پیکا“ ۔ بھیا! ای کا ہے؟”


جب ”پیکا“ کے چرچے سُنے تو ہم سوچ میں پڑ گئے کہ بھیا! ”ای کا ہے؟“ کھا پی کر اونگھتے اور بس پی کر جھومتے لوگ دیکھے، لیکن یہ ”پی کر“ ہے نہ ”پی کے“ ، خواتین دوپٹے سنوارنے کے لیے ان پر پیکو کرواتی ہیں، لیکن ”پیکا“ کا سنوارنے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ خیال آیا کہ کہیں یہ ہمارے دوست رفیق عرف فیکا کا چھوٹا بھائی تو نہیں، مگر یہ کسی ”بگ برادر“ کا برادر خورد تو ہو سکتا ہے فیکے جیسے بے ضرر اور بھولے بھالے شخص کا نہیں۔ سوچا شاید یہ لفظ پھیکا ہے، جسے لوگ غلطی سے پیکا کہہ رہے ہیں، اور پھیکا ہے اسی لیے کسی کو پسند نہیں آیا۔

آخر عقدہ کھلا کہ یہ ایک قانون ہے، جس کا مقصد ’فیک نیوز‘ یعنی جعلی اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دلوانا، مسلح افواج، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیرقانونی مواد کو بلاک کرنا، پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ کی جانب سے حذف کیے گئے مواد کو سوشل میڈیا پر نشر و شائع کرنے کی روک تھام اور پابندی کا شکار اداروں یا شخصیات کے بیانات کی سماجی میڈیا پر اشاعت روکنا ہے۔ اس قانون کے منظور ہوتے ہی جس ’شہباز اسپیڈ‘ سے اس کا اطلاق ہو رہا ہے یہ تیزرفتاری شہباز شریف کے طرز گفتار، بانی پی ٹی آئی کے یوٹرن کی رفتار، ایم کیو ایم کے اقتدار میں رہنے سے انکار اور اقرار، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہار، پانی کی دھار، ساس بہو کی تکرار یعنی مشاہدے میں آنے والی ہر تیزی سے زیادہ تیز ثابت ہوا ہے۔

پیکا کے ظہور میں آتے ہی راولپنڈی کے ایک شہری کے خلاف ٹک ٹاک پر ایک وڈیو اپ لوڈ کر کے ٹریفک پولیس کی کردارکشی کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اسے ٹریفک پولیس کے خلاف نفرت پھیلانے کا ملزم قرار دیا گیا۔ شکر ہے مقدمے کی کارروائی فوری ہو گئی ورنہ عوام ٹریفک پولیس سے جتنی محبت کرتے ہیں اس میں ذرہ برابر بھی فرق آ جاتا تو بہت بُرا ہوتا، ہمارا ملک پہلے ہی نازک موڑ سے گزر رہا ہے، ایسے میں ٹریفک پولیس پر حرف گیری ملک کے ہر موڑ کو نازک بنا سکتی ہے۔ ویسے ٹریفک پولیس سے عوام کی محبت اتنی شدید ہے کہ ایک آدھ وڈیو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، ہم نے خود دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس والے گاڑیاں روک روک کر سواروں کو کچھ دیر آرام کی سہولت فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور لوگ جگہ جگہ گاڑی اور موٹرسائیکل کھڑی کر کے ٹریفک پولیس کے اہل کاروں سے ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں۔

ایک اور مقدمہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے ایک صاحب کے خلاف درج کیا گیا، جنھوں نے رمضان کے چاند کے اعلان میں تاخیر کرنے پر علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مقدمہ زدہ صاحب کو چاہیے تھا کہ علماء کے بجائے براہ راست چاند پر تنقید کرتے، شکوہ کُناں ہوتے کہ ”کیوں دیر اتنی کری، کہاں رہ گئے تھے، کس کے ساتھ تھے، چناں کتھاں گزاری ہئی رات وے، ضرور موئی چکور کے ساتھ کسی پہاڑ کی اوٹ میں چھپے جھوم جھوم کر میں تیرا چاند تو میری چاندنی گا رہے ہو گے یا کسی کل مونہی نے کہہ دیا ہو گا۔ اے چاند! اُن سے جا کر میرا سلام کہنا۔ آتے ہوئے، دھنیا، پودینہ اور دہی بھی لے آنا۔ اور تم جی باجی۔ کہتے ہوئے چل دیے ہو گے۔“ یقین مانیں معصوم سا چاند مقدمہ کرنا تو کجا اس نکتہ چینی کا پلٹ کر جواب بھی نہ دیتا۔

جب ٹریفک پولیس اور رویت ہلال کرنے والے علماء پر حرف زنی قابل تعزیر کر سکتی ہے، تو یہ جان لیں کہ فوج، پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں پر حرف گیری رہی دور کی بات، اب آپ اپنے محلے کے کَلن پنواڑی کے پان میں چونا تیز لگانے، شیر فروش اللّہ دتا کے دودھ میں پانی زیادہ ملانے، پڑوسی بَنّے بھائی کے آپ کے دروازے پر پیک سے نقش و نگار بنانے اور خالہ بتولن کے سموچی کمیٹی کھا جانے جیسے معاملات پر بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھا کر ”اٹھ سکتے“ اور پیکا کی پکڑ میں آسکتے ہیں، جس طرح اب تک دو صحافیوں کو پیکا کا ٹیکا لگایا جا چکا ہے۔ یہ دو صحافی ہی بطور عبرت ہمارے لیے کافی ہیں۔ ان میں سے ایک کے بارے میں بتایا گیا کہ انھوں نے ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا تھا۔ ابھی پیکا کی حقیقت منکشف ہوئی تھی کہ ”ریاست مخالف“ کی اصطلاح نے ہمیں پھر الجھا دیا۔ چلیے آپ کو اس اصطلاح کا مفہوم سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ممکن ہے سمجھاتے سمجھاتے ہماری سمجھ میں بھی آ جائے۔

مخالف کے معنی تو آپ کو معلوم ہی ہوں گے، بس ریاست کی بابت جان لیں۔ جب ہم چھوٹے سے ایک لڑکے تھے، اور ہمارا بڑے بڑے کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اس وقت پی ٹی وی کی ایک مشہور اداکارہ تھیں خالدہ ریاست، ہمیں بے حد پسند تھیں، سو ہمارے لیے ”والدہ ریاست“ کا تصور بھی ایسا ہی تھا خوب صورت، شائستہ، مہذب، خوش گفتار، پُروقار۔ بہت بعد میں پتا چلا کہ ریاست کا اداکارہ خالدہ ریاست جیسا ہونا ضروری نہیں، البتہ اسے ریاست ہونے کی اداکاری ضرور کرنا پڑتی ہے۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ جس طرح انسان کی دو ٹانگیں، چوپایوں کے چار پیر اور سائیکل کے دو پہیے ہوتے ہیں اسی طرح ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں، بعض ریاستوں میں ”تین عورتیں تین کہانیاں“ کی طرح ان ستونوں کی کہانیاں بھی بڑی دردناک ہیں۔ چوں کہ ماہرین سیاسیات نے ریاست کی عمارت کا خاکہ پیش کرتے ہوئے دیگر عمارتی لوازمات جیسے چھت، دروازے، کھڑکی وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اس لیے ہماری ناقص عقل کا تو یہی کہنا ہے کہ یہ ستون کھلے آسمان تلے کھڑے رہتے ہیں، چناں چہ ستاروں کے اثرات، جو علم نجوم کے مطابق ہر شے پر ہوتے ہیں، ان پر بھی ہوتے ہیں، اور کھلے آسمان تلے یوں ننگے پُتنگے مسلسل کھڑے رہنے کی وجہ سے ان پر یہ اثرات کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں، لیکن سب ستاروں کے نہیں صرف ”تھری اسٹار“ اور ”فور اسٹار“ کے۔

ان طے شدہ ستونوں کے علاوہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، تو کُل ملا کر ہوئے چار ستون، ان ستونوں پر بعض ریاستوں میں وہ گزرتی ہے جو ان چار چوہوں پر بھی نہ بیتی ہوگی جو کرنے چلے تھے شکار، یہ چار خود شکار اور ایسے حالات سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ چہار درویش کی طرح اپنی بپتا سنانے کے بھی قابل نہیں رہتے، ایسے میں ان چاروں کی بے چارگی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ یہ ستون لاکھ پتھر کے ہوں مگر وقت پڑتا ہے تو خاکی پیکروں کے ہاتھوں میں موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ ویسے تو یہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھے دیتے مگر موم کی ناک بننے کے بعد ناک کٹوانے اور ناکوں چنے چبانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے اور لیفٹ رائٹ کرتے ناک کی سیدھ میں ”ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے“ کہتے چلتے جاتے ہیں۔ جب کوئی اس چال کو بے ڈھنگی کہہ بیٹھے تو اس کا چال چلن مشکوک ہوجاتا اور وہ ریاست مخالف قرار پاتا ہے، پھر اگر وہ فرار نہ ہو سکے تو اس کا قرار لُٹ جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ بلی خوش قسمت ہے جس کے بھاگوں چھینکا ٹوٹتا ہے، ان دنوں ہمارے ملک میں کوئی بھیگی بلی نہ بنے تو اس پر پیکا کے ٹوٹ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔

اس صورت حال میں ہم سہمے سہمے، پریشان اور شش و پنج میں مبتلا ہیں، بات یہ ہے کہ حکمرانوں کی دیانت، سیاست دانوں کی شرافت، منصفوں کی عدالت، بہت سے صحافیوں کی صداقت اور درجہ اول کے سرکاری افسران کی جرات، امانت اور ملک و قوم سے محبت پر ہم اپنی پوری تحریری اور تخلیقی مہارت کے ساتھ لکھنا چاہتے ہیں، لیکن یہ سوچ کر جسارت نہیں کر پا رہے کہ جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانا جرم ہے۔ پھر سوچتے ہیں کہ یہ مدح سرائی کر ہی ڈالیں، آخر پیکا ہمارے ملک کا قانون ہے، اور ہمارے ہاں بھی قانون اندھا تو ہوتا ہے لیکن وہ اندھا جو اپنوں میں ریوڑیاں اور غیروں میں بیڑیاں بانٹتا ہے۔

Facebook Comments HS