وکٹر فرینکل اور زندگی میں معنی کی تلاش
وکٹر فرینکل بیسویں صدی کے وہ واحد ماہر نفسیات ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کی وجہ ان کی کتاب MAN ’S SEARCH FOR MEANING تھی جس کا ترجمہ بیس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے اور جس کی پچھلی نصف صدی میں ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف نازی کیمپوں میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں بلکہ اپنے نفسیاتی طریقہ علاج لوگوتھراپی کا تعارف بھی رقم کیا ہے۔
جب ہم وکٹر فرینکل کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ 1905 میں آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔
وکٹر فرینکل کو نوجوانی میں ہی انسانی نفسیات میں گہری دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ جب انہیں اپنے شہر کے مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کا پتہ چلا تو انہوں نے فرائڈ کو خط لکھا اور انیس برس کی عمر میں انہیں اپنا ایک نفسیاتی مضمون بھیجا جو فرائڈ نے بڑی خوشی سے اپنے تحلیل نفسی کے بین الاقوامی مجلے میں چھاپا۔
وکٹر فرینکل کچھ عرصہ فرائڈ کے نظریاتی شیدائی رہے لیکن پھر ان کی تعلیمات سے دلبرداشتہ ہو گئے اور انہوں نے تحلیل نفسی کی روایت کو خیر باد کہہ دیا۔

سگمنڈ فرائڈ سے نظریاتی جدائی کے بعد وہ کچھ عرصہ آسٹریا کے ایک اور مشہور ماہر نفسیات الفریڈ ایڈلر کے نظریات کے دلدادہ ہو گئے اور ان کی محفلوں میں شریک ہونے لگے۔ انہوں نے الفریڈ ایڈلر کے انفرادی نفسیات کے مکتب فکر کے بارے میں بھی ایک مقالہ لکھا جسے ایڈلر نے اپنے بین الاقوامی رسالے میں چھاپا۔
سگمنڈ فرائڈ سے ذہنی محبت کی طرح وکٹر فرینکل کی الفریڈ ایڈلر سے نظریاتی محبت بھی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جب وکٹر فرینکل نے الفریڈ ایڈلر سے چبھتے ہوئے سوالات پوچھے تو ایڈلر نے انہیں بے ادب اور گستاخ قرار دیتے ہوئے اپنے حلقے سے نکال دیا۔
سگمنڈ فرائڈ اور الفریڈ ایڈلر سے نظریاتی بعد کے بعد وکٹر فرینکل نے اپنا جداگانہ مکتب فکر بنایا اور ایک نیا نفسیاتی علاج مرتب کیا جو لوگو تھراپی کہلایا۔
اسی لیے وکٹر فرینکل کا مکتب فکر ویانا آسٹریا کا تیسرا مکتب فکر کہلاتا ہے۔

نفسیاتی علاج کے ساتھ ساتھ وکٹر فرینکل سماجی مسائل میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے نوجوانی میں ہی آسٹریا کی سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وکٹر فرینکل کے والد گبرائیل فرینکل بھی سوشلسٹ نظریات کے حامل تھے۔
میڈیکل کالج کی تعلیم کے بعد وکٹر فرینکل کو اندازہ ہوا کہ بہت سے میڈیکل کالج کے طلبا تعلیم کی محنت مشقت اور ریاضت کی شدت کی وجہ سے اقدام خودکشی کرتے ہیں اور چند ایک خود کشی کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ وکٹر فرینکل نے ایسے طلبا کی مدد کے لیے ایک خصوصی پروگرام مرتب کیا اور شہر کے اصحاب بست و کشاد کو قائل کیا کہ وہ طلبا کا بغیر فیس کے علاج کروائیں۔ وکٹر فرینکل کی بات مان لی گئی اور ان طلبا کا مفت علاج کیا گیا اور وکٹر فرینکل کا پروگرام اتنا کامیاب ہوا کہ کالج کی تاریخ میں پہلی بار 1930 میں ایک طالب علم نے بھی خودکشی نہ کی۔
ڈاکٹر بننے کے بعد وکٹر فرینکل نے ایک نفسیاتی ہسپتال میں کام کرنا اور ڈپریشن کی ان مریضاؤں کا علاج کرنا شروع کیا جنہوں نے اقدام خودکشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔
1937 میں وکٹر فرینکل نے ہسپتال چھوڑ کر اپنے کلینک میں کام کرنا شروع کر دیا۔

وکٹر فرینکل چونکہ یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لیے وہ نازیوں کے زیر عتاب آئے اور ان پر پابندیاں عاید کر دی گئیں۔
1940 میں وکٹر فرینکل نے اپنا کلینک بند کر کے روتھ چائلڈ کے نفسیاتی ہسپتال میں اس لیے کام کرنا شروع کر دیا کیونکہ وہ شہر کا واحد ہسپتال تھا جہاں یہودیوں کو اپنا نفسیاتی علاج کروانے کی اجازت تھی۔
وکٹر فرینکل نے ایسے یہودیوں کی بھی مدد کرنے کی کوشش کی جنہیں نازی اس لیے قتل کر دینا چاہتے تھے کیونکہ وہ کسی جسمانی بیماری یا ذہنی مرض کا شکار تھے۔
1941 میں وکٹر فرینکل نے بڑے شوق سے اپنی محبوبہ ٹلی سے شادی کی لیکن ابھی ان کی شادی کو ایک سال بھی نہ بیتا تھا کہ نازیوں نے وکٹر فرینکل اور ان کے یہودی خاندان کو گرفتار کر کے تھیریسٹاڈ کانسنٹریشن کیمپ میں بھیج دیا۔ اس کیمپ میں ان کے والد گیبرائیل بھوک کی شدت کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ 1944 میں وکٹر فرینکل کو ان کے رشتہ داروں کے ساتھ AUSCHWITZ بھیج دیا گیا جہاں ان کی والدہ اور بھائی کو گیس کے چیمبروں میں ہلاک کر دیا گیا۔ وکٹر فرینکل کی نوبیاہتا دلہن ٹلی کو برگم بینسن کے کانسنٹریشن کیمپ میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ نازیوں کے ظلم و ستم کی تاب نہ لا کر فوت ہو گئیں۔ وکٹر فرینکل کو تین سالوں میں چار کیمپوں میں نازیوں کی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔
وکٹر فرینکل کا موقف تھا کہ وہ بھی باقی یہودی قیدیوں کی طرح نازیوں کے ظلم و ستم کی تاب نہ لا کر فوت ہو جاتے اگر ان کے دل میں ایک خواہش ایک آرزو ایک آدرش اور ایک خواب نہ ہوتا کہ انہوں نے کیمپ سے رہائی کے بعد ایک ایسی کتاب لکھنی ہے جو ساری دنیا کے انسانوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکتی ہے۔ اس خواب نے ان کی زندگی کو بامعنی بنایا۔ ان کا موقف تھا کہ جب کسی انسان کی کوئی تکلیف کوئی پریشانی اور کوئی اذیت معنی تلاش کر لیتی ہے تو وہ قابل برداشت ہو جاتی ہے اور انسان اس پریشانی کی گرفت سے باہر نکل کر ایک بامقصد زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونے کے بعد وکٹر فرینکل نے ویانا کے نفسیاتی ہسپتال میں کام کرنا شروع کیا اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
وکٹر فرینکل روایتی نفسیاتی علاج سے کچھ زیادہ متاثر نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی علاج میں ماہر نفسیات مریض کی بجائے مرض پر اپنی توجہ مبذول کرتا ہے۔ مرض کی تشخیص کرتا ہے اور پھر اس کا علاج کرتا ہے۔ وکٹر فرینکل کا موقف تھا کہ مریض مرض سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں مریض کے جذبات اور احساسات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے اور اس کی مدد کرنی چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو بامعنی بنا سکے۔
وکٹر فرینکل نے اپنی معرکتہ الآرا کتاب ”انسان کی معنی کی تلاش“ صرف نو دنوں میں لکھی جو انیس سو اڑتالیس میں جرمن زبان میں چھپی۔ دس برس بعد اس کا انگریزی میں ترجمہ چھپا۔ اس کے بعد وہ بیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور پچھلی نصف صدی میں اس کی ساری دنیا میں ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں۔
وکٹر فرینکل کا نظریہ یہ تھا کہ جدید انسان کا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ بے مقصدیت اور بے معنویت ہے جس کی وجہ سے انسان اتنا پریشان اور دکھی ہو جاتا ہے کہ وہ خودکشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگتا ہے۔ وکٹر فرینکل نے اپنے نفسیاتی طریقہ علاج لوگوتھراپی میں اس مسئلے کا علاج تجویز کیا ہے۔
وکٹر فرینکل نے اپنی نگارشات میں اپنے طریقہ علاج کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔ میں یہاں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں
وہ لکھتے ہیں
’میرے پاس ایک بزرگ تشریف لائے جو ڈپریشن کا شکار تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کی بیوی دو سال پیشتر فوت ہو گئی تھی۔ چونکہ وہ اپنی بیوی سے بے انتہا محبت کرتے تھے اس لیے اس کی وفات کے بعد بہت اداس و غمگین ہو گئے تھے۔ اپنی بیوی کے بغیر ان کی زندگی بے معنی ہو گئی تھی۔
اپنی کہانی سنانے کے بعد اس بزرگ نے پوچھا آپ مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں کہ میری اداسی ختم ہو جائے؟ میں نے اسے مشورہ دینے کی بجائے ایک سوال پوچھا۔ میں نے کہا اگر تم اپنی بیوی سے پہلے مر جاتے تو کیا ہوتا؟ وہ بزرگ کہنے لگے وہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوتا۔ میری بیوی میری وفات کی وجہ سے دکھی ہو جاتی۔ میں نے کہا اس کی موت نے اسے اس دکھ سے بچا لیا۔ تمہارے زندہ رہنے سے تمہاری بیوی کے دکھ میں کمی ہو گئی۔ اب تمہیں اسے دکھ سے بچانے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اب تمہیں بقیہ عمر اس کی یادوں کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی۔ اس گفتگو کے بعد اس بزرگ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کچھ کہے بغیر چلا گیا ’۔
”انسان کی معنی کی تلاش“ کے 1992 کے ایڈیشن کے وکٹر فرینکل کے دیباچے کی تلخیص اور ترجمہ
میری کتاب کے انگریزی میں ایک سو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کتاب کا اکیس زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس کی سولہ ملین کاپیاں بھی بک چکی ہیں۔
اسی وجہ سے جب میں امریکی ٹی وی کے پروگراموں میں انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہوں تو میرے میزبان اکثر اوقات اس سوال سے انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں
ڈاکٹر فرینکل آپ کی کتاب ایک بیسٹ سیلر بن چکی ہے۔ آپ کے اپنی کتاب کی کامیابی اور مقبولیت کے بارے میں کیا تاثرات ہیں؟
میں ان سے کہتا ہوں کہ میری کتاب کا بیسٹ سیلر ہونا میری کامیابی سے زیادہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے عہد کے لوگوں کی زندگیاں کس قدر بے مقصدیت اور بے معنویت کا شکار ہیں۔
میں نے جب یہ کتاب لکھی تھی تو فیصلہ کیا تھا کہ اسے اپنے نام کے بغیر چھپواؤں گا۔ میرا اس کتاب کو لکھنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ جانیں کہ کس طرح ایک انسان اپنی تمام تر تکلیفوں مصیبتوں اور اذیتوں کے باوجود نا امید نہیں ہوتا۔ وہ مایوسیوں کے بادلوں میں گھر کر بھی اپنے دل میں امید کی ایک شمع جلائے رکھتا ہے۔
پھر میرے دوستوں نے مجھے قائل کر دیا کہ میں کتاب پر اپنا نام مصنف کے طور پر لکھ دوں۔
میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ اپنی بارہ کتابوں میں سے وہ کتاب سب سے زیادہ مقبول ہوئی جو میں بے نام چھاپنا چاہتا تھا۔ اب میں اپنے طالب عملوں سے کہتا ہوں کہ جب آپ شہرت کو جتنا زیادہ اپنی زندگی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں وہ نشانہ اتنا ہی خطا ہو جاتا ہے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ جب انسان شہرت سے بے نیاز ہو کر کسی بڑے مقصد کسی بڑے آدرش کے لیے کام کرنا شروع کرتے ہیں تو شہرت خود بخود ان کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔
کامیابی خوشی کی طرح ہے جسے آپ زندگی میں بالواسطہ حاصل کرتے ہیں۔ جب آپ کسی عظیم کام اور بڑے مقصد میں کھو جاتے ہیں تو خوشی اور کامیابی خود آ کر آپ کو گلے لگا لیتے ہیں۔
اب میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک اہم واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ جب ہٹلر نے آسٹریا پر قبضہ کر لیا تو مجھے امریکی قونصلیٹ سے خط آیا کہ آپ کا امریکہ کا ویزا آ گیا ہے۔ میرے والدین خوش تھے کہ اگر میں امریکہ چلا گیا تو میری جان بچ جائے گی لیکن میں جانتا تھا کہ میرے یہودی والدین کو نازی جلد یا بدیر پکڑ لیں گے اور انہیں نازی کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا جہاں وہ ایشووٹس میں جلا دیے جائیں گے۔
میں ایک دوراہے پر کھڑا تھا۔ میں ایک مخمصے کا شکار تھا
کیا میں والدین کو پیچھے چھوڑ کر امریکہ چلا جاؤں؟
یا والدین کا خیال رکھنے کے لیے رک جاؤں اور ان کی خدمت کروں؟
میں نے سوچا والدین کا خیال رکھنا میری زندگی کو زیادہ بامقصد اور بامعنی بنائے گا چنانچہ میں رک گیا اور امریکہ نہیں گیا۔
۔
لوگو تھراپی
دوسرے انسانوں کو ان کی زندگی میں معنی تلاش کرنے میں مدد کرنا ہماری زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔
وکٹر فرینکل
اس کالم کے آخر میں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ میری خوش بختی تھی کہ 1997 میں اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر جب وکٹر فرینکل ٹورانٹو ایک لیکچر دینے تشریف لائے تھے تو مجھے بھی ان کا لیکچر سننے کا موقع ملا تھا۔ ان کی شخصیت کا تحمل اور بردباری اس بات کا برملا اظہار کر رہے تھے کہ وہ ایک دانا شخص ہیں۔



