کینٹین میں بیٹھ کر یونیورسٹی ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ تجربہ کاروں کی زبانی


ہم بدلے، وقت بدلا، ڈگری بدلی اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئے مگر اس سب میں نہیں بدلا تو وہ ہے ہمارے تعلیمی ماحول کی آب و ہوا۔ تبدیلی غیر آرام دہ چیز ہوتی ہے، لیکن خدا بھلا کرے ہمارے تعلیمی نظام کا، جو اس قدر مہربان ہے کہ طلبہ کو کسی قسم کی غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالنے سے مکمل پرہیز برتتا ہے۔ اسکول نے ہمیں جو کچھ کھانے کو دیا، وہی کچھ کالج میں چبایا اور یونیورسٹی میں جا کر بھی وہی گودا چوسنے کے لیے ملا۔ اسکول کے ٹیچروں کی روحیں کالج تک ہمارا پیچھا کرتی رہیں اور یونیورسٹی میں پہنچ کر ہمیں وہی ذرا زیادہ ترقی یافتہ ورژن کے ساتھ ملیں۔

اس نظام میں صرف کرداروں کے نام بدلتے ہیں، یعنی اگر اسکول میں ”ماسٹر صاحب“ تھے، تو کالج میں ”پروفیسر صاحب“ مل گئے، اور یونیورسٹی میں یہی صاحب ”ڈاکٹر“ بن کر طلبہ کے سامنے ترقی یافتہ صورت میں پلیٹ میں رکھ کر پیش کیے جاتے ہیں۔

جیسے پاکستان میں ہر تین سے چار سال بعد الیکشن میں جماعتوں کے منشور ترقی یافتہ ورژن کے ساتھ سننے کو ملتے ہیں لیکن دیکھنا آج تک ہمارے نصیب میں نہیں رہا یا پھر ہم بطور قوم وہ آنکھ ہی نہیں رکھتے جس سے یہ اعلیٰ قسم کی سعادت حاصل کی جا سکتی ہو۔

محکمہ تعلیم نے طلبہ کے سکون کا ایسا خیال رکھا ہوا ہے کہ Bs کا اب تک کا سفر جو ہم نے کیا ہے، تھوڑا سا مختلف ذائقہ بھی محسوس نہیں ہونے دیا۔

یونیورسٹی میں ایک چیز وہ یہ کہ عقل نام کی چیز کسی حد تک جوان ہو چکی تھی اور یہ جان گئے کہ ایسے ماحول میں صرف نظریات سے کچھ نہیں ہو گا۔ ایک دور ہوتا ہے بے وقوفانہ، دوسرا تجرباتی اور تیسرا ہوتا ہے عاقلانہ اور ہم اس دور کے دروازے پر کھڑے ستاروں سے آگے کی دنیا دیکھ رہے تھے۔ اس کی برکت کی وجہ سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے گئے اور پروفیسر حضرات کے ساتھ عمدہ تعلقات استوار کیے گئے۔

پہلے تو ماحول کو اوپر سے دیکھتے ہوئے ہمیں سب کچھ ٹھیک ٹھاک لگا لیکن یہ بات ہضم کرنا مشکل تھی۔

ہم پاکستان میں کھڑے تھے، جس کا آئین بھی سندھ کی سڑکوں جیسا ہے، جو بس دعا اور بیلچے کے سہارے چل رہا ہے یعنی ہر طرف گڑھے، مرمت کے نشانات، اور زیادہ تر جگہوں پر ”کام جاری ہے“ کا بورڈ لگا ملتا ہے۔ سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے کم از کم تھوڑے بہت جھٹکوں کے بعد منزل مل تو جاتی ہے، جبکہ آئین کے جھٹکوں کے بعد آج تک منزل کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ ہم جا کہاں رہے ہیں۔

پہلا سمیسٹر یونیورسٹی کے ماحول کو سمجھنے میں نکل گیا اور جب اس کے اصول و ضوابط سے مکمل واقفیت ہو گئی کہ اگر آپ کو کلاس نہیں کرنی تو پھر اس کا متبادل یہ ہے کہ پروفیسر حضرات کی خدمت میں کسی قسم کی کسر باقی نہیں چھوڑنی چاہیے اور اس کے لئے اپنے سینئر حضرات سے باقاعدہ ”پروفیسرز تعلقات منیجمنٹ“ کا کورس بھی کیا، جس کے چند سنہری اصول ملاحظہ ہوں :

1۔ پروفیسر حضرات کی جہاں سوچ جائے، وہاں پر وہ اپنے پہنچنے سے پہلے آپ کو پائیں، چاہے وہ کینٹین ہو، جلسہ جلوس ہو، یا پھر چائے کا ڈھابہ۔ اگر آپ ہر جگہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی نظر آرہے ہیں، تو سمجھ لیں کہ آپ نے ”نظرِ کرم“ کا ویزا حاصل کر لیا ہے۔

2۔ پروفیسر حضرات کے آنے پر درباریوں کی طرح کھڑے ہو کر ادب سے ”سلام حضور“ کہیں اور جب وہ تشریف لے جانے لگے تو ایسے خاموش ہو جائیں جیسے کمرۂ جماعت نہیں بلکہ تختِ شاہی چھوڑ کر جا رہے ہوں۔

ان کی عادات کو ایسے سراہیں جیسے وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے جوتوں اور لباس کی تعریف ایسے کریں جیسے وہ پیرس کے کسی فیشن شو سے سیدھا کلاس میں آئے ہوں، ان کے الفاظ ایسے سراہیں جیسے نصرت فتح علی خان کے راگ ہوں یا پھر ملکہ ترنم کی آواز ہو اور ان کی کھانسی تک کو ایسے پذیرائی دیں جیسے وہ کوئی ”نادر کلاسیکی دھن“ ہو۔

ان کے پڑھانے کے طریقہ کار کو یوں سراہیں جیسے کوئی طالب علم نہیں، بلکہ روحانی مرید ان سے فیض حاصل کر رہا ہو۔

چاہے آپ کو وہ کچھ سمجھ نہ بھی آ رہا ہو لیکن ان کو تو سمجھ ہوتا ہے اور یہ کچھ کم تھوڑی ہے ان کے اعلیٰ ہونے کے لیے۔ ان سے آسان سے آسان سوال کریں، جواب ملنے کے بعد سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی دانش کو سقراط، بقراط اور ارسطو کے ساتھ بٹھا دیں، اور خود کو یونانی افسانوں کا گمشدہ شاگرد۔ ان کے لطیفوں پر ایسے ہنسیں جیسے شوہر حضرات بیگمات کی عدم موجودگی میں دانت نکال کر کھلکھلاتے ہیں۔ ہنسی اتنی شاندار ہونی چاہیے کہ پروفیسر کو یقین ہو جائے کہ یہ اس صدی کا سب سے جاندار لطیفہ تھا۔ آپ ان اوپر دی گئی ہدایات پر لگے رہیں، وہ خود اس قدر سمجھدار ہوتے ہیں کہ انہیں الہام ہوتا ہے کہ ہمیں صرف یہی ایک بچہ سمجھتا ہے اور اس طرح سمجھدار کو سمجھنے والے فرد کے طور پر بطور انعام آپ کلاس کے سمجھدار ترین طالب علم قرار پاتے ہیں۔

3۔ نوٹس بنانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ڈیپارٹمنٹ میں تعلقات بنائیں۔ ”با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب“ والے محاورے کی عملی صورت یونیورسٹی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ یونیورسٹی میں دعا سلام کی وہ برکات ہوتی ہیں کہ بندہ صرف دل کا نہیں بلکہ گریڈز کا بھی مریض ہونے سے بچا رہتا ہے۔ یہ وہ روحانی نسخہ ہے جس سے ناصرف آپ کے اعمال نامہ بلکہ CGPA کی صحت بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی ہے۔

یونیورسٹی اور اسکول میں جو ایک بنیادی فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ اسکول میں اچھے نمبروں کے حصول کے لئے دو چار لوگوں کی خدمت کے ذریعے ہی بورڈ کی سرحد تک طالب علم پہنچ پاتے ہیں جبکہ یونیورسٹی میں پروفیسر حضرات کے آفس تک پہنچنے کے لئے اس قسم کی شرائط کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

دو اور چیزیں وہ یہ کہ یونیورسٹی میں اسائنمنٹ اور پچھتر فیصد حاضری کا ہونا ایسے ہی طالب علموں کے لئے ضروری ہوتا ہیں جیسے ہمارے ہاں سیاستدانوں پر ایمانداری کی لازمی شرط۔ اب جس ملک میں مردے ہر تین سے چار سال بعد ووٹ ڈال جاتے ہیں وہاں کے زندوں کے لئے کلاس میں نہ ہو کر ہونا کون سی مشکل بات ہے۔ یونیورسٹی میں سب سے بڑی ایجاد وہ ”دوست“ ہوتے ہیں جو حاضری شیٹ پر آپ کے نام کے دستخط ایسی اعلیٰ مہارت سے کرتے ہے کہ اگر الیکشن کمیشن میں لگ جاتے تو آج تک اس ادارے پر دھاندلی کا داغ ہی نہ لگتا۔ اس طرح کچھ لوگوں کے دل میں ہمارے لئے کتنا مقدار میں محبت ہے اسے ثابت کرنے کا صرف ایک ہی پیمانہ، وہ یہ کہ حاضری شیٹ پر کبھی ہم غیر حاضر نہ ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہم آپ کی محبت کو مشکوک نظروں سے دیکھیں گے۔

Facebook Comments HS