ذکر کچھ ملاقاتوں کا
تقریبات میں جانے سے عمومی طور پر میں گریزاں رہتی ہوں۔ گھریلو اور دفتری مصروفیات سے ہٹ کر کہیں آنے جانے کا وقت کم ہی نکلتا ہے۔ تاہم جب دیرینہ دوست احباب کی ہدایت ملتی ہے تو حاضری لازم ہو جاتی ہے۔ میری گل سے میری شناسائی برسوں پرانی ہے۔ میری سابق رکن پنجاب اسمبلی ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور ہر دم متحرک۔ سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ غالباً کسی مجبوری یا ترجیح کی وجہ سے میری کو اس مرتبہ ٹکٹ نہیں مل سکا۔ تاہم اس نے بد دل ہو جانے کے بجائے، فلاحی کام کو ترجیح دی۔ کچھ برسوں سے وہ سینیٹری ورکروں اور ان کے بچوں کے لئے مہم چلا رہی ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سینیٹری ورکروں کو کم تر سمجھتے ہیں۔ لیکن میری برسوں سے یہ نعرہ لگا رہی ہیں کہ ”سینیٹری ورکر سوپر ہیرو ہیں“ ۔ اس نے سینیٹری ورکروں کے بچوں کے لئے خوشحالی اسکالر شپ کا آغاز بھی کیا ہے اور ان کو تعلیم میں مدد فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ کچھ دن پہلے میری کی کال موصول ہوئی کہ وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی اور اقلیتی امور کھیل داس کوہستانی کے ساتھ ایک عشائیے کا اہتمام ہے۔ اس عشائیے میں پہنچی تو اراکین اسمبلی، مختلف ممالک کے سفارتی افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق چنیدہ شخصیات موجود تھیں۔ کھیل داس صاحب کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ یہ میاں نواز شریف صاحب کے قابل اعتماد اور وفادار ساتھی ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب بتاتے رہتے ہیں کہ یہ میاں صاحب کے نہایت قریب ہیں۔ کھیل صاحب نے اپنے سادہ انداز میں تقریر کی۔ بتایا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے بھارت کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہاں اقلیتیں کس قدر مشکل زندگی گزارتی ہیں۔ انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کشمیر اور بھارت میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا۔ اس تقریب میں امریکی سفارت خانے کے افسران، برطانوی ہائی کمشن لاہور کے سربراہ اور دیگر افسران موجود تھے۔ امریکی قونصلیٹ کے عہدیدار میری ساتھ والی نشست پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اپنی صحافیانہ جبلت کے تحت میں نے ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اقدامات کا تذکرہ کیا۔ وائس آف امریکہ اور خاص طور پر سمیسٹر ایکس چینج پروگرام کی بندش پر اظہار افسوس کیا۔ بتایا کہ پاکستان میں اب یہ تاثر ہے کہ امریکہ کا ویزہ ناممکنات میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ سفارتی افسر کہنے لگے کہ ہمارے فل برائٹ اسکالرشپ سمیت باقی تمام پروگرام پہلے کی طرح جاری ہیں۔ سمیسٹر ایکس چینج پروگرام ہولڈ پر ہے اور اس پر مزید غور و فکر جاری ہے۔ امریکی ویزے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ سب میڈیا پر کہی جانے والی باتیں ہیں۔ سرکاری طور پر پاکستان کے لئے امریکی ویزہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں نے کہا کہ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اس اچھی تقریب میں بہت سے نئے پرانے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ میرا چھوٹا بھائی عدنان ایک سیاسی کارکن ہے۔ طویل عرصے بعد اس سے ملاقات ہوئی اور پارٹی امور پر گفتگو بھی۔ احسن اقبال صاحب کے صاحبزادے احمد اقبال صاحب سے گفتگو رہی۔ منظور وٹو صاحب کی بیٹی اور ہماری دوست عائشہ کی بہن جہاں آراء وٹو سے ملاقات ہوئی۔ ایف سی کالج یونیورسٹی کے ریکٹر کی عمدہ گفتگو سننے کو ملی۔ میری جیمز کو مبارک کہ اس نے ”بین المذاہب ہم آہنگی“ کے نام پر ایک عمدہ محفل سجائی۔
یتیم اور مستحق بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ ادارہ پاکستان بھر میں سینکڑوں اسکول چلا رہا ہے۔ غزالی کے سربراہ عامر محمود صاحب علمی و ادبی تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اس مرتبہ عامر صاحب نے کچھ شخصیات کو سول ایوارڈ ملنے کی خوشی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ چھوٹے بھائی نور سے میں نے کہا کہ مجھے لینے کے لئے گاڑی بھجوا دینا تاکہ میں وقت پر پہنچ سکوں۔ وقت مقررہ پر گاڑی آئی تو میں حفصہ کو گود میں اٹھائے پورچ میں آ گئی۔ یکایک ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھلا اور سیاہ شیروانی میں ملبوس ایک صاحب باہر نکلے اور احتراماً میرے لئے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگے۔ ایک لمحے میں، میں پہچان گئی کہ یہ معروف ڈرامے سونا چاندی کے کردار سونا یعنی حامد رانا صاحب ہیں۔ راستے میں ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ غزالی پہنچی تو معروف سفر نامہ نگار، افسانہ نگار، کالم نگار ہماری آپا سلمیٰ اعوان صاحبہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ تقریب دراصل سینئر صحافی محترم سلمان غنی صاحب، محترم نصرا اللہ ملک صاحب، سلمی اعوان صاحبہ اور حامد رانا صاحب کو ملنے والے سرکاری اعزازات کے ضمن میں تھی۔ تقریب میں محترم سجاد میر صاحب، ڈاکٹر شاہد صدیقی صاحب، پروفیسر نعیم مسعود صاحب، آمنہ مفتی صاحبہ، شاہد چوہدری صاحب، نجم ولی صاحب، جماعت اسلامی کے امیر العظیم صاحب، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق صاحبہ، فرخ شہباز صاحب، ڈاکٹر عفان صاحب اور دیگر معروف احباب موجود تھے۔ سب سے مل کر اور گفتگو کر کے اچھا لگا۔ میرے نزدیک سلمان غنی صاحب اور نصرا اللہ ملک صاحب کی صحافت کا سب سے عمدہ پہلو یہ ہے کہ یہ نہایت شائستہ انداز میں صحافت کرتے ہیں۔ ان کی پاکستان سے محبت، نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان سے وابستگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میں ان دونوں شخصیات کو برسوں سے جانتی ہوں۔ ان کے صحافتی اور سیاسی نظریات سے اختلاف کی گنجائش یقیناً موجود ہو گی۔ لیکن ان کے انداز صحافت، محنت اور ایمانداری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتنے بڑے صحافی ہونے کے باوجود یہ دونوں عجز و عاجزی کی تصویر ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ان دونوں کا شائستہ انداز صحافت ہمارے نوجوان صحافیوں اور صحافت کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہے۔ اسی طرح سلمیٰ اعوان صاحبہ اور حامد رانا صاحب بھی اپنے اپنے میدان میں بڑے نام ہیں۔ عرض کیا کہ ان دونوں کو یہ ایوارڈ تاخیر سے ملے ہیں۔ لیکن دیر آئید، درست آئید۔ اچھی بات ہے کہ بغیر کسی سفارش کے انہیں یہ اعزازات حاصل ہوئے ہیں۔
برادرم سلمان غنی صاحب کو ملنے والے سول ایوارڈ کے ضمن میں ایک عمدہ تقریب جامعہ پنجاب میں بھی ہوئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی صاحب نے اس تقریب کی صدارت فرمائی۔ محترم مجیب الرحمن شامی صاحب، محترم سجاد میر صاحب، محترم ارشد انصاری صاحب، برادرم سلمان عابد صاحب، اجمل جامی صاحب سمیت اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز کے اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات اس تقریب میں موجود تھے۔ تقریب میں سلمان غنی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کم و بیش دو دہائیاں قبل جب سلمان غنی صاحب نوائے وقت میں چیف رپورٹر تھے، میں نوائے وقت گروپ کے ٹیلی ویژن چینل میں کرنٹ افیئرز کے شعبے کے معاملات دیکھا کرتی تھی۔ اس زمانے کے اپنے مشاہدات میں نے بھی تقریب میں بیان کیے۔ غزالی اور جامعہ پنجاب میں ہونے والی تقاریب میں موجود محترم سجاد میر صاحب کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہ بھی سول ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ بیس برس قبل میں ان کے ٹی وی پروگرام کی پروڈیوسر ہوا کرتی تھی۔ یہ ایک دانشور صحافی ہیں۔ غزالی میں میں نے اپنی تقریر میں اس بات کا اظہار بھی کیا۔ بعد ازاں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے کان میں بھی یہ بات ڈالی۔ اللہ کرے کہ اگلی مرتبہ وہ بھی یہ اعزاز حاصل کر سکیں۔
جامعہ پنجاب کی تقریب میں برطانوی پارلیمان کے رکن افضل خان صاحب بھی موجود تھے۔ ان کی گفتگو اور جدوجہد کی کہانی سن کر اچھا لگا۔ افضل خان صاحب فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ یہ سن کر ہال تالیوں سے گونج اٹھا جب حاضرین کو پتہ چلا کہ فلسطین میں ہونے والے مظالم پر انہوں نے بطور احتجاج اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یقیناً یہ بہت بڑی بات ہے۔ آج کے مادیت پرستی کے زمانے میں ایسا اصولی اختلاف کرنے کا حوصلہ کم کم لوگوں میں ہوتا ہے۔


