پلیز ڈاکٹر یاسمین راشد کو فوراً رہا کیا جائے


ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1978 میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ 1984 میں رائل کالج آف اوبسٹریٹیشن اور گائنو کالوجسٹ سے ایم آرسی او جی کی ڈگری حاصل کی جو کہ دنیا میں اس شعبے میں گولڈ سٹینڈرڈ مانی جاتی ہے۔ اس ڈگری کے حاصل کرنے کے دس سال بعد انہیں ایف آر سی او جی کا اعزازی ٹائیٹل ملا جو کہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے شعبے میں ریسرچ کرنے، پڑھنے، پڑھانے اور میڈیکل کی پریکٹس میں اہم خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

پاکستان واپس آنے کے بعد بہت اہم عہدوں پر تعینات رہی۔ 1998 سے 2000 تک وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشین کی صدر رہیں۔ سال 2008 سے 2010 تک پنجاب میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر رہیں۔ انھوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے اوبسٹریکٹٹ اور گائنی کے شعبہ جات کی صدارت کی ہے اور لاتعداد میڈیکل سٹوڈنٹ کو گائنی کے امراض کا علم اور اس کی پریکٹس سکھائی ہے۔

سال 2010 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2018 سے 2023 تک وہ پنجاب اسمبلی کی ممبر اور پنجاب کی وزیر صحت رہی ہیں۔

سال 2020 میں انھیں کینسر تشخیص ہوا اور اس کا علاج ابھی جاری ہے۔ 12 مئی 2023 کو انہیں نو مئی کے فسادات کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان پر عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے۔ نو مئی کا فساد سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج تھا جو کہ بعد میں تشدد کا رنگ اختیار کر گیا اور فوجی تنصیبات پر حملہ بھی کیا گیا۔

اس سال بارہ مئی کو ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل میں بند ہوئے دو سال ہوجائیں گے اس وقت ان کی عمر 74 سال ہے۔ جیل کی صعوبتیں سہنا صحت مند نوجوانوں کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا وہ تو ایک 74 سالہ کینسر کی مریض خاتون ہیں۔ ان کو جیل میں کئی بار سانس کی تکلیف، ہیمو گلوبن اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر بدقسمتی سے دوبارہ جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ آخر 74 سالہ کینسر کی مریض خاتون سے پاکستانی ریاست کو کیا خطرہ ہے کہ انھیں دو سال سے پابند سلاسل کیا ہوا ہے۔ کیا وہ عدالت کی پیشیاں گھر سے نہیں بھگت سکتیں؟

کیا ان کا جرم ان لوگوں سے بھی زیادہ ہے جنہوں نے پاکستان کے آئین کو توڑا؟ جو کہ غداری کی بدترین مثال ہے۔ کیا ان کے اقدام کی وجہ سے ملک کا ایک حصہ ٹوٹ گیا؟ کیا وہ اس ملک کے ایک اور حصے کے شہریوں سے مسلسل ناانصافی کر کے انہیں بھی علیحدگی پر مجبور کر رہی ہیں؟ کیا انھوں نے ان ہم وطنوں کو جو ان سے اختلاف کرتے ہیں اٹھا کر غائب کر دیا اور ماورائے عدالت ان کو مار دیا؟

مذکورہ بالا لوگوں کو غدار وطن ہونے کے باوجود نہ صرف جیل میں نہیں ڈالا گیا بلکہ انہیں عزت سے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر رہنے کے مواقع دیے گئے۔ انھیں مرنے کے بعد بھی 21 توپوں کی سلامی دے کر دفنایا گیا۔ جیلیں تو صرف خاں عبدالغفار خان، ولی خان، آصف زرداری، نواز شریف، جاوید ہاشمی اور یاسمین راشد ہی کاٹتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تو جیل سے باہر آنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے دو سال تک اپنے کردہ اور ناکردہ جرم کی سزا بھگت لی ہے۔ میں جنرل عاصم منیر سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو فوراً رہا کریں۔ اگر 74 سالہ کینسر کی مریضہ کو جیل میں کچھ ہو گیا تو اس کی ساری ذمہ داری جنرل عاصم منیر پر عائد ہو گی کیونکہ پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو ملٹری نے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کو ہر صورت میں عوام کی حمایت درکار ہے۔ ان کی رہائی جنرل صاحب کی طرف سے عوام کے ساتھ خیر سگالی کا اعلان ہو گا۔

میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بھی خصوصی اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں وہ خود ان حالات سے گزر چکے ہیں۔ وہ کئی بار جیل میں رہے اور آخری بار بیماری کی حالت میں جیل میں ڈالے گئے تھے۔ میں انہیں یاد دلانا چاہتی ہوں کہ جب بہت سے لوگ ان کے خون کے ٹیسٹ اور ان کی بیماری کو جعلی قرار دے رہے تھے تو ڈاکٹر یاسمین راشد نے بذات خود ان کے ٹیسٹ درست ہونے کی تصدیق کی تھی جس کی وجہ سے انہیں لندن میں علاج کے لیے جانے دیا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میاں نواز شریف، ڈاکٹر یاسمین راشد کے اس احسان کا بدلہ ضرور چکائیں گے۔

میں آخر میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ یہ کالم سیاسی بنیاد پر نہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ میرا پی ٹی آئی، نواز لیگ یا کسی بھی اور سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے 2017 میں میاں محمد نواز شریف کی رہائی کے لیے بھی اپیل کی تھی اور کالم لکھا تھا جس کا لنک درج ذیل ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 36 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi