شہر اقتدار سے

جانے وہ کیسے، لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
ہم نے تو جب کلیاں مانگیں، کانٹوں کا ہار ملا
وقت تو دوپہر ہی کا تھا، مگر بادلوں نے دھوپ کی تمازت کو اپنی اوٹ میں چھپا کر ٹھنڈی ہوا کو اذنِ خرام دیا کہ آؤ اور ماحول کو خوشگوار کر دو۔ سو ہم، اُس سہانے موسم میں، بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کے کشادہ و پُروقار آڈیٹوریم میں بیٹھے، خالدہ مظہر کی مترنم آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے۔
چاہے گلے میں بھگوان ہی کیوں نہ بولتا ہو، جب تک آواز دل سے نکل کر سامعین کے دلوں کو نہ چھوئے، اُس کی تاثیر مکمل نہیں ہوتی۔ لفظ کی حرمت، اور سُر کی طاقت تبھی سمجھ آتی ہے جب دل کے تار بجتے ہیں۔ اور آج، خالدہ مظہر نے سچ مچ دل کے نہاں خانوں کو چھو لیا۔ یہ اثر اُس محبت کا تھا جو دل کے کسی گوشے میں مدت سے پیاسی تھی، یا شاید وہ جادو تھا جو اُس کی آواز کے سُروں میں چھپا تھا، یا پھر یوسف کے طبلے کی گونج، یا ناظم کی انگلیوں کے لمس سے بجنے والے ہارمونیم کی وجد آفریں تھرتھراہٹ۔ کئی خواتین سامعین کی آنکھیں اُس سُریلے گیت پر بھیگ گئیں۔ گیت تو اور بھی بہت سے گائے گئے، مگر خاص ذکر اُس لڑکی کا ضروری ہے جو ہوسٹل میں روٹیاں پکاتی ہے، اور شوقیہ گاتی ہے۔ اُس نے جس شرم و حیا، سادگی اور دلنشینی سے گیت پیش کیا، ہم سب دنگ رہ گئے۔ یقیناً، فن خدا داد ہوتا ہے۔ اور اگر ایسے ہیرے جواہرات کو صیقل ہونے کا موقع مل جائے، تو وہ جگمگا اٹھتے ہیں۔
شہر اقتدار میں اُس روز کئی تقریبات بیک وقت جاری تھیں، اور وہ بھی بھرپور۔ ایسے میں وقت کی مٹھاس کو بانٹنا پڑتا ہے۔
دوسری تقریب ”ادبی رابطے“ کے عنوان سے لوک ورثہ کے میوزیم میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام نیشنل بک فاؤنڈیشن نے کیا۔ مقصد تھا: کتاب کلچر کو فروغ دینا، لکھاریوں کو عزت دینا، اور روایتی نشستوں سے ہٹ کر عام لوگوں کو لفظ کی حرمت سے روشناس کرانا۔ یہ پروگرام ہفتہ وار ”ادبی بیٹھک“ کے طور پر متعارف کروایا گیا، اور آج اس کا پہلا پروگرام تھا۔
اس محفل میں دو ممتاز افسانہ نگاروں۔ حمیرا اشفاق اور شعیب خالق۔ نے اپنے افسانے پیش کیے۔ پھر محمودہ قمر نے فیض احمد فیض کی دو غزلیں ترنم سے سنائیں، اور اس کے بعد طارق نعیم اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اپنا کلام پیش کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے پہلی بار سنجیدہ شاعری کے انتخاب سے سامعین کو چونکا دیا۔
تقریب اختتام کو پہنچی، تو میں نے سوچا کہ ایک جھلک ”سخن فہم“ والوں کے مشاعرے کی بھی دیکھ لی جائے۔ مشاعرہ اکادمی ادبیات کے فیض آڈیٹوریم میں تھا۔ پارکنگ ڈھونڈنا کارِ دشوار، اوپر سے ناصر عقیل کا مسکراتے ہوئے استقبال کہ ”تل دھرنے کی جگہ نہیں!“
میں نے کہا: ”عقیل، میں تو صرف مشاعرے کے رنگ ڈھنگ دیکھنے آئی ہوں۔“
کہنے لگا: ”میں بھی یہی دیکھنے گیا تھا، مگر رش ایسا کہ قدم رکھنا مشکل۔“
خیر، ہم باتیں کرتے ہال تک پہنچے۔ دروازے پر لوگوں کا ہجوم تھا۔
میری بزرگی کا احترام کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے راستہ بنا دیا۔
میں نے کہا: ”راستے کا کیا کروں، سیٹ تو نظر نہیں آ رہی۔“
تب ایک صاحب نے اشارہ کیا: ”وہ ایک سیٹ خالی ہے۔“
میں نے مسکرا کر عقیل سے کہا: ”میں قسمت آزمانے جا رہی ہوں!“
وہ سیٹ مجھے مل گئی۔ دائیں طرف بھوگھیو صاحب تھے، اور بائیں جانب عکسی مفتی صاحب۔ قدموں میں بیٹھے تھے ہری پور کالج کے نوجوان، جو اتنی شائستگی اور جوش و خروش سے داد دے رہے تھے کہ ماحول کی فضا ہی بدل گئی۔ دلچسپ بات یہ کہ اکثر نوجوانوں کو شعراء کے مصرعِ ثانی ازبر تھے۔
میں نے مفتی صاحب سے کہا: ”ہمارا ادبی مستقبل روشن ہے!“
وہ ہنسے اور ازراہِ مزاح بولے :
”میں نے اِن سے پوچھا ہے، سخن فہم تنظیم نے کتنے پیسے دے کر بلوایا ہے؟“
نوجوانوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، اور اس بے ضرر مزاح پر قہقہے بکھر گئے۔
بھوگھیو صاحب کہاں خاموش بیٹھنے والے تھے۔
کہنے لگے : ”بعض شاعر تو ہوا میں شاعری کرتے ہیں، زمینی حقائق اور بھوکے ننگے لوگ اُنہیں نظر ہی نہیں آتے!“
یوں ماحول، شاعری، اور ذہین لوگوں کی جملہ بازی نے مل کر وہ کیفیت پیدا کی کہ مدتوں یاد رہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مدتوں بعد ایسا مشاعرہ نصیب ہوا جس سے دل باغ باغ اور طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔

