”اسرائیل۔ فلسطین تنازع کی مختصر تاریخ“ ایک جائزہ


حال ہی میں شائع ہونے والی ایلان پَاپے کی کتاب ”اسرائیل فلسطین تنازُع کی مختصر تاریخ“ ”A VERY SHORT HISTORY OF THE ISRAEL PALESTINE CONFLICT“ BY: ILAN PAPPE
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازُع کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاپے نے صیہونیت کے ارتقا، اس خطے پر بین الاقوامی پالیسیوں کے اثرات، فلسطینی مزاحمت، اور اسرائیل کے اندرونی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موجودہ صورتحال کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اس قضیے کے تاریخی تناظر میں اسرائیلی بیانیے سے ہٹ کر ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور تاریخی نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایلان پاپے ؔکی یہ کتاب ایک جامع اور مختصر تجزیہ پیش کرتی ہے جو اسرائیل فلسطین تنازع کی تاریخی جڑوں اور اس کے جاری اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔

کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کے اختصار میں جامعیت کا ہونا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جو اسرائیل فلسطین تنازع کی مختصر مگر گہری تفہیم چاہتے ہیں۔ ایلان پاپے نے ایک غیرجانبدار اور حقائق پر مبنی بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو قارئین کو اس پیچیدہ مسئلے کے تاریخی پس منظر کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے اگرچہ 7 اکتوبر 2023 کی تباہ کاری اور اس کے بعد کے ہولناک واقعات نے دنیا کو حیران ضرور کیا ہے لیکن اسرائیل فلسطین تنازُع در اصل 7 اکتوبر 2023 کو تو شروع نہیں ہوا تھا، یہ 1967 میں بھی شروع نہیں ہوا تھا جب اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا، اور نہ ہی یہ قضیہ 1948 میں شروع ہوا، جب ریاستِ اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس تنازُع کی بنیاد 1882 میں اس وقت رکھی گئی، جب پہلے صیہونی آبادکار سلطنتِ عثمانیہ کے زیر انتظام فلسطین میں پہنچے۔

دنیا بھر میں مسافر اور سفارت کار اپنے نقشوں پر اس سرزمین کو فلسطین کے نام سے نشان زد کیا کرتے تھے اور یہاں کے باسیوں کو فلسطینی عرب کہتے تھے جب کہ یہاں کے باشندے اپنی مخصوص عربی بولی میں گفتگو کرتے اور اپنی جداگانہ روایات رکھتے تھے۔ لیکن  جب یہ علاقہ عثمانیوں کے زیر تسلط آیا، اس صدی کے اختتام تک، فلسطین بھی دنیا کے دیگر خطوں کی طرح تبدیلی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ انیسویں صدی کا یہ دور قوم پرستی کا دور تھا۔ فلسطینی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ فلسطین کی شہری اشرافیہ دمشق، دمیاط (مصر) اور بیروت کے تعلیم یافتہ طبقے کی طرح، عربی ادب اور ثقافت میں نہ صرف اپنی دلچسپی کو دوبارہ زندہ کر رہی تھی بلکہ مشترکہ زبان کی بنیاد پر قومی شناخت کو بھی فروغ دے رہی تھی۔ دانشور طبقہ ایک وسیع تر عرب اتحاد، جو مراکش سے عراق اور شام سے یمن و سوڈان تک پھیلا ہوا تھا کی حمایت کر رہا تھا۔

عرب قوم پرستی کا یہ ابتدائی تصور رد عمل کے طور پر اس وقت مقبولیت اختیار کرنے لگا جب سلطنت عثمانیہ میں انقلاب فرانس سے متاثرہ ”نوجوانان عثمانیہ“ کے نام سے ایک اصلاحی تحریک ابھرنا شروع ہوئی، جو پوری سلطنت عثمانیہ میں ترک قومی شناخت مسلط کرنا چاہتی تھی، جب کہ سلطنت کے دو تہائی باشندے عرب النسل تھے۔ 1876 میں وضع کیا گیا عثمانی آئین، نوجوانان عثمانیہ کی ایک بڑی کامیابی تھا، کیونکہ یہ ترکی زبان کو واحد سرکاری زبان قرار دیتا تھا۔ عرب رعایا، بشمول فلسطینی، اس فیصلے پر فطری طور پر ناراض تھے۔ یہ ثقافتی نو آبادیاتی کوششیں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب 1908 میں نوجوانان عثمانیہ کے نظریاتی جانشین، نوجوانان ترک، اقتدار میں آ گئے۔

جدید فلسطینی شناخت کا آغاز ایک شاندار ثقافتی احیاء کے ساتھ ہوا، جس میں ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں کہا جاتا تھا کہ اچھی کتابیں قاہرہ میں لکھی جاتی ہیں، بیروت میں چھپتی ہیں اور یافا میں پڑھی جاتی ہیں۔ فلسطینی کبھی عرب دنیا سے الگ نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ اس کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں۔

ثقافتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنی آخری ایام میں فلسطین کو جدید بنانے کی کوشش کی۔ یروشلم اور نابُلُس میں نئے مقامی حکومتی ادارے قائم کیے، جن میں اصلاحات پر مبنی انتظامیہ متعارف کروائی گئی۔ لیکن پہلی جنگِ عظیم ( 1914 ) کے آغاز نے ان خوابوں کو حقیقت بننے سے روک دیا۔

جس وقت فلسطین ایک نئے دور میں داخل ہو رہا تھا، عین اسی وقت صیہونیت نے فلسطین میں قدم جمانا شروع کر دیے۔ صیہونیت ایک بیرونی نظریے کے طور پر فلسطین میں متعارف ہوئی۔ درحقیقت، صیہونیت کا آغاز سولہویں صدی میں یورپ میں ایک انجیلی مسیحی (evangelical ) منصوبے کے طور پر ہوا تھا۔ متعدد پروٹسٹنٹ مسیحیوں کا ماننا تھا کہ یہودیوں کی ”صیہون“ (یروشلم) واپسی، عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں کیے گئے خدائی وعدوں کو پورا کرے گی۔ چونکہ اسے قرب قیامت اور مسیح کے دوبارہ ظہور کی علامت سمجھا جاتا تھا، اس لئے ان نظریات کے حامل افراد اس عمل کو تیز تر کرنا چاہتے تھے۔ یہی وہ گروہ تھا جس نے پہلی بار یہودیوں کو محض ایک مذہب کے پیروکاروں کے بجائے ایک علیحدہ قوم یا نسل کے طور پر پیش کیا۔

یہ نظریہ خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ میں مقبول ہوا، جہاں کچھ نمایاں شخصیات اس کی حمایت کرتی تھیں۔ لیکن ان کے مقاصد یہودیوں سے ہمدردی کی بنیاد پر نہیں تھے۔ درحقیقت، ان میں سے کئی کھلم کھلا یَہُود دُشمن (anti Semitic) تھے، جو فلسطین کو یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں بسنے والے یہودیوں کے لیے ایک ”ڈمپنگ گراؤنڈ“ کے طور پر دیکھتے تھے، کیونکہ وہ انھیں اپنے معاشروں میں برابر کی حیثیت دینے کو تیار نہ تھے۔

یہ نظریہ سیاسی طور پر بھی ان کے لیے فائدہ مند تھا، خاص طور پر ان حکمران طبقات کے لیے جو مذہبی جذبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک اس طرح یہودیوں کو مذہبی بنیادوں پر متحرک کر کے ”مقدس سرزمین“ ، جسے وہ فلسطین کہتے تھے کا مسلمانوں، یعنی سلطنت عثمانیہ، کے ہاتھوں سے نکالنا ممکن ہو سکتا تھا۔ جب کہ عثمانی خلافت اس خطے میں یورپی سامراجی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی اور صیہونی نظریہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ان کے لئے نہایت موزوں تھا۔

یہودی دانشوروں اور کارکنوں نے اپنے مقاصد کے لئے ان عیسائی منصوبہ سازوں کی بے اعتنائی کے باوجود ان کے نظریات سے کسی حد تک تحریک حاصل کی۔ آج بھی امریکہ میں موجود انتہا پسند عیسائی گروہ، جنھیں ”عیسائی صیہونی“ (Christian Zionists) کہا جاتا ہے، ان ہی خیالات کے حامی ہیں اور امریکہ میں اسرائیل کے سب سے بڑے حامی بھی یہی لوگ ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر قبضے اور وہاں یہودی بستیاں بسانے کی مکمل تائید بھی کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں عیسائی صیہونیت اور یہودی صیہونیت کے درمیان واضح فرق کرنا چاہیے۔ صیہونیت اس دور میں یہود دشمنی یا سام دشمنی کا فطری ردعمل نہیں تھی، بلکہ ابتدا میں یہ زیادہ مقبول بھی نہیں تھی۔ ایک ایسی قوم، جو صدیوں سے یورپ میں آباد تھی، اسے اچانک ہزاروں میل دور ایک گرم اور بنجر زمین پر منتقل ہونے پر آمادہ کرنا آسان کام نہیں تھا، خاص طور پر جب وہ وہاں کی زبان بھی نہ جانتے ہوں۔ چنانچہ ہزاروں یہودی مزدوروں نے خود کو سوشلسٹ تحریکوں میں اس امید پر منظم کرنا شروع کر دیا، کہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ان پر ہونے والے ظلم کو ختم کر دے گا۔ جب کہ دیگر یہودیوں نے، خاص طور پر زارِ روس کی ظالمانہ پالیسیوں کے پیشِ نظر، اس نظریے کو اپنا لیا کہ مضبوط جمہوری ریاستوں کا قیام انھیں برابر کے شہری حقوق فراہم کر سکتا ہے، اور اس طرح ”یہودی مسئلے“ کا حل نکل سکتا ہے۔

لیکن نازی قتل عام، ہولوکاسٹ نے ان تمام امیدوں کو چکناچور کر دیا۔ چھ ملین سے زائد یہودیوں کے قتل اور نازی قبضے سے بچ جانے والے افراد کے سالہا سال تک بے وطنی کی حالت میں ”بے دخل شدگان کے کیمپوں“ میں رہنے کے بعد ، جہاں کوئی یورپی ملک انھیں قبول کرنے کو تیار نہ تھا، یورپ میں ان کے لیے ان کے اپنے تحفظ کی امید ختم ہو گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب صیہونیت کو یہودی برادری میں حقیقی اور وسیع حمایت حاصل ہوئی۔

دوسرا عامل قوم پرستی تھا۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز پر اس پس منظر میں، کچھ یہودی دانشوروں نے بھی قوم پرستی کے تصور کو اپنی شناخت کو جدید بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر اپنایا۔ اس کا مطلب تھا کہ عبرانی زبان کو دوبارہ زندہ کرنا اور یہودیت کے مذہبی متون کی سیاسی تعبیر، خاص طور پر عہد نامہ قدیم (Old Testament) کی نئی تعبیر۔

روایتی (Orthodox) یہودیوں کے برعکس، جو عہد نامہ قدیم کو محض ایک مذہبی و اخلاقی صحیفہ سمجھتے تھے، سیکولر صیہونیوں نے، مسیحی انجیلیوں (evangelicals) کی طرح، اسے ایک تاریخی دستاویز کے طور پر لیا، جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ فلسطین یہودیوں کی سرزمین ہے۔

1881 میں روسی سلطنت کے جنوب مغربی حصے میں یہودیوں کے خلاف ایک منظم قتل عام (Pogrom) ہوا جس کے بعد ایک گروہ نے اس امید کے ساتھ فلسطین میں جا کر بسنے کا فیصلہ کیا کہ ان کا جوش و جذبہ دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنے کی ترغیب دے گا۔ 1882 میں یہ گروہ فلسطین پہنچا۔ انھوں نے فلسطین میں زمین یہودی مخیر حضرات اور کاروباری شخصیات، مثلاً روتھ شیلڈ ؔخاندان، کی مالی مدد سے خریدی۔

یہ زمین زیادہ تر غیر مقامی زمینداروں (absentee landlords) کی ملکیت تھی، یعنی وہ مالکان جو خود فلسطین میں نہیں رہتے تھے اور جنھوں نے یہ زمین عثمانی ریاست سے اس وقت خریدی تھی جب انیسویں صدی کے وسط میں عثمانیوں نے اپنی زمینوں کے قوانین میں اصلاحات کی تھیں۔ ان اصلاحات سے پہلے، عثمانی سلطنت میں زمین انفرادی ملکیت کے طور پر دستیاب نہیں تھی۔ عام طور پر یہ زمین ریاست کی ملکیت ہوتی تھی اور اسے مقامی زمینداروں یا کسانوں کو لیز پر دیا جاتا تھا، جو اس پر اپنے گاؤں تعمیر کرتے تھے۔ ایسے کئی دیہات صدیوں سے آباد تھے، اور فلسطین کے کچھ دیہات تو عثمانی سلطنت کے قیام سے پہلے کے تھے۔ لیکن عثمانی نظام میں زمین کی ملکیت بدلنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہاں کے رہائشیوں کے حقوق بھی ختم ہو جائیں۔ عثمانیوں کے نزدیک زمین کے ساتھ وہاں کے رہائشی بھی منسلک ہوتے تھے۔ یعنی جو کسان اور گاؤں اس زمین پر تھے، وہ وہیں رہتے تھے۔

ابتدائی صیہونی آبادکاروں نے اپنی زرعی کمیونٹیز بنانے کے لیے زیادہ تر وہ زمینیں خریدیں جو غیر آباد تھیں۔ لیکن یہ صورتحال اس وقت بدل گئی جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1917 میں عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور فلسطین برطانوی حکومت کے زیرِ تسلط آ گیا۔

برطانوی مینڈیٹ کے دوران، صیہونی تحریک نے برطانوی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عثمانی دور کے ان روایتی قوانین کو تسلیم نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کی ملکیت کا مطلب ہے فلسطینی دیہاتیوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کا مکمل حق جو انھیں ملے۔

1882 کی گرمیوں میں، جب پہلے چند صیہونی آبادکار یافا ؔمیں پہنچے، تو وہ زراعت کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف تھے۔ ان میں زیادہ تر مشرقی یورپ کے شہری پس منظر سے تعلق رکھنے والے سابق یونیورسٹی طلبہ تھے، جنھیں کھیتی باڑی کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ فلسطینی کسانوں نے انھیں زمین جوتنے اور کاشتکاری کے بنیادی ہنر سکھائے، تاکہ وہ زمین کو زرخیز بنا سکیں۔ مگر اس کے باوجود، اس ابتدائی گروہ کے رہنما، کبھی بھی کھیتی باڑی کے کام سے ہم آہنگ نہ ہو سکے اور ساری زندگی تدریس کے پیشے سے ہی وابستہ رہے۔

فلسطینی کسان شاید یہی سمجھتے رہے ہوں گے کہ وہ ناتجربہ کار نوجوانوں کو بھوک سے بچانے میں مدد کر رہے ہیں، مگر انھیں اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ صیہونی منصوبہ ساز انھیں کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ابتدائی صیہونی پروپیگنڈے میں فلسطینیوں کو اپنی ہی زمین میں اجنبی یا بدترین صورت میں زمین کے غاصبوں کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جو درحقیقت عہد نامہ قدیم کے وقت یہودیوں کی ملکیت تھی۔

صیہونی نظریہ سازوں کے لیے فلسطین محض یورپ میں یہود دشمنی سے فرار کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ان کے ذہن میں اس سرزمین پر مکمل قبضے کی تیاری کا منصوبہ موجود تھا۔ فلسطین میں یہودی آبادکاری کے ساتھ ساتھ، یورپ میں صیہونی رہنما سیاسی سفارت کاری کے ذریعے ایک یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس مہم کا سرخیل آسٹریا کا ایک یہودی صحافی اور ڈرامہ نگار تھیوڈور ہرزل تھا۔

ہرزل کا خیال تھا کہ یورپی طاقتوں کے دباؤ میں عثمانی حکومت فلسطین کو صیہونی تحریک کے حوالے کرنے پر راضی ہو جائے گی۔ اس نے عثمانیوں کو اس مقصد کے لیے مالی پیشکش بھی کی۔ اگرچہ حقیقت میں اس کے پاس اتنی رقم تھی ہی نہیں۔ لیکن عثمانیوں نے اس کی یہ تجویز مسترد کر دی۔ 1914 میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز نے یہ کام اور بھی مشکل بنا دیا۔

عرب دنیا میں برطانیہ کا سب سے اہم اتحادی ہاشمی خاندان تھا، جو مکہ اور مدینہ، یعنی اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کا حکمران تھا۔ 1916 میں برطانیہ نے انھیں سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔ اس کے بدلے میں برطانیہ نے انھیں یقین دلایا کہ جب جنگ ختم ہوگی تو عرب علاقوں، بشمول فلسطین، کو عثمانی حکومت سے آزاد کرا کے اسے ہاشمی حکمرانوں کے حوالے کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ پورے عرب خطے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اگر برطانیہ نے واقعی اپنا وعدہ نبھایا ہوتا، تو آج مشرق وسطیٰ کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ انھیں اندازہ تھا کہ فلسطین کے مستقبل کے لیے برطانیہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جنگ ختم ہونے سے قبل ہی برطانیہ سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کا نقشہ اپنے مفادات کے مطابق ترتیب دینے میں مصروف ہو گیا، فلسطین اس منصوبے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا تھا، کیونکہ یہ برطانوی نو آبادیاتی سلطنت کے تحفظ کے لیے ایک اہم مقام تھا۔

اسی تناظر میں اعلانِ بالفور 2 نومبر 1917 کو سامنے آیا۔ برطانوی حکومت نے اس اعلامیے میں فلسطین کو ”یہودی عوام کے لیے ایک قومی وطن“ بنانے کا وعدہ کیا، مگر اس کے ساتھ ہی اس میں ”فلسطین میں پہلے سے موجود غیر یہودی برادریوں“ یعنی مقامی اکثریتی آبادی کے شہری و مذہبی حقوق کے تحفظ کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

جب پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو برطانیہ، فرانس اور امریکہ فاتح کی حیثیت سے ابھرے۔ ان طاقتوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد اس کے علاقوں کی تقسیم اپنی مرضی سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پورے عمل کو بین الاقوامی قانونی جواز دینے کے لیے لِیگ آف نیشنز قائم کی گئی، جس کا بظاہر مقصد عالمی امن کا قیام تھا۔

1918 کے اختتام تک برطانیہ نے تاریخی فلسطین پر مکمل قبضہ کر لیا، جو آج اسرائیل، مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1922 میں، لِیگ آف نیشنز نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک برطانوی مینڈیٹ کا درجہ دے دیا۔ برطانیہ نے فلسطین میں وہی حکومتی ڈھانچہ نافذ کرنے کی کوشش کی جو اس نے اپنی دیگر نو آبادیات میں بنایا تھا۔ عام طور پر، کسی مینڈیٹ شدہ علاقے میں ایک ہائی کمشنر، جو برطانوی حکومت کا نمائندہ ہوتا، تعینات کیا جاتا تھا، اور اس کے ماتحت ایک منتخب حکومت اور پارلیمنٹ تشکیل دی جاتی تھی، جسے کچھ محدود اختیارات دیے جاتے تھے، لیکن عملی طور پر وہ برطانوی مشیروں کے ماتحت ہوتی تھی۔

لیکن فلسطین میں یہ ماڈل نافذ کرنا ناممکن ثابت ہوا۔ برطانیہ نے ہربرٹ سیموئل ؔکو فلسطین کا پہلا ہائی کمشنر مقرر تو کر دیا، مگر فلسطین میں کوئی قابلِ قبول حکومت بنانا ایک کٹھن مرحلہ بن گیا تھا۔

فلسطینی عوام نے کسی ایسی قانون ساز کونسل (Legislative Council) کو مسترد کر دیا جو بالفور اعلامیہ کی منظوری سے مشروط ہو اور جس میں وہ ہمیشہ اقلیت میں رہیں۔

انھوں نے برطانوی حکام کی جانب سے ایک ”عرب ایجنسی“ کے قیام کی تجویز بھی رد کر دی، کیونکہ یہ یہودی ایجنسی (Jewish Agency) کی طرز پر بنائی جا رہی تھی، جو فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں ایک اقلیت کے طور پر تسلیم کروانے کے مترادف تھی۔

جب برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا، اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی آبادی صرف 11 فیصد تھی۔ لیکن لیگ آف نیشنز اور برطانیہ کے مرتب کردہ ”فلسطینی آئین“ کے مطابق، یہ سرزمین یہودیوں کے ”مستقبل کے قومی وطن“ کے طور پر طے کر دی گئی۔

برطانیہ نے اس اصول کو تسلیم نہیں کیا جو مینڈیٹ سسٹم کی بنیاد تھا کہ کسی بھی ملک کی اکثریتی آبادی کو اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ برطانیہ نے کبھی بھی صیہونی تحریک پر ایسا کوئی حل مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی، جو ان کے نظریات کے خلاف ہو جس کا مطلب ہے کہ برطانیہ نے ہمیشہ ایک یہودی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔

1920 کی دہائی سے بہت پہلے ہی ہم صہیونی رہنماؤں کو فلسطینی آبادی کی منتقلی کے بارے میں غور و فکر کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ بعض صہیونی نظریہ سازوں کو امید تھی کہ اگر فلسطینیوں کو مناسب مالی معاوضہ دیا جائے تو وہ خود بخود ہمسایہ عرب ممالک کی طرف ہجرت کر جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو زبردستی منتقلی کا امکان بھی زیر غور رہا۔ 1920 ء کی دہائی کے وسط سے لے کر 1948 تک، صہیونی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان خیالات کو بڑھاوا دیا، یہاں تک کہ وقت آ گیا کہ انہیں عملی جامہ پہنایا جائے۔ اب جو خیالات پہلے مبہم تھے، وہ ایک منظم منصوبے میں ڈھل گئے، جس کا نتیجہ فلسطین کی نصف عرب آبادی کی نسلی تطہیر کی صورت میں نکلا۔

اب ٹرمپ بھی ایسے ہی منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے جسے پہلے ہی رَد کیا جا چکا ہے۔ پاپے کے نزدیک قابل عمل حل ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ حقیقی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی پناہ گزینوں اور اسرائیل کے اندر موجود فلسطینی اقلیت کے مسائل کو حل نہ کیا جائے۔ یہ مقصد صرف ایک واحد جمہوری ریاست کے حل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، جس میں ہر فرد۔ چاہے وہ فلسطینی ہو یا اسرائیلی۔ برابر کے حقوق سے لطف اندوز ہو اور تاریخی فلسطین کے تمام علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کی آزادی رکھتا ہو۔

Facebook Comments HS