سفید رنگ مٹا دو، یا پھر اقلیتوں کو جینے دو


Writing and Outlining

کراچی کی گلیوں میں ایک اور لاش گری، ایک اور معصوم مارا گیا، اور اس بار بھی وجہ وہی پرانی تھی۔ مذہب۔ لاہوری مسجد کے باہر ایک 47 سالہ احمدی شہری، لئیق چیمہ، اپنے سات بچوں کا باپ، صرف اس ”جرم“ میں قتل کر دیا گیا کہ اس نے خدا کے حضور سر جھکایا۔ اس کا خون گلی میں بہتا رہا، اور ہجوم جو اسے اینٹوں، لاٹھیوں سے مارتا رہا، نعرے لگاتا رہا۔ نفرت سے بھرے ہوئے نعرے، جو اب ہمیں سننے کی عادت ہو چکی ہے۔

یہ واقعہ صرف ایک انسان کی جان لینے کا نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریے، اس کے آئین، اور سب سے بڑھ کر اس کے پرچم کے سفید حصے پر ایک دھبہ ہے۔ وہ سفید رنگ جو اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک ایسا وعدہ جو قائداعظم نے اقلیتوں کو دیا تھا۔ اب مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اگر ریاست اقلیتوں کو تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر اس سفید رنگ کو جھنڈے سے نکال دینا چاہیے۔ انصاف نہ دو، مگر منافقت بھی نہ کرو۔

لئیق چیمہ کا قتل تنہا واقعہ نہیں۔ یہ ان گنت احمدیوں، ہندوؤں، عیسائیوں، شیعوں، ہزارہ برادری، اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی تازہ ترین قسط ہے۔ یہ سلسلہ کب رکے گا؟ کب ریاست قاتلوں کے ساتھ کھڑی ہونا چھوڑے گی؟ کب مذہب کے نام پر بے گناہوں کے خون کا بازار بند ہو گا؟

ہم بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر صدائیں بلند کرتے ہیں، اور کرنا بھی چاہیے۔ ہم امریکہ یا یورپ میں اسلامو فوبیا کے خلاف تحریریں لکھتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں، اور کرنا بھی چاہیے۔ لیکن جب پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو، تو ہم کیوں چپ ہو جاتے ہیں؟ کیوں مذہب کے نام پر نفرت کو خاموشی کی چھوٹ مل جاتی ہے؟ کیا انسانیت کی قیمت مذہب ہے؟ کیا ہمارا ضمیر صرف باہر کے مظالم پر جاگتا ہے؟

ریاست کو فیصلہ کرنا ہو گا: کیا وہ اقلیتوں کو برابر کا شہری مانتی ہے یا نہیں؟ اگر مانتی ہے، تو پھر ان کے جان، مال، عبادت گاہوں اور عقائد کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے۔ پولیس خاموش تماشائی نہ بنے، عدالتیں اندھی نہ ہوں، اور قاتلوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔

اور اگر ایسا ممکن نہیں۔ اگر مذہبی جنون، سیاسی مفاد اور ادارہ جاتی خاموشی مل کر اس نفرت کو ہوا دیتی رہیں۔ تو پھر صاف صاف کہہ دیا جائے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ جھنڈے سے سفید رنگ نکال دیا جائے، تاکہ منافقت کا لبادہ اتار کر ہم دنیا کے سامنے اپنے اصلی چہرے کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔

لیکن میں لکھوں گا، کیونکہ خاموشی ظلم کی حلیف ہوتی ہے۔
میں بولوں گا، کیونکہ ہر لئیق چیمہ کی موت ہم سب کے ضمیر کا قتل ہے۔
میں لکھوں گا، کیونکہ ابھی امید باقی ہے۔ کہ شاید کوئی جاگ جائے، کوئی سن لے، کوئی کچھ کرے۔

Facebook Comments HS