پیپلز پارٹی کی غلطیوں کا تسلسل


سندھ ہمیشہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرامن خطہ رہا ہے، مگر سیاسی جدوجہد کے معاملے میں سندھ ہمیشہ آگے رہا ہے۔ چاہے وہ ون یونٹ کے خلاف تحریک ہو، جنرل ضیاء الحق کی آمریت ہو یا ایم آر ڈی کی تحریک، سندھ کے عوام نے ہر دور میں مزاحمت کی ہے۔ پانی کے مسائل پر بھی سندھ کے لوگ ہمیشہ سڑکوں پر نکلے ہیں، اور سندھ کی قوم پرست تحریکوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اس تاریخ میں جی ایم سید، رسول بخش پلیجو سے لے کر شہید بینظیر بھٹو جیسے قائدین نے کالا باغ ڈیم کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے۔ اسی لیے سندھ کے لوگ پانی کے مسئلے پر انتہائی حساس ہیں۔

گزشتہ نگران حکومت کے دور میں ”گرین پاکستان انیشیٹو“ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا، جس کے تحت چھ اسٹریٹجک کینالز (نہریں ) بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان میں سے چار کینالز تو مشرف کے دور میں ہی تعمیر ہو چکی تھیں، مگر چولستان اور چوبارہ کینالز کا نیا اعلان کیا گیا۔ ان کے لیے ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) سے ایک غیرقانونی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا گیا کہ ”پانی موجود ہے“ ، حالانکہ ارسا میں سندھ کے نمائندے نے اس پر اعتراض بھی دائر کیا تھا۔ اس وقت فیڈرل ممبر کی نشست جو سندھ کو ملنی چاہیے تھی، وہ خالی تھی، اور اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔

جب نئی حکومت آئی تو 8 جولائی کو ایوان صدر میں پانی کے معاملات پر ایک بریفنگ دی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس بریفنگ میں کوئی پانی کا ماہر یا متعلقہ وزارتوں کا نمائندہ موجود نہیں تھا، سوائے وزیر داخلہ محسن نقوی کے۔ اس بریفنگ کی کوئی میٹنگ منٹس بھی منظر عام پر نہیں آئیں، مگر ایک لیٹر جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ صدر مملکت کو پانی کے معاملات پر بریفنگ دی گئی ہے۔ ساتھ ہی صدر کے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ بھی کی گئی کہ صدر مملکت نے گرین پاکستان انیشیٹو کو سراہا ہے۔

جب سندھ کے لوگوں کو اس سازش کی خبر ملی تو احتجاج شروع ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے موقع کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ ان چھ نہروں کی منظوری صدر آصف علی زرداری نے دی ہے۔ اس پر سندھ بھر میں زبردست عوامی ردعمل دیکھنے کو ملا، اور لوگ صدر زرداری کے خلاف نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ احتجاج چھوٹے شہروں اور قصبوں سے شروع ہو کر بڑے پیمانے پر پھیل گیا۔ نتیجے میں صدر زرداری کو بھی احساس ہوا کہ معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، لہٰذا انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھ نہری منصوبے وفاق کے لیے نقصان دہ ہیں اور انہیں نہیں بننا چاہیے۔

سندھ کی بار کونسلوں نے بھی ان منصوبوں کے خلاف احتجاج کیا، جس کی قیادت کراچی بار کونسل کے صدر عامر وڑائچ نے کی۔ ان کی تقریر کے بعد نامعلوم افراد نے کراچی میں ان پر حملہ کیا اور انہیں شدید زخمی کیا۔ اس واقعے کے بعد کراچی بار کونسل نے فیصلہ کیا کہ وہ پنجاب کے راستے بلاک کر کے ببرلو بائی پاس پر کینالز کے خلاف احتجاج کریں گے، جس کی تمام وکلا برادری نے حمایت کی۔

پیپلز پارٹی نے سیاسی طور پر ایسے فیصلے کیے جن سے اسے نقصان پہنچ رہا ہے۔ سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ کینالز کے معاملے پر اس کا واضح موقف بہت دیر سے سامنے آیا۔ جب صدر زرداری نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا، اس وقت تک عوام میں عدم اعتماد پیدا ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کینالز کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے جھجک رہے تھے اور کالا باغ ڈیم کے خلاف نعرے لگا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وزراء اور مشیر بھی کھل کر نہری منصوبوں کی مخالفت کرنے سے کتراتے رہے۔

اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی پر شک کی نگاہ ڈالنی شروع کر دی۔ بلاول بھٹو زرداری جلسوں میں اپنی تقریر کے آخر میں نہروں پر بات کرتے تھے، جب کہ سامعین مطالبہ کرتے تھے کہ وہ پہلے کینالز کے بارے میں واضح موقف اختیار کریں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اگر میں ابتدا میں ہی کینالز پر بات کروں گا تو لوگ میری مکمل تقریر نہیں سنیں گے۔

جب تک پیپلز پارٹی نے اپنا موقف واضح کیا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ عوام کا اعتماد متزلزل ہو چکا تھا اور سندھ جو پیپلز پارٹی کا سیاسی قلعہ ہے کمزور ہوتا نظر آنے لگا۔ پورے سندھ میں کینالز کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا تھا۔

پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو سی سی آئی (کونسل آف کامن انٹرسٹس) کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھے، مگر وفاقی حکومت نے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ جب حالات یہ ہو گئے کہ سندھ کے عوام نے پنجاب کے تمام راستے بند کر دیے اور احتجاج رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، تو وفاق نے مذاکرات کی کوشش کی۔ ابتدا میں وفاقی حکومت نے قوم پرست رہنماؤں زین شاہ اور ایاز لطیف پلیجو سے بھی رابطہ کیا، مگر انہوں نے صاف کہا کہ جب تک کینالز کا منصوبہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، مذاکرات بے سود ہوں گے۔

جب قوم پرستوں نے کسی بھی قسم کا لچک نہ دکھائی تو وفاق نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ جب تک تمام صوبے متفق نہیں ہوں گے، منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہو گا۔ لیکن سی سی آئی کا اجلاس آٹھ دن بعد ، 2 مئی کو رکھا گیا جس میں اس بارے میں باضابطہ فیصلہ کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی نے سمجھا کہ اب عوام خوش ہو جائیں گے اور جشن منانے کا اعلان بھی کر دیا، مگر عوام نے اسے ”لالی پاپ“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ وکلا اور سیاسی جماعتوں نے کہا کہ جب تک سرکاری طور پر کینالز کے منصوبے کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کی زمینیں، جو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دی گئی ہیں، بھی واپس لی جائیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے مطالبات مان لیے ہیں تو پھر احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ سندھ حکومت کے لیے یہ احتجاج ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ کارروائی نہیں ہوگی اور کبھی پولیس فورس بھیج کر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں، جس میں زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

اب یہ امکان موجود ہے کہ سندھ حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ پیپلز پارٹی کے لیے زبردست سیاسی نقصان کا باعث بنے گا۔ یہ سندھ اب 80 یا 90 کی دہائی کا سندھ نہیں ہے، یہ 2025 کا سندھ ہے، جہاں نوجوان طبقہ پہلے ہی پیپلز پارٹی سے شدید ناراض نظر آ رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی سخت کارروائی سندھ میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کر سکتی ہے، جس کے نتائج پاکستان اور سندھ دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “پیپلز پارٹی کی غلطیوں کا تسلسل

  • 29/04/2025 at 5:54 صبح
    Permalink

    حیرت ہے آپ سندھ کے اصیل سپوتوں پر جو کراچی کو کبھی سندھ کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر کراچی سے ملنے والے وسائل کی بات ہو تو بھاگ کر نعرے لگاتے ہیں "مرسوں مرسوں کراچی نہ ڈیسوں” ۔

    یہ بات اس طرح یاد آئی کہ آپ نے لکھا :

    سندھ ہمیشہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرامن خطہ رہا ہے۔

Comments are closed.