مصری کا ڈبہ۔ ایک پراسرار داستان


tariq ishaq

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا، چاچا مصری کو ہمیشہ بزرگ ہی دیکھا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ چالیس سال گزرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسے ہی بزرگ ہیں۔ یہ وہ بزرگ ہستی ہیں جن کے بارے میں مؤرخین آج تک تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر زمان و مکان کے کس پیچیدہ حادثے نے انہیں ”چاچا“ بنا کر قبل از وقت بزرگوں کے کلب میں شامل کر دیا تھا۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ چاچا مصری جب پیدا ہوئے تو عام بچوں کی طرح زور زور سے رونے کی بجائے بہت سنجیدگی اور سکون کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے رہے اور وہاں موجود لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کرتے رہے۔ اور ابتدائی دنوں میں ہی ان کو اکثر غور و فکر میں گم پایا جاتا رہا۔

لیکن اگر چاچا مصری خود ایک تاریخی معمہ تھے، تو ان کی بس، یعنی ”ڈبہ“ ، بھی کسی عجوبے سے کم نہ تھی۔ یہ بس نہیں، ایک زندہ تاریخ تھی، جس کے بارے میں مختلف مورخین اور ماہرین مختلف نظریات رکھتے تھے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ یہ ڈبہ آریاؤں کے ساتھ ہندوستان آیا تھا، مگر لکڑی کے ڈھانچے پر کسی نے لوہے کی چادر چڑھا دی۔ کچھ مؤرخین نے اسے سکندرِ اعظم کے رتھ کی جدید شکل قرار دیا، جسے سکندر جاتے ہوئے چاچا مصری کے آبا و اجداد کے حوالے کر گیا، کہ بھائی، جب تمہارے گاؤں میں پکی سڑک بنے تو اسے چلانا۔

علاقے کے بزرگوں کا مگر ایک اور ہی خیال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈبہ مشینی دور کی پہلی بس تھی اور اس کے بعد باقی ساری بسیں اسی کی نقل میں بنائی گئیں۔ یونانی فلسفی افلاطون نے بھی کہیں لکھا تھا کہ ہر شے کا ایک ”مثالی نمونہ“ ہوتا ہے، اور یہ ڈبہ یقیناً دنیا کی بسوں کا مثالی نمونہ تھا

یہ بس چلتی کیسے تھی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج تک دریافت نہیں ہو سکا۔ بس کی خاصیت یہ تھی کہ یہ صرف چاچا مصری کے ہاتھوں ہی چلتی تھی۔ اگر کسی اور نے چلانے کی کوشش کی تو ایسی خوفناک آوازیں نکالتی کہ لگتا، جیسے کسی آسیب زدہ محل میں جنات آپس میں لڑ رہے ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ڈبہ ایک قدم سیدھا چلتا تھا اور پھر ایک قدم ترچھی سمت میں جاتا تھا۔ مگر اس ترتیب اور صفائی کے ساتھ کہ کسی کو سمجھ نہیں لگنے دیتا تھا۔ اس کی یہ انہونی چال بہت محظوظ کرنے والی ہوتی تھی اور روایت ہے کہ مائیں اپنے روتے ہوئے بچوں کو جب چپ کرانے میں ناکام رہتیں تو بچے کو باہر پکڑ کر لاتیں اور جب دور سے چاچا مصری کا ڈبہ عجیب بے ڈھنگی چال چلتا، دھواں اڑاتا اور چنگھاڑتا ہوا نظر آتا تو بچے فوراً رونا بند کر کے باقاعدہ مسکرانے اور پھر ہنسنا شروع ہو جاتے۔ اور اس پر سواری کے لئے مچل مچل جاتے۔ یوں علاقے کے بچوں کے لئے اس کا سفر ایک رولر کوسٹر پر بیٹھنے کی مانند تھا۔ جو مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے بہت دلچسپ، اور سنسنی خیز ہوتا تھا۔

یہ بس اگر چلتی بھی تو ایسی رفتار پر کہ تیز تیز چلنے والے لوگ آرام سے اس سے آگے نکل جاتے۔ اکثر مسافر سفر کے دوران چائے پینے کے لئے اتر جاتے، تھوڑا سودا سلف خرید کر واپس آتے، اور پھر تیز تیز چلتے اس ڈبہ کو جا لیتے۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان نے بس کے ساتھ دوڑنے کا چیلنج لیا، چار کلومیٹر بعد جب ڈبہ اس متعین مقام پر پہنچا تو نوجوان پہلے سے پہنچ چکا تھا اور دکان سے شربت پی رہا تھا۔

یہ ڈبہ بظاہر ایک عام بس لگتی تھی، مگر درحقیقت یہ ایک ”حساس“ مشین تھی، جسے اپنی اور اپنے مالک یعنی چاچا مصری کی عزتِ نفس بہت عزیز تھی۔ اگر کوئی سواری چاچا مصری کے ساتھ کسی بات پر تلخ کلامی کر نے کی جسارت کرتی تو یہ خود بخود اچھلنے لگتی، ایسی خوفناک اور درد ناک آوازیں نکالتی کہ مخالف سواری کو راہِ فرار اختیار کرنی پڑتی۔

چاچا مصری کی صحت کے ساتھ بھی اس کا عجیب و غریب تعلق تھا۔ اگر چاچا مصری بیمار ہوتے، تو ڈبہ بھی ان کے غم میں شریک ہو کر کام چھوڑ دیتا۔ ایک مرتبہ چاچا مصری کو محض نزلہ ہوا، تو بس نے ایسے چلنے سے انکار کر دیا جیسے سرکاری ملازمین تنخواہ کے بغیر کام کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

علاقے کے لوگوں کو اس ڈبہ سے شدید محبت تھی۔ کچھ تو مشورہ دے رہے تھے کہ اسے قومی ورثے کا درجہ دیا جائے، اور کچھ کا کہنا تھا کہ اسے کسی میوزیم میں رکھا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہ ”سست روی“ اور ”سخت جانی“ کی معراج کیا ہوتی ہے۔

مگر افسوس کہ یہ نادر تاریخی ورثہ چاچا مصری کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ جب چاچا مصری نے بس چلانا چھوڑا، تو ڈبہ بھی خاموش ہو گیا اور ایک اندھیری رات اچانک زمین میں دھنس گیا، اور کچھ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ یہ خودبخود پہاڑوں کی طرف روانہ ہو گیا، اور آج تک کسی کو نہیں ملا۔

تاہم، یہ روایت آج بھی زندہ ہے کہ جب بھی کوئی بہت پرانی، شور مچاتی اور سست رفتار گاڑی نظر آتی ہے، تو لوگ بے ساختہ کہتے ہیں :
”کہیں یہ چاچا مصری کا ڈبہ تو نہیں؟“

Facebook Comments HS