ضلع گجرات کا پہلا امریکی گورنر، جوسایہ ہرلن ( 1832۔ 1835 )


مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کی تاریخ میں بہت سے غیر ملکی فوجی افسران تھے جن میں سے کچھ نے خالصہ دربار میں ملازمت کے لیے برطانوی بھگوڑے ہونے کا غلط دعویٰ کیا تھا لیکن ان میں سے ایک منفرد شخص جوسایہ ہرلن نمایاں تھا جو امریکی شہریت کا سچا دعویٰ کرتا تھا جسے بعد میں رنجیت سنگھ نے گجرات کا حکمران تعینات کیا۔

جوسایہ ایک ماہر معالج کے طور پر اپنے فوجی کیریئر کا آغاز برطانوی فوج میں کولکتہ پہنچنے کے بعد کرتے ہیں۔ تیز ذہن اور شاندار مہارت کے بل بوتے پر ان کی ترقی کی رفتار تیز رہی اور وہ بالآخر افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان کے زیرِ قیادت خدمت کرنے لگے۔ تاہم تقدیر نے ایک نیا موڑ اس وقت لیا جب ایک مہم کے دوران رنجیت سنگھ کی افواج نے ہرلن کو قید کر لیا۔

اپنی پہلی تعیناتی میں ہرلن کو دسمبر 1829 میں رنجیت سنگھ نے نورپور اور جسروتا (انڈیا) کا گورنر مقرر کیا۔ اس کے بعد 28 مئی 1831 کو ہرلن نے لاہور دربار کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر کے رنجیت سنگھ کی خدمات میں شمولیت اختیار کی۔ مہاراجہ نے انھیں لالہ دینا ناتھ کی نگرانی میں دے دیا۔ مشہور تاریخ دان خشونت سنگھ اپنی کتاب ’اے ہسٹری آف دا سکھز‘ جلد اول میں لکھتے ہیں کہ دینا ناتھ لاہور دربار کے منتظم تھے جنہیں بعد میں دیوان کا عہدہ دیا گیا تھا۔

ہرلن مئی 1832 میں گجرات کا حکمران تعینات کیا گیا، ان کی تعیناتی کے متعلق معلومات ہمیں سوہن لعل سوری کی ’اُمدّ تُتواریخ‘ کے دفتر سوم میں ملتی ہیں۔ سوہن لعل خالصہ دربار میں رنجیت سنگھ کے ذاتی تاریخ نویس تھے جو رنجیت سنگھ سے پہلے ان کے والد مہان سنگھ کے دربار میں بھی تاریخ نویسی کرتے تھے۔ ان کی رنجیت سنگھ پر لکھی گئی تاریخ کو ’اُمَدّ تُتواریخ‘ کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔

سوہن لعل رنجیت سنگھ کے دربار کی کارروائی کو قلمبند کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رنجیت سنگھ نے ہرلن کی تنخواہ 1200 روپے مقرر کی اور ان کے ذمے پیادہ فوج اور توپ خانے کے ایک بریگیڈ کی نگرانی بھی لگائی۔ مزید مہاراجہ نے انھیں ایک تلوار، ایک ہاتھی اور اعزازی خلعت سے نوازا۔ اس موقع پر جنرل ایلارڈ بھی موجود تھے۔ اس تعیناتی کے موقع پر رنجیت سنگھ نے ہرلن کو سخت انتباہ بھی جاری کیا جس کا ذکر
سی۔ گرے 1929 میں لکھی گئی اپنی کتاب ’یورپین ایڈونچرز آف ناردرن انڈیا‘ میں کرتے ہیں۔ گرے لکھتے ہیں کہ رنجیت سنگھ نے ہرلن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”میں تمہیں گجرات کا گورنر بنا دوں گا۔ اگر تم اچھا برتاؤ کرو گے تو میں تمہاری تنخواہ بڑھا دوں گا۔ ورنہ میں تمھاری ناک کاٹ دوں گا۔“ اس انتباہ کا ذکر میجر ہیو پییرس نے بھی 1898 میں اپنی کتاب ’سولجرز اینڈ ٹریولرز: میموئرز آف ایلگزینڈر گارڈنر‘ میں
کیا ہے۔

ہرلن نے گجرات کے سول اور فوجی گورنر کے طور پر خدمات انجام دینا شروع کر دیں۔ ان کی تعیناتی کے دوران بہت سے انگریز افسران اور سیاح گجرات میں ہرلن کے پاس ٹھہرے جنہوں نے بعد میں اپنی کُتب میں جوسایہ کی شخصیت کے متعلق معلومات دیں۔ جیسے میجر ہنری لارنس قلعۂ گجرات میں گورنر ہاؤس میں ٹھہرے اور جوسایہ کے مہمان بنے۔ لارنس اپنی کتاب ’ایڈونچرز آف این افسر اِن دا سروس آف رنجیت سنگھ‘ میں لکھتے ہیں کہ ہرلن ایک قابل شخص، عظیم حوصلہ اور جرات کے مالک تھے۔ لارنس کی یہ رائے درست بھی نکلی کیونکہ انہوں نے گجرات میں قانون و انصاف کو بہتر بنایا اور چوری میں نمایاں کمی کی اور طاقتور زمینداروں کو آہنی ہاتھوں لیا۔ نتیجتاً مقامی اشرافیہ ان کے خلاف ہو گئی۔ لارنس لکھتے ہیں کہ اُن زمینداروں نے ہرلن کی شکایت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سامنے کی۔ سوہن لعل اس موقع پر رنجیت سنگھ کے دربار کی روزانہ کی کارروائی لکھتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ 12 مارچ 1832 کو سردار دَل سنگھ وزیر آباد سے لاہور دربار میں آئے جہاں انہوں نے گھوڑے کا تحفہ پیش کرنے کے بعد ہرلن کے گھمنڈ کے بارے میں شکایت کی۔ شکایت کے جواب میں مہاراجہ نے ہرلن کو ایک تنبیہ کا خط بھیجا۔

مظالم کے الزامات کے باوجود بہت سے زائرین نے جوسایہ ہرلن کے بارے میں مثبت رائے بھی دی ہے۔ لیفٹیننٹ ایلگزینڈر برنس، جو 1832 میں افغانستان جاتے ہوئے گجرات سے گزرے، قلعۂ گجرات میں گورنر کی رہائش گاہ پر قیام پذیر ہوئے۔ ہنری لارنس کی طرح، برنس بھی جوسایہ سے متاثر ہوئے اور لکھا، ”میں نہیں سمجھتا کہ کبھی کسی ایشیائی سے اس قدر افسوس کے ساتھ رخصت ہوا ہوں جتنا کہ اس قابل شخص سے رخصت ہوتے وقت ہوا۔“

1832 میں گجرات میں جوسایہ کے بننے والے دوسرے مہمان ایلگزینڈر گارڈنر تھے جو لاہور جاتے ہوئے گجرات میں ان کے پاس ٹھہرے اور ہرلن کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے۔ گارڈنر رنجیت سنگھ کی فوج کے نہایت بہادر جرنیل تھے جنہیں تاریخ میں ’گوردانہ خان‘ کے نام سے بھی لکھا جاتا ہے۔ برطانوی تاریخ نویس جان کے نے 2017 میں گارڈنر پر ایک کتاب بھی تصنیف کی جس کا نام ”دا ٹَرٹن ٹَربن: اِن سرچ آف ایلگزینڈر گارڈنر“ تھا۔

اسی سال جون میں ایک مسافر مشنری اور تھیولوجین ڈاکٹر جوزف وولف گجرات پہنچے۔ ان کا سامان، جو مختلف زبانوں میں ترجمہ شدہ بائبل اور گھڑیوں کا مجموعہ تھا، اتار کر گورنر ہاؤس کے ایک مہمان خانہ میں رکھ دیا گیا۔ گورنر کا انتظار کرتے ہوئے وہ ایک سکھ گورنر کی توقع کر رہے تھے لیکن وولف حیران ہو گئے جب انہوں نے ہرلن کو ’یانکی ڈوڈل‘ (ایک امریکی حب الوطنی گیت) کی دھن پر حقہّ پیتے ہوئے آہستہ آہستہ سرگوشی کرتے سنا۔

وولف نے 1861 میں اپنی ایک کتاب ’ٹریولز اینڈ ایڈونچرز آف ریورنڈ جوزف وولف‘ میں گجرات کو ’ایک اہم شہر‘ کہا ہے اور ہرلن کی تعریف کچھ اس طرح کی، ”وہ فارسی کو بڑی روانی سے بولتے اور لکھتے ہیں ؛ وہ ذہین اور جرات مند ہیں۔ ڈاکٹر ہرلن اپنے اصولوں میں ایک بڑے ’ٹوری‘ ہیں اور شاہی عزت کا احترام کرتے ہیں ؛ حالانکہ دوسری طرف، وہ واشنگٹن، ایڈمز اور جیفرسن کی تعریف کرتے ہیں، جنہوں نے آزادی کے اعلان کو لکھا۔“

ہرلن کا ایک اور قریبی ساتھی وہ شخص تھا جسے ہرلن پیار سے ”مولوی“ کہتا تھا۔ دونوں کے درمیان یہ تعلق ہرلن کے افغانستان کے دوران قائم ہوا تھا اور ایک دن، ہرلن کو حیران کرنے کے لیے مولوی اچانک گجرات پہنچ گئے۔ ہرلن اور مولوی اکثر موضوعات جیسے علمِ کیمیا، روزکریوشنزم اور فری میسنری پر بحث کرتے جس نے ہرلن مولوی کی ذہنی جستجو کو بہت متاثر کیا۔ ہرلن نے مولوی کو گورنر ہاؤس میں کیمیائی تجربات کرنے کی اجازت دی تھی جن کا مقصد دھاتوں کو سونے میں بدلنا تھا۔ ہرلن خود بھی ان تجربات میں حصہ لیتے اور کیمیا کے راز سیکھنے کے لیے بہت پرجوش رہتے تھے۔ تاہم علم کیمیا میں یہ دلچسپی بعد میں ہرلن کے لاہور دربار میں زوال کا سبب بنے گی۔ اس بات کا تذکرہ جان مارٹن ہونگ برگر 1852 میں لکھی گئی اپنی خودنوشت ’تھرٹی فائیو ائرز اِن دی ایسٹ‘ میں کرتے ہیں۔ جان مارٹن رنجیت سنگھ کی حکمرانی کے دوران طبی شعبوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے تھے۔

ہرلن نے خالصہ دربار کے لیے اہم سیاسی کردار بھی ادا کیا، جیسے موسمِ بہار 1835 میں رنجیت سنگھ نے انھیں پشاور طلب کیا جب رنجیت سنگھ افغانستان کے دوست محمد کا مقابلہ کرنے اور پشاور کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں رنجیت سنگھ کے فرانسیسی افسران، جن میں آلارڈ، و ینٹورا اور اویٹابلے شامل تھے، اپنی افواج کو جنگ کے لیے تیار کر رہے تھے لیکن مہاراجہ نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور افغانستان کا گہرا علم رکھنے والے کسی شخص کی تلاش کی اور قرعۂ فال ہرلن کے نام کا نکلا اور وہ پشاور پہنچ گئے۔ ہرلن افغانستان میں دوست محمد کے ماتحت کام کر چکے تھے اور رنجیت سنگھ کے سیاسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بہترین انتخاب تھے۔

فوجی حکمت عملی کے تحت ہرلن کو فقیر عزیز الدین کی ہمراہی میں دوست محمد خان کے پاس مذاکرات کے لیے اس سفارتی مشن پر بھیجا گیا۔ میجر ہیو پییرس بتاتے ہیں کہ ان کا مقصد افغان حکمران سے سفارتی سطح پر بات چیت کرنا تھا تاکہ سکھ فوج کو ممکنہ تصادم کے لیے تیاری کے لیے مزید وقت مل سکے۔ ایک ماہ کے دوران ہرلن فقیر دوست محمد اور رنجیت سنگھ کے درمیان پیغام رسانی کرتے رہے اور بالآخر جوسایہ افغانوں کو حملہ کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ 11 مئی 1835 کو دوست محمد افغانستان واپس چلا گیا جبکہ ہرلن گجرات واپس آ گئے لیکن وہ مایوس تھے کیونکہ ہرلن ’رنجیت سنگھ سے متوقع تھے کہ وہ انہیں اُن کی اِن خدمات کے عوض پشاور کا گورنر مقرر کریں گے لیکن اُن کی یہ مایوسی بعد کے عرصے میں ان کے رنجیت سنگھ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا باعث بنی۔ اس مایوسی کا تذکرہ دیوندر کمار ورما اپنے آرٹیکل‘ ڈاکٹر جوسایہ ہرلن، اِین امریکن ایٹ دا کورٹ آف مہاراجہ رنجیت سنگھ ’میں کرتے ہیں۔

ہرلن اور مہاراجہ کے درمیان تعلقات آنے والے سالوں میں مزید خراب ہونا شروع ہو گئے۔ 19 اگست 1835 کو رنجیت سنگھ کو فالج کا حملہ ہوا جس نے انھیں مفلوج کر دیا اور ان کی زبان میں ہکلاہٹ آ گئی۔ ہرلن کو علاج کرنے کے لیے بلایا گیا لیکن روایتی علاج کی بجائے انھوں نے ایک تعویذ بنا دیا۔ انھوں نے ایک سونے کی چین کو سُوّر کے پینڈنٹ میں لپیٹ کر زبان کے نیچے رکھنے کا کہا تاکہ ہکلاہٹ کم ہو سکے۔ لیکن مہاراجہ کو یہ غیر روایتی علاج سخت ناگوار گزرا۔ تعلقات میں کشیدگی کو دور کرنے کے لیے کرنل ویڈ کو بعد میں مداخلت کرنا پڑی جنہوں نے رنجیت سنگھ کو لکھا ’ہرلن کا تیار کردہ تعویذ درست اور موثر تھا۔‘ کرنل ویڈ ایسٹ انڈیا کمپنی اور خالصہ دربار کے درمیان ایک ایجنٹ کے فرائض انجام دیتے تھے۔

ایک اور واقعے میں ہرلن نے رنجیت سنگھ کو برقی جھٹکے دینے کے لیے ایک آلہ بنانے کی تجویز دی لیکن اس کے لیے ایک لاکھ روپے کی بڑی رقم درکار تھی۔ ہرلن کی پیشگی ادائیگی کی درخواست نے رنجیت سنگھ کو غصہ دلا دیا جس کے نتیجے میں ہرلن کو لاہور دربار سے نکال دیا گیا۔ بعد ازاں رنجیت سنگھ نے برطانوی حکام سے ایک ڈاکٹر بھیجنے کی درخواست کی جنہوں نے ڈاکٹر ولیم میک گریگر لاہور میں علاج فراہم کرنے کے لیے بھیجا جبکہ ہرلن نے وزیرآباد میں جنرل آلارڈ کے پاس پناہ لے لی۔

دیوندر کمار ورما کے مطابق اس واقعے کا ایک متبادل ورژن ہوا تھا۔ ورما کا کہنا ہے کہ رنجیت سنگھ نے اپنے درباری دیوی سہائے صفاوالی کو وزیرآباد بھیجا تاکہ وہ ہرلن کو لاہور لا سکیں لیکن ہرلن نے ایک لاکھ روپے پیشگی وصول کیے بغیر آنے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں رنجیت سنگھ نے ہرلن کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات دیے اور اسے شہر سے ننگے پاؤں نکال دیا۔

ہرلن اور رنجیت سنگھ کے درمیان تعلقات مکمل طور پر کچھ نئے واقعات نے ختم کر دیے۔ جب رنجیت سنگھ نے ہرلن سے قیمتی گھوڑا مگنان مانگا تو ہرلن کا انکار مزید تنازعہ کا باعث بن گیا۔ جاسوسوں نے یہ افواہیں بھی پھیلائیں کہ ہرلن گجرات میں علمِ کیمیا اور شاہی سکوں کی جعلسازی کر رہا ہے۔ لاہور بلائے جانے پر ہرلن اور رنجیت سنگھ کے درمیان سخت مکالمہ بازی ہوئی جس کے نتیجے میں رنجیت سنگھ نے اسے ستلج دریا کے پار پھینکوانے کا حکم دے دیا۔

شرمندہ اور جلاوطن ہو کر ہرلن نے 1836 میں پنجاب چھوڑا اور افغانستان کے دوست محمد کے دربار میں پناہ لی جہاں انہوں نے رنجیت سنگھ کے خلاف جنگ کی ترغیب دی۔ یہ سرگوشی اپریل 1837 میں جنگِ جمروت میں سردار ہری سنگھ نلوا کی المناک موت کا سبب بنی۔ ہری سنگھ رنجیت سنگھ کے بہادر ترین جرنیلوں میں سے ایک تھے۔

جوسایہ ہرلن واپس امریکہ چلے گئے اور 1842 میں اپنی خود نوشت ’میموئر آف انڈیا اینڈ افغانستان‘ تصنیف کی جسے مبالغہ آرائی اور بلند بیانیہ کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سن 1871 میں جو سایہ سان فرانسسکو میں انتقال کر گئے۔ ان کے نام کی گونج تاریخ میں آج بھی ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے مشہور صحافی اور تاریخ نویس بین میک انٹائر نے جو سایہ پر 2008 میں ’اے مین ہُو وڈ بی دا کِنگ‘ شائع کی۔

اہلِ گجرات اگر یہ دعویٰ کریں کہ گجرات اور امریکہ کے درمیان پہلا سیاسی رابطہ 1832 میں جوسایہ کی وجہ سے بنا تھا تو یہ غلط نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS