پھکڑپن اور عامیانہ جملوں کی شکار عورت
دیکھئے وومن ورڈ میں سے ایس یعنی سینس نکال دیں تو کیا بچے گا۔
اینکر نے ایک خاتون کو روک کر سوال کیا۔
لیکن وومن ورڈ میں تو ایس آتا ہی نہیں۔
خاتون نے حیرانی سے جواب دیا۔
جی ہم یہی تو کہتے ہیں۔ وومن میں ایس نہیں ہے۔
اور آگے سے ایک لافنگ ری ایکٹ۔
ایک اور جگہ ٹک ٹاک ویڈیو میں ایک لڑکا لڑکی کے پاؤں پر نوکیلی چیز سے ایذا پہنچاتا ہے۔
لڑکی دفاعی انداز میں کہتی ہے کہ دماغ خراب نہ کرو۔
پیچھے ایک لافنگ ویڈیو کہ دیکھو لڑکی کا دماغ کہاں ہے۔
یہ ہے معاشرے کی بدلتی سوچ، بدلتے رویے، جہاں آج بھی عورتوں پر جی بھر کر لطیفے بنائے جاتے ہیں فرق یہ ہوا ہے کہ اب مائیک، کیمرہ اور جدید آلات نے جگہ لے لی ہے اور کچھ منچلے کہیں بھی کسی بھی خاتون کو روک کر کچھ بھی پوچھ لیتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے کہ عورت ازل سے بیوقوف ہے۔
اس کھیل میں اب کافی خواتین اینکر جو ریٹنگ لینے کے لیے گھوم پھر رہی ہیں وہ بھی عورتوں پر ایسے جملے مردوں سے کہلوانے میں فخر محسوس کرتی ہیں جو کہ ایک وتیرہ بن چکا ہے۔ پھر آگے سے منہ بنا کر ہنستے ہوئے کیمرے میں دیکھتی ہیں کہ دیکھو کیا کہا جا رہا ہے۔
بنیادی طور پر یہ ہمارا مجموعی رویہ بن چکا ہے۔ بچپن سے لطیفے سنتے آرہے تھے کہ عورت کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے۔ وہ پھوہڑ ہوتی ہے۔ کائنات کی سب سے بے وقوف ہستی کا نام شاید عورت ہے۔ بڑے بوڑھے اس کی مثالیں بھی دیتے تھے اور معاشرہ من و عن تسلیم بھی کرتا تھا کہ عورت واقعی عقل سے پیدل کوئی مخلوق ہے۔ آپ کو لطیفوں کی کتاب چاہیے یا کوئی بھی ہنسنے والا لطیفہ سننا چاہتے ہیں تو آپ کو اکثر اسی قسم کے ہتک آمیز جملوں سے بھرے لطیفے سنائے جائیں گے جس سے علم ہوتا ہے کہ معاشرے کی عورت آج بھی انہی طعنوں، انہی رویوں کا سامنا کر رہی ہے۔
”بچیاں اچھلتی نہیں، کودتی نہیں، ہنستی نہیں، قہقہے نہیں لگاتیں گھر میں بھائی کی برابری نہیں کرتیں۔ کھانا بھائی کے برابر نہیں مانگتیں۔ کم کھاتی ہیں۔ کم سوتی ہیں۔ سانسیں بھی کم لیتی ہیں۔ صرف قربانی دیتی ہیں۔ وہ سوچتی نہیں۔ ان کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے۔“ وہ صرف تعمیل کرتی ہیں۔
ایسے جملے تو ہر عورت نے ہزارہا دفعہ سنے ہوں گے۔ پھر بدلا کیا ہے۔ بدلنے کا صرف انداز بدلا ہے۔
بھلا ایسی مخلوق جس کو ہر دفعہ بتایا جائے کہ اس کی عقل ہی گھٹنوں میں ہے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں یہ یقین کرچکی ہو تو وہ کیوں سوچے گی سوچے گی بھی تو کیا سوچے گی۔ کیسے سوچے گی۔ عورت کو ہم صدیوں سے یقین دلانے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور اس کے لیے ہم نے مزاح، پھکڑپن، عامیانہ جملے بازی، دلیلیں، غرض ہر شے کا سہارا لے کر باور کروایا ہے کہ تم ایک کمزور شخصیت ہو۔ تم بس دوسری مخلوق کے اطمینان کے لیے ہو۔ تمھارا اور کوئی کام نہیں ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ جب ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو مذہب عورت کو کہیں کم عقل نہیں کہتا۔ اسلام کی پہلی تاجر خاتون تھیں۔ اسلام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ محدثہ اور حافظہ بھی خوایتن تھیں۔
اس کا مطلب تو یہ کہ ہمارا رویہ بنیادی طور پر مذہب آئین، قانون سب کے خلاف ہے۔ ہم کسی مذہب کی پیروکاری بھی نہیں کر رہے۔ پھر ایک ہی چیز بچتی ہے جسے صدیوں سے ”منجمد انا“ ، ”بے حسی“ اور ”احساس برتری“ کہتے ہیں۔ جس کی شدت میں بزرگوں نے لطیفوں، کہانیوں، قصوں اور جملوں کے ذریعے اضافہ کرتے ہوئے اگلی نسل تک کامیابی سے یہی چیزیں منتقل کیں اور وہ کسی نہ کسی صورت یہاں تک کہ عامیانہ جملوں کی صورت میں آج تک عورت کی جان نہیں چھوڑ سکے۔ تبھی گھر میں لڑکے کی پیدائش پر لڈو اور لڑکی کی پیدائش پر آج بھی بہت سی جگہوں پر صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ عورت کے استحصال کی اس کہانی میں جتنا مرد قصور وار ہے اتنا عورت بھی قصور وار ہے۔ وہ ماں، بہن، بیٹی، بہو کی صورت میں موقع ملنے پر سب سے زیادہ دوسری عورت کا استحصال کرتی ہے۔ وہ خود ان جملوں کو بسا اوقات درست قرار دیتی ہے۔
کیا ہم یہ رویہ تبدیل کریں گے اور بتائیں گے کہ عورت لطیفوں اور بازاری جملوں میں استعمال ہونے والی کوئی پھکڑ پن شے نہیں ہے۔ کسی کو ہنسانے کے لیے کوئی گھڑا جانے والا فضول سا لطیفہ نہیں ہے۔ عورت کو عورت سے زیادہ انسان سمجھیں گے تو مسائل حل ہوں گے ورنہ ہر نئی نسل میں خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا کسی ٹک ٹاک پر یا کیمرہ پکڑ کر پوچھ رہا ہو گا۔ ”وومن یعنی سینس اور دماغ سے خالی مخلوق“ اور لوگ ہنس کر لافنگ ری ایکٹ کر رہے ہوں گے۔ لہذا یہ سوال ہمیں خود سے کرنا ہو گا کہ کیا ہم یہی سمجھتے ہیں کہ عورت کی عقل گھٹنوں میں ہے؟


