شارجہ صحرائی سفاری: چمکتی ریت اور مہم جوئی میں گزرا دن
صحرا نوردی کے لئے خصوصی بنی شارجہ کی صحرائی سفاری کمپنی کی فور وہیل ڈرائیو ایس یو وی جاپانی دو گاڑیاں آگے پیچھے دوبئی کی حدود سے نکل شارجہ جاتی سڑک پر ایک بڑے احاطہ میں داخل ہو چکیں تھیں۔ سارے رستہ کوہاٹ کے نواحی علاقے کا پٹھان باسی ڈرائیور ہمیں ان یک دم عمودی چڑھائی اور نیچے گراتی ڈھلوان والے صحرائی ٹیلوں پہ تقریباً چھلانگیں لگاتے اور گاڑی کی ایک سائیڈ ٹیلے کی ڈھلوان والی طرف پہ تیس پینتیس ڈگری جھکی چلنے اور سیاحوں کی چیخیں نکالنے والے مگر مکمل محفوظ تفریحی سفر کے متعلق بتا ذہنی طور تیار کرتا آیا تھا۔ کھلی چھت کے نیچے کرسیاں میز اور جگہ جگہ چائے کافی پانی شربت سوڈا بسکٹ کھجور اور انواع اقسام کی نعمتیں، جو مرضی جتنا مرضی کھاؤ ( مگر ذہن میں رکھ کے کہ بے تکی غیر متوازن ڈرائیو کے باعث متلی کا ڈر ہے۔ لہذا ہاتھ ذرا ہولا رکھیں ) یا ساتھ رکھ لو کے اعلان کے ساتھ رکھی تھیں۔ یہ اڑھائی بجے دوپہر کا وقت تھا اور اس کے بعد ہمیں رات آٹھ سے قبل کہیں کھانے پینے کی شے نہ ملنا تھی۔ نہ ہی واش روم کی سہولت مل سکتی تھی۔ اس ابتدائی کیمپ کے دائیں طرف وسیع صحرا اور تیز چلتی خوشگوار ٹھنڈی ہوا بلند و پست ٹیلوں کے اوپر دھوپ میں سنہرے اڑتے بادلوں جیسا روح پرور نظارہ لئے تھی۔ ساتھ بہت بڑی تعداد میں صحرا نوردی کے لئے تین پہیہ بغیر چھت اکیلے، چار پہیہ دو اور بڑی چار پہیہ چار افراد کے لئے صحرائی بگھیاں ( کواڈ بائیک ) کھڑی تھیں۔ اب ہمارے اپنی پسند کے خریدے مختلف ڈیزائن کے چوکور رومال ہمارے سروں پر عرب بدوؤں کے عمامہ کے طور باندھے جا رہے تھے۔ انہیں کوفیہ یا حطؔہ کہا جاتا ہے۔ ان کے اوپر ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹ پہنا ہم کو صحرا نوردی کی اس پہلی مہم کے لئے پسند کی کواڈ بائیک گاڑیوں پہ بٹھایا جا رہا تھا۔ ایک چار مسافر والی، دو دو افراد والی جن پہ چھت بھی تھی، کنبہ نے اور دو تین پہیہ ہمارے دونوں نواسوں نے سنبھالیں۔ انتظامیہ کا گائیڈ ایک اپنی تین پہیہ پہ آگے اور قطار میں اس کے پیچھے ہم سب تھے۔ یک دم عمودی چڑھائی چڑھتے ٹیلے کی چوٹی اور تقریباً چھلانگ مارتے چوٹی سے آگے جا گرتے متعین رستے، تیز ہوا سے اڑتی یا اس صحرائی بگھی کے اڑائے سنہری ریت کے بادل ایک عجیب نظارہ تھے۔ سب ڈرائیور اپنی بگھی اچانک یک دم دائیں بائیں جھٹکے سے موڑنے اور چھلانگیں لگوانے میں گائیڈ کی حرکات دیکھتے چند منٹ میں ماہر ہو مزے لیتے چیخیں مار رہے تھے۔ دائیں بائیں فاصلے پہ ایسے ہی سات سات آٹھ آٹھ گاڑیوں والے کئی قافلے اپنے متعین راستوں پہ کرتب لگاتے چیختے نعرے لگاتے جاتے نظر آ رہے تھے۔ آٹھ دس منٹ موج میلہ کرتے قافلہ رکا اور گائیڈ نے ہمیں اتر چلتے چوٹیوں پہ چڑھتے موج مستی کر لینے کا کہا۔ اونچے ٹیلوں کی چوٹیوں پہ چڑھ ارد گرد چمکتی دھوپ سے سونے کی طرح چمکتے نظارے اور تیز ہوا سے اڑتی ریت پہلی بنی لہریں مٹاتی نئی بناتی سماں باندھ رہی تھیں۔ فوٹو گرافی ہو رہی تھی۔ پوز بنائے جا رہے تھے۔ گائیڈ قافلے کی ساری گاڑیاں ساتھ ساتھ کھڑی کرتے پورے کنبہ کو گاڑیوں کے سامنے کھڑے ہو یا ٹائروں پہ بیٹھ مختلف پوز بنوا فوٹو ہمارے موبائلز سے بنا رہا تھا۔
قافلہ چل پڑا۔ اب چلانے والوں کا خوف ختم ہو چکا تھا اور صحرا میں گاڑیاں دوڑانے میں ایک سے بڑھ کر ایک کرتب کرتے گھومتے گھماتے بڑھ رہے تھے ایک اور جگہ چوٹی پہ رک کے نظاروں کا مزا لیا۔ اب گائیڈ کے پیچھے چلتے واپس احاطہ یا کیمپ میں پہنچ ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس اتار اپنی بھوک انواع و اقسام کی مہیا نعمتوں سے مٹاتے پانی اور سنیکس وغیرہ زاد راہ کے طور ساتھ لے رہے تھے۔ خواتین اپنا سوونیئر خریدنے کا شوق پورا کر رہی تھیں۔ اور حوائج سے فارغ ہو صحرا کے جنگل میں منگل بنے اس کیمپ کی پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں پہ بیٹھ اگلی صحرا نوردی اور مہم جوئی کو نکل رہے تھے۔ ہمارا یہ سنسنی سے بھرپور تفریح دیتا، مجھ بوڑھے بیمار کا دل حلق تک اچھالتا سفر و مہم جوئی اڑھائی گھنٹے یہاں لگوا چکی تھی۔
چند کلو میٹر آگے جاتے یک دم سائیڈ روڈ پہ یو ٹرن لیتی ریت سے بھری نیم پختہ سڑک پر چلتے دائیں طرف ہو ریت کے ٹیلوں کے قریب کھڑی کئی اور گاڑیوں کے پاس جا رکی۔ یہ گاڑیوں کے خصوصی ساخت والے ٹائروں سے ہوا کم کرتے پریشر دس پاؤنڈ تک لانے کا سٹاپ تھا۔ بتایا گیا اس کم پریشر پہ یہ ٹائر ریت میں دھنسنے اور پھسلنے سے محفوظ بن جاتے ہیں۔ ڈرائیور بتا رہا تھا کہ صحرا کی ان راہوں پہ گاڑی چلانے کے لئے بہت سخت ٹریننگ، بار بار اور مختلف محکموں ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے اونچ نیچ کے گُر سمجھنے اور پہلے استاد کی نگرانی میں گاڑی چلانے کا تجربہ حاصل کر کے لائسنس لینے میں آٹھ مہینے کی کٹھن، نان سٹاپ محنت کرنا پڑی۔ مگر معاوضہ بہت اچھا، آٹھ نو مہینے کام اور تین چار ماہ کی با تنخواہ چھٹی ہے جو اہل خانہ کے ساتھ پاکستان گزارتے ہیں۔
وہی پہلے جیسا دھوپ میں چمکتے سنہرے ریت کے ٹیلوں پہ چڑھنے چند فٹ ہوا میں معلق رہ دھڑام سے ڈھلوان پہ گرنے ٹیلے کے دائیں بائیں بیس تیس ڈگری ایک طرف جھکی فراٹے بھرنے صحرا نوردی کا عمل شروع تھا۔ تاہم ہماری ازل سے ”بہادر“ بیگم جو کواڈ بائیک پہ بھی نہیں گئی تھیں کی چیخوں اور اصرار پر ڈرائیور رفتار اور کار کے کولہے مٹکوانے کا عمل کچھ کم کر چکا تھا۔ گو ہمارا چھ سالہ پوتا ”تیز ذرا اور تیز“ کا مطالبہ کر رہا تھا۔ آگے، پیچھے، دائیں، بائیں ایسی ہی گاڑیاں اپنی راہوں پہ جھومتی ناچتی جاتی حد نظر تک ریت کے ٹیلے چوٹیاں گھاٹیاں اور ٹائروں کے بنائے رستوں کے ناقابل فراموش نظارے دکھاتے ہم جیسوں کو ریت کی ان وادیوں کے نظاروں میں ڈوب کے لطف لینے کی دعوت دے رہی تھیں۔ سفر کا انداز وہی کواڈ بائیک صحرائی بگھی والا تھا مگر وہاں سٹیئرنگ ہمارے اپنے شیر جوانوں کے ہاتھ میں تھے اور یہاں صحرائی وین کاروان کے ساربان ماہر ڈرائیور کے ہاتھ جو ساتھ کمنٹری کرتا جا رہا تھا۔
مختلف اونچے ٹیلوں کی چوٹیوں پر گاڑیاں رکی تھیں۔ ہمیں بھی اتر صحرا کی صاف ہلکی خنک ہوا میں سستانے اور چاروں طرف گھومتے منظر کشی کے چند منٹ ملے اور دور تک پھیلے صحرا کو دیکھتے خدا تعالیٰ کے ہمارے لئے مسخر کردہ ایک اور نعمت کا مزا لینے کے موقع ملنے پر شکرانہ ادا کرتے حمد باری کا وقت مل گیا۔
تھوڑی دیر اور جھومتے گھومتے نشستوں پہ اچھلتے اب پھر ایک اور جگہ قیام تھا اور ہم پرانے زمانے کے الؔن فقیر کے مست گیت کی پیروڈی ”جوڑ جوڑ ہلؔے، میرا جوڑ جوڑ ہلؔے“ گنگناتے باہر نکلے۔ ایک اور نظارہ سامنے تھا۔ بلند ٹیلے سے یک دم بہت تیز دور تک جاتی ڈھلوان ایک گھاٹی میں اتر رہی تھی تھی اور کمپنی کا عملہ سنو بورڈنگ ( برف کی ڈھلوان پہ کوئی ڈیڑھ فٹ چوڑی چار فٹ لمبی خصوصی تختی ) کی تختیاں باری باری سیاحوں کے سامنے رکھ انہیں ان پر بیٹھنے اور ڈھلوان پہ پھسلتے توازن قائم رکھنے اور کنٹرول کرنے کی ٹریننگ دے نیچے کی طرف دھکا دے رہے تھے۔ کوئی دور تک پھسلتا جاتا کوئی تھوڑے یا زیادہ فاصلے پہ الٹا بیٹھتا اور قلابازیاں کھاتا ہنستا اُٹھ ٹخنوں تک ریت میں پاؤں دھنسے زور لگاتا ناظرین کے قہقہوں اور جگتوں اور نعروں کی گونج میں اوپر واپس آتا۔ ہمیں اجازت نہ ملی کہ واپس اس ریت میں چلتے اوپر چڑھنا بہت مشکل تھا۔ اس جگہ اکٹھے ہوئے آٹھ دس گروپوں میں سے سب سے زیادہ دور تک اور بغیر الٹے جانے والوں میں ہماری بیٹی بھی تھیں اور سب سے زیادہ بار اپنے باپ، ماں اور کزنز کی گود میں بیٹھ پھسلن کا مزا لینے والا ہمارا ننھا پوتا تھا۔
سورج ڈھلنا شروع ہو چکا تھا اور اونچے ٹیلوں کے سائے نظر آتے اور ہی دلکشی میں رنگ چکے تھے، اور واپسی کا اعلان ہو چکا تھا۔ اب دوسری راہوں سے چلتے گزرتے ہمیں شارجہ کی حدود سے واپس نکل دوبئی کی حدود میں ایک صحرائی کیمپ ”الخیمہ“ پہنچنا تھا۔ ایک دفعہ پھر ڈھلتے سورج میں سونا بنے ریت کے ٹیلوں اور دور نظر آتی شاید آئل ریفائنریوں پر الوداعی نظر پھیرتے ایک ہموار مگر ریت ہی کی سڑک پر پہنچے۔ یہاں پھر کئی گاڑیاں کھڑی اپنی گاڑی میں رکھے ہوا بھرنے کہ پمپ چلا ٹائر پریشر معمول پہ لا چکی تھیں۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور ہمیں دور سے الخیمہ کیمپ نظر آ رہا ہے اور ہم تاریخ، ناولوں، فلموں صحرا نوردی اور صحرا میں بنی بدوؤں کی بستی کا تصور باندھ رہے تھے۔
ڈوبتے سورج کی کرنوں میں کیمپ کے باہر اونٹ کے تین چھوٹے بچے کھڑے تھے اور بڑے، بچے، مردو زن قریب پڑی بڑی سی کھرلی میں پڑے خشک لمبی گھاس کے ڈھیر میں سے گھاس نکال انہیں چارہ کھلا رہے تھے کیمرے اور موبائل اپنا کام کر رہے تھے۔ اپنا حصہ ڈال کیمپ کے اندر داخل ہوئے۔ بڑے سے چوکور احاطہ کے تین طرف انتہائی شوخ خوبصورت ڈیزائن دار رنگوں کے خیمے لکڑی کے تختوں کے اوپر ترتیب سے لگے تھے، جن میں قیمتی قالین اور فرشی ایک دو بستر اور روایتی گاؤ تکیہ والی نشست گاہیں تھیں۔ خیمہ کے باہر میز اور بینچ پڑے تھے۔ جوتے اتار کے جانا تھا۔ ایک کونے میں عربوں کے روایتی مردانہ کرتے جنہیں ثوب، کندورہ، یا دشداشہ مردوں کے لئے سفید یا کالے اور عبایہ خواتین کے انتہائی دیدہ زیب کڑھائی والے پڑے تھے جنہیں سیاح پہن کے خوش ہو رہے تھے۔ سروں پہ کوفیہ تو پہلے سے تھے۔ عجب دلچسپ رومانی سا دل لبھاتا ماحول تھا۔ کیمپ میں داخل ہوتے ہی سٹال پر کڑک یا عام چائے، قہوہ، کافی یا دیگر مشروبات و لوازمات سے تواضع جاری تھی۔ لاؤڈ سپیکر سے انگریزی میں پورے آٹھ بجے سامنے لگے بہت بڑے سے شامیانے میں لذیذ بوفے ڈنر ملنے کا اعلان اور اتنی دیر باہر گھومنے اور جی چاہے تو اونٹ سواری کا مزا لینے کی دعوت دی جا رہی تھی۔ انتہائی لذیذ انواع و اقسام کی ڈشوں سے پیٹ بھر کھانا، لذیذ عربی و عجمی سویٹ ڈشز اور مشروبات سے فارغ ہوئے تو لائیٹس بُجھا دی گئیں درمیان بنے سٹیج پہ درویش ڈانسز۔ منہ سے آگ نکالتے رقص اور آگ کے کے بہت سے حیران کن کرتب۔ کچھ عربی ڈانسز اور آخر میں شاندار آتش بازی بادیہ نشینوں کی صحرائی آرام گاہوں کا لطف دے گئی۔ ساڑھے نو بجے شاید مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے وقت ختم ہونے کا اعلان کیا گیا۔ کندانہ عبایہ اتار لٹکا کے ہم اپنی گاڑیوں کی طرف رواں ہوئے۔ صحرا میں اک فسوں تھا۔ ایک سحر تھا اور ہم یادوں کا خزانہ لئے بھر پور چمکتے تارے تکتے اور صحرا میں ان کی مدہم روشنی میں گاڑیوں کی ہیڈ لائیٹس میں رات میں ریت کے نظارے سے روحانی لطف اٹھاتے رب کریم کی عطا کردہ نعمتوں سے استفادہ کی استطاعت ملنے کا شکر کرتے برج خلیفہ کے بالکل نزدیک اپنی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سیاحت کے ایک بالکل مختلف انداز نے ایک مختلف سرور سے نواز دیا تھا۔


