گوگل تحقیق

ایک وڈیو میں ایک داڑھی والا آدمی لفظ ’نماز‘ کو سنسکرت کا شبد بتا رہا تھا۔ وڈیو بھارت کی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بحث شروع ہو گئی۔ محققین نے اکھاڑے سنبھالے۔ دھوتیاں کس کر فوراً گوگل سے رہنمائیاں لینی شروع کیں اور فوراً فتوے داغنے شروع کیے۔ جھوٹ بولتا ہے۔ نماز تو فارسی لفظ ہے۔ انٹرنیٹ اور خصوصاً سوشل میڈیا کے بعد سچ اور جھوٹ کی حد فاصل دھندلی سے دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ مجھ سمیت ہر ایک افلاطون ہے۔ لوگوں نے گوگل، اے آئی اور سوشل میڈیا کو لوح محفوظ سمجھ رکھا ہے۔ اسی سے دلیلیں گھڑتے ہیں اسی سے فالیں نکالتے ہیں۔ اسی سے مقدموں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے اے آئی سمیت یہ ساری ٹیکنالوجی سچائی جاننے میں اتنی ہی مدد کر سکتی ہے جتنا ہم ڈارک میٹر یا ڈارک انرجی کے بارے میں جانتے ہیں۔ سچائی کا اٹھانوے فی صد سے زائد ہمیں خود ہی جاننا ہوتا ہے۔ اے آئی وغیرہ حواس خمسہ اور دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ محض ایک ٹول ہے جو سو فی صد غلط بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار گوگل نے کبوتر کا انگریزی ترجمہ Water melon کر دیا تھا۔
بات نماز سے شروع ہوئی تھی۔ اس داڑھی والے آدمی نے کہا کہ لفظ نماز سنسکرت کا لفظ ہے۔ یہاں تک اس کی بات درست تھی۔ مگر اس کے بعد اس نے اسے توڑ کر ’نما‘ اور ’اج (از) ‘ کو الگ کیا اور دونوں کے معنی گھڑنے لگا۔
نما یعنی بھگوان اور از/اج جھکنا۔
ایک صاحب نے اصرار کیا کہ لفظ نماز فارسی لفظ ہے اس کو سنسکرت سے کوئی علاقہ نہیں تو مجبوراً سمجھانا پڑ رہا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اردو زبان میں ’چوتڑ‘ کا لفظ نہیں ہے تو کسی حد تک وہ درست کہتا ہو گا کہ اب یہ لفظ تقریباً متروک ہے اور مستقبل میں معدوم ہو گا۔ حالانکہ ایک وقت تک یہ مروجہ لفظ تھا۔ لفظ رنگ بدلتے ہیں تبھی زبانیں رنگ بدلتی ہیں اور مٹ جاتی ہیں یا نئی زبانوں میں متشکل ہو جاتی ہیں۔ قدیم فارسی اور سنسکرت ایک ہی زبان کے دو نام ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی زبان تھیں۔ سنسکرت اس وقت ایک مردہ زبان ہے۔ کرہ ارض پر اس کا بولنے چالنے والا ایک فرد بھی موجود نہیں ہے۔ لاطینی کی طرح یہ مذہبی رسومات کی زبان رہ گئی ہے۔ مذہبی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی سنسکرت بھی مختلف ارتقائی ادوار کی سنسکرت زبانوں کا نمونہ ہے۔ بیاہ پر جو ’منگلم بھگوانم وشنو منگلم لڑو در پجم، منگلم پندھڑی کا کشم منگلائے تنو ہری‘ منتر پڑھا جاتا ہے وہ نسبتاً جدید سنسکرت ہے جو سنسکرت کے آخری دور اور پراکرت سے ذرا سی پہلے کی زبان ہے۔ جبکہ والمیکی کی ویدیں کلاسیکل سنسکرت میں ہیں۔ رگ ویدا کی زبان وہی ہے جو پارسی اوستا کی ہے۔ ژند اور یجر ویدا میں مماثلت بتدریج اس طرح کم ہوئی کہ لفظ وہی رہے مگر تلفظ بدلنے لگے۔ جامہ سپ نامہ تک آتے آتے دونوں میں موجودہ ہندی اردو جتنا فاصلہ ہو گیا۔ پھر پارس پر عربوں کی یلغار ہوئی۔ پہلوی اور عربی نے فارسی کو متعدد غسل دیے۔ ادھر سنسکرت کو ترکی، ازبک، عربی اور جدید فارسی نے پٹخنے دیے۔ سنسکرت کا مزاج متکبرانہ تھا۔ اس نے لچک دکھانے اور غیر الفاظ شامل کرنے سے انکار کیا۔ سنسکرت کا لغوی معنی بھی پوتر، پاک، اونچا، ارفع، اعلیٰ زبان، اعلیٰ نسل، مہان کے ہیں۔ مگر کوئی حربہ کارگر نہ ہوا۔ زمانے کے دستور کے مطابق دھڑا دھڑ غیر الفاظ سنسکرت میں شامل ہونے لگے۔ زبان کے رکھوالوں نے ہر دور میں نئی لغتیں ترتیب دیں مگر ایک مقام پر آ کر ہمت ہار گئے۔ اور مزید نئے الفاظ کا داخلہ ممنوع قرار دیا۔ یہ سنسکرت کی موت کا نقطہ آغاز تھا۔ آج کلاسیکل سنسکرت سمیت سنسکرت کی موت تک مختلف ادوار کی بچی کھچی لغتیں موجود ہیں۔ پچاس فی صد مواد دست برد زمانہ کا شکار ہوا۔ اگر کوئی لفظ فارسی خصوصاً قدیم پارسی میں موجود ہے تو کچھ عجب نہیں کہ وہ سنسکرت اور پارسی کا ہی شبد ہو اور مرور زمانہ کے ساتھ شکلیں بدلتا ہوا یہاں تک پہنچا ہو۔ لفظ نماز خالص فارسی کا لفظ ہے۔ اس کا عربی یا کسی دوسری بھاشا سے تعلق صفر ہے۔ تذکرہ نگاروں نے کلاسیکل سنسکرت سے اس کے متعدد شواہد پیش کیے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی فقط انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ کیا تمام سنسکرت ادب انٹرنیٹ پر موجود ہے؟ گوگل ٹرانسلیٹ تو سنسکرت ترجمے سے بھی ابھی تک نابلد ہے۔
ایک صاحب مجھے فرما رہے تھے تھوڑی تحقیق بھی کر لیا کریں۔ میرا خیال ہے مجھ سمیت ہر شخص کو ہی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اپنے منہ سے کہنا اچھا نہیں لگتا مگر انسان ہوں اس لئے کہے دیتا ہوں۔ مجھے سنسکرت آتی ہے۔ میں سنسکرت کا عالم تو نہیں مگر لکھ پڑھ لیتا ہوں۔ دیوناگری رسم الخط بھی آتا ہے۔
دھنیہ واد۔

