معاش کھیتی باڑی تھا۔
کچھ لوگ شہر میں جا کر نوکری بھی کرتے تھے۔ سال دو سال بعد پیسے کما کر گاؤں آتے تو ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی۔ شہر میں جوتیوں کی نوک پر رہنے والوں کو سر آنکھوں بٹھایا جاتا۔ بس یہی ایک بات ان کو شہر لوٹنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
یہاں کوئی ہسپتال یا ڈاکٹر نہیں تھا، لوگ قدرت اور قسمت کے رحم و کرم پر تھے۔ ہسپتال شہر میں تھا اور مریض کو شہر لے جانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میلوں پیدل چلنے کے بعد انہیں کچی سڑک پر تانگے اور گدھا گاڑیاں نظر آتیں ان پر سوار ہو کر بس اڈے پر پہنچتے اور بس میں بیٹھ کر چار گھنٹے بعد وہ شہر کی حدود میں داخل ہوتے۔
شدید بیمار ہو کر جب مریض بے ہوشی کی حالت میں پہنچ جاتا تب ہی اسے ہسپتال لے جانے کے انتظامات کیے جاتے۔ گاؤں کے باسیوں کو شہر جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ مگر اس کا موقع انہیں کسی مریض کے بسترِ مرگ پر آ جانے کی صورت ہی میں ملتا تھا۔ کسی کو ہسپتال لے جانا ہو یا کسی کو ہسپتال دیکھنے جانا ہو، یہ ان کے لئے سب سے بڑی تفریح تھی۔ شہر کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے اپنا بہترین لباس زیب تن کرتے، ضرورت بھر کھانے پینے کی اشیا ساتھ لیتے اور مریض کو چارپائی پر ڈال کر روانہ ہو جاتے۔ سارے سفر کے دوران وہ مریض کی حالت سے بے خبر رہنے کی کوشش کرتے مبادا مریض کی حالت بہتر ہو جائے یا کہیں وہ مر جائے ایسی صورت میں انہیں آدھے راستے ہی سے لوٹنا پڑے اور ان کی پکنک ادھوری رہ جائے۔ اور اگر مریض ہسپتال میں داخل ہو جاتا، تب تو گاؤں بھر کے مزے آ جاتے، گاؤں کی عورتوں اور بچوں کے لئے شہر جانے کا بہانہ ہاتھ آ جاتا، وہ گاؤں سے شہر جانے کے لئے خوشی خوشی تیار ہو جاتے۔
عورتیں گہرے لال رنگ کی سرخی ہونٹوں اور گالوں پر لگا کر شرمائی رہتیں اونچی ہیل کی سینڈل اپنے سامان کے ساتھ ضرور رکھتیں، جو وہ ہسپتال کے گیٹ پر ہی پہن لیتیں اور ٹھک ٹھک کرتی کسی کی رہنمائی میں اپنے مریض کے کمرے تک اتراتی ہوئی پہنچ جاتیں۔
دھن آباد گاؤں میں ایک ہی تجربہ کار دائی تھی جو حاملہ عورتوں کے معاملات دیکھا کرتی تھی۔ کچھ سالوں سے وہ جنون کے مرض میں مبتلا تھی۔ دن کے اوقات میں اگر عورتوں کو ضرورت پڑے تو کوئی عورت مل نہ پاتی تھی کیوں کہ ساری عورتیں کھیت میں کٹائی کرتیں۔
نصیبہ پندرہ برس کی تھی، جب اس نے ایک بچے کو جنم دیا، مگر کوکھ اس کی نہیں اس کی ماں کی تھی۔ وہ اتنی بڑی ضرور ہو گئی تھی کہ بچہ پیدا کر سکتی تھی۔ نصیبہ کی نانی گاؤں میں تھی اور اس کی دادی گزر چکی تھی۔ مٹھی کے اچانک درد شروع ہوئے تو اس نے نصیبہ کو ہی اپنے قریب بٹھا لیا۔ جب مٹھی کی درد میں ڈوبی پھنسی پھنسی کراہوں میں اچانک ہی زور دار چیخ نصیبہ نے سنی تو وہ حیران رہ گئی بچہ دینے سے پہلے بالکل ایسی ہی چیخ اس کی بکری کے منہ سے بھی نکلی تھی۔ تخلیق کا عمل انسانوں اور جانوروں میں کتنا یکساں ہے۔ ماں کا چہرہ تکلیف کی شدت سے سیاہ پڑ گیا تھا۔ اچانک دوسری بھیانک چیخ کے ساتھ ہی گوشت کا ایک ننھا لوتھڑا اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ مٹھی نے اپنے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر ایک قینچی اٹھائی اور نصیبہ کی طرف اچھال دی۔ نصیبہ نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا۔
”الگ کر اس کو“ مٹھی نے بیزاری سے کہا۔ نصیبہ کو اب بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔
”اس کی ڈور کاٹ دے“ ۔ مٹھی بولی۔
”اف!“ نصیبہ لرز گئی لیکن یہ کام تو کرنا ہی تھا۔ اس نے ناف کاٹ کر بچے کو ماں سے علیحدہ کیا۔ ڈھیروں خون فرش پر بہہ رہا تھا موٹے موٹے خون کے لوتھڑے اسے سخت کراہیت محسوس ہوئی۔
”ماں بھی بکری ہی ہے“ ۔
اس نے حقارت سے ماں کو دیکھا، اس کا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا، مگر سمندر کی طرح پرسکون ہو چکا تھا۔
ماں نے ہاتھ کی انگلیوں کو نچا کر بچے کی طرف اشارہ کیا۔ مگر وہ کچھ نہ سمجھی ماں نے کانپتے ہوئے ہونٹ ہلائے۔
”کیا ہے“ ؟
نصیبہ نے ننگے پڑے ہوئے بچے کی ٹانگوں کے بیچ میں دیکھا۔
”لڑکا ہے ماں“ ۔
اس نے بیزاری سے کہا، کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اسے ہی اب یہ گند صاف کرنا پڑے گا، جس طرح اپنی بکری کا کیا کرتی تھی۔
لڑکے کا سن کا مٹھی کے چہرے پر خوشی کی لہر آ گئی، وہ مسکرانے لگی۔ نصیبہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی ماں لڑکے بنانے کی فیکٹری تھی، جو کئی سالوں سے لڑکے بنا کر نکال رہی تھی۔ نصیبہ اسے مسکراتے دیکھ کر چڑ گئی۔ سوائے اس کے اس گھر میں سبھی لڑکے تھے، مٹھی نے یہ ساتواں لڑکا پیدا کیا تھا اور ہر لڑکے پر پہلے سے زیادہ خوش ہوتی تھی۔
نصیبہ کو آج سے پہلے اندازہ نہیں تھا کہ بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں۔ جب کبھی ماں کے بچہ ہوتا، وہ سمجھتی کہ چھت سے ٹپک پڑتا ہو گا جب ذرا بڑی ہوئی تو خیال آیا کہ اس کی نانی ماں کا پیٹ کاٹ کر بچہ نکال لیتی ہوگی۔
مگر توبہ، ماں اور بکری میں تو کوئی فرق ہی نہیں بلکہ ماں اور یہ بچہ تو بکری اور اس کے بچے سے کہیں زیادہ غلیظ ہیں، اسے الٹی آنے لگی۔
بکری کا بچہ تو پیدا ہوتے ہی کھڑا ہونے کی کوشش کرتا تھا، تھوڑی دیر بعد ہی وہ لڑکھڑا لڑکھڑا کر چلنے لگتا اور دو گھنٹے کے اندر ہی وہ اچھلنے کودنے لگتا۔ وہ منحوس تو بس روئے ہی جا رہا تھا۔ اس نے فرش پر پانی بہا کر جھاڑو اٹھا لی۔ مٹھی بھی کراہتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ موت کو شکست دے کر بچہ جننا، درد سہنا، درد میں رہنا اس کے لیے جیسے معمول کی بات تھی۔ اس نے سنبھل کر دونوں ہاتھوں سے بچے کو اٹھایا اور اسے اپنے پیروں پر رکھ کر اس کے سر پر پانی ڈالنے لگی۔
دھڑ دھڑ۔ دھڑا دھڑ۔ دروازے پر ہتھوڑے برس رہے تھے۔ بچوں کے شور کی آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ نصیبہ جلدی جلدی فرش پر ہاتھ چلانے لگی۔
”دروازہ کھول دے نصیبہ ورنہ یہ مردار دروازہ توڑ ڈالیں گے“ ۔
مٹھی نے بچے کے سر پر تولیہ رکھ کر کہا۔ سردی کے مارے بچہ کانپ رہا تھا اب اس کی آواز بھی بند ہو گئی تھی۔ مٹھی نے اپنا دوپٹہ اٹھا لیا اور بچے کو کس کر لپیٹنا شروع کر دیا۔ بچے نے دوبارہ رونا شروع کر دیا۔ اب دروازے کو دھکے دیے جا رہے تھے۔
نصیبہ نے جھاڑو ایک طرف رکھی اور دروازے کی کنڈی کھول دی۔ بچوں کا سیلابی ریلا تیزی سے اندر داخل ہوا۔
مٹھی بچے کو باندھ چکی تھی اور اب اسے دودھ پلانے کی تیاری کر رہی تھی۔ بچے اس کے پلنگ کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔
”اماں بھائی دکھاؤ“ ۔ سب سے بڑا بچہ بولا۔
”تجھے کیسے پتہ بھائی ہے“ ؟ نصیبہ نے اسے ہلکی سی چپت لگائی۔
”مجھے پتہ ہے بس“ ۔ وہ اکڑ کر بولا۔
”اماں میں صحیح کہہ رہا ہوں نا“ ؟ اس نے مٹھی کی طرف دیکھا۔
مٹھی نے اثبات میں سر ہلا دیا اور بچے کو لے کر لیٹ گئی۔
بھائی ہونے کی تصدیق کیا ہوئی ایک بھونچال آ گیا ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سارے بچے بھنگڑا ڈالنے لگے۔ طاقت کا احساس ان بچوں میں دو گنا ہو گیا تھ اماں مسلسل انہیں بے جان آواز میں تنبیہ کرتی رہی مگر وہ کہاں ٹلنے والے تھے۔
نصیبہ نے فرش سے جھاڑو اٹھائی اور انہیں مارنا شروع کر دیا۔ مگر یہ تو ان کے لیے ایک نیا کھیل شروع ہو گیا۔ انہوں نے جھاڑو سے بچنے کے لیے پورے کمرے میں دوڑنا شروع کر دیا۔ مٹھی اس شور سے نڈھال ہو گئی مگر اب اس میں آواز نکالنے کی بھی سکت نہ تھی۔
اچانک کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ بچے جہاں تھے وہیں جم کر رہ گئے۔ نصیبہ ہاتھ میں جھاڑو کو جھنڈے کی طرح پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔ مٹھی کو اس سکوت میں بے چینی کا احساس ہوا۔ اس نے بچے کو خود سے علیحدہ کیا اور کروٹ بدل کر دیکھا۔
انور کھڑا تھا۔ انور شہر میں کنڈکٹری کیا کرتا تھا، آٹھ نو ماہ بعد وہ دو تین دن کے لیے گھر آتا تھا۔
”ارے کیا ہو رہا ہے یہاں، بھاگو یہاں سے سب“ ۔ وہ چلایا۔ سارے بچے دم سادھے کمرے سے نکل گئے۔
انور صورتِ حال بھانپ کر بیتابی سے مٹھی کی جانب لپکا، مٹھی اس کی بیتابی کا مطلب اچھی طرح سمجھتی تھی۔
”لڑکا ہے“ ۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر انور کو تسلی دینے کے انداز میں کہا۔
”کب ہوا“ ؟ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھیلا ایک طرف رکھ دیا اور مٹھی کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
”ابھی تھوڑی دیر پہلے“ ۔ مٹھی نے بچے کا سر مٹی کی چھوٹی سی تھالی پر رکھتے ہوئے جواب دیا۔
”اچھا! پر کیسے۔ ؟ کون آیا تھا“ ؟ انور نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
”نصیبہ کو بٹھا لیا تھا پاس“ ۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔
”ارے، پر“ ۔ وہ حیران نظروں سے نصیبہ کو دیکھنے لگا۔
”او کوئی بات نہیں گاؤں کی اکثر بیٹیاں اپنی ماؤں کے بچے جنتی ہیں۔ مجبوری ہو تو کیا کرے“ ۔
انور نے غور سے نصیبہ کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی چلا گیا بچہ تو اس کی بیوی نے پیدا کیا تھا مگر ماں نصیبہ بن گئی تھی۔ اس نے آج جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس کا عکس اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ اس کے چہرے کی معصومیت کمرے میں پھیلے گند کی طرح غائب ہو گئی تھی۔ وقت کی سوئیوں نے ابھی دو گھنٹے بھی مکمل نہ کیے تھے، مگر نصیبہ وقت کی حدود پھلانگ کر بہت آگے نکل چکی تھی۔ چہرے پر پکا پن آ گیا تھا۔ شاید انور نے اسے بہت دن بعد دیکھا تھا یا وہ اس تجربے سے گزر کر ایک دم بڑی ہو گئی تھی۔ انور نے حیرانی اور خوشی کے بھرپور احساس کے ساتھ اسے گلے لگا لیا۔ لمبی چوڑی نصیبہ کے جسم سے آنچ اٹھ رہی تھی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنے کندھے پر پڑے ہوئے رومال سے اپنے چہرے کا پسینہ صاف کیا۔ اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ نصیبہ اس کی بیٹی نہیں تھی، جب اس نے مٹھی سے شادی کی تھی تب نصیبہ چھ سال کی تھی۔ آج تک وہ اسے اپنی اولاد کی طرح سمجھتا رہا تھا۔ مگر آج اس کے جسم کی دہک نے اس کے دل و دماغ میں ہل چل مچا دی تھی۔ اس نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا، اپنے اوپر لعنت بھیجی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
اس بار انور نے پورے دو ماہ گاؤں میں گزارے۔ شادی کے بعد یہ دوسری بار تھا۔ جب اس نے اتنا عرصہ گاؤں میں گزارا۔
مٹھی پھر امید سے تھی اور نصیبہ خوف سے دو چار۔ جسم پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ کس سے کہتی، کیا کہتی۔ ماں کا ساتوں مہینہ چل رہا تھا۔ مگر وہ اپنا حساب بھول گئی تھی۔ جب اس کا پیٹ جسم کی حدود سے باہر آنے لگا تو بھائیوں نے اسے پیٹو پیٹو کہہ کر چھیڑنا شروع کر دیا۔ اس کا صرف اپنے آنسوؤں پر ہی بس چلا۔ ماں نے اسے روتے دیکھا تو اسی پر چلانا شروع کر دیا۔ روتی کیوں ہے تو، یہ تجھے ویسے ہی چھیڑ رہے ہیں۔ نصیبہ نے اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ تو مٹھی نے اٹھ کر ایک بچے کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیا۔
”بول اب چھیڑے گا بول“ ۔
”تو پھر اس کو منع کرو نا یہ اتنا کیوں کھاتی ہے“ ۔
”اس کا پیٹ تو دیکھو“ ۔ بچہ پھر بھی باز نہ آیا۔
”چل بھاگ یہاں سے دفع ہو جا“ ۔ مٹھی نے چلا کر کہا۔ نصیبہ روئے جا رہی تھی۔
”بس اب تو چپ ہو جا، آئندہ نہیں چھیڑیں گے، یہ پر واقعی تیرا پیٹ تو سچ مچ بہت نکل آیا ہے اتنا بھر بھر کے کھاتی بھی تو ہے تو“ ۔
نصیبہ نے اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔
ایک رات جب وہ سو رہی تھی مٹھی نے اس کے جسم پر سے چادر کھینچ لی۔ ماں کے مارنے پیٹنے پر بھی وہ کچھ نا بتا سکی بتاتی بھی تو کیا۔
انور آیا ہوا تھا۔ رات کا وقت تھا سب سو رہے تھے درد کی شدت سے نصیبہ نڈھال تھی اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو گھسیٹا اور ماں کے پاس چلی آئی مٹھی گہری نیند میں تھی۔
”ماں! ۔ ماں“ ۔ شدید تکلیف کے باعث اس کے منہ سے الفاظ نکل رہے تھے اور نہ ہی وہ مٹھی کو جھنجھوڑ پا رہی تھی، وہ بری طریقے سے کانپ رہی تھی۔
”ماں“ !
اس بار اس نے اپنی پوری طاقت استعمال کی۔ انور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ نصیبہ کو اس حالت میں دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔ اس نے زور زور سے مٹھی کا شانہ ہلایا۔ مٹھی نے آنکھیں کھولیں اور انور کی طرف دیکھا۔ انور نے اپنے ہاتھ سے نصیبہ کی طرف اشارہ کیا۔ مٹھی نصیبہ کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھی۔ چل چل تو کمرے میں چل۔ میں ابھی آتی ہوں۔
کیا ہوا؟ انور نے پوچھا۔
وقت ایسا تھا اب یہ راز چھپایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے انور کو ساری سچائی بتا دی۔ مگر انور نے بڑی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے نہ تو مٹھی کی تربیت کو ذمہ دار ٹھہرایا نہ ہی نصیبہ کو برا بھلا کہا۔ اس کے بر خلاف اس نے مٹھی کو تسلی دی۔ اور مشورہ دیا اپنا بچہ پیدا ہونے تک بچے کو ہر صورت میں چھپا رکھا جائے اور جب مٹھی کا بچہ ہو تب دونوں بچوں کو جڑواں ظاہر کیا جائے۔ مٹھی انور کے اس طرزِ عمل پر حیران بھی تھی اور شکر گزار بھی۔
ایک سال قبل جس کمرے میں نصیبہ نے اپنی ماں کو مدد فراہم کی تھی آج وہی مدد نصیبہ کو چاہیے تھی۔ درد کے مارے نصیبہ کی زور دار چیخ نکل گئی۔ مٹھی نے اس کے منہ پر کس کے ہاتھ رکھ دیا۔
نصیبہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔ مٹھی خود حال سے بے حال تھی۔ مگر فطرت کے اپنے کام ہیں اور اپنے حساب۔ چند ہی لمحوں بعد اس کا ظہور ایک بچے کی صورت، چادر پر پڑا تھا۔
مٹھی نے میز پر پڑی ہوئی قینچی اٹھائی اور بچے کو نصیبہ سے الگ کر دیا۔
”لڑکا ہے“ ۔ مٹھی نے ہلکی آواز میں کہا۔
”مجھے پتہ تھا ماں“ ۔ نصیبہ نے بچے کی طرف۔ مٹھی اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
پانچ روز نصیبہ کمرے میں بند رہی۔ ماں نے بچوں سے کہہ دیا کہ نصیبہ کو پھلری نکلی ہے، سب کو ہو جائے گی۔
پانچویں روز مٹھی نے بھی ایک بیٹے کو جنم دیا۔
بچے اس بار اپنے دو بھائیوں کی آمد کا سن کر خوشی سے ایسے پاگل ہوئے کہ باپ کا رعب بھی کام نہ آیا۔
بچہ پیدا ہونے کے چار ماہ بعد مٹھی نے نصیبہ کی شادی کردی۔ نصیبہ کا میاں چوبیس برس کا ایک دھان پان سا لڑکا تھا، اسے نصیبہ کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ گزرا۔ نصیبہ اپنے سسرال میں ایک سال سکون سے رہی پھر اس کی ساس کے دل میں پوتا، پوتی کی خواہش نے ایسا سر اٹھایا کہ اس نے نصیبہ کی زندگی اجیرن کردی۔ اٹھتے اٹھتے نصیبہ کو طعنے ملنے لگے۔
نصیبہ کو اپنی زرخیزی کا اچھی طرح علم تھا اس لیے اس نے کڑوی کسیلی باتوں کی طرف توجہ نہ دی۔
جب ساس نے یہ سکون دیکھا تو اس نے بیٹے کے کان بھرنا شروع کر دیے اور اس کے لیے لڑکیاں بھی دیکھنا شروع کر دیں۔ بیٹے کے ہاتھ بھی دوسری شادی کا بہانہ آ گیا۔ اب نصیبہ کا ماتھا ٹھنکا پانی سر سے اونچا ہو رہا تھا۔ اس نے اپنے میاں کو علاج کرانے کا مشورہ دے دیا۔
علاج! اس کے شوہر کے لئے اس لفظ سے بڑی کوئی گالی نہ تھی۔ اس کی مردانگی کو للکارا گیا تھا۔ اس نے نصیبہ کو الٹی میٹم دے دیا، اگر سال کے اندر اس نے بچے کی خوش خبری نہ بنائی تو وہ اسے طلاق دے دے گا۔ نصیبہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ علاج کا مشورہ اتنا مہنگا پڑے گا۔ اسے اپنا گھر بچاتا تھا۔
دو ماہ گزر گئے ان دو ماہ میں وہ اپنے باپ کے گھر کیا رہ کر آئی تھی اس کا نصیبہ ہی کھل گیا تھا، ایک بار پھر وہ ایک بچے کو جنم دینے جا رہی تھی، اس بار اس کے بچے کے باپ کا ٹھپا اس کے شوہر کو مل گیا تھا۔ جس بچے کو اس کی ماں کی کوکھ سے جنم لینا تھا، اب وہ اس کی کوکھ میں تھا۔ کوکھ کا ادل بدل تو معمول کی بات تھی مگر گھر کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا تھا۔

