صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 39 : رونمائی
” جب وہ اُسے پا لیتا ہے تو خوش ہو کر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے، اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بُلا کر کہتا ہے، میرے ساتھ خوشی مناؤ کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی ہے! “ لوقا 15 : 6
مریم کو آئے ہوئے چوتھا دن ہوا تھا اور اگلے روز شام کو اس کی واپسی تھی۔ عارف سے اس کی ملاقات صرف رات کے کھانے کے وقت ہوتی تھی۔ دونوں باپ بیٹے کام میں انتہائی مصروف تھے اور شام کو تھکے ہارے گھر آتے تھے۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہوتے انہیں رات کے گیارہ بج جاتے اور عارف واپس اپنے بنگلے پر سونے کے لیے چلا جاتا کیوں کہ اسے علی الصبح کام پر پہنچنا ہوتا تھا۔ مریم کو اس کے ساتھ وقت گزارنے کا کوئی موقع نہیں ملا، مگر اسے احساس تھا کہ عارف کا کام بھی ضروری تھا۔ اس دوران گلوریا اسے اپنے ساتھ لیے گھومتی پھری، شہر دکھایا اور شاپنگ کرائی۔
اُس دن اتوار تھا اور شام کو پارٹی تھی۔ حال آنکہ چھٹی کا دن تھا مگر عادل اور عارف اُس دن بھی مصروف تھے۔ پچھلی رات عارف وہیں رک گیا تھا کیوں کہ صبح کو دونوں ایک نئے پروجیکٹ کے سلسلے میں کسی میٹنگ میں جا رہے تھے۔ ناشتے کے بعد وہ دونوں تو چلے گئے اور گلوریا ٹیلی فون پر مصروف ہو گئی، لہٰذا مریم باہر نکل آئی جہاں اسے کافی رونق نظر آئی۔ کئی ٹرک کھڑے تھے جن سے فرنیچر اتارا جا رہا تھا۔ لان پر ایک جانب اسٹیج بنایا گیا تھا جس کے سامنے صوفے لگائے جا رہے تھے۔ دوسری جانب کچھ لوگ ایک قطار میں چھوٹے چھوٹے کیبن لگا رہے تھے۔ غرض ہر طرف چہل پہل تھی۔ ڈپٹی صاحب اِدھر سے اُدھر گھوم رہے تھے اور لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے۔ وہ خاصے عمر رسیدہ تھے اور پولیس سے ریٹائر ہو کر آئے تھے۔ ان کا نام شاید عادل اور گلوریا ہی جانتے ہوں مگر سب انہیں ڈپٹی صاحب کہتے تھے اور بڑی عزت کرتے تھے۔ ایک لحاظ سے وہ کوٹھی کے منیجر تھے اور ان کے ذمّے باہر کے کام تھے۔ جب ان کی نظر مریم پر پڑی تو وہ اُس سے مخاطب ہوئے، ”صبح بخیر، مریم بی بی۔“
”صبح بخیر، ڈپٹی صاحب، معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت بڑی پارٹی کر رہے ہیں۔“
”جی، میری لِسٹ پر ایک سو چار نام ہیں۔“
”افوہ! میں تو سمجھی تھی کہ آٹھ دس لوگ آرہے ہوں گے۔“
”نہیں بھئی، عادل میاں کا حلقۂ احباب کا فی وسیع ہے۔“
”وہ کیبن کیسے ہیں؟“
”ان میں مختلف پکوانچی اپنے اپنے کھانے بنائیں گے،“ ڈپٹی صاحب نے ان کیبنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”پہلے کیبن میں سیخ کباب بنیں گے، دوسرے میں تلے ہوئے جھینگے ہوں گے۔“
”یہ کیبن تو بہت سارے ہیں، تو کتنے کھانے ہوں گے؟“
”بارہ ڈشیں ہوں گی۔ ان میں کچھ چینی ڈشیں بھی ہیں۔“
ڈپٹی صاحب معذرت کر کے کسی ٹیم کو ہدایات دینے کے لیے چلے گئے۔ مریم وہیں کھڑی لوگوں کو کام کرتے ہوئے دیکھتی رہی۔ وہ خود کو اس پُر تعیش ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
***
شام کے چھ بج چکے تھے اور مہمانوں کو سات بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ باہر ساری تیاریاں مکمل ہو گئی تھیں، مگر گھر میں ایک ہیجان برپا تھا۔ عادل اور عارف ابھی ابھی اپنی میٹنگ سے واپس آئے تھے اور سیدھے غسل خانوں میں گھس گئے تھے۔ گلوریا نے بیوٹی پارلر سے ایک لڑکی کو بلا لیا تھا جس کا نام پروین تھا۔ وہ بھی اسی وقت پہنچی اور مریم کو تیار کرنے کے لیے اسے بیڈ روم میں لے گئی۔ صرف گلوریا کیل کانٹے سے لیس سب کو دوڑا رہی تھیں۔
خدا خدا کر کے عادل اور عارف تیار ہو کر نکلے۔ دونوں نے سیاہ سوٹ اور سرخ ٹائیاں پہنی تھیں، گلوریا نے سفید ریشمی ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی، جس پر باریک رنگ برنگے پھول بکھرے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے بہار نے خود ان کے جسم پر اتر کر انہیں پھولوں سے مہکتا باغیچہ بنا دیا ہو۔ سامنے دیوار پر لگے ہوئے کلاک نے سات بجائے اور گلوریا نے بے چینی سے کہا، ”یوحنّا، تم مریم کو لے کر آجانا۔ ہم چلتے ہیں کیوں کہ اب مہمان آنا شروع ہوجائیں گے۔“
مریم کا پارٹی ڈریس جو پچھلے روز آدم جی کی اسسٹنٹ لے کر آئی تھی، وہ ایک سفید لمبا پارٹی گاؤن تھا، جو صرف ایک لباس ہی نہیں بلکہ نفاست اور دلکشی کا مکمل پیکر تھا۔ نرم و نازک سلک سے بنے ہوئے گاؤن کی ایسی نفیس فٹنگ تھی جیسے مریم کے جسم پر ڈھالا گیا ہو۔ گلوریا نے اسے ایک سرخ اسکارف اور موتیوں کی نیکلس خرید کر دی تھی جو اس کی گردن کے گرد تھی۔
پروین نے گلوریا کی ہدایت کے مطابق مریم کا ایسا میک اپ کیا کہ دیکھنے والے کو احساس ہو کہ چہرے پر رنگ نہیں پھیرے گئے بلکہ صرف قدرت کی جھلک ہے۔ اس کی جِلد کا ہلکا گندمی رنگ احتیاط سے اُبھارا گیا، جیسے دھوپ چھاؤں میں نکھرتی ہوئی زمین۔ فاؤنڈیشن بس اتنی کہ جِلد ہموار لگے، رخساروں پر ہلکی آڑوئی چھاپ، لبوں پر بے رنگ مگر چمک دار بام، پپوٹوں پر فقط ہلکے سے آئی شیڈو کا لمس، اور باریک مسکارا، جو پلکوں کو بس تھوڑا سا اُجاگر کردے۔ نتیجہ یہ تھا کہ نہ کوئی سنگھار، نہ بناوٹ : صرف وہی مریم، بس تھوڑی سی مہکی ہوئی، جیسے جیٹھ کی گرمی میں ہلکی ہلکی پُروا چل رہی ہو۔
جب مریم نے خود کو قد آدم آئینے میں دیکھا تو سوچ میں گُم ہو گئی۔ وہ سوچتی رہی، کیا وہ واقعی اِس دنیا کا حصہ بن سکتی ہے؟ کیا یہ حسن، یہ وقار، یہ سب صرف وقتی ہے؟ یا وہ واقعی اب ایک نئی زندگی کی دہلیز پر کھڑی ہے؟ مگر ایسے لمحات میں اندر کہیں اس کا زہریلا بچپن سرسرا اٹھتا اور اس کی دنیا اس کی نظروں کے سامنے ریت کے محل میں بدل جاتی۔
”کس سوچ میں پڑ گئیں، مریم؟“ اسے پروین کی آواز سنائی دی۔
”کچھ نہیں، چلو،“ مریم نے چونک کر کہا اور پروین کو دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
عارف نے مریم کو دیکھا تو ایک ہاتھ دل پر رکھا اور اس طرح پیچھے ہٹا جیسے سامنے سے کسی نے اسے دھکا دے دیا ہو۔ مریم نے مسکرا کر عارف کا ہاتھ پکڑا اور دونوں باہر نکل آئے۔ کوٹھی کے گرد پورا ایریا بُقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ چاروں طرف اونچے اونچے کھمبوں پر لگی ہوئی تیز روشنیوں نے رات کو دن بنا دیا تھا۔ اسٹیج پر ایک خاتون بیٹھی ستار بجا رہی تھیں اور ایک طبلہ نواز ان کی سنگت کر رہا تھا۔ مہمانوں کی کاریں داخلے کے گیٹ سے اندر آ رہی تھیں اور پورچ سے گزر کر کچھ فاصلے پر عادل، گلوریا، مریم اور عارف استقبال کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ ڈرائیور وہاں کار روک کر سواریوں کو اتارتے اور آگے جاکر دوسرے گیٹ سے نکل جاتے۔ گیٹ کے باہر ہی پارکنگ کا انتظام تھا اور ایک شامیانہ لگا کر ڈرائیوروں کے کھانے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ڈرائیو وے میں داخلے کے گیٹ کے باہر تک کاروں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ سب سے اگلی کار عادل کی فیملی کے سامنے رکتی اور وہ اترنے والے مہمانوں کا استقبال کر کے ان سے مریم کا تعارف کراتے اور وہ مریم کو اپنا تحفہ دے کر آگے بڑھ جاتے۔ گلوریا نے خورشیدہ کو مریم کے پیچھے کھڑا کر دیا تھا جس کا کام مریم سے تحفے کا ڈبہ لے کر پیچھے میز پر رکھ دینا تھا جس پر اب ڈبوں کا ڈھیر لگتا جا رہا تھا۔
بیگم نوازش کار سے اُتریں تو گلوریا نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور انہوں نے سب سے ہاتھ ملایا۔ گلوریا نے مریم سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا، ”بیگم نوازش ہمارے اپوا کے لوکل چیپٹر کی صدر ہیں اور ہماری ثقافتی سرگرمیوں کی روحِ رواں ہیں۔“ بیگم نوازش کے ساتھ ان کی بیٹی زرینہ تھی جس کے ہاتھ میں تحفے کا ڈبہ تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر مریم کے رخسار سے رخسار ملایا۔ گلوریا نے مریم کو ہدایت کردی تھی کہ کسی کے رخسار سے اپنے رخسار کو چھونے نہ دیں کیوں کہ اس طرح دونوں کا میک اپ خراب ہوجاتا ہے، اس لیے صرف اشارہ کر دینا کافی ہوتا ہے۔
لان پر چٹاگانگ کی ساری اشرافیہ موجود تھی۔ سب ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ لوگ ٹولیوں میں بٹ گئے تھے اور کھڑے ہو کر ہی کھا رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنی پلیٹیں لے کر صوفوں پر بیٹھ گئے تھے۔ کھانے کی کیبنوں کے سامنے بھی خاصے لوگ موجود تھے جو اپنے پسندیدہ کھانے پلیٹ میں ڈال رہے تھے۔ گلوریا اور عادل مہمانوں کی تواضع میں مصروف تھے۔ عارف اور مریم بھی عموماً اپنے ہم عمروں کی ٹولیوں کے درمیان گھوم رہے تھے۔ مریم نے اندازہ لگایا کہ عارف لڑکیوں میں کافی پاپولر تھا، بلکہ اس کے ایک بے تکلف دوست نے کہا، ”مریم، یہ تمام لڑکیاں جو تم سے ہنس بول رہی ہیں، یہ سب آج یوم سیاہ منا رہی ہیں۔“ مریم مسکرا کر دوسری ٹولی میں چلی گئی تھی۔
رات کو دس بجے اسٹیج پر ایک بینڈ آ گیا اور اس نے مغربی موسیقی شروع کردی۔ روشنیاں دھیمی کردی گئیں۔ سوئمنگ پول کے برابر ٹینس کورٹ سے نیٹ ہٹا کر اسے ڈانس فلور میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ایک ایک کر کے نوجوان جوڑے وہاں جمع ہو رہے تھے۔ عارف نے مریم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”مگر مجھے تو ڈانس کرنا آتا ہی نہیں،“ مریم نے گھبرا کر کہا۔
”کوئی بات نہیں، سیکھ جاؤ گی، بس مجھ سے چمٹی رہنا،“ عارف نے ہنس کر کہا اور مریم کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈانس فلور پر لے گیا۔
اسٹیج پر جو سِنگر گا رہا تھا وہ فرینک سناٹرا کے نام سے مشہور تھا کیوں کہ وہ اُسی کی آواز اور اسی کے لہجے میں گاتا تھا، اور اسی کی طرح ہیٹ پہن کر اسٹیج پر آتا تھا۔
مریم عارف میں گم ہو گئی۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کو جُرعہ جُرعہ پی رہی تھیں اور دونوں کو اپنے سینے میں دوسرے کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔ مریم خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئی جہاں وہ ایک میلی کچیلی لڑکی تھی جس کا نام سنڈریلا تھا۔ اس کی سوتیلی بہنیں سارا دن اُس سے گھر کا کام کراتی تھیں اور وہ رات کو تھک کر بستر میں جاتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک پری نے اس پر مہربان ہو کر اسے بنا سنوار کر شہزادے کے محل میں پہنچا دیا جہاں وہ رات بھر شہزادے کے ساتھ ناچتی رہی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور فرینک سناٹرا کے بول ہر طرف گونج رہے تھے۔
Fly me to the moon
Let me play among the stars
Let me see what spring is like
on Jupiter and Mars.
اچانک اُس کے ذہن میں ایک ہتھوڑا سا لگا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کیوں کہ یہ جادو تو صرف آدھی رات تک کا تھا۔ پری ماں نے اسے تاکید کی تھی کہ وہ رات کے بارہ بجے سے پہلے وہاں سے بھاگ آٗئے کیوں کہ وہ بارہ بجے اپنے پرانے حلیے میں واپس آ جائے گی۔ وہ عارف کی بانہوں میں کسمسائی کیوں کہ دور کوئی گھنٹہ گھر رات کے بارہ بجا رہا تھا۔

