زراعت کے ساتھ کھلواڑ
پنجاب کے دیہی منظرنامے میں کسان کا پسینہ صدیوں سے اس دھرتی کی زرخیزی کا ضامن رہا ہے۔ ہر موسم، ہر طوفان، ہر گرمی اور سردی کے باوجود وہ اپنی زمین سے وفادار رہتا ہے۔ اس کی وفاداری صرف زمین سے نہیں، ایک پورے معاشی نظام سے ہے جس کا انحصار اسی پر ہے۔ گندم کے سنہری خوشے جب لہلہاتے ہیں تو وہ صرف روٹی کے دانے نہیں ہوتے، وہ ایک خاندان کی امید، ایک ماں کی دعا، ایک باپ کی غیرت، ایک بہن کی شادی، اور ایک بیٹے کے تعلیمی خواب کی تعبیر ہوتے ہیں۔
مگر آج کا کسان ان سنہری خوشوں کو دیکھ کر خوش نہیں، پریشان ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ فصل جس پر اس نے چھ ماہ محنت کی، وہ فصل جس پر اس نے مہنگی کھاد، مہنگی بجلی، ٹریکٹر کی مزدوری، زمین کو ہموار کرنے کے اخراجات، مزدوروں کی اجرت، کٹائی کا خرچ، زمین کا ٹھیکہ اور دیگر درجنوں چھوٹے بڑے خرچ برداشت کیے، وہ فصل اسے اس کے اخراجات بھی واپس نہیں لوٹائے گی۔
یہ صرف ایک مالی خسارہ نہیں، یہ کسان کی امید کا جنازہ ہے۔ وہ کسان جو صدیوں سے بیساکھی مناتا آیا، آج خاموش ہے۔ اس کے گاؤں میں وہ روایتی ڈھول نہیں بجتے، وہ میلوں کی رونق نہیں، وہ سرسوں کی خوشبو میں بسی مسکراہٹ نہیں۔ بیٹی کی شادی، بچوں کی تعلیم، بیمار ماں کا علاج، اور آڑھتی کے سود پر لیے گئے ادھار۔ سب کچھ ایک ایکڑ کی فصل سے جڑا ہے، اور وہ فصل آج بے قیمت ہے۔
حکومت پاکستان قیام سے لے کر اب تک کم از کم گندم کی حکومتی خریداری کے ذریعے کسان کو ایک تحفظ فراہم کرتی آئی تھی۔ یہ نہ صرف ایک زرعی پالیسی کا ستون تھا بلکہ کسان کی زندگی کی ڈور تھی۔ مگر اب کچھ نئے افلاطون، جنہیں دیہات کی فضا کا اندازہ نہیں، جنہوں نے کبھی کھیت کی مٹی چھوئی نہیں، جو آڑھتی کے حساب کتاب کو صرف ایکسل شیٹ میں دیکھتے ہیں، انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو ایسی معاشی تھیوریاں سنا کر قائل کر لیا ہے جن کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ حکومتی خریداری رکوائی جا چکی ہے۔ کسان کو بازار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں اس کی فصل آڑھتی کے ترازو میں تولی نہیں جاتی بلکہ اس کی مجبوریوں کے وزن سے دبا دی جاتی ہے۔
اگر واقعی مقصد شہروں میں روٹی سستی کرنا ہے تو اس کا حل کسان کی فصل کو بے قیمت کر دینا نہیں، بلکہ وہی راستہ ہے جو دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک، خصوصاً ہندوستان نے اپنایا ہے۔ زراعت کو سبسڈی دے کر مہنگائی پر قابو پایا گیا۔ وہاں کسان کو بجلی، کھاد، بیج، اور زرعی ٹیوب ویل کی سہولیات پر واضح سبسڈی دی جاتی ہے۔ کسان کے اخراجات کم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیداوار کو مناسب قیمت پر دے کر بھی زندہ رہ سکے۔
پاکستان میں بھی اگر حکومت سنجیدہ ہے تو بجائے اس کے کہ وہ کسان کی فصل کا ریٹ گراتی جائے، اسے چاہیے کہ کھاد، بجلی، بیج اور ڈیزل کو سبسڈائز کرے۔ زرعی ٹیوب ویل کی بجلی فری کرے، تاکہ اخراجات کم ہوں اور پھر وہ چاہے تو روٹی کا ریٹ کم کر دے۔ مگر کسان کا معاشی قتل کر کے سستی روٹی کی امید رکھنا نہ صرف ایک ظالمانہ پالیسی ہے بلکہ یہ آنے والے دنوں میں کسانوں کو زمینوں سے دور، اور شہروں کے بازاروں کو ویران کرنے کا راستہ ہے۔
کسان صرف ایک مزدور نہیں، وہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر اس کی کمر جھک گئی اور اس نے گندم کاشت کرنے سے سے ہاتھ اٹھا لیا تو پچیس کروڑ انسانوں کی فوڈ سیکورٹی خطرے میں پڑ جائے گی اور ہمارے زرمبادلہ کے سارے ذخائر بھی اس کو خرید نہ پائیں گے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے جتنا جلدی سمجھا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔


