دھرنے، دریائے سندھ اور وطن پرستی کا بیانیہ
سندھ میں دھرنے ہمیشہ سے متنازع منصوبوں کے خلاف احتجاج کی ایک نمایاں شکل رہے ہیں۔ حالیہ دھرنا بھی اس نظریہ کا ایک تسلسل ہیں۔ یہ تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب وفاقی حکومت نے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ پیش کیا، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سندھ کے آبی وسائل اور زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچے گا۔
تاریخی طور پر سب سے پہلا تنازع تو اسی وقت سامنے آ گیا تھا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کے تحت مغربی دریا (سندھ، جہلم، اور چناب) پاکستان کو دیے گئے جبکہ مشرقی دریا (راوی، بیاس، اور ستلج) بھارت کے حصے میں آئے۔
اس معاہدے نے پاکستان میں پانی کے نظم و نسق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد پانی کی تقسیم کے حوالے سے صوبوں کے درمیان اختلافات سامنے آنا شروع ہوئے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے درمیان۔ سندھ کا موقف تھا کہ پنجاب پانی کا حد سے زیادہ استعمال کر رہا ہے، جبکہ پنجاب کا کہنا تھا کہ زرعی ضروریات کی بنا پر اسے زیادہ پانی درکار ہے۔
اس سلسلے میں فریقین کے درمیان 1991 کا معاہدہ سامنے آیا جس کے تحت پانی کی صوبوں میں درج ذیل تقسیم کی گئی
پنجاب: 69 بی سی ایم (کل کا 48 %) ، سندھ: 60.14 بی سی ایم (کل کا 42 %) ، خیبر پختونخوا: 7 بی سی ایم (کل کا 5 %) ، بلوچستان: 3 بی سی ایم (کل کا 2 %)
تاہم، اس معاہدے میں پانی کی قلت یا ماحولیاتی بہاؤ کے کم از کم معیار کا کوئی ذکر نہیں تھا، جس کی وجہ سے صوبوں کے درمیان کشیدگی جاری رہی۔
سن 2000 سے اب تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے، جس کی مخالفت سندھ اور خیبر پختونخوا کرتے رہے ہیں۔ ان کے خدشات میں پانی کی محرومی اور ماحولیاتی نقصان شامل ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، اور ناقص پانی کے انتظام کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ جبکہ پانی کی تقسیم کے حوالے سے اختلافات جاری ہیں۔
سندھ کا الزام ہے کہ پنجاب پانی چوری کر رہا ہے، جبکہ پنجاب کہتا ہے کہ اسے زرعی ضروریات کے لیے مزید پانی درکار ہے۔ پاکستان کا نظامِ تقسیمِ آب غیر موثر ہے، جس کی وجہ سے پانی کا بہت زیادہ ضیاع اور بین الصوبائی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پانی کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہے، اور صوبوں کو نئے موسمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لئے تاحال کوئی موثر پلان نہیں ہے جبکہ کمزور طرزِ حکمرانی اور موثر اداروں کی کمی پانی کے بہتر نظم و نسق اور تنازعات کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہے
خیرپور میں وکلا کا احتجاج جاری ہے جس سے سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک معطل ہو گئی، ان کا مطالبہ تھا کہ نہری منصوبہ منسوخ کیا جائے۔
سندھ کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ سندھ میں پہلے سے موجود پانی کی قلت کو مزید سنگین کر دے گا، جس سے زراعت اور ماحولیات متاثر ہوں گے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ سندھ کے پانی کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے پنجاب کو فائدہ پہنچے گا جبکہ سندھ کے مفادات کو نقصان ہو گا۔
یہ امر بھی واضح رہے کہ پانی کی پہلے سے قلت کی وجہ سے دریائے سندھ کے ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے، نئی نہریں بنانے سے نہ صرف یہ شدت اختیار کرے گا بلکہ ان لوگوں کے روزگار بھی متاثر ہوں گے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔
مظاہرین کے مطالبات بالکل سلیس ہیں کہ یہ منصوبہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور حکومت، سندھ کے آبی وسائل کے حقوق کو تسلیم کرے اور ان کا تحفظ کرے۔ مظاہرین پاکستان کے طاقتور حلقوں کی نگرانی میں کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں اور اس کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔
یہ تو تھی پانی کے مسئلے کی چیدہ چیدہ باتیں اب آتے ہیں حالیہ دھرنے پر جو کہ اس سے پہلے دیے گئے دھرنوں اور احتجاجات سے یکسر مختلف ہے۔
ایک مقامی ہونے کے لحاظ سے میں نے بچپن سے اب تک اپنے شہر خیرپور میں کئی ایک تحاریک کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ 80 کی دہائی میں ایم آر ڈی ہو یا نئی صدی کے آغاز پر آئے آرڈی، پانی کے مسئلے پر تحاریک اور احتجاجات ہوں یا لسانی اور مذہبی فسادات ہوں سب دیکھا اور بہت قریب سے دیکھا۔
گزشتہ تمام تر تحاریک کا محور زیادہ تر سیاسی اور مذہبی جماعتیں رہی ہیں۔ خواہ وہ وفاق پسند ہوں یا قوم پرست، پر حالیہ دھرنا میری عمر کے افراد کے لئے ایک الگ تجربہ ہے۔ ہم آج اس سندھ کا آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں جس کی رواداری، اخلاص اور دھرتی سے محبت کے قصے ہم نے سن رکھے تھے۔
یہ سندھ کا وہ فلیور ہے جس کی بات جب میں اسلام آباد میں بیٹھ کر کرتا تھا تو یار لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔ پر تب بھی وہ یہ بات مانتے تھے کہ سندھی لوگ پاکستان کے باقی لوگوں سے زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر گھر میں نہیں سو جاتے بلکہ اس کا محاسبہ بھی کرتے ہیں۔
کیا کہیں کوئی ایسا احتجاج دیکھا ہے جہاں مسلکی عناد پھیکا پڑ جائے اور مذہبی دیواروں کا کوئی وجود نہ ہو۔ ایک طرف شیعہ علما ہوں تو دوسری طرف سنی۔ کہیں سبیلیں لگی ہوں تو ساتھ میں صوفیانہ کلام۔ کیا موحد اور کیا ملحد، کیا ہندو کیا مسلمان سب یک زبان ہو کر دھرتی اور دریا کی بات کریں۔
جہاں لسانی منافرت منوں مٹی تلے دفن ہو چکی ہو اور سندھ کی تاریخ کا ایک بڑا اور موثر احتجاج کی پیشوائی ایک اردو اور پنجابی بولنے والا فرد کر رہا ہو۔ اور پھر بھی لوگ اس کے ساتھ ایک تصویر کھنچوانے کے لئے قطار میں کھڑے ہوں، اور اس کو اپنا ہیرو اور اپنا بیٹا کہہ رہے ہوں۔
جس تحریک میں دانشور، شعرا اور ادیب تو اپنا حصہ ڈالیں پر گدھا گاڑی والا اور مزدور بھی پیچھے نہ رہیں۔ لوگ اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بھی ساتھ لائیں اور تپتے روڈ پر لگے اوون جیسے ٹینٹ کے نیچے ہاتھ والا پنکھا لیے بیٹھے ہوں۔
جی ہاں یہ سندھ ہے اور یہاں ایسا ہوتا ہے۔ یہ سندھ کا شعور ہی تھا جس کی کوکھ سے اس ملک نے جنم لیا۔ یہ وہ لوگ اپنی بات کرتے وقت بھی پنجاب کے ان غریب کسانوں کو نہیں بھولتے جن کے حصے کا پانی بنجر زمین کو آباد اور ان کی زرخیز زمین کو بنجر کرے گا۔ پر شاید کوئی پاکستان کو اتنا روادار اور متنوع دیکھنے کا متحمل نہیں۔
مجھے بس اتنا سمجھنا ہے کہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، پہلے سے زرخیز زمینوں کو بنجر بنائے بغیر کیسے ممکن ہے جب پانی کی کمی پہلے سے سسٹم میں موجود ہے۔
سندھ کے ببرلو بائی پاس پر بیٹھے لوگ فقط سندھ کی زمین، ڈیلٹا اور دریا کی آبی حیات کا کیس نہیں لڑ رہے وہ پنجاب کے ان کسانوں کا کیس بھی لڑ رہے ہیں جن کے حصے کا پانی بنجر زمینوں کو الاٹ کیا جائے گا۔
اب کوئی سمجھائے کہ کیا یہ سوچ صوبائی عناد پر کھڑی ہے کسانوں کے پانی پر بنیادی حق کو مانا جائے اور پہلے سے زرخیز زمینوں کو بنجر بننے سے بچایا جائے؟ اور یہ کہ وطن پرستی آخر اور کیا ہے ِ؟ کیا صرف کچھ حلقون کے مفادات کا تحفظ ہی وطن پرستی ہے؟ کیا پاکستان کے کسان، اور دریا پر انحصار کرنے والی آبی حیات اور اس کے پانیون پر پلنے والے انسانوں کی فکر کرنا وطن پرستی نہیں ہے؟



آپ کے کچھ سوالات کے جوابات اگر آپ سمجھنا چاہیں:
مجھے بس اتنا سمجھنا ہے کہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، پہلے سے زرخیز زمینوں کو بنجر بنائے بغیر کیسے ممکن ہے جب پانی کی کمی پہلے سے سسٹم میں موجود ہے۔
فارمنگ ملک کے لگ بھگ ہر صوبے میں کئی مقامات پر ہوگی۔ لیکن ہم فی الوقت صرف چولستان میں "مروٹ” کی بات کرلیتے ہیں۔ جس کو مستقبل میں چولستان کینال سے منسلک ہونا ہے۔ نہر کے بغیر بھی اس علاقے میں کچھ ہفتے پہلے تک چھ سے سات لاکھ ایکڑ زمین کھیتی پر اٹھ چکی ہے۔ یہاں متعدد یونٹس دو فصلیں کاٹ چکے ہیں اور کچھ تین بھی یا کاٹ چکے ہیں یا کاٹنے والے ہیں۔ ان تمام یونٹس میں بوائی زیرزمین پانی کے ذریعہ ہوئی جو سولر سسٹم سے منسلک ہیں۔ یہاں لگ بھگ سبھی ڈرپ اریگیشن اور اسپرنکلرسے آب پاشی کررہے ہیں اور ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ پانی آدھا استعمال ہورہا ہے اور بروقت یوریا سے لے کر بیج ہر چیز کسان کو سستی اور بروقت مہیا کی جاتی ہے۔
پچھلے تین سال میں ستلج اور چناب سے چھ لاکھ سے دس لاکھ کیوسک پانی گزرا ہے۔
چولستان کینال منسلک ہی ہیڈ سلیمانکی سے ہے جو ہندوستانی سرحد کے شروع میںستلج سے منسلک ہے۔ اور پلان یہی ہے کہ سیلابی پانی جب بھی آیا چاہے ستلج میں یا چناب میں اس کی ایک معقول مقدار اس 174 کلومیٹر طویل نہر میں ذخیرہ کرلی جائے گی جو ایک فصل کے لئے کافی ہوگی۔ کچھ اضافی پانی زیرزمین کنووں میں داخل کرکے پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال ہوگی۔ دوسری فصل کے لئے فی الوقت وہی زیرزمین پانی استعمال ہوگا۔
یاد رہے یہ سیلابی پانی بیچ میں کہیں ذخیرہ نہیں ہوتا۔
سندھ چاہے تو وہ بھی انڈس پر کسی جگہ نئی جھیل یا نہر بناکر کچھ عرصے کا پانی ذخیرہ کرلے۔
—
سندھ کے ببرلو بائی پاس پر بیٹھے لوگ فقط سندھ کی زمین، ڈیلٹا اور دریا کی آبی حیات کا کیس نہیں لڑ رہے وہ پنجاب کے ان کسانوں کا کیس بھی لڑ رہے ہیں جن کے حصے کا پانی بنجر زمینوں کو الاٹ کیا جائے گا۔
عرض ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد خوراک صوبائی مسئلہ ہے تو سندھ کے لوگ بہتر ہوگا پہلے اپنے پیٹ کی فکر کریں۔ پنجاب کے کسان کے کندھے پر بندوق رکھ کر فائر نہ کریں۔
—
کوئی اور سوال ہو تو پوچھ سکتے ہیں
سندھ کے حق میں بہتر ہوگا وہ خود کالا باغ ڈیم کی جھیل بنوانے میں دل چسپی لے اب وہ دور نہیں کہ کوئی اس جھیل کا پانی کہیں راتوں رات شفٹ کرلے گا۔ اس سازشی تھیوری کو ذہن سے نکالیں یا ڈرونز اور سیٹلائٹ کا زمانہ ہے۔ یاد رہے کالا باغ میں جتنا پانی جمع ہوگا اس میں پنجاب اور سندھ کا حصہ برابر برابر 37 فی صد ہوگا۔ اور اس پر عمل کرانے میں کوئی راکٹ سائنس نہیں چاہئے ہوتی۔ جو کام 40 سال پہلے ہوجانا چاہئے تھا اب بھی ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔ اس کی تعمیر میں مزدور اور نوکریاں بھی سندھ کو ملیں گی۔
رہی بات ڈرونز سیٹلائیٹس کے زمانے کے بات تو بھائی میرے اس ملک میں بغیر vpnکے واٹس ایپ نہیں چلتا اور کیوں نہیں چلتا اگر اس بات کا پتہ نہیں تو یقین جانیں۔
میں نہیں بتاؤں گا۔
ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سندھ کی دوسرے صوبوں سے پانی کے لئے لڑائی اور رونا دھونا اس صدی نہیں پچھلی صدی میں بھی جاری تھا۔ لیکن 1948 میں اس نے ایک انتہائی بدمزہ رخ اختیار کیا تھا۔ تفصیل پھر کبھی۔
جی وقت اور اسپیس کی وجہ سے بہت پیچھے سے معاملات کو ٹریس نہیں کر پایا۔ آپ کی تحریر اور اس کا لہجا بتا رہے ہیں کہ کس پات پر کھڑے ہیں۔ ان تمام تر ٹیکنیکل مغالطوں کا جواب حسن عباس اور نصیر میمن تفصیل سے دے چکے جن کو دہراکر میں اپنے مضمون کو بے جا طول دینا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ باقی اپنی ہی تشفی کے لئے ورلڈ بینک والی رپورٹ پڑھ لیں۔ رہی بات 18ویں ترمیم اور صوبوں کے اختیار کی تو اس پر تو بات نہ ہی کریں۔ سندھ کے تمام وسائل پر سندھ کا حق جتانے اور ویسی ہی ضد جیسی آپ پانی پر کر رہے ہیں اگر یہاں ہونے لگی تو نتیجا کیا نکلے گا اس کا اندازہ تو آپ کو ہو ہی گیا ہوگا۔
میرے مضمون کا متن تو اس بات پر کھڑا ہے کہ آج سندھ کا سنی، شیعہ، ہندو مسلمان، موحد و ملحد ایک جگہ ایک ہی بات کر رہے ہیں۔ اس دھرنے کی قیادت کوئی سیاسی یا قومپرست پارٹی نہیں کر رہی۔ الٹا اصل تبرہ اور محاسبہ تو سندھ کی حکمران پارٹی کا ہو رہا ہے۔
باقی آپ ستلج پر پمپ لگائیں کوان کھودیں آپ کی مرضی۔ سندھو کے پانی پر کوئی کینال نہیں بنے گا۔ یہ سندھ کا مطالبہ ہے آپ مانے یا رد کریں آپ کی مرضی۔