یونیورسٹی لو وائرس
ایک انٹرنیشنل سروے کے مطابق، پاکستانی یونیورسٹیوں کے 80 فیصد طلبہ تعلیم کی بجائے ”محبت نامی وائرس“ میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس بیماری کے باعث نہ صرف ان کی ذہنی و جسمانی حالت نحیف رہتی ہے، بلکہ یہ کسی بھی قسم کا تخلیقی کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔
ہمارے سائنس دان کوئی تسلی بخش ادویات ایجاد کرنا تو دور، ابھی تک اس کی روک تھام کے لئے معمولی سا نسخہ تیار کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تشویش ناک وائرس میں نہ صرف طلبہ بلکہ پروفیسر حضرت کی بھی ایک بڑی تعداد مبتلا پائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں محبت عمر نہیں دیکھتی، اور ہمارے پروفیسر حضرات اس جملے کو عملی طور پر ثابت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو ”محبت کا مرکز“ بنائے رکھنے میں اپنی اعلیٰ خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اب یہ کہنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے جیسے کہ آج تک سائنسدان اور فلاسفر یہ نہیں طے کر سکے کہ مرغی پہلے آئی یا انڈا۔ بالکل اسی طرح اس وائرس کے اثرات طلبہ سے پروفیسر حضرات کی طرف منتقل ہوتے ہیں یا پھر پروفیسر حضرات سے طلبہ کی جانب۔ لیکن اس سب معاملے میں جو ایک بات ابھی تک سائنسدانوں کے لئے معما بنی ہوئی ہے وہ یہ کہ ایک وائرس ہونے کے باوجود ان دونوں میں علامات مختلف ہوتی ہیں۔ جیسے کہ طلبہ کی علامات کھلم کھلا دور دراز تک نظر آتی ہیں، جو کہ گھنٹوں موبائل پر چپکنا، کلاس میں ایک دوسرے کو گھورنا، اور بے وقت ہنسی کے دورے پڑنا، اچانک حاضری کی مقدار کا بڑھ جانا، ان کی گفتگو کا مرکزی نقطہ اپنے ”بے بی“ یا ”شونا“ کی وہ خوبیاں ہوتی ہیں، جن کے بارے میں شاید اس ”بے بی، شونا“ کی سات نسلوں کو معنی تک کا بھی علم نہ ہو۔ جبکہ پروفیسر حضرات کی علامات اس قدر خفیہ ہوتی ہیں کہ اسٹیتھوسکوپ بھی دیکھنے پر سر پکڑ لے۔
پاکستانی یونیورسٹیز میں محبت کا ہر برانڈ، ہر سائز، اور ہر موسم کی کلیکشن دستیاب ہوتی ہے۔ یہاں داخلہ لینا ضروری نہیں، بس ایک آدھا چکر لگا لیں، محبت کی بہاریں ہر طرف کھلتی نظر آئیں گی۔ یہاں پر محبت کی ہر ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے، ایک دن چلنے والی، ایک ہفتہ اور چار سال اور اس سے بڑھ کر زیادہ گارنٹی والی کے لئے قسمت کا خاص ہونا ضروری ہوتا ہے۔
محبت جیسے وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کے لئے نرس کی خدمات سے پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ آپ کا تعلق کسی ایسے خاندان سے ہونا چاہیے جن کے ہاں ناصرف پیسے جھاڑیوں پر لگتے ہوں بلکہ ساتھ ہی آپ کا دل حاتم طائی کے خاندان سے ہو، نہیں تو اس کے بغیر یہ بیٹھ جائے گا۔ ایک ہم ہیں کہ اپنا پیسہ بھی ایسے خرچ کرتے ہیں جیسے کہ کسی اور کا ہو اور ایک یہ قوم ہے کہ دوسروں کا پیسہ بھی ایسے خرچ کرتی ہے جیسے کہ ان کا اپنا ہو۔ ہر سال رپورٹ پڑھنے پر حیرانی ہوتی ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اتنا پیسہ چھاپا ہے۔ مگر یہ سب جاتا کہاں پر ہے؟
جہاں تک بات رہی ہمارے ہاں دیہات کی آدھی سے زیادہ آبادی کی، تو وہاں پر ایک سال میں بمشکل ایک جوڑا بیگم کو خرید کر دیں۔ اس پر وہ خوش تو ہوتی ہی ہوتی ہے، لیکن ساتھ ساتھ پاکستانی نیوز چینلز کی طرح آپ کے فرض شناس شوہر ہونے کی اشتہار بازی جو کرتی ہیں وہ الگ سے ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف یہاں پر محبت کا اظہار کرنے کے لئے تاج محل بھی تعمیر کر کے پیش کر دیا جائے، تو سامنے سے کہا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ الگ کرنے کے لئے نہیں ملا تھا۔
اگر بات صرف یہیں تک ہوتی تو چلتا لیکن یہاں پر مسئلہ یہ تھا کہ یونیورسٹی میں سنگل ہونا بھی ایک بڑا گناہ ہوتا ہے۔
یعنی اگر آپ یونیورسٹی میں سنگل ہیں، تو سمجھیے کہ آپ نے اقلیت کا نمائندہ بننے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔
یونیورسٹی میں سنگل ہونا ایسا جرم ہے جیسے شادی شدہ ہو کر بیوی کے ہاتھ کا سالن پسند کرنا۔
آپ پر دوست افسوس کرتے ہوئے ”قابلِ علاج مریض“ سمجھ کر مختلف مشورے دیتے ہیں :
یار تُو سیاسیات میں کیوں چلا گیا؟ جیسے کہ ہم قبرستان نہ چلے گئے ہوں۔
پھر ایک اور دوست، جس کی ناک ابھی تازہ تازہ انگریزی ڈیپارٹمنٹ کی حسینہ کے انکار سے سُوجی ہوتی ہے، گہرے فلسفیانہ انداز میں فرماتا ہے۔
تم انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں کیوں نہیں جاتے؟ وہاں سے تو آج تک کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا۔ جس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ملکوں کو چلانے کے لئے چندے کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی محبت کو بڑھانے کے لئے کسی بندے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم نے اپنے سیاسی رہنماؤں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ڈیپارٹمنٹ کے چکر لگائے کہ کہیں سے تو کچھ حاصل ہو ہی جائے گا اور بالخصوص اپنے برداران ڈیپارٹمنٹ سے کافی امیدیں وابستہ تھیں لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود اس سب کا حاصل خلاصہ صفر۔
کلاس میں جس کو دیکھو ڈبل، کیفے میں جو بیٹھا ہے ڈبل، لائبریری میں بھی لوگ کتابیں کم اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں مستقبل کی تصویریں زیادہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
اس سب کے باوجود ہمارا خالی ہاتھ رہ جانا شاید ہماری نیکیوں کی کمی ہی تھی، جس کی وجہ سے کچھ حاصل تو دور کی بات، مجال ہے کہ یہ چہرہ شریف کسی کو پسند آتا۔
صورت شریف کی نورانیت ہی کچھ ایسی ہے کہ ہمیں نظر انداز ایسے کیا جاتا، جیسے ہمارے چہرے پر ”نو انٹری“ کا بورڈ لگا ہوا ہو کہ یہاں کسی کو دل پارکنگ کرنے کی اجازت نہیں۔
اگر جانتے بوجھتے ہوئے، غلطی سے ہماری کسی پر نظر پڑ بھی جاتی تو ہمیں ایسے بدلے میں دیکھا جاتا جیسے کہ کسی مفتی اعظم نے ہمارے معاملے میں ”حرام“ کا فتویٰ لگا دیا ہو۔
جبکہ ہماری اعلیٰ ظرفی کا عالم یہ تھا کہ لڑکی میں کوئی خوبی نہ ہونے کے باوجود بھی مثبت سوچ کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی خوبی خود سے گھڑ لیتے تھے۔
خوبصورت نہیں، تو کوئی مسئلہ نہیں، خوبصورتی ضروری تھوڑی ہوتی ہے، اصل چیز تو انسان کی سیرت ہے۔ اور اگر سیرت بھی صورت پر چلی جاتی، ”تو سادگی تمام حسن کی ماں ہے“ ۔
سادگی بھی نہیں، تو کوئی بات نہیں، سادگی سے زیادہ ضروری باتونی ہونا ہوتا ہے اور جو کہ یہ عورت میں فطری خوبی ہوتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ یہ بھی نہیں، تو پھر اس کا پڑھا لکھا ہونا ہمیں سب سے بڑی نعمت لگتا۔ پڑھائی بھی ہمارے ہاں کی جمہوریت کی طرح ہوتی، تو پھر کوئی نہ کوئی ”گھریلو“ خوبی تو ضرور ہی ہو گی۔
نہ بولنے کا سلیقہ، نہ گھر داری، نہ عقل، نہ تمیز، تو پھر ہمیں اندر سے وہی پرانی آواز سنائی دیتی، یار، کم از کم سانس تو لیتی ہے نا؟ اور بس، پھر یہی چیز اسے ہمارے لئے دنیا میں سب سے ممتاز و منفرد بنا دیتی تھی۔ لیکن اتنی مثبت سوچ کے باوجود بھی نتائج ہم سے ایسے ہی دور تھے جیسے پاکستانی عوام سے پاکستان کی پیدائش سے اب تک لگائے جانے والے ترقی یافتہ منصوبوں کے ثمرات۔
ہمیں بچپن سے ہی اندازہ تھا کہ ہم دوسروں سے بالکل منفرد ہیں۔ صحت ایسی کہ چھینک بھی آئے تو لگتا جیسے طوفان نوح دوبارہ آ گیا ہو، آواز ایسی کہ اسپیکر بھی شرم کے مارے سر جھکا لے۔ لیکن اس یونیورسٹی میں آ کر ہمیں سمجھ آیا کہ خدا کرے بندہ اس قدر بھی منفرد نہ ہو۔
کسی حد تک ”محبت نامی وائرس“ سے محفوظ رہنے کی بڑی وجہ ہماری جیب پر وہ چمکتی ویکسین تھی جسے دیکھ کر سامنے والا خود ہی سماجی فاصلے پر آ جاتا تھا۔
حالات کچھ یوں تھے کہ امید کی قمیض پر مایوسی کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ لیکن کہتے ہیں ناں، کہ تلاش کرنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، یہ تو پھر ایک عدد نرس تھی۔ ہماری مثبت سوچ اور صبر کے دھاگے سے بندھی ہوئی امید کی پتنگ آخرکار اُڑان بھرنے لگی۔ کافی دنوں کی کینٹین گردی، چائے کی پیالیوں کا بے دریغ قتلِ عام، اور کینٹین کے طواف کے بعد بالآخر قسمت کی سوئی ہلی۔ اور وہی لڑکی، جسے ہم دور سے دیکھ کر اپنی گردن کی اکڑ کے بہانے دیکھتے تھے، اچانک ہمیں گھاس ڈالنے لگی۔ پہلے تو اپنی قسمت پر یقین نہیں ہوا اور اس بات کو وہم سمجھ کر دو سے تین دنوں تک ٹالتے رہے۔ کیوں کہ اس سب میں مسئلہ یہ تھا کہ جا کر یہ بھی تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ”چونٹی کاٹیئے ہم خواب تو نہیں دیکھ رہے؟“ اس کے بعد لڑکی تو شاید بھاگتی ہی بھاگتی مگر ہمیشہ کے لیے جو ”داغِ ندامت“ پیچھے کو چھوڑ جاتی وہ الگ۔ اور ویسے بھی یہ کوئی اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ بندہ نامحرم کو جا کر یہ کچھ کہتا پھرے۔
بس جناب، عشق کا یہ باب یونہی کھلا، لیکن ساتھ ہی شرم، تہذیب، اور لڑکی کے بھائی کے ممکنہ ردِ عمل نے بھی ہمیں لمبے عرصے تک چُپ رہنے پر مجبور کیے رکھا۔ ہم ہر دن کینٹین پر چپ چاپ چائے پیتے اور دل میں شکر ادا کرتے ہیں کہ کسی نے گھاس تو ڈالی، ورنہ یہاں تو لوگ اتنا مطلبی ہوتے ہیں کہ بغیر مفاد پانی تک بھی نہیں پوچھتے۔


