صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ۔ فکرِ فقر یا فقرِ فکر
نظام سرمایہ داری کی بنیاد آزاد منڈیوں کی معیشت پر کھڑی ہوتی ہے جہاں صارف کی ترجیح کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ سویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف کی گلاسنوسٹ (اظہار رائے کی آزادی ) اور پراسٹرئیکا (تشکیل نو) کی حکمت عملی کے دوران اشتراکیت اور سرمایہ داری کے تقابل میں صارف کا حق انتخاب ہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس میں اشتراکی نظام کو مسترد کیا گیا۔
اشتراکی نظام کی پسپائی کے بعد آزاد منڈیوں کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے عالمی سرمایہ درانہ نظام کے سرخیل ریاستہائے متحدہ امریکہ نے عالمی تجارت کے لئے ایک نظام وضح کیا جس کو ہم عالمگیریت یا نیو ورلڈ آرڈر کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظام کے تحت یہ طے پایا کہ ممالک کے درمیان تجارت پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ کسی بھی ملک میں برآمد کی جانے والی اشیاء پر ڈیوٹی یا ٹیرف بلا امتیاز اور منصفانہ ہو گا۔
عالمگیریت اور نیو ورلڈ آرڈر کے تناظر میں 1992 ء میں ریوڈی جنیریو میں منعقد ہوئی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں اقوام عالم نے ماحولیات اور پائیدار ترقی کے لئے 27 نکات پر اتفاق کیا جس کے تحت ریاستوں کو ترقی اور صنعتی پیداوار کے دوران ذمہ داریاں ڈالی گئیں جس کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں پیداواری لاگت بڑھ گئی۔ عالمی تجارت کی آزادی کے بعد ابھرنے والے تجارتی منظر نامہ میں یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے غیر منافع بخش اور آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کو اپنے ممالک سے ترقی پذیر ملکوں میں منتقل کر کے اپنی معیشت کا بوجھ ہلکا کر دیا۔
امریکہ اور یورپ میں اشیاء کی پیداوار مہنگی ہونے کہ وجہ سے دوسرے ممالک منتقل ہوئی تو ایسے ماحول میں عوامی جمہوریہ چین ایک ایسا ملک بن کر سامنے آیا جہاں ہنر مند کارکن، صنعتوں کا بنیادی ڈھانچہ اور ریاست کی طرف سے بھر پور تائید موجود تھی۔ امریکہ اور یورپ کے بڑے برانڈ بھی اپنی پیداوار چین میں کرنے لگے جس سے یہاں کی معیشت بہت تیزی سے ترقی کرنے لگی۔ آج حالت یہ ہوئی ہے کہ دنیا بھر کے کسی بھی ملک کے سپر سٹور میں دیکھا جائے تو چین کی بنی اشیاء اس ملک کی اپنی پیداوار سے زیادہ ہی نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کے مطابق نسبتاً سستی بھی ہوتی ہیں۔ چین کی پیداوار نے جدید سہولیات کی فراہمی عام صارفین تک ممکن بنا دی۔
ماحولیات اور پائیداری ترقی کی پیشہ ورانہ تربیت کے دوران ایک بار امریکہ میں ہمیں بتایا گیا کہ ٹوٹے شیشوں، استعمال شدہ بوتلوں اور دیگر کانچ کی ردی کو سیمنٹ بنانے کے لئے استعمال کرنے کے لئے حکومت کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی امداد منڈی میں مسابقت کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اگر سیمنٹ باہر سے منگوایا جائے تو امریکہ میں دو ڈالر کی ایک بوری پڑتی ہے جبکہ مقامی طور پر پیدا کرنے پر پانچ ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔ آزاد منڈیوں کی معیشت کے علمبردار ہمارے تربیت کاروں کی نظر میں ریاست کے لئے ایک بڑا معمہ تھا کہ حکومتی امداد کے بغیر اس ماحولیاتی مسئلے سے کیسے نپٹا جائے۔
دو سال بعد ہمیں ریاست یوٹا کے شہر سالٹ لیک سٹی کے پاس ایک سیاحتی مقام پر ہالی ووڈ کے مشہور فلمی ہیرو ریڈفورڈ کی تفریح گاہ میں دکھایا گیا کہ ٹوٹے شیشوں، بوتلوں اور دیگر کانچ کی ردی سے دوبارہ خوبصورت گلاس، شراب کے جام اور جار بنا کر ان کے دستخطوں کے ساتھ بیچا جاتا ہے۔ یہاں آنے والے لوگ ایسی چیزیں مہنگے داموں خرید کر بطور یاد گار اپنے ساتھ لے جاتے ہیں جو ریڈ فورڈ کے لئے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ اس طرح بغیر حکومتی امداد کے کانچ کی ردی کا حل تلاش کیا گیا جو ہماری نظر میں فریب نظر کے سوا کچھ نہیں تھا۔
ہمیں دوران تربیت امریکہ کی سرحد کے ساتھ میکسیکو میں قائم کیے گئے جنرل موٹر کے کارخانے میں کاریں بنانے اور درآمد کرنے کو بھی آزاد منڈی کی معیشت کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ جنرل موٹرز کو امریکہ میں کاریں بنانا مہنگا پڑنے کے علاوہ یہاں ماحولیات کے سخت قوانین کہ وجہ سے مشکلات درپیش تھیں۔
ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو ہمیں گزشتہ دو دہائیوں میں دکھائی، بتائی اور پڑھائی گئیں۔ ہم جو ترقی پذیر ممالک سے پائیدار ترقی اور ماحولیات سیکھنے جاتے تھے ان کے ذہنوں میں کئی سوال ہوتے تھے۔ میکسیکو اگر اتنا امیر ملک ہے کہ وہ امریکہ کو کاریں برآمد کرتا ہے تو اتنی غربت کیوں ہے کہ یہاں لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ پھر آپس میں ہی بحث کرتے اور خود کو ہی سمجھاتے کہ صرف جگہ بدلی ہے کاریں بنانے، بیچنے اور خریدنے والے وہی ہیں۔
پیداوار کی ہجرت کے ساتھ ہی دنیا میں قومی اداروں کے بجائے کثیر القومی کارپوریشنز وجود میں آنے لگیں۔ یہ عالمی سرمایہ داری کا ایک نیا رجحان ہے جس میں برانڈ معیار سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس نئی صورت حال سے ہمارے دور کے وہ لوگ جو مغربی نظام سرمایہ داری کے مخالف رہے تھے کبھی خوش نہ ہوئے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ملکوں سے زیادہ نجی ادارے اور افراد ترقی کرتے ہیں اور دولت سمٹ کر چند لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ تعلیم، صحت اور خوراک کی فراہمی جیسے بنیادی فرائض بھی ریاستوں نے نجی اداروں کے ہاتھ سونپ دیے جس کی وجہ سے تیسری دنیا میں غربت میں اضافہ ہوا۔ دوسری طرف اس دوران بل گیٹس، مارک ذکربرگ، ایلون مسک، جیسے بے نام لوگ اور علی بابا، ایمازون اور دیگر ایسی کمپنیاں جن کے پاس ایک سافٹ ویر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا مگر دنیا کی سٹاک منڈیوں پر راج کرنے لگے ہیں۔
ہوائی جہاز بنانے کی صنعت یورپ اور امریکہ میں رہی مگر ہوا بازی میں مشرق و سطیٰ نے تیل کی قدرتی پیداوار سے فائدہ اٹھایا جس کی وجہ سے روایتی مغربی ہوا بازی کے ادارے غائب ہو گئے۔ آج یورپ اور امریکہ کے کسی بھی ائر پورٹ پر وہاں آنے جانے والے جہازوں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ تعداد مشرق و سطیٰ کے جہازوں کی ہوتی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت میں مقابلہ دنیا بھر کے مسافروں کے لئے بلا امتیاز فائدہ مند ثابت ہوا مگر کئی ممالک کے اپنے قومی ہوا بازی کے ادارے ختم ہو گئے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
2024 ء میں دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے آزاد منڈی کی معیشت کے تیس سال سے قائم نظام کے خاتمے کا اعلان امریکہ میں اپنی پیداوار برآمد کرنے والے ممالک پر امتیازی ٹیرف کے نفاذ سے کیا۔ بادی النظر میں صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ پیداوار کا دوسرے ممالک میں منتقل ہونا امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
کارل مارکس نے سو سال پہلے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی کوئی آزاد طاقت نہیں بلکہ اس کو سرمایہ دارانہ نظام متشکل کرتا ہے۔ آج مصنوعی ذہانت اور روبوٹ نے پیداوار کو انسانی ذہن اور ہاتھوں کی ضرورت سے آزاد کر دیا ہے۔ ایلون مسک جیسے امریکی ماہرین سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صنعتی پیداوار دوبارہ شروع کی جائے تو اب کارخانوں میں مزدوروں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انسانی ہاتھوں کے بجائے پیداواری کام روبوٹ اور مشینیں زیادہ مستعدی کے ساتھ کم قیمت پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ متمول امریکی صارفین کی ایک کثیر تعداد ہے جو دوسرے ممالک میں بنی اشیاء استعمال کرنے کی بجائے اپنی ملکی پیداوار پر انحصار کرے تو امریکہ دوبارہ ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ سفید فام امریکی اشرافیہ کے نزدیک یہ سوچ ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی قوم کے لئے فکرِ فقر اور تمام دکھوں کا مداوا ہے۔
ٹیکنالوجی بھی انسانی تحقیق کا ہی ثمر ہے۔ دنیا بھر سے ہجرت ہوئی تو امریکہ آنے والوں میں سائنسدان، موجد، قلمکار، اداکار، موسیقار، تاجر اور صنعت کار سبھی شامل تھے جنھوں نے جدید امریکہ کو دنیا کی عظیم طاقت بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ امریکہ کی ترقی میں اہم کردار یہاں کی عظیم درسگاہوں کا بھی ہے جو پوری دنیا سے اذہان کو اپنی طرف کھینچ کر لاتی ہیں۔ امریکہ کے کثیر القومی اداروں کے سربراہ زیادہ تر یہاں ہجرت کر کے آئے ہوئے با صلاحیت لوگ ہی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ دیگر ممالک کی پیداوار کے علاوہ وہاں سے ہجرت کر کے آنے والوں کو بھی امریکہ کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور ہجرت پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ آخری خبریں آنے تک تقریباً ایک ہزار غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر کے ان کی امریکہ سے بیدخلی کے احکامات دیے گئے ہیں۔
امریکہ کے وفاقی تعلیمی محکمے کو ختم کر دیا گیا ہے، تعلیمی اداروں میں وظائف روک دیے گئے ہیں، بڑی بڑی درسگاہوں میں پڑھانے والے اساتذہ اور محققین امریکہ سے دوسرے ممالک ہجرت کا سوچ رہے ہیں۔
صحت سے متعلق امداد اور تحقیق پر پابندی کے اعلانات پر دستخط ہوچکے ہیں۔ دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لئے بنایا جانے والا امریکی امداد کا ادارہ یو۔ ایس ایڈ بند ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں امریکی سوچ اور موقف کی ترجمانی کرنے والا نشریاتی ادراہ وائس آف امریکہ بند ہو چکا ہے۔
ان سب اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہم جیسے فقیروں کو لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ سوچ فکرِ فقر نہیں بلکہ فقرِ فکر ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کج فہمی اور کوتاہ نظری ہے کہ علم و دانش، خیالات، سوچ اور تدبر کے ساتھ بھی امتیاز روا رکھا جائے۔


