”غالب کے خطوط“ مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
مصنفین:
نذیر علی
سعدیہ اعجاز
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز
یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور
اُردو زبان و ادب کی تحقیق و تنقید میں خلیق انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ خلیق انجم اُردو کے ممتاز محقق، نقاد، مدوِن، ادیب، ماہرِ غالبیات اور انجمن ترقیِ اردو (ہند) کے نائب صدر تھے۔ انجمن ترقیِ اردو کے نائب صدر کے عہدے پر کم عمری میں فائز ہوئے اور اپنے انتقال تک بِراجمان رہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم 22 دسمبر 1935 ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ نام خلیق احمد خان اور ادبی نام ڈاکٹر خلیق انجم تھا۔
ڈاکٹر خلیق انجم کے کارناموں میں سے ان کی چار جلدوں پر مشتمل کتاب ”غالب کے خطوط“ ایک اہم کارنامہ ہے۔ جسے علمی و ادبی دنیا میں تاریخی اہمیت اور غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ اپنی معنوی گہرائی اور ظاہری خوبصورتی کی بنا پر اس شاندار کام کو بے حد سراہا گیا ہے۔ اس نے نہ صرف غالب کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے اور پہچاننے میں مدد دی ہے بل کہ ڈاکٹر خلیق انجم کو غالب شناسوں کی صف اول میں شامل کر دیا ہے۔ مدون نے طویل تحقیق، محنت اور عرق ریزی کے بعد پہلی بار غالب کے تمام خطوط کو سائنسی اور جدید تدوینی اصولوں کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ اس کی اہمیت، انفرادیت اور افادیت کے پیش نظر اسے مستند، معتبر اور دورِ حاضر میں غالب کے خطوط کی تحقیق کا آخری حوالہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں پہلی بار غالب کے خطوط پر گہرے علمی انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ ساتھ ہی اس میں نہایت موثر معلومات اور جامع مقدمہ بھی شامل ہے۔ مقدمے میں غالب کے خطوط سے متعلق تمام پہلوؤں اور مسائل پر علمی و تحقیقی روشنی ڈالی گئی ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ خطوطِ غالب کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کو حقائق اور شواہد کی روشنی میں مکمل طور پر واضح کیا جائے، تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنے وسیع مطالعے اور گہرے مشاہدے کی بدولت اس موضوع کا بھرپور حق ادا کرنے کی سعی کی ہے۔ انھوں نے ان تمام نکات کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے جو غالب کے خطوط کے حوالے سے اب تک پردۂ اخفا میں تھے۔ یہ مقدمہ اس کتاب کی جان ہے۔
تقسیم ہند کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا تھا کہ دہلی میں معیاری نثر نگاری اور اہلِ زبان کی روایت ماند پڑ چکی ہے۔ اس مقدمے کو پڑھنے کے بعد یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو نثر پر مہارت اور زبان و بیان کی قدرت کے لحاظ سے ڈاکٹر خلیق انجم دہلی کی نئی نسل کے بہترین نمائندے ہیں۔ یہ مقدمہ دو حصوں پر مشتمل ہے : پہلا تحقیقی اور دوسرا تنقیدی۔ غالب کے خطوط (جلد اول) کے تحقیقی حصے میں، ابتدا سے لے کر سید مرتضیٰ حسین فاضل کے مرتب کردہ اُردوے معلیٰ تک، تمام مجموعوں کا گہرائی سے علمی اور تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان مرتبین میں عام ناشرین اور معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد سے قطع نظر، چند ممتاز شخصیات بھی شامل ہیں۔ جن میں چوہدری عبدالغفور سرور، منشی ممتاز علی، حکیم غلام رضا خان، محمد عبدالاحد، مرزا محمد عسکری، مولانا امتیاز علی خاں عرشی، مولوی مہیش پرشاد، آفاق حسین آفاق، غلام رسول مہر اور مالک رام جیسے نام نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے مرتب کردہ خطوط کے مجموعوں کا تجزیہ جس انداز میں کیا ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی ان کا متوازن لب و لہجہ اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا ہے۔ انھوں نے نہ صرف تمام مرتبین کی خدمات کا اعتراف کیا ہے بل کہ ان کی خامیوں کی نشان دہی بھی نہایت نرم، درست اور شائستہ انداز میں کی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انھوں نے مولانا امتیاز علی عرشی کے مرتب کردہ مکاتیبِ غالب کے بارے میں لکھا ہے کہ میں پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مکاتیبِ غالب کے کسی بھی سابقہ متن کا اس قدر سائنسی انداز میں تنقیدی ایڈیشن پہلے تیار نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر خلیق انجم نے مرتبین کی تحقیقی کاوشوں، محنت اور عرق ریزی کو سراہتے ہوئے ان کے مرتب کردہ غالب کے خطوط کی اہمیت اور قدر کا تعین کیا ہے۔ انھوں نے ترتیب و تدوین کے عمل میں جن مراحل کو عبور کیا اور جو فاصلہ طے کیا، اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس تحقیقی کام کے نتائج نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور خطوط نگاری کی تاریخ کے عمیق مطالعے اور گہری واقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ غالب کی املا کی خصوصیات پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن ڈاکٹر خلیق انجم نے جس سائنسی انداز میں اس کتاب کے مقدمے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ تقریباً 16 صفحات پر مشتمل اس باب میں انھوں نے مختلف ذیلی عنوانات کے تحت یائے مجہول و یائے معروف، الفاظ کو جوڑ کر لکھنے کا رجحان، اعراب بالحروف کا استعمال، ہا کی آوازوں کی لکھاوٹ، الف اور ہائے مختفی کے اختتام والے الفاظ، نون غنہ اور نون ساکن، معکوسی آوازیں، یائے تحتانی اور ہمزہ اور ایسے الفاظ جن کی املا غالب نے مختلف انداز میں کی ہے، جیسے موضوعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک ماہر لسانیات بھی ہیں اور غالب کے خطوط میں املا کے پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انھوں نے غالب کی زبان پر فارسی کے اثرات، انگریزی الفاظ کے استعمال اور ان کے گہرے مفاہیم پر روشنی ڈالی ہے۔ انگریزی الفاظ کے تلفظ اور ترجمے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غالب کے اُردو خطوط کی مجموعی تعداد اور ان کے مخاطبین کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس تحقیقی حصے کے حرفِ آغاز کے بعد ڈاکٹر خلیق انجم نے ”کچھ اس تنقیدی اڈیشن کے بارے میں“ کا عنوان قائم کرتے ہوئے جن اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں متن کی تصحیح، خطوں کی تاریخ وار ترتیب، خطوں کی تاریخِ تحریر، تنقیدی اڈیشن کے متن کی املا، اوقاف کی علامتیں، رقمیں، غالب کا نام بحیثیت مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے حالات سے متعلق اطلاعات شامل ہیں۔ جو کتاب کے مطالعہ کے دوران رہنما کا کام انجام دیتی ہیں۔
تحقیقی حصے کے بعد تنقیدی حصہ شروع ہوتا ہے جو اپنے موضوع کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس حصے کے ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ غالب سے قبل اُردو کا نثری سرمایہ کیا تھا اور اُردو مکتوب نگاری کا آغاز کب اور کس کے ہاتھوں ہوا تھا، حالاں کہ مرتب نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ اس باب میں وہ ان جملہ باتوں کو زیرِ بحث لائیں گے جن کا بیان کرنا اہم ہے لیکن اس باب میں تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ غالب کا پہلا دستیاب اُردو خط کے عنوان سے جو باب لکھا گیا ہے وہ اگرچہ بہت مختصر اور مناسب تفصیل اور وضاحت چاہتا ہے لیکن مرتب کی محنت اور دیدہ ریزی کا ثبوت ہے۔ عام خیال یہ تھا کہ غالب کا قدیم دستیاب خط یکم دسمبر 1848ء کو لکھا گیا تھا۔ خلیق صاحب نے نہایت مدلل طریقے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اب تک غالب کے جتنے اُردو خطوط کی بازیافت ہوئی ہے ان میں قدیم ترین خط وہ ہے جو غالب نے 1847ء میں مرزا ہر گو پال تفتہ کے نام لکھا تھا۔
غالب کے خطوط، جلد اول، میں مکتوب نگاری کا فن ایک باقاعدہ باب ہے جس میں اُردو اور انگریزی کے مکتوب نگاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنے جواہر نگار قلم سے تنقیدی حصے کو جس قدر باغ و بہار بنانے کی کوشش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے شگفتن گلہائے ناز، القاب و آداب، غالب کا آئین نامہ نگاری، خطوط میں مکالمہ نویسی، غالب کا ہے انداز بیان اور، لفظی عبارتیں، بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر، شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے، مرقع نگاری، ایک ذرا چھیڑیے پھر دیکھے کیا ہوتا ہے، عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا، جیسے ذیلی اور دل کش عنوانات کے تحت غالب کے خطوط کا بہت تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ مکتوب نگاری کے فن کے خشک موضوع کی فضا میں ترو تازگی پیدا کرنے کے لیے یہ عنوانات جو کردار ادا کرتے ہیں اور جو کیف و سرور برساتے ہیں اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔ شگفتن گلہائے ناز میں مرتب نے غالب کے ذوق نثر نگاری اور شوق خطوط نویسی کی وجوہات سے بحث کی ہے۔ القاب و آداب میں غالب نے اپنے دوستوں، عزیزوں، رفیقوں اور شاگردوں کو کن القاب و آداب سے مخاطب کیا ہے، اس کا ذکر ہے۔ خطوط نہیں مکالمہ نویسی کا مطلب غالب کے نزدیک کیا ہے اس کا بیان بہ عنوان ”مکالمہ نویسی“ میں موجود ہے۔ بہ عنوان ”غالب کا ہے انداز بیان اور“ کے ذیل میں غالب کے اسلوب نثر نگاری پر نظر ڈالی گئی ہے۔ ”مقفی عبارتیں“ کے عنوان سے جو صفحات اس کتاب میں موجود ہیں ان میں مفصل طور پر اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ غالب اپنے خطوط میں لفظی عبارتوں کا استعمال اس طرح برمحل اور برجستہ کرتے تھے کہ ان پر تصنع اور تکلف کا شبہ تک نہ ہوتا تھا۔ ”بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر“ کے ذیل میں ڈاکٹر خلیق انجم نے یہ ثابت کیا ہے کہ غالب صرف اپنی شاعری ہی میں تمثیلوں، تشبیہوں، علامتوں اور استعاروں کا استعمال نہیں کرتے تھے وہ اپنی نثر کی انگوٹھی میں بھی انھیں نگینوں کی طرح جڑتے تھے اور جن کے استعمال سے خطوط میں ان کا اظہار بیان زیادہ موثر، معنی خیز، تہہ دار اور شگفتہ ہو جاتا تھا۔ یہ استعارے اور تشبیہات روایتی بھی ہوتے تھے اور غالب کی جدت پسند طبیعت کی اپنی اختراع بھی۔ ”مرقع نگاری“ کے عنوان کے تحت مرتب نے غالب کے کچھ الفاظ کے ایسے پیکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جن کے سننے سے نگاہ کے سامنے تصویر رقص کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ”اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے“ کے عنوان سے جو اوراق ملتے ہیں ان میں غالب کے مصائب و آلام اور دل سوز حالات بیان کر کے غالب کی زندگی کے درد و غم کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ ”ماتم ایک شہر آرزو“ کا عنوان غالب کے دورِ انحطاط اور 1857ء کے ہولناک حالات کے نقوش نگاہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ”عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا“ کے آخری عنوان کے تحت غالب بیشتر جگہ اپنے خطوط میں اپنے دوستوں، عزیزوں اور رفیقوں کی موت پر ماتم گزار اور سوگوار نظر آتے ہیں۔ ہر عنوان کے ساتھ مرتب نے جو پیرایۂ بیان اختیار کیا ہے وہ ہر عمل اور موقعہ کی مناسبت سے برجستہ ہے۔ اس باب کو زیادہ سے زیادہ دلکش اور موثر بنانے کے لیے مرتب نے جس خوش اسلوبی اور خوش سلیقی سے فارسی اور اردو کے اشعار مذکورہ عنوانات کے تحت مثالوں کے ساتھ اس طور پیش کیے ہیں وہ اپنا جواب آپ ہیں۔ اس سے مرتب کے بیانات میں زور، شوق اور تاثر گہرا ہوتا چلا گیا ہے۔ اس مقدمے کے متعلق ڈاکٹر ظ۔ انصاری کچھ ان الفاظ میں رقم طراز ہیں۔
” شروع میں 220 صفحہ کا مقدمہ جس کے کئی حصے ہیں، تنقیدی اور علمی متن کے اصول، جو رائج ہیں جو متروک ہوئے، جو کام میں لائے گئے، پھر خطوط غالب کے آج تک کے سارے ایڈیشنوں کی تحقیق اور تنقید پھر ان خطوط کی خطوط نگاری کے پس منظر میں قدرو قیمت اور خصوصیات پھر انڈکس اور متعلق وضاحتیں۔ اس طرح یہ مقدمہ بجائے خود علمی تحقیقی مقالے کا وزن رکھتا ہے۔ پی ایچ ڈی خلیق انجم پہلے سے ہیں اس مقالے پر اگر انھیں کوئی علمی ادارہ ڈی لٹ دے دے تو بے جا نہیں، بر حق ہو گا۔“ ( 1)
یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر چہ خطوط غالب پر بے شمار تنقیدی مضامین شائع ہو چکے ہیں اور دو تین کتا بیں بھی وجود میں آ چکی ہیں لیکن ڈاکٹر خلیق انجم کا مرتبہ ”غالب کے خطوط“ کا مقدمہ ڈاکٹر خلیق انجم کا پہلا تنقیدی کارنامہ ہے۔ اس خیال کی تائید ڈاکٹر ظ انصاری کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ دیکھیے انھوں نے کسی طرح بے ساختہ اور جھوم جھوم کر اس مقدمے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے۔
” ص 197۔ 98 پر جو گٹھی ہوئی اور نہایت معنی خیز عبارت غالب کا رنج و راحت سے برتاؤ پیش کرتی ہے۔ پہلی نظر میں تو وہ مجھے خود اپنا بیان معلوم ہوئی، کیوں کہ میں نے غالب کی قدر جاتی ہے اسی رخ سے پھر افسوس ہوا کہ یہ مرتب موصوف کی عبارت کیوں ہے۔ اسے تو ہمارے قلم سے ٹپکنا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر خلیق انجم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے غالب نے“ جان عزیز ”کے لیے آرزو اور شکست آرزو، خوشی و غم، کامیابی و ناکامی کے درمیان زندہ رہنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اسی لیے تو وہ اپنے آپ کو“ ہدف ستم ہائے روز گار ”نہیں، بلکہ“ رہین ستم ہائے روز گار ”کہتے ہیں اس ستم ہائے روزگار سے ان کی زندہ دلی اور بذلہ سنجی اور ان کی حسں مزاح ماند نہیں پڑی بلکہ اور تیکھی ہوتی چلی گئی۔ ایک حقیقی مزاح نگار کی طرح غالب زندگی کی ان تمام ناہمواریوں اور کھردرے پن سے سنتے ہوئے برہنہ پا گزر جاتے ہیں جن پر چلتے ہوئے پاؤں ہو لہان ہو جاتے ہیں۔ “ (2)
ڈاکٹر ظ انصاری کے ان دونوں اقتباسات کے الفاظ ڈاکٹر خلیق انجم کے لیے ایک ایسا خراجِ تحسین ہیں جنھیں حق بہ حقدار رسید کے مصداق کہا جا سکتا ہے۔
متنی نقاد کے نزدیک متن کی ترتیب و تدوین کے وقت اس کی صحت اور استناد کا مسئلہ سب سے اہم ہوتا ہے اور اس کی تمام تر کاوش متن کی صحت اور اس کے استناد پر صرف ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا بنیادی مقصد ہی صحت مند متن کی بازیافت ہے۔ ورنہ ایسے نسخوں کی کوئی کمی نہیں جن میں متن کی صحت اور اس کے استناد کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔ قدیم ادبی و شعری سرمائے میں لا تعداد نسخے ہیں جو قلمی بھی ہیں اور شائع بھی ہو چکے ہیں لیکن جدید تحقیق نے انھیں ناقص قرار دیا ہے۔ خود خطوطِ غالب کے بیش تر نسخے مرتب ہو کر شائع ہو چکے ہیں اور ناقص قرار پا چکے ہیں۔ اس کی اصل وجہ متن کی صحت کا اہتمام نہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ متنی نقاد کے لیے اس خاص عہد کی زبان پر عبور حاصل کرنا، اس عہد کی ادبی، سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنا بھی مستند تدوین متن کے زمرے میں آتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر مصنف کے زمانے میں پریس رائج ہو چکا ہو تو مختلف رسائل و جرائد میں مصنف کی تخلیقات کا پتا لگانا بھی شامل ہے۔ ”غالب کے خطوط“ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ ”غالب کے خطوط“ متذکرہ بالا تمام مراحل سے گزر کر ہی مَنَصَّۂ شُہُود پر آیا اور مستند ہونے کی سند پا چکا ہے۔
سب سے پہلی چیز جو کسی متن کی ترتیب کے لیے ضروری ہے، وہ مختلف نسخوں کا حصول، مطالعہ اور موازنہ ہے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے خلیق انجم نے بھی ترتیب سے قبل مختلف دستیاب نسخوں کو حاصل کیا ہے کہ ان کا مطالعہ نہایت گہرائی سے کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مندرجہ ذیل نسخوں کو پیش نظر رکھا ہے۔
”مہرِ غالب، انتخابِ غالب، عودِ ہندی کے مختلف اڈیشن، اردوے معلیٰ کے کئی اڈیشن، ادبی خطوطِ غالب، مکاتیبِ غالب، خطوطِ غالب، نادراتِ غالب، خطوطِ غالب مرتبہ غلام رسول مہرؔ، غالب کی نادر تحریر میں، خطوطِ غالب مرتبہ ہمیش پرساد، خطوط غالب مرتبہ میش پرشاد بہ نظر ثانی مالک رام، ان کے علاوہ غالب کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط جو اور کہیں شائع نہیں ہوئے۔“ ( 3)
خلیق انجم نے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تمام خطوط حاصل کیے اور پھر ان کا مطالعہ و موازنہ کیا۔ کہیں کوئی ایسی قرات نظر آئی جو غالب کی منشا کے خلاف ہے تو انھوں نے قیاسی تصحیح کر کے حاشیے میں اس کا ذکر کر دیا ہے۔ اختلافِ متن کے سلسلے میں غالب کے خطوط کے متن کو انھوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک متن تو وہ جو غالب کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے، دوسرا متن وہ جو عود ہندی، اردوئے معلی اور نادرات غالب میں شائع ہوا ہے۔ ان تمام متنوں کا موازنہ کر کے انھوں نے ایک مستند متن کا تعین کیا ہے۔ متن کے اس تعین کے بارے میں خلیق انجم کا اپنا خیال یہ ہے کہ زیرِ نظر تنقیدی اڈیشن میں غالب کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ان خطوط کو جن کے عکس مختلف رسالوں میں شائع ہوئے ہیں یا جو اصل شکل میں مختلف لائبریریوں میں محفوظ ہیں، بنیادی نسخے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اردوئے معلیٰ اور عود ہندی کے پہلے اڈیشنوں میں شائع ہونے والے خطوط کو بنیادی نسخے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ غالب کے جو خطوط ان دونوں مجموعوں میں مشترک ہیں ان میں اردوئے معلی کے متن کو بنیادی نسخہ بنا کر عود ہندی کے متن سے موازنہ کر کے اختلافات نسخ دیے گئے ہیں۔ اردوے معلی کے متن کو اس لیے ترجیح دی گئی ہے کہ مجموعہ دہلی میں شائع ہوا تھا اور عود ہندی کے مقابلے میں اس مجموعے میں طباعت کی غلطیاں کم ہیں۔ اردوئے معلی اور عودِ ہندی کے ری پرنٹ میں قیاسی تصحیح سے مدد لی ہے۔ بنیادی متن سے موازنہ نہیں کیا ہے، اس لیے کہ اس کی بہت ضرورت محسوس نہیں کی گئی البتہ اردوئے معلی کے دوسرے حصے کو جو 1899ء میں مطبع نامی مجتبائی دہلی سے شائع ہوئے تھے اور اس میں جو خطوط شامل ہیں ان تمام خطوط کو انھوں نے بنیادی متن کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس طرح بلگرامی اور شفق کے نام غالب کے جو خطوط تھے اس کے اصل کی دریافت کر کے اسے بنیادی متن تسلیم کیا ہے اور پھر موازنہ کر کے اختلافات درج کیے گئے ہیں۔
خلیق انجم نے پوری تحقیق اور چھان بین کے بعد بنیادی متن کا تعین کیا ہے اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے تحقیقی طریقِ کار اور متنی تنقید کے اصولوں کو ذمے داری کے ساتھ برتا ہے۔ مقدمہ اور اس کے ذیلی عنوانات کا ذکر تفصیل سے اوپر کیا جا چکا ہے۔ اس کتاب میں ”خطوطِ غالب کا تنقیدی مطالعہ“ کے عنوان سے ایک بہت ہی طویل باب قائم کیا گیا ہے جس میں بہت سی ضمنی سرخیوں کے تحت غالب کے خطوط کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ پہلے، غالب سے قبل اُردو نثر کے سرمائے اور مکتوب نگاری کے آغاز سے بحث کی ہے اور یہ پتا چلانے کی کو شش کی ہے کہ غالب کی اُردو مکتوب نگاری سے قبل کس قسم کی نثر رائج تھی اور اس سلسلے میں غالب کا کارنامہ کیا ہے۔ اس باب میں خلیق انجم نے تفصیل سے گفتگو کی ہے اور حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ غالب نے اردو مکتوب نگاری کو ایک نئی راہ دکھلائی اور اس فن کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا۔
مکتوب نگاری کا آغاز غالب سے قبل ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے غالب اور غالب کی تحریروں کی روشنی میں جو نتیجہ نکالا ہے وہ بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے۔ غالب نے دلی کی تباہی و بر بادی اور انگریزوں کے ظلم و ستم کی داستان بھی اپنے بہت سے خطوط میں بیان کی ہے۔ خلیق انجم نے ”ماتم یک شہر آرزو“ کے تحت غالب کے خطوط کے حوالے سے اس پر گفتگو کی ہے اور غالب کی تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غالب کو مغل حکومت کے خاتمے اور بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری سے زیادہ غم 1857ء کے نا کام انقلاب میں دلی کی تباہی و بربادی کا تھا۔ جس میں خود ان کی اپنی بربادی بھی شامل ہے اور اس ہولناک منظر کو غالب نے اپنے خطوط میں مختلف طریقے سے بیان کیا ہے۔ گویا غالب کا یہ خط ایک تاریخی دستاویز ہے جس میں غالب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ اس عہد کی ہنگامہ آرائیوں کے تمام تر نقوش اجاگر ہوتے ہیں۔ غالب کے خطوط میں بہت سے خطوط ایسے بھی ہیں جن میں غالب نے کس کی موت پراس کے عزیز و اقارب سے تعزیت کی ہے لیکن تعزیت کا حق ادا نہیں کر پائے ہیں اور رسمی الفاظ پر زیادہ تر اکتفا کیا ہے۔ لیکن اپنے مخصوص اسلوب سے اظہار میں جان ڈال دی ہے اور غیر معمولی حد تک موثر بنا دیا ہے غالب کے تمام خطوط اپنی جگہ اہم ہیں۔ غالب نے تعزیت ناموں میں طنز و مزاح سے بھی کام لیا ہے جو غالب کی اپنی انفرادیت ہے۔
خلیق انجم نے سوا دو سو صفحے کے بسیط مقدمے میں غالب، عہدِ غالب اور خطوطِ غالب کے بہت سے رموز و اسرار سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور خطوط کے حوالے سے بہت سے انکشافات کیے ہیں جو ان سے قبل نہیں ہوئے۔ خلیق انجم نے اپنے اس مقدمے میں جو بہ ظاہر بہت طویل ہے اور آدھی کتاب پر محیط ہے خطوطِ غالب کی تمام جزئیات کو زیِر بحث لاکر ان کے تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں ان کی باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن مجموعی طور پر اختلاف کی گنجائش کم ہے۔ اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انھوں نے اس کتاب کی تدوین میں غیر معمولی ذہانت و محنت کا ثبوت دیا ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم کا یہ طویل مقدمہ غالب اور عہدِ غالب پر تحقیق کرنے والوں اور غالب اور عہد ِغالب کی تفہیم میں بھی مدد دے گا۔
اس طویل مقدمے کے بعد خطوط ترتیب دیے گئے ہیں۔ پہلی جلد میں صرف دو شخصیتوں (مرزا ہرگوپال تفتہ اور نواب علاء الدین احمد خاں علائی) کے نام خطوط شامل ہیں۔ تفتہ کے نام کل 123 خطوط اور ملائی کے نام 58 خطوط ہیں۔ دونوں کی تصویریں بھی شامل ہیں لیکن یہاں بھی ایک کمی محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ ان دونوں مکتوب الیہ کے حالات نہیں دیے گئے جب کہ اس کا ہونا بہت ضروری تھا۔ تفتہ اور علائی سے غالب کے تعلقات کیا تھے اس پر خط سے تو کچھ روشنی پڑتی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کو ان دونوں پر تفصیل سے لکھنا چاہیے تھا۔ انھوں نے ”کچھ اس تنقیدی اڈیشن کے بارے میں“ کے عنوان سے لکھتے ہوئے مکتوب الیہ کے حالات کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ میں نے مکتوب الیہم کے حالات خاصے تفصیل سے لکھے تھے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے عزیز دوست میر کاظم علی خاں نے تمام مکتوب الیہم کے حالات بڑی محنت سے لکھ لیے ہیں اور کتابی صورت میں شائع کر دیے ہیں تو میں نے یہاں مکتوب الیہم کے حالات مختصر کر دیے۔ یہ بہرحال ایک تشنگی کا احساس ہے کہ قاری خطوط ِغالب کا مطالعہ کرتے ہوئے مکتوب الیہم کے حالات زندگی کے متعلق جاننے کے لیے میر کاظم علی خاں کی کتاب کا مطالعہ کرے گا جو کہ نا ممکن لگتا ہے۔ خطوط کے بعد آخر میں متن کے مآخذ کی ایک لمبی فہرست شامل ہے جس میں خطوطِ غالب کے ان مجموعوں، کتابوں اور سالوں کی فہرست دی گئی ہے جنھیں متن کے مآخذ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ پھر ہر خط کا پہلا فقرہ دیا گیا ہے اور خط کی تاریخِ تحریر دے کر اس کے متن کے مآخذ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ سب چیزیں بہت ہی سلیقے سے نہایت ہی سائنٹیفک انداز سے ترتیب دی گئیں ہیں۔ آخری حصے میں حواشی درج کیے گئے ہیں۔ حواشی طویل اور مختصر دونوں طرح سے دیے گئے ہیں اور دونوں اپنی جگہ اہم ہیں۔ طویل حواشی میں جو وضاحتیں ہیں وہ زیادہ کارآمد اور مفید ہیں اور ان سے بہت سی اہم باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ حواشی میں تفصیلات کے علاوہ اختلافات نسخ بھی درج ہیں۔
دوسری جلد میں پینتالیس معلوم شخصیتوں اور دو نامعلوم شخصیات کے نام کل 287 خطوط شامل ہیں۔ ان میں سے اٹھارہ شخصیات کے نام بائیس خطوط کے عکس بھی شامل ہیں۔
تیسری جلد میں سترہ شخصیتوں کے نام کل 290 خطوط شامل ہیں۔ اور اسی ( 80 ) کے قریب عکس شامل ہیں۔ خطوط کے عکس تیار کرنے کے دوران کچھ الفاظ مٹ گئے تھے۔ پرتھوی چندر مرحوم نے اپنے قیاس سے کام لے کر کسی کاتب سے وہ الفاظ لکھوا دیے۔ بعض مقامات پر مرحوم کا قیاس درست نہیں تھا۔ خطوط کے عکسوں میں غلطیاں راہ پا گئی تھیں۔ حواشی میں ان کی نشان دہی کی گئی ہے۔
دوسری جلد میں خط کا عکس اور متن آمنے سامنے دیے گئے ہیں۔ جب کہ تیسری جلد میں تمام عکس ایک جگہ دیے گئے ہیں اور عکس پر نمبر شمار بھی وہی ڈالا گیا ہے جو کتابت شدہ خطوط پر ہے۔ اس طرح یہاں عکس کے نمبر بالترتیب نہیں ملیں گے۔ ایسا قاری کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔ ان دونوں جلدوں میں بھی متن کے ماخذ اور حواشی کے وہی طریقے برتے گئے ہیں جو جلد اول میں قائم کیے گئے ہیں۔ ان دونوں جلدوں میں بھی مکتوب الیہم کے حالات درج نہیں کیے گئے ہیں۔ ان دونوں جلدوں کے فلیپ اور پشت پر ہند و پاک کی مشہور و معروف ادبی شخصیتوں کے کیے گئے تبصروں کے اقتباسات ہیں۔ چوتھی جلد میں چار نامعلوم شخصیات اور اٹھائیس معلوم شخصیات کے نام مکتوب شامل ہیں۔ اس جلد میں، چاروں جلدوں کے خطوط کی مجموعی تعداد بھی دی گئی ہے۔ غالب کے کل خطوط کی تعداد آٹھ سو چھیاسی بتائی گئی ہے۔ اس جلد میں کسی مکتوب کا عکس شامل نہیں ہے۔
ان کے علاوہ غالب کے خطوط کی پانچویں جلد بھی ہے جو 2000 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں سید مظہر حسین برنی (چیئر مین پبلی کیشن کمیٹی غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی) لکھتے ہیں کہ یہ جلد پچھلی چار جلدوں میں شائع ہونے والے خطوط کا ضمیمہ ہے جس میں غالب کے تمام اردو خطوط کا تاریخ وار فہرست مرتب کی گئی ہے۔
اُردو کے جن محققوں اور ناقدان نے خلیق انجم کے اس تحقیقی کارنامے پر اپنی قیمتی آرا کا اظہار کیا ان میں مالک رام، رشید حسن خاں، پروفیسر انجم، مختار الدین احمد، ڈاکٹر نثار احمد فاروقی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر عبدالمغنی، ڈاکٹر فضل حق کامل قریشی، ڈاکٹر تاراچرن رستو گی، بلراج کو مل، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر ظ۔ انصاری، علی جواد زیدی، ڈاکٹر شارب ردولوی، رضوان احمد، ڈاکٹر سمیع اللہ اشرفی، پروفیسر ظہیر احمد صدیقی، ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی، ڈاکٹر تنویر احمد علوی اور ایم جیب خالد وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ کچھ حضرات کا انداز داد و تحسین کا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اردو میں اس پائے کی تحقیق نہ پہلے ہوئی ہے اور یہ آئندہ ہونے کی توقع ہے۔
حوالہ جات :
1 ظ۔ انصاری (خلیق انجم ( شخصیت اور ادبی خدمات مشمولہ: غالب کے خطوط پر ڈاکٹر خلیق انجم کا قابل قدر کام، ماہنامہ کتاب نما، جامعہ نگر، نئی دہلی، 1995ء، ص 122
2ایضاً، ص 124
3جمیل اختر (خلیق انجم ( شخصیت اور ادبی خدمات مشمولہ: غالب کے خطوط۔ مرتبہ خلیق انجم ایک تنقیدی جائزہ، ماہنامہ کتاب نما، جامعہ نگر، نئی دہلی، 1995 ء، ص 139
کتابیات :
·ایم حبیب خاں، ڈاکٹر خلیق انجم ( شخصیت اور ادبی خدمات) ، کتاب نما، نئی دہلی، 1995ء
·خلیق انجم، مرتب خطوط غالب (جلد اول) ، نئی دہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2002ء
·خلیق انجم، مرتب خطوط غالب (جلد دوم) ، نئی دہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2002ء
·خلیق انجم، مرتب خطوط غالب (جلد سوم) ، نئی دہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2002ء
·خلیق انجم، مرتب خطوط غالب (جلد چہارم) ، نئی دہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ، 2002ء

