چترال: نو آبادیاتی علم، نصابی تعصبات اور مقامی اقدار


یہ ایک عمومی تاثر ہے کہ کتابیں علم کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی تصور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دخترِ چترال، لکشن بی بی، نے امریکہ سے چترال کے لیے کتابوں کا ایک کنٹینر بطورِ عطیہ بھیجا۔ اس اقدام پر جہاں چترال کے علم دوست حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہیں ایک طبقہ اس پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہا ہے۔

یقیناً کتابیں علم پھیلانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابیں صرف علم ہی نہیں بلکہ فنون، تہذیب، تمدن، معاشرت، معیشت، سماجی نظریات اور مذہبی افکار کی ترویج کا بھی ایک موثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط تک یہ تصور عام تھا کہ علم اور کتاب تعصب سے پاک ہوتے ہیں۔ بالخصوص ادب کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ عالمگیر ہے اور بلا امتیاز سب کی یکساں نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم 1970 کی دہائی میں ایڈورڈ سعید کی شہرہ آفاق کتاب ’اورینٹیلزم‘ کی اشاعت کے بعد نو آبادیاتی علوم میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔ ان کی دوسری کتاب ’کلچر اینڈ امپیریلیزم‘ عام طور پر معصوم سمجھے جانے والی جین آسٹن کے ناول ’مینز فیلڈ پارک‘ میں ثقافت اور طاقت کے درمیان پیچیدہ تعلق کو جانچا گیا۔ اسی طرح شیکسپیئر جیسے آفاقی ادیب کو بھی استعماری نظریات سے ہم آہنگ ہونے کے باعث متعصب قرار دیا گیا۔

ایڈورڈ سعید سے قبل نائیجیریا کے ادیب چینوا ایچیبی نے بھی اس موضوع پر آواز اٹھائی۔ تاہم انہوں نے نظریاتی مباحث کی بجائے اپنے ناول ’تھنگز فال ایپارٹ‘ میں جوزف کونریڈ کے ناول ’ہارٹ آف ڈارکنس‘ میں افریقی اقوام سے متعلق منفی بیانیے کی تردید کی۔ مغربی مصنفین نے مشرق، بالخصوص برصغیر، افریقہ اور مسلم دنیا کے بارے میں اپنی تصانیف میں جو متعصبانہ بیانیے پیش کیے، ان کو بعد ازاں نو آبادیاتی تنقیدی نظریات کی روشنی میں رد کیا گیا۔ ان تعصبات کا دائرہ صرف ادب تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ، مذہب، سماجیات، اقتصادیات، حتیٰ کہ سائنس اور فنونِ لطیفہ تک وسیع ہے۔

مغربی لکھاری جو مشرق اور مسلمانوں کے بارے میں لکھتے ہیں، انہیں اورینٹیلسٹ کہا جاتا ہے۔ اورینٹلزم درحقیقت استعماری دور کا ایک فکری ہتھیار تھا جس کے ذریعے مشرق اور مسلمانوں کی تہذیب، اقدار، فنِ تعمیر اور سائنسی و فکری خدمات کو یکسر نظرانداز کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان جاہل، کاہل اور غیر مہذب ہیں۔ لارڈ میکالے کی 1835 کی ’منٹس آن انڈین ایجوکیشن‘ کے بعد اس تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو بظاہر ہندوستانی ہوں، مگر سوچ اور مزاج میں مکمل طور پر مغربی۔ ایسے افراد کو فرانز فینن نے ”Black skin، white masks“ کہا۔ اس ذہن سازی میں انگریزی زبان اور مغربی نصاب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ نتیجتاً سول اور ملٹری بیوروکریسی کی وہ کھیپ سامنے آئی جو آج بھی مختلف شعبوں میں مغربی نظریات کے مطابق پالیسیاں بناتی ہے۔

تاریخ کے نام پر ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ مغلوں نے تاج محل بنایا، جو ان کے زوال کی وجہ بنا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سائنس کو چھوڑ کر صرف عمارات بنائیں۔ لیکن یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ تاج محل سائنس اور سول انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ اس کے ہر گوشے میں جیومیٹری، فنِ تعمیر اور حسابی اصولوں کی جھلک موجود ہے۔ کیا ایسے کارنامے بغیر سائنسی علم کے انجام دیے جا سکتے ہیں؟ افسوس کہ مغرب سے مرعوب تعلیم یافتہ طبقہ ان ہی افکار کو آگے بڑھاتا ہے، جو ہمیں اپنے ماضی، اقدار اور شناخت سے دور کرنے کے لیے ہمارے ذہنوں میں فیڈ کیے گئے ہیں۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ مغرب میں لکھی گئی سماجی علوم کی کتب میں ابن خلدون جیسی شخصیات کا تذکرہ تک نہیں ملتا۔ یورپ کی سائنسی ترقی میں اندلس کے مسلمانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، مگر ہماری مقامی نصابی کتب میں بھی ان کا ذکر ناپید ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کو اپنی تاریخ سے کاٹ کر مغربی اقدار کی تقلید پر مائل کیا جا سکے۔

ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا مشاہدہ یہ ہے کہ انگریزی زبان سکھانے والے اکثر نصابات میں وہ مواد شامل ہے جو ہماری سماجی اور معاشرتی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔ مثلاً انگریزی زبان سکھاتے وقت مکالمات میں ایسے موضوعات شامل ہوتے ہیں جو شراب نوشی، غیر ازدواجی تعلقات، ہم جنس پرستی، اور کلبنگ جیسے مغربی معاشرتی رجحانات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ تصورات ہمارے ثقافتی اور مذہبی تناظر میں اجنبی اور غیر موزوں ہیں۔

عصرِ حاضر میں ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے گلوبل نارتھ اور گلوبل ساؤتھ کے درمیان ایک گہری فکری و عملی خلیج پائی جاتی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کا موقف ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ”ڈونیشن“ کے نام پر الیکٹرانک ویسٹ، پرانے کاغذات اور استعمال شدہ ملبوسات جیسے ماحولیاتی فضلے کو برصغیر اور افریقی ممالک میں منتقل کرتے ہیں، جو درحقیقت کچرے کو ٹھکانے لگانے کا ایک پوشیدہ ذریعہ ہے۔ اگرچہ یہ اشیاء وقتی فائدہ دیتی ہیں، مگر ماہرینِ ماحولیات انہیں ماحولیاتی نا انصافی اور موسمیاتی بحران کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں، جو استعماری ذہنیت کی نئی شکل ہے۔

لکشن بی بی کا اقدام بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے خلوصِ نیت سے یہ کتب عطیہ کی ہیں۔ انہیں چترالی اور کالاش ثقافت سے جو محبت ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کتابوں میں بیشتر کا معیار بلند ہو گا، تاہم چند ایسی کتابیں بھی ہو سکتی ہیں جو ہماری اقدار سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تقسیم سے پہلے ان کا جائزہ لیا جائے تاکہ ان کی نوعیت کا تعین ہو سکے۔ امید ہے کہ لکشن صاحبہ بھی افہام و تفہیم اور مقامی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ معاملہ تعلیم سے وابستہ افراد، خصوصاً نو آبادیاتی علوم کے ماہرین، کے سپرد کریں گی۔ اس عمل سے نہ صرف کتابوں کے حوالے سے موجود شکوک و شبہات کا ازالہ ہو گا بلکہ چترال کی بیٹی کی خلوص نیت سے عطیہ کی گئی علمی کاوش ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گی۔

Facebook Comments HS