ایماندار افسر
” تمام سرکاری اہلکار یہ بات کان کھول کر سن لو۔ الراشی و المرتشی کلا ہما فی النار۔ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لہذا میرے دفتر میں آنے والے کسی بھی سائل سے رشوت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اہلکار پکڑا گیا تو اُس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی“ ۔ یہ اعلان محکمہ صحت کے ضلعی دفتر کے اندر نئے تعنیات ہونے والے ”بڑے صاحب“ کی طرف سے تھا جنہوں نے آج ہی اس ضلع کا چارج سنبھالا تھا۔ اس اعلان کو سن کر چپڑاسی سے لے کر ہیڈ کلرک تک سب کے چہرے یوں لٹک گئے جیسے گھر میں خدانخواستہ کوئی موت واقع ہو گئی ہو۔ اس سے پہلے بھی یہاں سخت گیر افسر آئے ہیں، مگر اُن کی سخت گیری کچھ ایسی ہوتی تھی کہ سائلین کی بجائے اس دفتر کا ہر اہلکار اُن کو جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دیتا نظر آتا اور اُن کی درازی عمر کے لئے مزاروں پر چڑھاوے دینا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ جب یہ اعلان ہو رہا تھا اُس وقت ماسٹر صاحب بھی اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ دفتر میں میڈیکل سٹور کے لائسنس کے لئے آئے ہوئے تھے اور اس اعلان کو سن کر اتنے مسرور تھے کہ بار بار اپنے بیٹے سے کہتے ”دیکھا میں نہ کہتا تھا اچھے لوگوں سے ابھی ہمارا ملک خالی نہیں ہوا۔ میرے بچے یہ بڑی زرخیز مٹی ہے بس ذرا نمی کی کمی ہے“ ۔
” لو جی حضور! اپنا قبلہ کرلو درست۔ اسلامی حکومت قائم ہو گئی ہے بھائی۔ آج سے بیوی بچوں کو سمجھا دو کہ روزانہ گوشت کھانے کی بجائے دال سبزی کی عادت ڈالیں“ ، ہیڈ کلرک صاحب اکاؤنٹ افسر کے پاس بیٹھے مستقبل کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔ ”بھائی میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ جو نیا گھر بنا رہا تھا اب اُس کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ یہاں تو حلال پہ گزارہ کرنا پڑے گا۔ ایسے میں مکان کہاں سے بنے گا“ ۔ اکاؤنٹ افسر ایک فائل کے پرت جلدی جلدی دیکھتے ہوئے کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ یہی حال باقی دفتر کا بھی تھا جہاں ہر شخص پریشان پریشان اور کھویا کھویا دکھائی دے رہا تھا۔ ”کیوں بھائی کینٹین والے کیا بات ہے اس دفتر میں آج ہر شخص چپ چپ کیوں ہے؟“ ، ماسٹر صاحب نے کینٹین والے سے پوچھا جن کے لئے یہ سب حیران کن تھا۔ ”کچھ نہیں بزرگو۔ بس ان ہڈ حراموں کو حرام کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ اب حلال کھانا پڑ گیا ہے تو موت آ گئی ہے ان کو“ ۔ اُس کی بات سن کر ایک مربہ پھر ماسٹر صاحب کا سینہ خوشی سے پھول گیا کہ شکر ہے اس ملک میں ایسے نیک افسر موجود ہیں۔
” جناب السلام علیکم! یہ میرا بیٹا ہے“ ، ماسٹر صاحب کی بات سن کر ہیڈ کلرک نے ایسی نظروں سے اُنہیں دیکھا گویا کہہ رہا ہو ”میں کیا کروں پھر“ ۔ ”یہ میڈیکل سٹور کھولنا چاہتا ہے جناب۔ اُس کے لائسنس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں“ ۔ اُن کی بات سن کر ہیڈ کلرک نے پہلی بڑی سی ڈکار ماری پھر اُتنی ہی لمبی جمائی لی گویا کئی راتوں سے سوئے نہیں ہیں۔ ”ہوں۔ ہوں۔“ ۔ ابھی تک اُن کے منہ سے سانس کے علاوہ بس یہ دو الفاظ ہی نکل پائے جو اس بات کا اشارہ تھا کہ ہیڈ کلرک صاحب کی قوت گویائی ابھی سلامت ہے ورنہ عموماً ایسے موقعوں پر ہمارے سرکاری افسران کی قوت سماعت و گویائی دونوں جواب دے جاتی ہیں، جن کو واپس بحال کرنے کے لئے ”بابائے قوم“ نام کا سیرپ پلایا جاتا ہے جو اتنی تیزی سے اثر کرتا ہے کہ ادھر سیرپ کے چمچ جیب کے راستے اندر ہوئے ادھر قوت سماعت و گویائی بحال۔ ”یہ فارم لے جائیں بزرگو“ ، انہوں نے ایک فارم ماسٹر صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ ”اس کا کیا کروں؟“ ، اُنہوں نے استفسار کیا جس پر کلرک نے غضب ناک نظروں سے اُن کے بیٹے کی طرف دیکھ کر جواب دیا، ”اس پہ پکوڑے رکھ کر کھائیں“ ۔ اُن کا یہ جواب سن کر باپ بیٹا ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع ہو گئے۔ ”بھئی کرنا کیا ہے۔ اس کو فِل کریں۔ اس کے ساتھ بینک چالان کی فیس لگا کر کل تشریف لائیں۔ آپ کا کام ہو جائے گا“ ۔ اُنہوں نے مزید پوچھنا مناسب نہیں سمجھا اور وہاں سے باہر نکل گئے۔
آج کا دن دفتر والوں پر بہت بھاری ثابت ہو رہا تھا اور ہر شخص دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا کیونکہ پہلے پیٹ بھر جاتا تھا مگر آج دوپہر ہونے کو آ گئی اور جیبیں خالی تھیں۔ ان خالی جیبوں کو دیکھ کر ہر بندہ خون کے آنسو رو رہا تھا اور ساتھ میں بد دعائیں بھی زیر لب جاری تھیں۔ کچھ دیر بعد ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو ہیڈ کلرک سمیت سب لوگ مسجد کی پہلی صف میں بیٹھ کر ”بڑے صاحب“ کو صدق ِ دل کے ساتھ یہ تسلی کروانے آئے تھے کہ وہ ظہر اور عصر کی نماز کو کتنا ضروری سمجھتے ہیں۔ البتہ فجر، مغرب اور عشاء کا معاملہ اللہ کے سپرد تھا کیونکہ اُس وقت ”بڑے صاحب“ تو مسجد میں ہوتے نہیں تو نمبر بنانے کا کیا فائدہ۔ لہذا یہ سوچ کر کہ اللہ معاف کرنے والا ہے اس لئے یہ تین نمازیں بھی معاف ہی سمجھی گئیں۔
ماسٹر صاحب ابھی دفتر سے چند قدم ہی باہر نکلے کہ پھر واپس چل پڑے اور سیدھا ہیڈ کلرک صاحب کے دفتر میں پہنچ گئے۔ ”وہ ایک بات پوچھنی تھی کہ چالان فیس کتنی جمع کروانی ہوگی“ ۔ ”صرف ڈھائی ہزار روپے“ ۔
” کیوں ڈھائی ہزار روپے کیوں؟“ ۔ یہ آواز ”بڑے صاحب“ کی تھی جو دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ ”جی وہ سرکاری فیس اتنی ہی ہے سر۔ باقی تو ہم۔“ ۔ ہیڈ کلرک نے بات گول مول کردی۔ ”یہ کیا بات ہوئی۔ صرف سرکاری فیس سے کام کیسے چلے گا ہیڈ کلرک صاحب“ ۔ ”بڑے صاحب“ کی بات سن کر ہیڈ کلرک بھی پریشان ہو گیا۔ ”مگر سر صبح آپ ہی نے تو۔“ ۔ اُس کی بات سن کر ایماندار ”بڑے صاحب“ زور زور سے ہنسے، پھر جب ہنسی کا دورہ ختم ہو گیا تو ہیڈ کلرک کے کاندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر نہایت نرمی سے بولے، ”اوہو ہیڈ کلرک صاحب۔ میں نے رشوت سے منع کیا تھا تحفے لینے سے نہیں۔ تحفے جو بھی دے لے لیا کریں اس سے محبت بڑھتی ہے۔ کیا سمجھے آپ؟“ ۔ یہ بات کہہ کر وہ تو چلے گئے مگر اب ماسٹر صاحب کا منہ لٹکا ہوا جبکہ ہیڈ کلرک صاحب کا یوں چمک رہا تھا گویا نئے گریڈ میں ترقی ملی ہے۔


