ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہے
ہر بات کی طرح ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم بھارت کی بے شرمی اور ڈھٹائی کی کوئی حد نہیں ہے۔ جب بھی بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔ اس ضمن میں وہ کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی اس کا یہی چلن تھا۔ آج بھی اس کا یہی وتیرہ ہے۔ پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کا الزام بھی اس نے سرحد پار یعنی پاکستان پر لگا دیا ہے۔ حکومتی سطح پر اس کے نمائندے اور عہدیدار نہایت ڈھٹائی سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ بول رہا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی کسی باولے جانور کی طرح یاوہ گوئی میں مصروف ہے۔ اینکروں کا بس نہیں چل رہا کہ وہ ٹیلی ویژن کی سکرینیں پھاڑ کر باہر نکل آئیں۔ ایک جنگی جنون کی کیفیت ہے جو بھارت پر طاری ہے۔ اس نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نریندر مودی کے ماضی سے ہم آگاہ ہیں۔ یہ شخص مسلمان دشمنی کی بیماری میں بری طرح مبتلا ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی کے ہاتھ ہزاروں مسلمانوں کے خون ناحق سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہزاروں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں اور مسجدوں، مدرسوں کو نذر آتش کرنا بھی مودی کے نامہ اعمال میں درج ہے۔ اس مودی سے بھلا کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ پہلگام کے واقعے کے بعد مودی جی کا کہنا ہے کہ پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دیں گے۔ اس ضمن میں مودی سرکار نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں طے پایا تھا۔ عالمی بنک کے توسط سے اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین پانی کے تنازعے کو پر امن طریقے سے حل کر لیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین پانی کے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماضی کی پاک بھارت جنگوں اور بدترین کشیدگی میں بھی یہ معطل نہیں ہوا۔ لیکن اس وقت بھارت اس کو ختم کرنے کے درپے ہے۔
بھارت کا یہ روپ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں پلوامہ، اوڑی اور ممبئی حملوں سمیت کسی بھی واقعے کی مثال لیجیے، بھارت نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔ یہ عالمی پلیٹ فارموں پر پاکستان کے خلاف واویلا کرتا رہا۔ پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے متحرک رہا۔ تاہم اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے بھارت پاکستان کے خلاف کسی قسم کے ثبوت یا شواہد فراہم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا۔ اس کے باوجود اس نے کبھی شرمندگی اور ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تو اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی وارداتوں میں بھارتی مداخلت کے شواہد پاکستان عالمی اداروں کو پیش کر چکا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ ہم تو خود برسوں سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کوشاں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ہزاروں فوجی جوانوں اور شہریوں کی جانیں گئی ہیں۔ پاکستان کیسے کسی بھی خطہ ارض پر ہونے والی دہشت گردی کی حمایت کر سکتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں۔ اپنے وسائل اور بجٹ دفاعی طاقت بڑھانے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح اور ان کے مسائل حل کرنے پر خرچ کریں۔ پہلگام کے واقعے پر پاکستان نے اظہار افسوس کیا ہے۔ بھارتی الزام تراشی اور خرافات کے جواب میں نہایت کھلے دل کے ساتھ تحقیقات میں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لیکن بھارت اس طرف آنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ کوئی ثبوت فراہم کر رہا ہے اور نہ تحقیقات میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اس کا سارا زور بازو سفارتی اور میڈیا کے محاذ پر صرف ہو رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بھارت کے اس رویے کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں؟ اب تو ہم جیسوں کو بھی یہ تاریخی حقیقت سمجھ آنے لگی ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کمر کس لیتا ہے۔ اللہ کے فضل سے پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ کسی کی مجال نہیں ہے کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ سکے، سو بھارت سفارتی اور میڈیا کے محاذ تک محدود ہے۔ بھارت کی اپنی حالت یہ ہے کہ اس میں بسنے والی اقلیتوں کی حالت نہایت ابتر ہے۔ ان کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی زوروں پر ہے۔ کشمیر میں بھی اس نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی ہے۔ سکھ، عیسائی، مسلمان، یہاں تک کہ خود نچلی ذات کے ہندو یعنی دلت بھی نا خوش ہیں۔ بھارت میں آزادی کی کئی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان سارے داخلی معاملات سے دنیا کی نظریں ہٹانے کے لئے بھارت وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچاتا رہتا ہے۔ پہلگام کا افسوسناک واقعہ بھی اس ڈرامے کا ایک تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ خود بھارت کے اندر ایک محدود حلقہ ایسا ہے جو بھارت کو اپنی داخلی ناکامیوں پر غور کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔
بھارت کی مسلسل دھمکیوں، اشتعال انگیز تقاریر اور سفارتی سرگرمیوں کے جواب میں پاکستان نے بھی بھارت کو سخت زبان میں جواب دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ امن ہماری خواہش ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت نے کسی قسم کی مہم جوئی کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے بھی بھارت کو اسی کے لہجے میں جواب دیا ہے۔ ہمارا میڈیا بھی اپنا کردار نہایت مثبت طریقے سے ادا کر رہا ہے۔ بھارت کے میڈیا سے موازنہ کریں تو پاکستانی میڈیا کہیں زیادہ پروفیشنل اور اخلاقی تقاضوں کی پاسداری کرتا محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی بھارت کے جنگی جنون اور دھمکیوں کو چٹکیوں میں اڑا رہے ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ اللہ کے فضل سے پاکستان ایک ایٹمی قوت اور مضبوط افواج کا حامل ہے۔ ہم اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم کہیں کہیں بھارت جیسی ڈھٹائی اور بے شرمی ہمیں اپنے ملک میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ بھارت کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے بھارت کی بولی بول رہے ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں اور اسے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اس حساس صورتحال میں بھی اپنی افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر غلیظ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس سیاسی جماعت کے نمائندے بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھ کر بھارت کو لتاڑنے کے بجائے اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں۔
سنتے ہیں کہ 1971 کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جب اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لئے بھارت روانہ ہوئے، اس زمانے میں اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر بھٹو صاحب کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھیں۔ تاکہ بھارت کو یہ پیغام ملے کہ ساری قومی قیادت اس کے خلاف یکسو ہے۔ افسوس۔ آج کی صورتحال کتنی مختلف ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ڈھٹائی اور بے شرمی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔


