پاک بھارت مغالطہ آرائیوں سے چھٹکارے کی گھنٹی


ہندو مسلم آبادیوں کا جڑواں مادر وطن ہند ہے. تاریخ کا قریبی دور اقتدار دو حصوں پر مشتمل رہا مسلم دور اقتدار ہندو مسلم دو قومی ہند اور برطانوی دور اقتدار انگریز ہندو مسلم سہ قومی ہند پر استوار رہا تین جون 1947 کا تقسیم ہند کانگرسی لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی اس اعترافی حقانیت پر قبول ہونا مانا گیا کہ ہندو مسلم ہند میں دو قومیں ہیں خالد بن سعید پاکستان دی فارمیٹو فیز صفحہ 166 اس پر یہ پوچھنا بنتا ہے کہ پہلے دونوں دور اقتدار میں جب دو یا تین قومی ہند کو متحد اور سالم رکھا گیا تو ہندو اقتدار کی شروعات لگتے ہی تقسیم ہند سے افتتاح کیوں ہونے دیا گیا جبکہ مسلم لیگ کو کانگرس کی طرح پارلیمانی عددی برتری کا فیصلہ کن وزن حاصل تھا اور نہ ہی بیٹن کے تقسیم ہند کے پلان میں خفیہ ساز باز کا کردار پٹیل کی جگہ حاصل تھا ہندو نڈت کی ذمہ دار ہندو قیادت تھی تو اس کے بعد اب دو قومی ہند کی جڑت کے لیے ہر دم پہل ادا کرنے کی ذمہ داری بھی ہندو قیادت کی ہے۔

تقسیم ہند بھارتی و پاکستانی مسلمانوں کی تقسیم ہے اسلام کی نہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی جیسے سارے کانگرس کے اتحادی مسلمان اپنا ووٹ دے کر بھارت جتوا کر بھارتی ہو گئے جناب احمد رضا خان بریلوی، مولانا اشرف علی تھانوی و دیگر سب لیگی مسلمان ووٹ سے پاکستان جتوا کر پاکستانی بن گئے لیکن ہر دو طرف کا اسلام بلکہ پوری مسلم دنیا کا اسلام ایک ہی ہے تو پھر پاکستان کے لیے نظریہ اسلام کی کلید کہاں سے اچک لی گئی ہندوؤں کا ہندوتوا عظیم ہند کو گنوا بیٹھا تو اسی طرح پاکستانی بننے کے بعد اب اس کے مسلمانوں کا نظریہ اسلام اپنے مادر وطن ہند سے دستبرداری کا رضا کرانا حصول لے بیٹھا اور اکھنڈ بھارت کو کھل کر کھیلنے کی یک طرفہ چھوٹ مل گئی اور اس حقیقت سے سراسر منہ موڑ لیا کہ انہیں ہند سے نکالا گیا ہے اور جبراً ہجرت مدینہ کی طرح ٹھکانہ پاکستان بنانا پڑ گیا اور پاکستان بنانے کا بھی وہ طریقہ سرے سے بھلا دیا کہ مدینہ کی اگلی منزل مادر وطن مکہ کا حصول واپسی لازمی ہے کیونکہ میثاق مدینہ کی پیروی اگر میثاق لکھنؤ سے جناح کو ازبر تھی تو ہجرت مدینہ کی پیروی مادر وطن ہند سے کیوں کسی پاکستانی بڑے کو ازبر نہ رہی اخر مغالطوں کی سرزمین خطہ ہند ہی کیوں ہے۔

اکھنڈ بھارت ناگاساکی اور نظریہ پاکستان ہیروشیما کی پیروی میں مصروف

تین جون کے معاہدے سے انحراف باندھنے کی قرارداد اکھنڈ بھارت 14 جون 1947 سے جس کی خاطر اور جس کے توڑ میں دونوں طرف ایٹمی اسلحہ ایک دوسرے پر غرا رہا ہے بس صرف جھپٹنے میں پہل کرنے کی دیر ہے اور لگتا یہی ہے کہ اکھنڈ بھارت کی غراہٹ کچھ آپے سے باہر ہونے کو ہے اکھنڈ بھارت اور نظریہ پاکستان دونوں بلیک ہول اس خطہ زمین کو تو کریں گے ہی تاہم ہندو ملک دنیا میں کہاں اکھنڈ بھارت بن کر بسے گا پاکستان نہ رہا تو بھی باقی مسلم دنیا اس بلیک ہول کے ایونٹ ہوریزن سے پرے پھر بھی قائم رہے گی۔

 

Facebook Comments HS