چالیس چراغ عشق کے : چند تاثرات
ایلف شفق کا تعلق جمہوریہ ترکیہ کی سر زمین سے ہے جس نے اورحان پاموک، احمت حمدی طانپنار، صباح الدین علی، عدالت اعولو اور یشار کمال جیسے نابغہ روزگار پیدا کیے۔ وہ ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں اور مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں متصوفانہ ادب کے حوالے سے انھوں نے اپنی ایک خاص پہچان بنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول ”Pinhan پر انھیں رومی پرائز سے بھی نوازا گیا ہے۔ تصوف پر کچھ لکھنا، ہر کس و ناکس کا کام نہیں، اس کے لیے سخت ریاضت اور گہرے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایلف شفق کا ابتدا ہی سے تصوف کی جانب رجحان تھا، اس لیے انھوں نے اس میدان کو اپنی تخلیقات کے لیے منتخب کیا۔ ان کا تعلق تو فطری طور پر صوفیا کی سرزمین سے تھا لیکن انھوں نے تعلیم کے حصول کے بعد مختلف یورپی یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیے، تو یورپی ثقافت کی خوشبو بھی ان کی تحریروں کا حصہ بن گئی۔ مشرق اور مغرب کے مشاہدے کے بعد انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ انسانیت کی قدرو قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے فکشن میں مشرقی اور مغربی کہانی بیان کرنے کے انداز، انسانی حقوق کے مسائل، آرمینیائی نسل کشی، ترکی میں اقلیتوں کی مشکلات، مہاجرت اور جلاوطنی کے علاوہ تصوف، انسانیت اور عشق و محبت جیسے موضوعات نمایاں ہوتے ہیں۔ ترکی کا شہر استنبول ان کی کئی کہانیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اس شہر کو مختلف ثقافتوں کے امتزاج اور تضادات کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ان کے متعدد ناولوں نے عالم گیر شہرت حاصل کی جن میں“ 10 منٹس 38 سیکنڈز اِن دِس سٹرینج ورلڈ ”،“ دی فلی پیلس ”،“ دی باسٹرڈ آف استنبول ”دی گیز“ اور ”آنر“ خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ان کا ناول ”دی فورٹی رولز آف لو“ 2009 میں شائع ہوا جسے اب تک دنیا کی درجنوں زبانوں میں شائع کیا جا چکا ہے۔ اسے اردو کا روپ ہما انور نے دیا ہے جس پر انھیں 2017 ء میں اکادمی ادبیات پاکستان نے محمد حسن عسکری ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ انھیں اورحان پاموک کے ناول ”سرخ میرا نام“ پر 2015 ء میں یو بی ایل لٹریری ایکسیلینس ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ ہما انور اب تک درجنوں نثری کتب انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں۔
ایلف شفق کا ناول ”چالیس چراغ عشق کے“ دو متوازی کہانیاں بیان کرتا ہے۔ پہلی کہانی امریکہ میں رہائش پذیر خاتون ایلا روبنسٹن کی ہے جو اَدھیڑ عمر خاتون ہے اور اپنے بے وفا شوہر اور تین بچوں کے ساتھ بے روح زندگی گزار رہی ہے۔ وہ زیادہ تر غیر مطمئن اور اُداس رہتی ہے۔ اسے ایک لٹریری ایجنسی کے لیے کام کرنے کا موقع ملتا ہے جس میں اسے عزیز اے ظہارا نامی مصنف کے ناول ”سویٹ بلاسفیمی“ کا جائزہ لینا ہے۔ دوسری کہانی تیرہویں صدی کے صوفی شاعر جلال الدین رومی اور شمس تبریز کے مابین تعلق کو موضوع بناتی ہے۔ شمس کو ناول میں ایک آزاد خیال اور غیر روایتی صوفی کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنی آزاد خیالی اور باغیانہ طبیعت کے باعث رومی کی زندگی میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے۔ اُس کی تعلیمات عشق کے اُن چالیس اصولوں پر مبنی ہیں جو اس ناول کا مرکزی خیال ہیں۔ ان اُصولوں میں خدا اور انسان سے مَحبت، نفس کی قربانی اور رواداری مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ایلا ”سویٹ بلاسفیمی“ کا مطالعہ کرتی جاتی ہے ویسے ویسے وہ شمس اور رومی کی کہانی میں محو ہوتی چلی جاتی ہے۔ شمس کی زندگی کے چالیس اُصول اس کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ رومی کے روحانی سفر کی روداد پڑھ رہی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی روحانی تقلیب کا شکار ہو رہی ہوتی ہے۔ اس دوران وہ اپنے ماضی پر غور کرتی ہے۔ اپنے رشتوں کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی ذات کی نئی پرتوں کو دریافت کرتی ہے۔ اسی عرصے میں ایلا اور عزیز کے مابین آن لائن رابطہ قائم ہوتا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ جذباتی تعلق میں بدلتا چلا جاتا ہے۔ یوں مذکورہ ناول عشق کے مختلف پہلوؤں کو تلاش کرتا ہے۔ جیسے خدا سے عشق، روحانی مرشد سے عشق اور ایک انسان کا دوسرے انسان سے عشق وغیرہ۔ یہ ناول روایتی عقائد اور زندگی کے جامد طریقوں کو چیلنج کرتا ہے اور روحانی بیداری اور ذاتی زندگی میں تبدیلی پر زور دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو محبت ایمان اور زندگی کے گہرے معانی کی تلاش میں قاری کی راہنمائی کرتی ہے۔ مختصراً ًیہ ناول دو متوازی کہانیوں کے ذریعے عشق کے جوہر کو بیان کرتا ہے۔ ایک طرف تیرہویں صدی میں رومی اور تبریز کا عشق ہے اور دوسری طرف ایلا کا اپنی ذات اور محبت کی نئی جہت سے خود کو آشنا کرنے کا جتن ہے۔ دونوں کہانیوں میں اگرچہ صدیوں کا سفر حائل ہے لیکن دونوں محبت اور عشق کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
تصوف در حقیقت وحدت الوجود کا دوسرا نام ہے جس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ انسان جسمانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ نفس کی پاکیزگی کو بھی یقینی بنائے۔ صوفی اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتا ہے کہ وہ متقی اور پرہیز گار بن جائے۔ اسے اپنے رب کی قربت کا شرف حاصل ہو۔ وہ اپنی ذات کو رد کر کے خدا کی ذات کو ہر جگہ پاتا ہے۔ اسی لیے وہ ظاہری زیب و آرائش کے بجائے باطنی پاکیزگی پر زیادہ توانائی صرف کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رومی نے ظاہری زندگی کے امتناعات اور تحدیدات سے منھ موڑ کر اللہ سے لو لگانے کو ترجیح دی جسے دنیا کی نظر میں بُرا سمجھا گیا۔ ان کی روحانی کایا کلپ میں شمس تبریز نے بنیادی کام انجام دیا۔ اردو ادب میں بھی صوفی کرداروں کو ناولوں میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں ”آگ کا دریا“ ، ”علی پور کا ایلی“ ، ”راجا گدھ“ اور جمیلہ ہاشمی کا ”دشتِ سوس“ خاص طر پر نمایاں ہیں۔
مذکورہ ناول میں ناول کے پلاٹ کے اندر ایک اور ناول موجود ہے جسے ہم ناول در ناول کی تکنیک کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ فکشن کو بیان کرنے کی اس طرح کی تکنیک ہمیں شیکسپیر کے ڈراموں میں بھی ملتی ہے یا قدیم داستانوں میں کہانی در کہانی کی تکنیک کا استعمال دکھائی دیتا ہے۔ یوں ایلف شفق نے ناول میں ناول کو بیان کر کے قاری کی دلچسپی کو بڑھاوا دیا ہے۔ دوسری اہم بات جو اس ناول کی بیانیہ تکنیک میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ اس میں متعدد راوی موجود ہیں جو واحد متکلم کے صیغے میں واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ ہر باب مختلف کردار کے نقطہ نظر سے لکھا گیا ہے جس میں ایلا، عزیز، شمس تبریزی، رومی اور کئی دیگر اہم اور ضمنی کردار شامل ہیں۔ یہ تکنیک قاری کو واقعات اور کرداروں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جس سے کہانی کی گہرائی اور پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر راوی کا اپنا انداز بیان اور نقطہ نظر ہوتا ہے، جو کہانی کو مزید رنگین اور متنوع بناتا ہے۔ ناول کی ساخت عشق کے چالیس اصولوں کے گرد بُنی گئی ہے۔ ہر اصول کو کہانی کے کسی نہ کسی حصے میں موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور کرداروں کے اعمال اور خیالات کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے۔ یہ اصول نہ صرف کہانی کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرتے ہیں بلکہ ابواب کی ترتیب اور موضوعات کے ارتقاء میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناول میں کرداروں کے خطوط اور صوفی اقوال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ عناصر کہانی کو مزید مستند اور ذاتی بناتے ہیں اور کرداروں کے اندرونی خیالات اور جذبات کو براہ راست قاری تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر شمس تبریزی کے اقوال، ایلا اور عزیز کے درمیان خطوط اور ای میلز ان کے تعلقات اور روحانی سفر کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہانی متوازی طور پر آگے بڑھتی ہے، لیکن بعض اوقات ماضی کے واقعات کو فلیش بیک کے ذریعے بھی پیش کیا جاتا ہے، جو کہانی کی پرتوں کو کھولنے میں مدد کرتا ہے۔ یوں اس ناول کے بیانیہ کو ”غیر خطی بیانیہ“ کہا جا سکتا ہے۔ متنوع بیانیہ تکنیکوں کے امتزاج سے ایلف شفق نے ایک ایسا ناول تخلیق کیا ہے جو نہ صرف ایک دل چسپ کہانی سناتا ہے بلکہ قاری کو محبت، روحانیت اور انسانی وجود کے گہرے سوالات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ مختلف راویوں اور متوازی کہانیوں کا استعمال قاری کو ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے اور کہانی کو زیادہ جامع اور یادگار بناتا ہے۔


