پنجاب کی تاریخ میں عورتوں کا کردار
پنجاب، جو ”پانچ دریاؤں کی سرزمین“ کہلاتی ہے، صرف قدرتی حسن اور زرخیز زمینوں کے لیے ہی مشہور نہیں بلکہ یہاں کی عورتوں کی بہادری، قربانی، اور فکری گہرائی بھی اس خطے کو نمایاں کرتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین صرف زرخیز کھیتوں، بہتے دریاؤں اور گونجتے ڈھولوں کی دھرتی نہیں، بلکہ یہ بہادری، قربانی اور عظمت کی بھی پہچان ہے۔ بلکہ اس دھرتی نے ایسی بے شمار خواتین کو جنم دیا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔ چاہے وہ مذہبی میدان ہو، سیاست ہو، ادب ہو یا سماجی تحریکیں، پنجاب کی عورت نے ہر دور میں اپنے وجود کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں بی بی نانکی کی صورت میں وہ روشنی نظر آتی ہے، جو گرو نانک دیو جی کی روحانی روشنی کی پہلی شمع بنی۔ بی بی نانکی، جو گرو نانک دیو جی کی بہن تھیں، نہ صرف ان کی پہلی پیروکار تھیں بلکہ ان کے روحانی سفر میں ایک اہم ستون بھی ثابت ہوئیں۔ اسی طرح مائی بھاگو، جو ایک سکھ جنگجو خاتون تھیں، نے مغلوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا اور سکھ فوج میں قیادت کی۔ ان خواتین نے مذہب اور عقیدے کے میدان میں اپنی بصیرت اور بہادری کا لوہا منوایا۔
ایسے ہی ایک کردار سدا کور کا جس کو لفظوں کی زبان دی ڈاکٹر مظہر عباس جو کہ اسسٹنٹ پروفیسر ہیں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ان کا ایک کالم دی نیوز میں پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے سدا کور کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ ”ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کھڑی ہوتی ہے۔“ رنجیت سنگھ کے ( 1780۔ 1839 ) سردار سے پنجاب کے مہاراجہ تک کا سفر اس کامیابی اور عروج کے پیچھے اس کی ساس، سدا کور کا ہاتھ تھا۔
اس کی فوجی مدد اور حکمت عملی کے مشورے (سفارتی مہارت، فوجی حکمت عملی اور جنگی حکمت عملی) کی وجہ سے، اسے پنجاب سلطنت کا چیف معمار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی دور اندیشی اور بہادری، پنجاب کی سلطنت کی تخلیق اور توسیع کے لیے اہم ہتھیاروں کا اعتراف سکھ تاریخ کے مورخین کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کور کی اچھی صلاح اور مادی وسائل ہی تھے جنہوں نے ایک نوجوان سردار رنجیت سنگھ کو اپنے حریف سرداروں کو شکست دینے، مہاراجہ کا خطاب سنبھالنے اور پنجاب کو متحد کرنے میں مدد کی۔
شاہ زمان سے نمٹنے، پنجاب کی مغربی سرحد کی حفاظت کے بعد رنجیت سنگھ نے جو پان پنجاب سلطنت کا خواب دیکھا۔ اس خواب کو پورا کرنے میں سدا کور نے اس کی مدد کی۔ اس نے اپنی مسل کی فوجوں اور اپنے داماد کی مسل کو اپنی کمان میں ملا دیا۔ سدا کور نے رنجیت سنگھ کا ساتھ دیا تب ہی بھنگی مل سے امرتسر چھین لیا اور خود کو پنجاب کا مہاراجہ قرار دیا۔ مہاراجہ بننے کے بعد اس نے 1809 میں انگریزوں کے ساتھ امرتسر کے معاہدے پر دستخط کیے ۔
یہ کور ہی تھی جس نے سنگھ کو نوآبادیاتی طاقت کے ساتھ صلح کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ اس معاہدے نے سنگھ کو دریائے ستلج کے پار اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے موقع سے انکار کر دیا، لیکن اس نے اس کی سلطنت کی لمبی عمر کی ضمانت دی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ان کی شاندار سفارتی مہارت، فوجی حکمت عملی، جنگی حکمت عملی اور بہادری کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
پنجاب کی محبت بھری داستانوں میں ہیر، سسی، اور سوہنی جیسے کردار نہ صرف عشق کی علامت ہیں بلکہ عورت کی وفا، حوصلے اور استقامت کا مجسم نمونہ بھی ہیں۔ سوہنی نے رات کی تاریکی میں دریا عبور کر کے عشق کی لازوال مثال قائم کی۔ سسی کا کردار قربانی اور عشقِ حقیقی کی علامت ہے۔ اس نے اپنے محبوب کی تلاش میں صحرا عبور کیا اور اپنی جان دے دی۔ ہیر نے روایتی بندھنوں کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی محبت کے لیے کھڑی ہوئی۔ ادبی دنیا میں اگر ہم دیکھیں تو امرتا پریتم کا نام جگمگاتا ہے۔ وہ شاعرہ جس نے تقسیمِ ہند کے زخموں کو لفظوں میں پرویا، عورت کے درد کو آواز دی، اور ہمیں یاد دلایا کہ عورت صرف موضوعِ سخن نہیں، وہ خود ایک مکمل فکر ہے۔ ان کی نظم ”اج آکھاں وارث شاہ نوں“ آج بھی پنجاب کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
پنجاب کی تاریخ کا ایک اور سیاہ لیکن قابلِ فخر باب ہے تقسیمِ ہند کا دور۔ ہزاروں عورتیں اغوا ہوئیں، بے گھر ہوئیں، قربان ہو گئیں۔ بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا، اور کئی خواتین نے عزت بچانے کے لیے جان کی قربانی دی۔ ان عورتوں کی قربانیاں تاریخ میں ایک کربناک لیکن قابلِ فخر باب ہیں۔ آج بھی یہ قربانیاں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ مگر ان کے حوصلے ٹوٹے نہیں۔ انہوں نے اپنے جسم کو قربانی دے کر عزت کی حفاظت کی، اپنے بچوں کی حفاظت کی، اور اپنی شناخت کو مٹنے نہ دیا۔ آج بھی، پنجاب کی عورت ہر شعبے میں آگے ہے۔ چاہے وہ سیاست ہو، تعلیم، طب، وکالت یا فنون لطیفہ۔ وہ پرچم اٹھائے کھڑی ہے، جو صدیوں سے اُس کے ہاتھوں میں ہے۔

