حرکت کا سائنسی تصور (11)


انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں فزکس اور کیمسٹری کے نظریات نے تکنیکی اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر اس صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ حرارت، روشنی، بجلی، مقناطیسیت اور مادے و توانائی کے تعاملات کی بہتر تفہیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اکثر اہم تصورات قدرتی مظاہر کی تفہیم کے نتیجے میں سامنے آئے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ مختلف اجسام کو گرم کرنے سے روشنی کے اخراج کو سمجھنا تھا۔ جیسے کہ لوہے کو گرم کریں تو زرد مائل رنگت سے ہوتا ہوا سرخ ہوتا جاتا ہے۔ درجہ حرارت کے بڑھنے سے جسم میں سے نکلنے والی روشنی کا رنگ کیوں اور کیسے بدلتا ہے؟

اس سوال کو تجربہ گاہ میں کسی دھات سے بنے ایک بند ڈبے کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے جس میں ایک انتہائی باریک سوراخ کیا گیا ہو۔ ایسا ڈبہ، بلیک باڈی کہلاتا ہے اور اس میں سے نکلنے والی شعاعوں کو بلیک باڈی ریڈی ایشن کہتے ہیں۔ بلیک باڈی میں سے نکلنے والی شعاعوں کی شدت (انٹینسٹی) کو اگر ان شعاعوں کی فریکوئنسی کے ساتھ گراف کیا جائے تو یہ ایک مشہور پیٹرن بناتی ہیں جسے بلیک باڈی سپیکٹرم کہتے ہیں۔ تجربے سے جو ڈیٹا ملتا ہے اس کے مطابق، کسی خاص درجہ حرارت پر، ایسی شعاعیں جن کی فریکوئینسی بہت کم ہوتی ہے، ان کی شدت بہت کم ہوتی ہے۔ کچھ درمیانی مقدار کی فریکوئنسی والی شعاعیں سب سے زیادہ شدت رکھتی ہیں۔ مگر بہت زیادہ فریکوئینسی والی شعاعوں کی شدت پھر سے کم ہونے لگتی ہے۔ بلیک باڈی سپیکٹرم کی شکل ایک (دو جہتی کاغذ پر بنی) پہاڑی جیسی ہوتی ہے جس کی ڈھلان کم فریکوئنسی پر زیادہ اور زیادہ فریکوئنسی پر کم ہوتی ہے اور اس کی چوٹی کا مقام درمیانے درجے کی فریکوئنسی کے قریب ہوتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھانے سے سپیکٹرم کی چوٹی مزید کم فریکوئنسی کی طرف ہوجاتی ہے اور اسی حساب پہاڑی کی دونوں جانب ڈھلانوں میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ چیلنج یہ تھا کہ اس تجرباتی سپیکٹرم کو ریاضیاتی فارمولے کی مدد سے سمجھا جائے جس کی بنیاد طبعی قانون ہو۔

جرمن ریاضی دان گستاف کرہوف (متوفٰی 1887 ء) نے 1860 ء میں یہ پیش گوئی کی کہ بلیک باڈی سپیکٹرم کو ایک یونیورسل فنکشن کی شکل میں ظاہر کیا جاسکتا ہے جسے انرجی ڈینسٹی فنکشن کہتے ہیں اور یہ فریکوئنسی اور درجہ حرارت کا فنکشن ہے۔ انرجی ڈینسٹی فنکشن کی یہ شکل تمام گرم اجسام کے لئے ایک جیسی ہوتی ہے۔ گستاف نے سائنسدانوں کے سامنے یہ چیلنج رکھا کہ اس یونیورسل فنکشن کی ریاضیاتی شکل دریافت کریں۔ ویانا میں 1879 ء میں جوزف اسٹیفن (متوفی 1893 ء) نے دیکھا کہ بلیک باڈی سپیکٹرم کے گراف کا مکمل رقبہ یعنی انرجی ڈینسٹی کو اگر تمام فریکوئنسیز پر اکٹھا (انٹیگریٹ) کریں تو، یہ رقبہ درجہ حرارت کی چوتھی طاقت کے تناسب میں ہوتا ہے۔ 1884 ء میں اس کے ایک مشہور طالبعلم، لدوخ بولٹزمین (متوفٰی 1906 ء) نے تھرموڈائنامکس کی مدد سے اسٹیفن کے قانون کو معلوم کیا۔ اس لئے اسے اسٹیفن۔ بولٹزمین کا قانون کہتے ہیں۔ جرمنی کے و یلہلم وین (متوفٰی 1928 ء) نے 1893 ء میں تھرموڈائنامکس ہی کی مدد سے بلیک باڈی سپیکٹرم کی چوٹی اور درجہ حرارت کے مابین تعلق کو دریافت کیا۔ اس نے دیکھا کہ چوٹی اور درجہ حرارت ایک دوسرے کے راست متناسب ہیں۔ اسے وین ڈسپلیسمنٹ کا قانون کہتے ہیں۔ یہ دونوں بہت طاقتور قوانین ہیں جنہیں استعمال میں لاکر زمین پر موجود تمام گرم اجسام سمیت سورج جیسے ستاروں کا درجہ حرارت بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

وین ہی نے 1896 ء میں بولٹزمین کی شماریاتی میکانیات کو استعمال کیا اور گستاف کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے انرجی ڈینسٹی کا ایک فنکشن تیار کیا۔ یہ فنکشن، بڑی فریکوئنسی کی شعاعوں کو بہت زبردست درستی سے واضح کرتا تھا مگر چھوٹی فریکوئنسی کی شعاعیں اس سے واضح نہیں ہو پاتی تھیں۔ یاد رہے کہ چھوٹی فریکوئنسی کی شعاعوں کا سپیکٹرم معلوم کرنا اس وقت کی ٹیکنالوجی کے مطابق خود تجربہ دانوں کے لئے بھی بہت مشکل تھا۔ اس لئے بڑی فریکوئنسی کے تجرباتی ڈیٹا کی درستی کی بدولت وین کا یہ فارمولا اس دور کی بڑی کامیابی تھا۔ بہرحال، 1900 ء کے قریب لارڈ ریلے اور سر جیمز جینز نے برطانیہ میں ایک ایسا فارمولا تلاش کیا جو چھوٹی فریکوئنسی کی شعاعوں کی وضاحت کر سکتا تھا۔ ریلے جینز کا فارمولا بھی درمیانی اور بڑی فریکوئنسی کی شعاعوں کی درست وضاحت پیش نہیں کرتا تھا۔ پال اہرن فیسٹ نے کچھ عرصہ بعد بڑی فریکوئنسی پر ریلے اور جینز کے قانون کے غلط ہونے کو ’الٹرا وائلٹ تباہی‘ کا نام دیا (بڑی فریکوئنسی کو الٹرا وائلٹ بھی کہتے ہیں ) ۔

گستاف کا ایک طالبعلم میکس پلانک (متوفی 1947 ء) تھرموڈائنامکس کے شعبے میں بہت ماہر تھا اور اس نے گستاف کے زیر مطالعہ اپنی پی ای ڈی بھی اسی شعبے میں کی۔ اس نے تھرموڈائنامکس کے ایک تصور انٹروپی کو استعمال کرتے ہوئے الٹراوائلٹ تباہی سے بچنے کی کوشش کی۔ انٹروپی، کسی طبعی نظام میں انتشار کی مقدار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس نے ایک ایسا ماڈل بنایا جس میں مادے کو برقی ذرات پر مشتمل فرض کیا گیا اور یہ ذرات مسلسل ارتعاش پذیر ہوتے ہیں جنہیں اس نے ’ہرٹز کے برقناطیسی ارتعاشندے (اوسیلیٹرز)‘ نام دیا۔ اس نے اپنے ان نتائج کو 1897 ء تا 1899 ء کے تین سالوں میں شائع کیا۔ ایک اہم چیز جو اس نے تلاش کی وہ یہ تھی کہ مجوزہ انرجی ڈینسٹی کا فنکشن دو الگ اجزاء پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ایک جزو ارتعاشندوں کی حالتوں کی تعداد اور دوسرا ان کی انٹرنل انرجی پر مشتمل ہے۔ اس جز بندی کی بدولت، وین کے قانون کی بھی جز بندی ہو گئی جس سے انٹرنل انرجی کا ایک فارمولا مل گیا۔ انٹرنل انرجی کے اس فارمولے کی درست شکل کے لئے اسے اوٹو لمر (متوفی 1925 ء) اور ارنسٹ پرنگشائم (متوفی 1917 ء) کے تجربات کی طرف رخ کرنا پڑا جہاں سے اس نے دو مستقل مقداریں مستعار لیں اور انہی میں سے ایک مشہور مقدار پلانک کا مستقل کہلاتا ہے۔ اکثر تجربہ دانوں کو اس تاریخ سے غائب کر دیا جاتا ہے مگر پلانک کے مستقل کی مقدار معلوم کرنے کا سہرا انہی کے سر ہے۔

پلانک نے ارتعاشندوں کی انٹروپی نکالنے کا ایک فارمولا تیار کیا جس کی کوئی ریاضیاتی بنیاد فراہم نہ کی مگر آج ہم اسے درجہ حرارت اور انٹروپی کے تعلق سے بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ مئی 1899 ء میں اس انٹروپی سے اس نے کامیابی سے وین کے قانون اخذ کیا۔ پھر اسی انٹروپی میں انٹرنل انرجی کے لحاظ سے تبدیلی کی شرح کو اس نے ایک نئے متغیر کا نام دیا۔ یہ نیا متغیر، انٹرنل انرجی سے براہ راست تعلق میں ہے۔ اکتوبر 1900 ء کے ایک اتوار کی شام تجربہ دان ہنری روبنز (متوفی 1922 ء) اور میکس پلانک چائے کے میز پر ان نتائج پر گفتگو کر رہے تھے۔ روبنز نے اسے بتایا کہ اس کے نئے تجربات سے واضح ہوا ہے کہ چھوٹی فریکوئنسی کی شعاعوں کی شدت فریکوئنسی سے براہ راست تعلق میں ہے اور وین کا قانون وہاں غلط ہوتا ہے اور وہ اپنا یہ نتیجہ برلن کی فزیکل سوسائٹی میں دو ہفتے میں پیش کرے گا۔

پلانک کے لئے یہ خبر ایک پہاڑ کی مانند بوجھ تھی کیونکہ اس نے تین سال لگا کر وین کے قانون کو انٹروپی کی مدد سے اخذ کیا تھا۔ روبنز کے جانے کے بعد اسی رات بیٹھ کر اس نے روبنز کے تجرباتی نتیجے کو بنیاد بنا کر دوبارہ انٹروپی کا فارمولا لکھا جس میں چھوٹی فریکوئنسی کی انرجی موجود تھی۔ اب کی باراس کا نیا متغیر، انٹرنل انرجی سے براہ راست تعلق میں نہیں بلکہ انٹرنل انرجی کی طاقت دو کے راست متناسب تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ پورے بلیک باڈی سپیکٹرم کے لئے کیوں نہ چھوٹی اور بڑی دونوں فریکوئنسی والی انرجی شامل کی جائے اور یوں اسی روز آدھی رات کے قریب انرجی ڈینسٹی کا ایک نیا فارمولا تلاش کر لیا جو تمام فریکوئنسی کی شعاعوں کی شدت اور تمام درجہ حرارت والے بلیک باڈی سپیکٹرم کے لئے نتائج دیتا تھا۔ پلانک نے صبح ہوتے ہی یہ فارمولا اپنے دوست روبنز کو بھیجا اور اس نے اپنے تجرباتی ڈیٹا سے اس کی تصدیق کی۔ 19 اکتوبر 1900 ء کے دن برلن کی فزیکل سوسائٹی میں پلانک اور روبنز کے نتائج پیش کیے گئے لیکن فطری طور پر اس سے یہ سوال کیا گیا کہ اس فارمولے کے پیچھے فزکس کا کون سا قانون کام کر رہا ہے؟ یعنی اس کی طبعی وضاحت کیا ہوگی؟ پلانک نے کہا کہ اس کا فارمولا بنا کسی وجدان یا طبعی وضاحت کے محض ریاضیاتی کاریگری کا نتیجہ تھا لیکن اسے بھی اس کی طبیعی وضاحت کے لئے پوری دلجمعی سے کام کرنا ہو گا۔

اگرچہ لوگوں نے مختلف انداز سے پلانک کے فارمولے کو اخذ کیا لیکن اس کے پیچھے چھپے قوانین فطرت کی کوئی وضاحت سامنے نہ آ سکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ، اس وقت کی فزکس سوسائٹی کا بولٹزمین کے کام سے احتراز تھا اور یہ سب لوگ محض میکسویل کی کلاسیکی فیلڈ تھیوری یا تھرموڈائنامکس کو ہی قابل قدر سمجھتے تھے۔ بولٹزمین کے مطابق، مادے کو کثیر تعداد میں ایٹموں اور مالیکیولوں پر مشتمل قرار دے کر ان کے شماریاتی قوانین اخذ کرنے سے فزکس کے بہت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا تھا مگر مادے کی ایٹموں میں تقسیم اور شماریات کا فزکس میں دخل، اس دور کے بڑے طبیعات دانوں کے مزاج کے خلاف تھا۔ اگرچہ، بیسویں صدی کی کیمسٹری میں بولٹزمین کے تصورات کو زیادہ پذیرائی مل رہی تھی۔ 1949 ء میں شائع ہونے والی میکس پلانک کی سوانح عمری میں وہ لکھتا ہے، ”یہ تلاش مجھے انٹروپی اور احتمال کے باہمی تعلق کے مطالعے تک لے گئی۔ دوسرے لفظوں میں، مجھے بولٹزمین کے پیش کردہ طرز فکر کی ضرورت پیش آ گئی۔“

پلانک نے بولٹزمین کی پیش کردہ شماریاتی میکانیات کا گہرائی میں مطالعہ شروع کیا۔ بولٹزمین نے 1877 ء کے اپنے معرکتہ الآراء مقالے میں کسی گیس کے مالیکیولوں کی حالتوں کو معلوم کرنے کے لئے فرض کیا تھا کہ مالیکیولوں کی انرجی مسلسل مقدار میں نہیں بلکہ اجزاء میں منقسم ہے۔ پلانک نے بولٹزمین کا یہ مفروضہ استعمال کیا اور اپنے ارتعاشندوں کی انٹروپی دوبارہ نکالی اور پھر وہاں سے دوبارہ اپنا مشہور انرجی ڈینسٹی کا فارمولا اخذ کر لیا۔ اس مشق میں جو اہم کام اس نے کیا وہ ارتعاشندوں کی انرجی کا ڈسکریٹ (منفصل) ہونا ہے جو کہ میکسویل کی کلاسیکی فیلڈ تھیوری کے خلاف ہے مگر یہ نیوٹن کی ذراتی میکانیات کے قریب ہے۔ پلانک کے بقول، اسے یہ قدم اس لیے اٹھانا پڑا کیونکہ وہ مایوس ہو چکا تھا اور بلیک باڈی کے سپیکٹرم کی طبیعی وضاحت کے لئے وہ سوائے تھرموڈائنامکس کے قوانین کے ہر کلاسیکی تصور کو قربان کرنے پر تیار تھا۔ 14 دسمبر 1900 ء کو پلانک نے برلن کی اگلی میٹنگ میں اپنا نیا مقالہ پیش کیا۔ یہی وہ دن ہے جسے کوانٹم میکانیات کا آغاز کہا جاسکتا ہے۔
(جاری ہے )