لوڈشیڈنگ نے کیا کیا خواب ملیا میٹ کر دیے
کیا مسئلہ ہے گھر آؤ تو لائٹ نہیں ہوتی دفتر میں بھی بجلی سے محرومی سہنی پڑتی ہے، ہوا خوری کے لیے باہر بیٹھ نہیں سکتے، ڈاکو تاک لگائے بیٹھے ہیں عمار نے جھنجھلا کر کہا۔ بجلی بندش نے دوسرے لوگوں کی طرح اسے بھی تنگ کر رکھا تھا۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا چلتا ہوا کاروبار بند ہو گیا تھا۔ لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانے کے بعد اس کے پاس اتنا سرمایہ بھی نہیں بچا تھا کہ وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ پروان چڑھا سکے۔ اس نے گھر کا دال دلیہ چلانے کے لیے فیکٹری میں کام شروع کر دیا تھا۔ لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھی انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے فیکٹری ملازم بروقت آرڈرز پورے نہ کر پاتے تو فیکٹری مالکان عملے کی تنخواہ کاٹ لیتے جس کی وجہ سے عمار اور اس جیسے کئی اور ملازم غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے تھے۔
انتہائی غربت کے باوجود بجلی کے اضافی بل بھرنے کے بعد بھی بجلی میسر نہ ہوتی تو عمار کی پریشانی میں دگنا اضافہ ہو جاتا۔ دوسری سہولیات کے ساتھ ساتھ بجلی نے بھی منہ موڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ دن بدن چڑچڑا ہوتا جا رہا تھا۔ ایک بار لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ گھر سے باہر نکلا تھا تو ڈاکو نے اس سے اس کا اکلوتا موبائل چھین لیا تھا۔ یہ موبائل اس نے دفتر اور گھر والوں سے رابطے کے لیے رکھا ہوا تھا مگر موبائل سے محرومی کے بعد وہ فیکٹری والوں کو ایک دن اپنی چھٹی کے بارے میں نہ بتا سکا تھا۔ جس کی وجہ سے اگلے دن اس کی دفتر میں ٹھیک ٹھاک بے عزتی ہوئی اور اس کے علاوہ ایک دن کی تنخواہ بھی کٹ گئی۔ اس نے جب اپنے انچارج کو بتایا کہ اس کا موبائل چھن چکا ہے اس وجہ سے وہ چھٹی کے بارے میں نہیں بتا سکا تھا۔ لیکن اس کے افسر نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، ہمیں صرف کام چاہیے ہمیں تم لوگوں کی مجبوریوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم نے کوئی فلاحی ادارہ نہیں کھول رکھا۔ وہ یہ سب سنتا رہا کیونکہ یہ نوکری کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ اس نے اور اس جیسے کئی ملازمین نے اس نوکری کے بدلے اپنی عزت نفس گروی رکھی ہوئی تھی۔
عمار کا بھائی سمیر بھی حالات کا ستایا ہوا تھا وہ ایک درزی تھا لیکن لوڈشیڈنگ اس پر بھی قہر بن کر ٹوٹی تھی۔ جب شہر میں پندرہ پندرہ گھنٹے بجلی نہ ہوتی تو ان کا کام کیسے چلتا؟ کپڑوں کی سلائی میں تاخیر پر اس کی گنی چنی تنخواہ سے بھی کٹوتی کردی جاتی۔ ان پیسوں سے بمشکل اس کا کرایہ نکل پاتا۔ وہ اس قدر مجبور ہو گیا تھا کہ گھر کے خرچوں میں اپنے بھائی کا ہاتھ بھی نہ بٹا پاتا تھا۔ اس کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی تھی۔ وہ کام کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ لیکن بھاری بھرکم فیسوں کی وجہ سے اسے اپنی تعلیم کی بھی قربانی دینی پڑی۔ ان حالات کی وجہ سے اس کی منگنی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ وہ ہر امید کا دامن تھامتا کہ اب شاید قسمت بدل جائے۔ وہ اچھے حالات کا منتظر تھا۔ مگر لوڈشیڈنگ اور بڑھتی مہنگائی نے اس کے سارے خواب ہی ملیا میٹ کر دیے تھے۔
سمیر کا دوست مدثر جو فوڈ ڈیلیوری بوائے تھا۔ وہ بھی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے گورکھ دھندے میں پس کر رہ گیا تھا۔ اس کا کام ہی سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے چلتا تھا۔ مگر لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ اکثر اپنا موبائل فون چارج نہیں کر پاتا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کے حصے کا کام کسی اور کو مل جاتا تھا۔ اور وہ معاوضے سے محروم رہ جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے بوڑھے والد کا علاج نہیں کروا پا رہا تھا۔ اس مفلسی اور بے بسی نے اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ والد کا سہارا بننے کی کوشش کرنے والا مدثر تب ہار گیا جب وہ اپنے والد کا علاج نہیں کروا پایا تھا۔ اس کے والد مسیحائی کے لیے راہ تکتے تکتے پیسوں کی کمی کی وجہ سے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ صرف عمار، سمیر اور مدثر کی کہانی نہیں۔ بلکہ کراچی اور دیگر شہروں کے ان مکینوں کی داستان ہے جو لوڈشیڈنگ سے متاثر ہیں۔ کہیں بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے تعلیمی سلسلے میں خلل پڑ رہا ہے تو کہیں گھریلو امور بھی لائٹ کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ کہیں دفاتر میں کام نہیں چل رہا تو کہیں لوڈشیڈنگ رشتوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ بجلی بنانے والی کمپنیاں بل تو وقت پر بھیج دیتی ہیں لیکن بجلی کی فراہمی انہیں یاد نہیں رہتی۔


