غیرت کے خونی سائے : کیا پاکستان میں عورت کی مرضی ایک گناہ ہے؟

”میری بیٹی نے ہماری عزت خاک میں ملا دی۔“ یہ جملہ پاکستان میں ہر اس واقعے کی بنیاد بنتا ہے جہاں کسی عورت کو صرف اس لیے قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کی۔ غیرت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے کی اس پدرشاہی سوچ کی ایک خونی علامت ہے جو عورت کی زندگی، فیصلہ اور آزادی کو سماجی بدنامی سے جوڑتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو ہر روز خواتین کے حقوق کی پامالی کی داستانیں سنا رہا ہے۔ یہ مسئلہ محض قانونی ہی نہیں، بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
قندیل بلوچ، جو خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی تھیں، وہ خود بھی اسی پدر شاہی سوچ کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل ہو گئیں۔ ان کا قتل اس روایت کی ایک علامتی مثال ہے۔ ایک خودمختار، نڈر اور سماجی سانچوں سے بغاوت کرتی عورت کو اس کے اپنے بھائی نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اس پورے سماجی نظام کی شکستگی کا ثبوت تھا جس میں عورت کی خودمختاری ناقابل قبول ہے۔
تازہ ترین واقعات مارچ 2025 میں مانسہرہ سے آنے والی خبر نے ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک خاتون اور اس کی ننھی بیٹی کو محض اس بنا پر قتل کر دیا گیا کہ وہ پسند کی شادی کر چکی تھیں۔ اسی طرح کچھ روز قبل، بٹگرام میں ایک شادی شدہ خاتون کو اس کے بھائیوں کی طرف سے شادی کے 12 سال بعد اس لیے غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا کیونکہ اس نے بھی صرف اپنی مرضی سے شادی کرنے کا جرم کر لیا تھا۔ پھر لاڑکانہ میں ایک پولیس اہلکار نے شادی سے انکار کرنے پر ایک لیڈی ٹیچر کو قتل کر دیا۔ ایسے ہی، جنوری 2025 میں کوئٹہ میں ایک باپ نے اپنی 15 سالہ بیٹی کو ٹک ٹاک ویڈیوز اپ لوڈ کرنے پر قتل کر دیا۔ اور فروری 2025 میں بھکر میں خاتون اور پڑوسی نوجوان کو قتل کیا گیا۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال 392 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ انہی اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ واقعات پنجاب ( 168 ) اور سندھ ( 151 ) میں رپورٹ ہوئے۔ سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی رپورٹ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی ہے، جس کے مطابق 2024 میں مجموعی طور پر 547 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے۔
ان جرائم کے بعد انصاف کا حصول ایک الگ جنگ ہے۔ SSDO کے مطابق، غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں سزا کی شرح صرف 0.5 فیصد ہے۔ یعنی ہر 200 میں سے صرف ایک قاتل کو سزا ملتی ہے۔ یہ شرح ہمارے فوجداری انصاف کے نظام کی بے بسی کو عیاں کرتی ہے۔
ان واقعات اور اعداد و شمار کی روشنی میں یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بجائے کم ہونے کے وقت کے ساتھ بڑھتے ہی کیوں جا رہے ہیں؟
تو ان واقعات کے کم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ تو پدر شاہی سوچ ہی ہے جو کہ بد قسمتی سے ابھی تک ہمارے سماج سے ختم نہیں ہو پائی ہے چونکہ پدرشاہی سوچ اور اس سے وابستہ نظام عورت کی خودمختاری سے خوف زدہ ہوتا ہے عورت کی خود ارادیت کو وہاں عزت کے خلاف بغاوت سمجھا جاتا ہے، تو اس لیے مرد اسے اپنی ’غیرت‘ سے جوڑ لیتے ہیں۔ اور اسی غیرت کو بنیاد بنا کر عورت کو قتل تک کر دیتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ، قانونی کمزوریاں اور سزاؤں کا فقدان ہے۔ یہاں پر قانون تو موجود ہے، مگر انصاف نہیں۔ 2016 میں پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون منظور کیا، جس کے تحت معافی کو ختم کر کے سزا لازمی قرار دی گئی۔ تاہم، زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ عمومی طور پر پولیس اکثر ایسے کیسز میں عدم دلچسپی دکھاتی ہے، متاثرہ خاندانوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، اور گواہان سامنے آنے سے گھبراتے ہیں۔ یوں مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
اس ضمن میں ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر (مرحومہ) کی زندگی بھر کی جدوجہد ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں : ”اگر عورت کو انصاف نہیں ملتا، تو معاشرے کی باقی انصاف پسندی ایک دکھاوا ہے۔“ ان کی ریکارڈ پر موجود تقاریر اور مقدمات ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ قانونی اصلاحات محض تحریر سے نہیں بلکہ عمل سے زندہ ہوتی ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کم نہ ہونے کی ایک اور وجہ خاندانی دباؤ، اجتماعی خاموشی اور سماجی رویے بھی ہیں۔ اکثر قاتل کو خاندان کی خاموش حمایت حاصل ہوتی ہے، جو اس جُرم کو جواز بخشتا ہے۔ اور ایسے واقعات صرف قاتل کی حد تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ سوچ، یہ تربیت، یہ خاموشی، یہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ جب ایک لڑکی کی آزادی کو خاندان کی عزت سے جوڑ دیا جائے، جب معاشرہ مرد کو اختیار اور عورت کو اطاعت کی علامت بنائے، تو جرم صرف بندوق سے نہیں، نظریے سے بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح خواتین کی سوشل میڈیا پر موجودگی بھی بعض اوقات قدامت پسند خاندانوں میں غصے اور ردعمل کا سبب بنتی ہے۔ جس کا نتیجہ غیرت کے نام پر قتل کی صورت میں نکل آتا ہے۔ مردوں کو لگتا ہے کہ ان کے گھر کی خواتین سوشل میڈیا پر آ کر ان کے خاندان کی عزت پامال کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو قتل کرنا وہ اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔
پھر ہمارے سماجی و مذہبی رہنما جو کہ ہمیں اکثر دیگر معاملات پر بھاشن دیتے دکھائی دیتے ہیں مگر ایسے واقعات اور اس سوچ پر ہمیں، ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہی دیکھنے کو ملتی ہے جس کی وجہ سے مجرموں کو ایسے جرم سرزد کرنے کی تقویت ملتی ہے اور ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔
مزید تعلیم اور صنفی آگہی کی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے جس کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات ہونا کم نہیں ہو پا رہے۔
ان واقعات میں کمی اور تدارک کے حوالے سے وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی علمبرداروں اور فیمینسٹ ایکٹیوسٹس کی طرف سے مختلف تجاویز اور آراء سامنے آتی رہتی ہیں جیسا کہ
شرمین عبید چنائے، جنہوں نے اس حساس موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم بھی بنائی، اس ضمن میں کہتی ہیں کہ ”غیرت کے نام پر قتل پاکستان پر ایک دھبہ ہے۔ اس جرم میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔“
اسی طرح خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی ممتاز کارکن، شیما کرمانی کے مطابق، ”غیرت کے نام پر قتل اُس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ریاست مزید سخت اقدامات نہیں کرتی۔“
پھر، معروف فیمینسٹ اور انسانی حقوق کی کارکن نگہت داد اس حوالے سے کہتی ہیں : ”جب تک ہم غیرت کو ایک ’جائز‘ جذباتی ردعمل کے طور پر دیکھتے رہیں گے، تب تک ایسے جرائم کو سماجی قبولیت حاصل رہے گی۔ ہمیں غیرت کے بیانیے کو جڑ سے چیلنج کرنا ہو گا۔“
اس ضمن میں کچھ دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں جیسا کہ
قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنانا، پولیس، تفتیشی افسران اور عدلیہ کو صنفی حساسیت کی تربیت دی جانا، تعلیمی نصاب میں صنفی مساوات اور پدر شاہی سوچ سے متعلق مواد کو شامل کیا جانا اور میڈیا بشمول مین سٹریم اور ڈیجیٹل میڈیا پر اس حوالے سے ایک موثر آگہی مہم چلایا جانا شامل ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون تو بن چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس قانون کے پیچھے موجود فلسفے کو بھی سمجھتے ہیں؟ کیا ہم عورت کی زندگی کو اس کی مرضی کے ساتھ قبول کر سکتے ہیں؟ اس جرم کا شکار ہونے والی تمام خواتین کی قربانیاں تبھی رائیگاں نہیں جائیں گی جب ہم بحیثیتِ معاشرہ ان سوالات کا سامنا کریں گے اور جواب دیں گے۔ کیونکہ غیرت کے نام پر قتل صرف جرم نہیں بلکہ ایک ثقافتی خاموش منظوری بھی ہے۔ جب تک ریاست، مذہب، اور تعلیم کی سطح پر عورت کی مرضی اور خود ارادیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ جرم کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ ”
خاص طور پر ریاست کو غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بیانیے میں وزن ڈالنا ہو گا۔ کیونکہ ”غیرت کے نام پر قتل میں قطعاً کوئی غیرت نہیں۔“

