خواب، محبت اور زندگی (10)


وزیر خان کی مسجد کے پیچھے

لاہور میں ہمارا قیام ابی کی مرحومہ پھوپھی کے مکان میں رہا (جن کی بڑی بیٹی سے ابی کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی تھی) ۔ یہ مکان وزیر علی خان کی تاریخی مسجد کی عقبی گلی میں واقع تھا۔ لاہوریوں کی موجودہ نسل اسے اب وہاں نہیں پائے گی کیونکہ برسوں پہلے اسے مخدوش قرار دے کر منہدم کیا جا چکا ہے لیکن میری یادوں میں وہ آج تک اسی طرح قائم و دائم ہے۔ یہ ایک تین منزلہ مکان تھا جو وزیر خان کی عقبی گلی میں سے دائیں ہاتھ کی طرف نکلنے والی گلی میں تھا اور اس مختصر سی گلی میں اس کے علاوہ دو مکان اور بھی تھے۔ نچلی منزل بے حد تاریک تھی۔ اس میں ایک قبر بھی تھی جس پر ہمیشہ دیا جلتا رہتا تھا۔ گھر والوں کا ماننا تھا کہ یہ کسی ولی یا درویش کی قبر تھی۔ اس وقت میری عمر چار پانچ سال رہی ہو گی۔ اس لئے میں نے اس قبر کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اس حصے میں کرایہ دار بھی رہتے تھے جو ایک بہت بڑی سی کڑھائی میں صابن بناتے تھے اور وہی ان کا ذریعہ آمدنی تھا۔ اس حصے کا کرایہ پانچ روپے مہینہ تھا۔ اوپر کی دو منزلوں پر ہم ابی کی دو پھپھی زاد بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ رہتے تھے۔ دوسرے حصے میں روشن کمروں کے ساتھ دو تاریک سی کوٹھڑیاں بھی تھیں جو اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق بیت الخلا چھت پر تھا۔ سامنے والا گھر اتنا قریب تھا کہ اس کے مکین بالکونی میں کھڑے ہو کر ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز ہمیں پکڑا سکتے تھے۔ چھیمی اور ججا بہن بھائی اکثر بالکونی میں آ کر ’ایس‘ پھپھو اور امی سے باتیں کیا کرتے تھے۔ ساتھ والے گھر میں بلقیس آنٹی رہتی تھیں۔ ان کے شوہر کا تعلق فلمی دنیا سے تھا۔ ان کے معاشقوں کی وجہ سے آنٹی دکھی رہتی تھیں اور امی کو اپنے شوہر کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ یہ لاہور کے قدیم ترین گھر تھے۔

گھروں کے ساتھ ہی گلی میں پکوڑوں، دہی اور سوڈے کی بوتلوں کی دکانیں تھیں جن کا منہ ڈھکن کی بجائے کانچ کی گولیوں یا ”بنٹوں“ سے بند ہوتا تھا۔ سوڈے کی بوتلیں لڑائی کے دوران ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھیں۔ اکثر جب میں کھڑکی سے نیچے جھانکتی تو تہمد باندھے کوئی شخص دوڑتا نظر آتا اور اس کے پیچھے ایک دوسرا شخص ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی سوڈے کی بوتل لے کر اسے مارنے کے لئے دوڑ رہا ہوتا تھا۔ محرم کے دوران ہم کھڑکی سے لٹک کر یا چھت پر چڑھ کر عاشورہ کا جلوس دیکھا کرتے تھے۔ ہماری گلی کے نیچے سے یہ جلوس رات کے بارہ ایک بجے گزرتا تھا اور میں اپنی پھوپھی سے کہہ کر سوتی تھی کہ مجھے جلوس گزرنے کے وقت اٹھا دیا جائے۔ اس کے علاوہ جو جلوس مجھے یاد ہیں، وہ سیاسی امیدواروں کے جلوس ہوتے تھے جنہیں ان کے حامیوں نے کندھوں پر اٹھایا ہوتا تھا اور ان کے گلے میں سرخ گلابوں کے ہار پڑے ہوتے تھے۔ بڑے ہونے کے بعد سیاسی تاریخ پڑھی تو علم ہوا کہ اس زمانے میں حکومتیں کتنی جلدی بدلتی تھیں۔ 1953 میں ہونے والے مذہبی فسادات اور لاہور میں لگنے والے پہلے مارشل لا کا ذکر بھی بڑے ہو کر کتابوں میں ہی پڑھا۔

ابی کی پھوپھی دہلی سے بیاہ کر لاہور آئی تھیں اور وہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھیں۔ پھوپھا کا تعلق ککے زئی برادری سے تھا اور ان کے دور پرے کے رشتہ داروں میں گورنر غلام محمد بھی شامل تھا۔ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی دونوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ ’ایس‘ باجی بی اے اور ’خ‘ باجی انٹر کر چکی تھیں اور گھر میں محلے کے بچوں کو ٹیوشن دیتی تھیں۔ چھوٹا بھائی ’آر‘ کالج میں پڑھ رہا تھا۔ میرے دو چھوٹے بھائی بھی لاہور میں ہی پیدا ہوئے۔

ابی۔ ہماری تشویش کا مرکز

لاہور میں کچھ عرصہ ہم ایک کرائے کے گھر میں بھی رہے اور وہاں پیش آنے والے ایک واقعہ سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ابی کتنے کمزور دل واقع ہوئے ہیں۔ اس گھر میں ایک کمرے میں دیوار کے ساتھ اونچائی پر لکڑی کے شیلف پر امی نے کانچ کے گلاس اور دیگر کراکری سجائی ہوئی تھی۔ اسی دیوار کے ساتھ نیچے بچوں کا پنگھوڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک روز مجھے پانی کے گلاس کی ضرورت پیش آئی تو میں نے پنگھوڑے پر پاؤں رکھ کر ایک گلاس اتارا مگر پنگھوڑے کے ہلنے سے میں گلاس سمیت فرش پر گری اور کانچ کے ٹکڑے ٹانگ میں لگنے سے خون بہنے لگا۔ ابی مجھے تانگے میں بٹھا کر میو ہسپتال لے گئے لیکن وہ میرا بہتا ہوا خون نہیں دیکھ پائے اور انہیں الٹیاں شروع ہو گئیں۔ ہسپتال پہنچنے تک ان کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ مجھ سے پہلے ڈاکٹروں کو انہیں سنبھالنا پڑا۔ آنے والے برسوں میں ابی کی صحت کے مسائل ہمیشہ ہمارے لئے تشویش اور پریشانی کا باعث بنے رہے۔

لاہور میں ابی نے ایک پارٹنر کے ساتھ مل کر ”فخر عوام“ (کامنز پرائیڈ) کے نام سے ریڈی میڈ گارمنٹس کا کام شروع کیا۔ 1952۔ 53 میں ایک دن میں مردانہ سوٹ تیار کر کے گاہک کو دینا ایک انوکھا آئیڈیا تھا جو کافی مقبول ہوا۔ میں اکثر ابی کی انگلی تھام کر صبح ان کے ساتھ دکان پر جاتی
تھی۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS