ہائی سکول میں داخلہ

چھٹی جماعت میں ایک تو انگریزی کا نیا مضمون شروع ہوا تھا اور دوسرا عربی، فارسی اور ڈرائنگ تینوں مضامین میں سے ایک رکھنا تھا۔ میں نے ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے عربی زبان سیکھنے کو باقی دونوں مضامین پر ترجیح دی۔ ہمارے کلاس انچارج خوشی محمد صاحب پریاں والے تھے۔ پریاں والا اُن کے گاؤں کا نام تھا۔ جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی اور اُردو کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی محنتی اور سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مسلمان قوم تو بس آلو چھولے کھانے والی قوم ہے۔ اس کو آلو چھولے کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ اس وقت تو ہمیں شاید اس بات کی پورے طور پر سمجھ نہیں آتی تھی لیکن بعد میں اس بات کا ادراک ہوا کہ اُن کی بات بالکل درست تھی۔
ساتویں کلاس میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد واپس آئے تو اساتذہ کرام نے اپنے اپنے مضامین کا چھٹیوں کا دیا گیا لکھنے والا کام چیک کرنا شروع کر دیا جو ہم نے سرے سے ہی نہیں کیا تھا۔ پہلے دو تین پیریڈ میں تو بہانہ بازی چل گئی لیکن جب میں عربی کا پیریڈ پڑھنے متعلقہ کلاس روم میں گیا تو ہمارے عربی ٹیچر افضل صاحب نے کام نہ کرنے والے بچوں کو مرغا بنایا ہوا تھا اور اُن کی کمر پر زور زور سے تھپڑ لگا رہے تھے۔ اُن کے لگائے گئے تھپڑوں کی بلند آوازوں سے پورا کمرہ گونج رہا تھا اور کئی طالب علم رو بھی رہے تھے، میں یہ ہولناک منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور کلاس روم میں جانے کی بجائے ڈرائنگ روم میں آ کر ڈرائنگ پڑھنے والے بچوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ڈرائینگ ماسٹر اپنے کام میں مصروف رہے۔ پیریڈ کے بعد میں اپنے انگلش ٹیچر خوشی محمد صاحب کے پاس گیا اور اُن سے درخواست کی کہ میں نے اختیاری مضمون عربی کی بجائے ڈرائنگ رکھنا ہے اور وہ اس سلسلے میں میری مدد فرمائیں۔ انہوں نے بھی کچھ زیادہ پرکھ پڑچول کیے بغیر ہی میرا نام ڈرائینگ پڑھنے والے طلباء کے ساتھ درج کروا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مضمون میں میں آٹھویں جماعت اور پھر دسویں جماعت دونوں امتحانوں میں ہی فیل ہوا تھا لیکن اختیاری مضمون ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر پاس قرار پاتا رہا۔
مجھے شروع سے ہی بچوں کے رسالے پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیر تدریسی کُتب پڑھنے میں دل چسپی بڑھتی گئی۔ میں نے نسیم حجازی کے ناول پرائمری جماعتوں میں ہی پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ میں جس چوبارے میں رہائش پذیر تھا اس کے نیچے میرے کزن علی حسن کی دکان تھی جو کہ ایک ڈینٹسٹ تھا اور اُس دکان کے قریب ہی تقی شاہ مرحوم نے آنہ لائبریری کھول رکھی تھی۔ جہاں سے روزانہ ایک آنہ کرائے کے عوض پڑھنے کے لیے ناول اور دوسری کتابیں دستیاب ہوا کرتی تھیں۔
علی حسن ہر روز صبح کے وقت وہاں سے ایک جاسوسی ناول لے آتا اور فارغ وقت میں بیٹھ کر اُسے پڑھ لیا کرتا تھا۔ اسی دوران سکول میں چھٹی ہونے کے بعد جب میں اُسے مصروف دیکھتا تو وہی ناول اُٹھا کر میں اپنے چوبارے میں پڑھنے کے لیے لے آتا۔ اس زمانے میں ابن ِ صفی نامی مصنف کے یہ ناول بہت پڑھے جایا کرتے تھے۔ عمران سیریز اس کا شروع کیا گیا ایک بہت ہی دل چسپ اور مشہور سلسلہ تھا۔ ایک بار ابنِ صفی کا انٹرویو کیا جا رہا تھا انٹرویو کرنے والے نے اس سے پوچھا کہ آپ کے ناول اُردو ادب میں کس مقام پر رکھے جائیں گے تو اس نے بڑا دل چسپ جواب دیا کہ مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ اُردو ادب میں میرے ناول کسی مقام پر رکھے جائیں گے یا نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ اُردو ناول پڑھنے والوں کی اکثریت کے تکیوں کے نیچے میرے ہی ناول رکھے جاتے ہیں اور اس کی یہ بات بڑی حد تک دُرست بھی تھی۔
اس وقت رنگا رنگ قسم کے ڈائجسٹ ابھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ اُردو ڈائجسٹ سیارہ ڈائجسٹ اور حکایت اس زمانے کے مشہور ماہنامے ہوا کرتے تھے۔ میں اپنی پڑھائی کا کام سکول میں ہی جو کر لیتا بس وہی کافی ہوتا۔ گھر میں مجھے ناول اور رسالے پڑھنے سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی۔ عمومی طور پر میرے اساتذہ کرام میرے بارے میں ایک اچھا طالب علم ہونے کی رائے رکھا کرتے تھے۔ لیکن امتحانات کے نتائج سے انہیں اکثر مایوسی ہوتی کیوں کہ میں تو امتحانات کے دنوں میں بھی ناول پڑھنے میں مصروف رہتا۔ اکثر اوقات صبح کو میرا پرچہ ہوتا اور رات کو میں اس کی تیاری کرنے کی بجائے ناول پڑھ رہا ہوتا۔
آٹھویں جماعت میں وظیفہ حاصل کرنے کے امیدوار طلباء کا الگ سے ہی امتحان لیا جاتا تھا اور میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔ جو وظیفے کا امتحان دینے جا رہے تھے لیکن میں اس امتحان میں ڈرائنگ کے مضمون میں فیل تھا۔ وہ تو ڈرائنگ اختیاری مضمون ہونے کی وجہ سے مجھے مجموعی طور پر پاس قرار دے دیا گیا اور باقی مضامین میں بھی واجبی سے ہی نمبر تھے۔
نویں جماعت میں ہمارے انگلش ٹیچر خوشی محمد صاحب ہمارے کلاس انچارج بھی تھے۔ یہاں پر میں نے سائنس مضامین اختیار کیے۔ ان مضامین میں ڈرائنگ کے مقابلے میں رکھا جانے والا مضمون اب عربی، فارسی کی جگہ اسلامیات اختیاری تھا اور اسلامیات اختیاری پڑھانے والے حافظ صاحب بھی بچوں کی خوب دھلائی کیا کرتے تھے۔ اس لیے یہاں پر بھی میں ڈرائنگ کا مضمون ہی رکھنے پر مجبور تھا۔ ہمارے سائنس ٹیچر منان صاحب بہت خوش لباس انسان تھے۔ ہر روز نئے نئے سٹائل اور ڈیزائن کے کپڑے پہن کر آتے۔ اُن کی زیادہ تر توجہ ہمیں پڑھانے کی بجائے اپنے کپڑوں پر ہی مرکوز رہتی۔ ہم دسویں جماعت میں تھے جب وہ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے ڈھاکہ یونیورسٹی تشریف لے گئے۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی وہاں پر حالات خراب ہونا شروع ہو گئے اور 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان ایک نئے ملک بنگلہ دیش کے نام سے معرض ِ وجود میں آ گیا۔ اس تمام عرصے میں اور اس کے بعد بھی منان صاحب کو وہاں پر بہت سخت اور تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
نویں، دسویں جماعت میں بھی پڑھائی کا کام حسبِ معمول ہی جاری رہا۔ یعنی سکول میں نصابی کتابوں اور گھر میں غیر نصابی کُتب کے مطالعہ کا کام جاری و ساری رہا۔ 1965 میں پاک بھارت جنگ اور اس کے بعد تاشقند میں ان دونوں ممالک کے مابین ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ملک میں سیاسی حالات بگڑنے شروع ہو چکے تھے۔ اس جنگ کے دوران پورا ملک وحدانیت اور یکسانیت کی رسی میں پرویا ہوا تھا۔ پہلی بار سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان باہم یکجا ہو کر ایک پاکستانی قوم کی شکل اختیار کر چکے تھے۔
اس وقت میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہم لوگ رات گئے تک پاکستان زندہ باد صدر ایوب زندہ باد کے علاوہ چینی سیاسی راہنماؤں ماوزے تنگ اور چو این لائی کے حق میں بھی نعرے بازی کیا کرتے تھے۔ دن کو قومی دفاعی فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے گھر گھر جایا کرتے۔ گاؤں کی بڑی اکثریت چھوٹے چھوٹے کاشتکاروں، کسانوں اور دستی کام کرنے والے غریب ہنر مندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن دفاعی فنڈ میں ہر کوئی اپنی بساط سے بڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے وہ بستر اور کپڑوں کی شکل میں عطیات دے رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم لوگ گدڑی شاہ کے پاس اس مقصد کے لئے گئے جو اپنے گھر کا واحد فرد تھا۔ اس کا گھر ایک تنگ سی کوٹھری چھوٹے سے صحن اور اس کے ایک کونے میں کھڑی ہوئی ایک عدد گائے پر مشتمل تھا۔ وہ کچھ دیر تو کھڑا سر کھجاتا رہا۔ اس کے بعد بولا، کہ میرے پاس کل اثاثہ یہی ایک گائے ہے۔ آپ اس کو لے جائیں اور اسے بیچ کر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو دفاعی فنڈ میں جمع کر لیں۔ اگر یہ ملک قائم دائم رہا تو ڈھور ڈنگر اور آ جائیں گے۔ ہم نے یہ کام اسی پر چھوڑ دیا۔ اس نے اگلے دن گائے ذبح کی اس کا گوشت فروخت کیا کھال علیحدہ فروخت کی اور ساری کی ساری رقم پورے حساب کتاب کے ساتھ دفاعی فنڈ میں جمع کروا دی۔
اس سے پوری قوم کے جذبات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن ایک بات واضح رہے کہ یہ جوش اور جذبہ صرف عوام الناس میں ہی موجود تھا۔ طبقہ خواص سے تعلق رکھنے والے با اختیار لوگ اس وقت بھی ذاتی مفادات کے غلیظ اور بدبودار جوہڑ میں ڈبکیاں لگا رہے تھے۔ اس دورانیے میں پاکستان کے جواں سال، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مقناطیسی شخصیت کے حامل وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول اور ہر دل عزیز رہنما کی صورت میں آگے آئے لیکن یہ معاہدہ تاشقند کی بدولت وہ صدر ایوب سے سخت نالاں تھے۔ یہ معاہدہ صدرِ پاکستان ایوب خاں اور بھارتی و زیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان روسی صدر کوسیجن کی ثالثی میں طے پایا۔ صدر ایوب خان اپنی ظاہری وضع قطع قد کاٹھ اور شکل و صورت کے لحاظ سے تمام عالمی راہنماؤں میں ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ جب کہ بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری چھوٹے سے قد کاٹھ کے منحنی سے شخص تھے۔ تاشقند میں اس معاہدے سے متعلق ایک ہفتہ تک دونوں ممالک کے سربراہان اور اُن کے و فود کے مابین ملاقاتیں جاری رہیں۔
شنید یہ ہے کہ ایک ایسی ہی میٹنگ کے بعد صدرِ پاکستان نے بھارتی و زیرِ اعظم کے متعلق صدر کوسیجن کے سامنے کچھ مضحکہ خیز کلمات کہے جس کا نہ صرف روسی صدر نے برا مانا بلکہ صدرِ پاکستان کو ان کی حماقت کا احساس بھی دلایا۔ اس سے پہلے پاکستانی وفد اس بات پر مُصر تھا کہ اس معاہدے میں نہ صرف مسئلہ کشمیر کے تنازعے کا ذکر کیا جائے بلکہ اس کے حل کے لیے باقاعدہ طریق کار اور وقت کا تعین بھی کیا جائے۔ جب کہ ہندوستان اس بات پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد روسی صدر کوسیجن کا صدر پاکستان سے رویہ یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔ صدرِ پاکستان نے روسی صدر کے دباؤ میں آ کر بھارتی شرائط پر معاہدہ تاشقند منظور کر لیا۔ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے صرف چند گھنٹے بعد ہی لال بہادر شاستری ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے۔ اب اس بارے میں بھی متضاد آراء پائی جاتی تھیں۔ ایک طبقہ کا خیال تھا کہ اس معاہدے میں اپنی من مرضی کی شرائط منوانے کی وجہ سے اُن پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی تھی لیکن ایک بڑا طبقہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ سی۔ آئی۔ اے نے انہیں زہر دے کر ہلاک کیا ہے۔ اُن کی میت کی ہندوستان میں واپسی پر اُن کے ورثا نے لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے اور معاملے کی تحقیقات کروانے پر زور دیا لیکن اُن کی یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور بھارتی وزیرِ اعظم کی آخری رسومات خاموشی سے ادا کر کے اس سارے معاملے کو بھی اُن کے ساتھ ہی سپردِ خاک کر دیا گیا۔
اس معاہدے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس معاملے سے لاتعلقی اور بے زاری کا اظہار شروع کر دیا اور انہوں نے پاکستانی قوم کو یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ اس معاہدے میں پاکستانی مفادات کا سودا کیا گیا ہے۔ جس کے متعلق وقت آنے پر بتایا جائے گا۔ وہ وقت تو خیر کبھی نہ آیا لیکن حالات ایوب خان کے ہاتھ سے پھسلنے لگے اور اُن کی گرفت کمزور ہوتی گئی۔ اسی عرصہ میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی جیسی انقلابی جماعت کی بنیاد رکھی اور ملک بھر میں طوفانی دورے شروع کر دیے۔ اُن کی جذباتی تقاریر اور طلسماتی شخصیت نے بہت جلد عوام میں مقبولیت حاصل کر لی۔
یہ وہ دور تھا جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ملک بھر میں ہر طرف زندہ باد مردہ باد کے نعرے جلسے، جلوس اور ہڑتالیں شروع ہو گئیں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ صدر ایوب سیاسی اور جسمانی دونوں سطحوں پر ہی کمزور ہوتے چلے گئے۔ ان حالات سے فوج کے کمانڈر انچیف یحییٰ خان نے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور صدر ایوب سے اختیارات چھین کر 25 مارچ 1969 کو ملک پر ایک بار پھر مارشل لاء مسلط کر دیا گیا اور ملک کو لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) کے تحت چلایا جانے لگا۔
وطنِ عزیز کے پہلے عام انتخابات اسی مارشل لائی چھتری کے نیچے 7 دسمبر 1970 کو منعقد ہوئے۔ جس میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی کی کل 162 نشستوں میں سے 160 نشستیں حاصل کر کے عوامی مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا اور مغربی پاکستان کی کل 138 نشستوں میں سے ذوالفقار علی بھٹو کی نئی انقلابی پاکستان پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کر کے بڑے بڑے سیاسی برجوں کو مسمار کر دیا۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں 162 نشستیں حاصل کر کے عوامی لیگ سادہ اکثریت حاصل کر چکی تھی اور جمہوری روایات کے عین مطابق وزارتِ عظمیٰ اسی پارٹی کا حق تھا لیکن ہمارے ہاں مروجہ سیاسی روایات کے مطابق مشرقی پاکستانیوں کو اقتدار دینے کی راہ میں روڑے اٹکانے کا جو کام شروع ہوا وہ 16 دسمبر 1971 کے سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے پر ختم ہوا۔
مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے کہ ہم لوگ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میری پھوپھی اونچی آواز میں روتے ہوئے ہمارے گھر میں آئیں اور ہمیں بتایا کہ ہندوستان نے مشرقی پاکستان کو فتح کر لیا ہے۔ ہم نے فوراً ریڈیو لگایا تو وہاں پر سر پہ باندھے کفن، ساتھ ہیں مرد و زن، ساتھیو! مجاہدو! جاگ اُٹھا ہے سارا وطن، جیسے قومی ترانے پورے جوش و خروش سے چلائے جا رہے تھے اور جنگلوں میں، پہاڑوں میں اور میدانوں میں ہزار سال تک لڑنے کے دعوے بدستور جاری تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد خبروں کا بلیٹن شروع ہوا تو خبریں پڑھنے والے نے بڑے سرسری سے انداز میں بتایا کہ مشرقی پاکستان میں دونوں فوجی کمانڈروں کے مابین ہونے والے ایک معاہدے کے تحت جنگ بند کر دی گئی ہے اور ہندوستانی فوج ڈھاکہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے بعد حسبِ معمول جنگی ترانے شروع ہو گئے ہم نے اپنی پھوپھی کو تسلی دی کہ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو ریڈیو پاکستان پر بلند آواز میں رونا دھونا جاری ہوتا۔ لیکن یہاں تو سب معمول پر چل رہا ہے لیکن وہ اپنی بات پر بضد تھیں جب کہ ریڈیو پاکستان پر اس شرم ناک شکست کے بعد بھی ہزار سال تک جنگ جاری رکھنے کے بلند بانگ دعوے بدستور جاری تھے۔
میرا دسویں جماعت کا امتحان مارچ 1969 کو ہوا تھا اور امتحان سے پہلے ہڑتالوں اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے سکول بند کر دیا گیا تھا اور میں بڑی بے فکری سے اپنے گاؤں چلا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ حالات کی خرابی کی وجہ سے سالانہ امتحانات ملتوی ہو جائیں گے اور کچھ لوگ سمجھتے تھے جن میں ہم بھی شامل تھے کہ اس سال بغیر سالانہ امتحان کے طلباء کو اگلی کلاسوں میں پرموٹ کر دیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ امتحانات اپنے وقت پر شروع ہوئے۔ جب مقررہ تاریخ کو پرچہ دینے سکول پہنچا تو پتہ چلا کہ رول نمبر سلپ بھی کوئی ضروری دستاویز ہوتی ہے۔ امتحان دینے کے لیے جس کا پاس ہونا لازمی امر ہے جو ہمارے پاس نہیں تھی۔ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ وہ تو کلاس انچارج خوشی محمد صاحب کے گھر میں ہے۔ بھاگا بھاگا وہاں پہنچا رول نمبر سلپ لے کر واپس آیا تو پرچہ شروع ہوئے آدھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔ پرچہ بھی ڈرائنگ کا تھا۔ بہرحال جیسے تیسے ہوا پرچہ دے دیا اور باقی پرچے بھی حسبِ معمول ہی دیے یعنی ناول اور رسالے پڑھ کر پرچے کی تیاری کرنا۔ جب نتیجہ آیا تو میں مجموعی طور پر تو فرسٹ ڈویژن حاصل کر کے پاس ہو گیا تھا۔ لیکن حسبِ معمول ڈرائنگ کے اختیاری مضمون میں فیل تھا۔

