صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 38 : محو حیرت
” مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ زندہ رہنے کے دوران خوش رہنا اور نیکی کرنا ہی بہترین ہے، اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ کھائے، پیے اور اپنی محنت کا لطف اٹھائے، کیوں کہ یہ سب خدا کی رضا میں شامل ہے۔ “ واعظ 3 : 12۔ 13
عادل کی کوٹھی کے آہنی گیٹ کی دونوں جانب سفید ستونوں پر پتھر سے تراشے ہوئے فطری جسامت کے دو شیر بیٹھے تھے جنہیں دیکھنے والے مجسمہ ساز کی صنّاعی پر عش عش کرتے تھے۔ ان کے نیچے پتھر کی تختیاں جَڑی تھیں جن میں سے ایک پر اردو میں اور دوسری پر بنگالی میں ”پریم بسیرا“ لکھا ہوا تھا۔ جیسے ہی عارف کی کار گیٹ کے اندر داخل ہوئی، مریم کی نگاہوں میں حیرت کی ایک چمک سی دوڑ گئی۔ سامنے دور تک پھیلا ہوا سر سبز لان، گویا زمین پر بڑی نزاکت سے سبز مخمل کا قالین بچھا دیا گیا ہو۔ لان کے ایک طرف نیلگوں پانی سے لبریز سوئمنگ پول تھا جس کی سطح پر ایک مٹیالا عکس حرکت کر رہا تھا۔ مریم نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو تیز ہوا آسمان پر ایک چھوٹے سے بادل کے ٹکڑے کو اُڑائے لیے جا رہی تھی جس کا عکس سوئمنگ پول کی سطح پر لرز رہا تھا۔ لان کے اردگرد بلند قامت درختوں کی قطاریں سایہ فگن تھیں، اور اُن کے بیچوں بیچ رنگ برنگے پھولوں کے تختے آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔ مختلف سمتوں میں کئی مالی خاموشی سے اپنے اپنے کام میں جُتے ہوئے تھے۔ کوئی پانی دے رہا تھا، کوئی جھاڑیاں تراش رہا تھا اور کوئی جھکے ہوئے پودوں کو سہارا دے رہا تھا۔ حال آنکہ دوپہر کا ڈیڑھ بج رہا تھا مگر ہوا میں اچھی خاصی ٹھنڈک تھی۔
سامنے کوٹھی کی عمارت تھی، مغربی طرزِ تعمیر، شاہانہ مگر پر سکون، گہرے سرخی مائل بھورے رنگ کی ٹائلوں سے مزین ڈھلواں چھت، سفید رنگ کے بلند ستون، وسط میں نصف دائرہ دار دروازہ، جس پر نفیس کاریگری کی گئی تھی، اور اس کے اطراف میں کھڑکیاں جن پر ہلکے پردے اور اُن کے اندر سے رِستی ہوئی سنہری روشنی۔ ہر گوشہ، ہر زاویہ کسی سنگ تراش کا فن پارہ معلوم ہوتا تھا۔ پورچ کے نیچے دو گاڑیاں آگے پیچھے کھڑی تھیں : عادل کی سیاہ مرسیڈیز، جس کا انجن ابھی گرم تھا، اور اُس کے آگے گلوریا کی سلور الفا رومیو جس کے متعلق جاننے والے جانتے تھے کہ یہ محض سواری نہیں بلکہ اعلیٰ ذوق کی نمائندہ ہے۔ عارف نے اپنی گاڑی ان دونوں کاروں کے پیچھے کھڑی کردی۔ مریم خاموش تھی۔ اُس پر نیم خوابیدگی کی کیفیت طاری تھی جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں قدم رکھ چکی ہو۔
”یہ ہے ہمارا غریب خانہ،“ عارف نے انجن بند کرتے ہوئے کہا۔
”مجھے نہیں معلوم تھا کہ مشرقی پاکستان میں غریب خانے ایسے ہوتے ہیں،“ مریم نے نظر دوڑاتے ہوئے جواب دیا، ”اگر یہ غریب خانہ ہے تو یہاں دولت کدے کیسے ہوتے ہیں؟“
”اس کے لیے تمہیں میرا دولت کدہ دیکھنا ہو گا۔“
”کیا مطلب، تم یہاں نہیں رہتے؟“
”نہیں، میں رات کو دیر تک کام کرتا ہوں، اس لیے فیکٹری کے قریب ایک چھوٹے سے بنگلے میں رہتا ہوں جو ہم دونوں کے لیے کافی ہو گا۔“
”شکر ہے، میں تو گھبرا گئی تھی کہ اتنی بڑی کوٹھی میں کہیں راستہ نہ بھول جاؤں۔“
”پرواہ مت کرو۔ ہم اپنی چھوٹی سی دنیا میں ہر وقت ایک دوسرے کی نظروں کے سامنے رہیں گے،“ عارف نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
جب مریم کوٹھی میں داخل ہوئی، تو دروازے سے گزرتے ہی وہ ایک گول کمرے میں کھڑی تھی، جو ایک عظیم نصف کُرّے کی مانند تھا۔ اُس نے سر اٹھا کر دیکھا، تو بلند و بالا قُبّہ نما چھت کے عین وسط میں ایک تہہ در تہہ شیشوں سے مزین فانوس لٹک رہا تھا، جو روشنی میں ستاروں کی مانند جِھل مِل کر رہا تھا۔ کمرے کے فرش پر دودھ جیسے سفید سنگ مرمر کی سِلیں ایسی مہارت سے لگائی گئی تھیں کہ کہیں جوڑ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مریم کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کمرہ صرف گزرگاہ تھا کیوں کہ اس میں کوئی فرنیچر نہیں تھا۔ اس کے سامنے، دائیں اور بائیں جانب کوٹھی کے مختلف حصوں میں داخل ہونے کے لیے تین دروازے تھے۔ عارف نے مریم کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے سامنے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور آگے بڑھ کر اس کے لیے دروازہ کھولا جس سے گزر کر وہ کھانے کے کمرے میں تھے۔ عارف نے ہاتھ بڑھا کر بجلی کا سوئچ آن کیا، اور کمرہ روشن ہو گیا۔ مریم نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور سوچنے لگی کہ وہ کمرہ اُتنا ہی بڑا ہو گا جتنا اُس کا پورا گھر تھا۔ کھانے کی میز کی دونوں جانب بارہ بارہ کرسیاں تھیں اور دونوں سروں پر ایک ایک کرسی تھی۔ کمرے کے دوسرے سرے پر ایک دائرے میں چمڑے کے صوفے لگے تھے۔
”تم لوگ کہاں رہ گئے تھے؟“ عادل نے سامنے کے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے کہا۔
”ہم تو آپ کے پیچھے پیچھے ہی آ رہے تھے،“ عارف نے جواب دیا۔
”اپنی ماما کو بلاؤ، میرے پیٹ میں تو چوہے دوڑ رہے ہیں،“ عادل نے کھانے کی میز کے سرے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
اُسی وقت گلوریا کمرے میں داخل ہوئیں۔ عارف نے دیوار پر لگے ہوئے سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبایا اور عمارت کے کسی دور دراز حصے سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔ گلوریا عادل کی ایک جانب بیٹھ گئیں اور عارف دوسری جانب۔ مریم عارف کے برابر بیٹھ گئی۔
”بیٹی، یہاں کوئی تکلف نہیں کرنا، یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔“ گلوریا نے مریم کو مخاطب کیا۔
”تھینک یو، آنٹی،“ مریم نے جواب دیا۔
ایک لڑکی کھانے کی ٹرالی دھکیلتی ہوئی بائیں جانب کے دروازے سے داخل ہوئی۔ گلوریا نے مریم سے کہا، ”یہ خورشیدہ ہے اور گھر کے کاموں میں میری مدد کرتی ہے۔“ خورشیدہ نے سر کی جنبش سے مریم کو سلام کیا اور کھانے کی ڈشیں میز پر لگانے لگی۔ ایک بڑے پیالے میں ابلے ہوئے چاول تھے اور تین طرح کی ڈشیں تھیں۔
جب خورشیدہ خالی ٹرالی لے کر واپس جانے لگی تو گلوریا نے کہا، ”خورشیدہ، ذرا کریم چاچا کو بھیج دینا۔“
”جی، گلوریا بی بی،“ خورشیدہ نے جواب دیا۔
کریم چاچا دبلے پتلے، چھوٹے سے قد کے تھے، ٹھوڑی پر لمبی سی سفید داڑھی تھی جس میں اب بھی کہیں کہیں سیاہی تھی، مگر رخسار صاف تھے۔ مٹیالے خاکی ملیشیا کی شلوار قمیص اور سر پر کپڑے کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔
”کریم چاچا ہمارا کھانا پکاتے ہیں،“ گلوریا نے مریم کو بتایا، ”خاندانی آدمی ہیں۔ ان کے والد خواجہ ناظم الدین کے دادا کے زمانے سے ان کے خانساماں تھے۔“
”میں کریم چاچا سے بہت ڈرتا ہوں۔ انہوں نے گلوریا کو اپنی بیٹی بنالیا ہے اور اگر میں اسے ذرا سی ٹیڑھی نگاہ سے دیکھوں تو یہ مجھے ڈانٹ دیتے ہیں،“ عادل نے نے مسکرا کر کہا اور کریم چاچا بھی مسکرا کر رہ گئے۔
”بیٹی، آج میں نے تمہارے لیے خاص پکوان بنائے ہیں، مگر تمہاری پلیٹ خالی ہے،“ کریم چاچا نے مریم سے کہا۔
”نہیں چاچا، میں کھا رہی ہوں، مگر یہ تو بتائیں کہ یہ ڈشیں کیا کیا ہیں،“ مریم نے پوچھا۔
”یہ خاص بنگالی کھانے ہیں،“ انہوں نے جواب دیا، ”یہ شل بٹا مچھ ہے جو نوابوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے اور اپنے تیکھے اور خوشبو دار ذائقے کے لیے مشہور ہے۔“
”مجھے اس میں کچھ کچھ سرسوں کا ذائقہ مل رہا ہے،“ مریم نے کہا۔
”تم نے ٹھیک کہا، بیٹی،“ کریم چاچا کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی، ”یہ ڈش مچھلی کی ہوتی ہے جو سرسوں کے بیج اور ہری مرچوں کے ساتھ پکائی جاتی ہے اور اس میں خالص سرسوں کا تیل پڑتا ہے۔“
”اور مچھلی کون سی ہوتی ہے؟“
”میں تو ہمیشہ روہو استعمال کرتا ہوں لیکن لوگ کٹلا یا تینگرا بھی استعمال کرتے ہیں۔“
”اور یہ دوسری ڈش کیا ہے؟“
”یہ ماچر جھول، سادہ مگر مزے دار مچھلی کی گریوی ہے، جو چاول کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ اس میں آلو بھی ڈالے جاتے ہیں۔ یہ عادل بابا کی پسندیدہ ڈش ہے۔“
”یہ غریبوں کی ڈش ہے۔ میں غریب آدمی ہوں، اس لیے پسند ہے،“ عادل قہقہہ لگا کر بولے۔
”اور یہ تیسری ڈش؟ اس کا ذائقہ بڑا مختلف ہے،“ مریم نے پوچھا۔
” بالکل، یہ چِنگری مالائی کری ہے۔ یہ بنگالی کھانوں کی ایک شاہی ڈش ہے، جس میں جھینگے ناریل کے دودھ میں پکائے جاتے ہیں۔“
”چاچا، میں ان کھانوں کی ترکیبیں آپ سے پوچھ کر لکھوں گی۔ مجھے کھانا پکانے کا شوق ہے۔“
”بڑا اچھا لگا کہ تمہیں یہ کھانے پسند آئے۔“
”کریم چاچا کے ہاتھ کے کھانے کسے پسند نہیں آئیں گے، اگر کریم چاچا ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تو ہم تو بھوکے مر جائیں گے،“ عادل نے کہا۔
”خدا کرے کہ میں آپ کے گھر میں ایسے ہی مزے دار کھانے پکاتا رہوں،“ کریم چاچا انہیں دعا دے کر رخصت ہو گئے۔
کھانا ختم کرنے کے بعد عارف نے کہا، ”مریم، اگر تم تھکی نہ ہو تو تمہیں شہر گھمانے لے چلوں؟“
اس سے پہلے کہ مریم جواب دیتی، گلوریا نے کہا، ”کل لے جانا، اب ذرا آرام کرلو۔ میں نے آدم جی کو چار بجے کا وقت دیا ہے۔ وہ مریم کا ناپ لینے کے لیے آرہے ہیں۔“
”مریم کا ناپ؟“ عارف نے پوچھا۔
”ہاں، وہ اس کے لیے ایک پارٹی ڈریس بنائیں گے۔“
”اوہ!“
”مریم، تم نے واپسی کی فلائٹ پیر کو رکھی ہے،“ گلوریا نے مریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”کچھ دن اور رک جاتیں۔“
”آنٹی، وہ دراصل مجھے امتحانوں کی تیاری بھی کرنی ہے۔“
”ہم نے اتوار کی شام کو تم سے ملانے کے لیے کچھ دوستوں کو دعوت دی ہے۔ اس پارٹی میں پہننے کے لیے آدم جی نیا ڈریس ڈیزائن کریں گے۔“
آدم جی چٹاگانگ کے مشہور فیشن ڈیزائنر تھے جو ایشیا فیشن کے نام سے مشہور تھے اور اشرافیہ کی خواتین کے لباس تیار کرتے تھے۔ اُس زمانے میں بھی ان کے تیار کردہ لباس کئی کئی لاکھ کے ہوتے تھے۔
”چلو، میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دیتی ہوں، کچھ دیر آرام کرلو۔ چار بجے آدم جی اپنی اسٹاف کو لے کر پہنچ جائیں گے،“ گلوریا نے مریم سے کہا، پھر عارف کی طرف مڑ کر بولیں، ”تم مریم کا سامان اس کے کمرے میں پہنچوا دو۔“
”جی، ماما،“ عارف نے کہا اور گاڑی سے مریم کا سوٹ کیس نکالنے کے لیے چلا گیا اور گلوریا مریم کو اس کا کمرہ دکھانے کے لیے لے چلی۔
گلوریا نے دروازہ کھولا، اور مریم جیسے کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گئی۔ چھت سے ایک شفاف شیشوں سے تراشا ہوا فانوس لٹک رہا تھا جس سے روشنی کی بوندیں ستاروں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔ دیواریں دبیز، ریشمی پردوں سے ڈھکی تھیں اور کمرے کے وسط میں رکھی ہوئی بادامی لکڑی کی مسہری پر سفید مخمل کا بستر تھا، جس پر دبیز گدے اور ریشم کے تکیے تھے۔ پائنتی پر نیلی اور سنہری کڑھائی والا لحاف رکھا تھا۔ فرش پر سرخ رنگ کا ایرانی قالین بچھا تھا جس پر قدم رکھتے ہی پیر اس میں دھنس جاتے تھے۔ سرہانے کی دیوار پر لگی ہوئی ایک پینٹنگ میں بنگال کی ایک ناچتی ہوئی رقاصہ دکھائی گئی تھی جس کا چہرہ دھند میں چھپا تھا، اور کمرے کے ایک گوشے میں شیشے کی سنگھار میز تھی، جس پر خوشبوؤں کی قطاریں سجی تھیں۔
مریم ساکت کھڑی رہ گئی، جیسے وقت رُک گیا ہو۔ اس کے لب خاموش تھے، مگر آنکھوں میں حیرت کی ایک چمک تھی۔ شاید اسی لمحے پہلی بار اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا۔ کیا وہ اس کمرے میں صرف ایک مہمان تھی؟

