مسافر پر چالان
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر خیالوں میں گم بیٹھا تھا، اور جیسے ہی ہم جوزے ریلواز شاہراہ سے ٹرین اسٹیشن کی طرف مڑے تو ناکے پر موجود پولیس والوں نے گاڑی روکی اور میری طرف رخ کیا۔ پولیس نے فوراً میرے کاغذات چیک کیے اور چہرے پر بے تکلفی کی ایک مسکراہٹ چھپائے ہوئے، مجھے 120 یورو کا چالان تھما دیا۔
میں سمجھتا تھا کہ یہاں بھی پاکستان کی طرح گاڑی کے ڈرائیور پر ہی جرمانہ عائد ہوتا ہے، مگر یہاں کا قانون کچھ الگ ہی ہے۔ جب تک آپ گاڑی میں موجود ہیں، آپ پر بھی تمام ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہر شخص کو اس طرح کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 120 یورو، یعنی تقریباً چالیس ہزار روپے کا چالان، جو فوراً میرے حساب کتاب کا حصہ بن گیا۔ یہ نیا تجربہ تھا، بلکہ قانون کی سختی کا بھی احساس دلایا۔
یہاں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 120 یورو سے لے کر 600 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی فیملی کے ساتھ سفر کر رہے ہوں اور گاڑی چلانے والے نے سیٹ بیلٹ نہ باندھ رکھی ہو، یا گاڑی میں بچوں کے لیے بوسٹر سیٹ موجود نہ ہو، تو یہ سنگین خلاف ورزی سمجھی جاتی ہیں ایسی صورت میں 600 یورو تک کا بھاری جرمانہ، یعنی تقریباً دو لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ قانون صرف ڈرائیور کے لیے نہیں بلکہ گاڑی میں موجود ہر فرد پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ اگلی سیٹ پر ہو یا پچھلی پر۔ بچوں کی حفاظت کو یہاں انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور بوسٹر سیٹ کی عدم موجودگی کو سنگین غفلت شمار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، صرف گاڑی چلانا ہی کافی نہیں، یہاں قانون کے ہر پہلو سے آگاہ ہونا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، ورنہ ایک چھوٹی سی کوتاہی جیب پر بڑا بوجھ ڈال سکتی ہے۔
1959 میں سویڈن کی مشہور کار ساز کمپنی والوو (Volvo) کے لیے ایرو اسپیس انجینئر نئلز بولین نے تھری پوائنٹ سیٹ بیلٹ ایجاد کی، جو آج دنیا بھر میں گاڑیوں کے حفاظتی نظام کا ایک بنیادی حصہ بن چکی ہے۔ اس سے قبل استعمال ہونے والی سیٹ بیلٹس صرف دو پوائنٹس پر بند ہوتی تھیں، جو نہ صرف غیر موثر تھیں بلکہ شدید حادثات میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی تھیں۔ نئلز بولین کی ایجاد نے گاڑیوں کی حفاظت کے تصور میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ والوو نے اس ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کروانے کے بجائے اسے عوامی مفاد میں اوپن سورس کر دیا، تاکہ دیگر کار ساز کمپنیاں بھی اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں اس جدید حفاظتی نظام کو شامل کر سکیں۔ اس فیصلے نے لاکھوں انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا، اور اسی لیے نئلز بولین کی اس ایجاد کو دنیا کی سب سے زیادہ جانیں بچانے والی ایجاد قرار دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال تقریباً تیرہ لاکھ افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار دیتے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً اڑتیس سو سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اگر سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف شدید چوٹوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ان حادثات میں ہلاکتوں کی شرح کو بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹے سے احتیاطی اقدامات، زندگی بچانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔


