ترکی اور سعودی عرب سے تجارت نہ بڑھنے کی وجہ
انطالیہ ڈپلومیسی فورم دنیا کی بڑی سفارتی تقریبات میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ انطالیہ یونانی نام، ترکی کا ایک قدیم شہر ہے اور اس شہر نے یونانیوں، رومیوں، سلجوقیوں سے لے کر عثمانی سلطنت کے طلوع و غروب کی ہزاروں داستانیں سمیٹیں ہوئے آج جدید ترکی کی سفارت کاری میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بحیرہ روم کے کنارے آباد اس تاریخی شہر میں ایک سو پچاس ممالک کے کوئی 6000 ہزار مندوبین انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کر رہے تھے اور دنیا بھر کے وفود سے تبادلہ خیال کرنے کا بھی موقع میسر آ رہا تھا۔
اس میں کوئی دوسری رائے قائم ہی نہیں کی جا سکتی ہے کہ ترک عوام پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں اور یہ بھی نہایت خوش آئند امر ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بھی باہمی برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہی ہوتے جا رہے ہیں مگر اس میں قابل تشویش یہ پہلو ہے کہ اتنی قربت، محبت کا باوجود دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات، تجارتی حجم بہت محدود ہے اور جب تک معاشی مفادات ایک دوسرے میں باہم پیوست نہ ہوں اس وقت تک مشترکہ ترقی، مشترکہ مفادات قائم نہیں ہوتے۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں مختلف ترک سرکاری اور کاروباری افراد سے گفتگو ہوئی۔ میرا تجسس یہ جاننا تھا کہ معاشی تعلقات جیسے اہم ترین عامل پر اتنی عدم توجہی کیوں ہے؟ ترکوں کا جواب چونکا دینے والا تھا اور پاکستانی ارباب اختیار کو اس پر فی الفور توجہ دینی چاہیے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم جب بھی جاتے ہیں تو ہمیں یہ محسوس ہی نہیں ہوتا ہے کہ پاکستان کوئی دوسرا ملک ہے۔ بے انتہا، محبت ہماری منتظر ہوتی ہے۔ ہمارے وفود کی اعلی ترین سطح پر ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، وزرائے اعلی سے لے کر وزیر اعظم تک ہمارے لئے خصوصی طور پر وقت نکالتے ہیں مگر حیرت انگیز یہ امر ہے کہ جب ہم اپنے معاشی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں تو بس ہاتھ پاؤں مارتے ہی رہ جاتے ہیں اور ہماری تجاویز، منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے۔ اب یہ افسر شاہی کا مسئلہ ہے یا کہیں اور کوئی معاملہ دیوار بن جاتا ہے، یہ ہم نہیں جانتے ہیں۔
میرے اس سوال پر کہ دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی حجم کم از کم کتنا ہونا چاہیے تو جو بھی ترک ملا اس کا کہنا تھا کہ پانچ ارب ڈالر کا ہدف تو با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے اور اگر محنت کی جائے تو اس سے کئی گنا تجارت بڑھائی جا سکتی ہے۔ ترکی مڈل کاریڈور جو بیجنگ سے لندن بن رہا ہے میں بھی بہت دل چسپی رکھتا ہے اور اس سلسلے میں بھی اس کو پاکستان کی مدد درکار ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ ہم ایسی ملک سے تو تجارت بڑھانے کے لئے ہزار دلائل دیتے ہیں کہ جس سے بار بار تصادم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور سب کچھ رک جاتا ہے مگر ہم ان ممالک سے تجارت بڑھانے کی کوشش نہیں کرتے کہ جہاں پر وہ دونوں بازو پھیلائے کھڑے ہیں۔
اسی طرح سعودی عرب سے آئے ہوئے وفد کے افراد سے گفتگو ہوئی۔ میں حیران رہ گیا جب انہوں نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک سعودی نے تو مجھے کہا کہ ہم پاکستان کاروباری امور پر معاملات آگے بڑھانے کے لئے گئے تو ہماری وزرا سے ملاقاتیں طے ہوئی مگر ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی اپنے محکموں کے حوالے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ ایک صاحب کی تو اب آپ کے ملک میں وزارت بھی تبدیل کر دی گئی ہے جب کہ دوسرے صاحب ہمیں اپنی ہاؤسنگ اسکیم دکھانے کے لئے لے گئے جو کہ ہمارے دورے میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس کا ہم سے کوئی تعلق تھا۔
بہرحال وزیر اعظم کو فوری طور پر ایسی حکمت عملی مرتب کرانی چاہیے جو کہ اس کا تعین کریں کہ دنیا کہ کن ممالک سے ہمارا تجارتی حجم بڑھ سکتا ہے، اس وقت کتنا تجارتی حجم ہے اور بڑھنے کے امکانات کیا ہے۔ روس پاکستان کو تجارت کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک حوالے سے بھی دیکھتا ہے اور میری انطالیہ میں جن روسیوں سے گفتگو ہوئی سب کی ایک ہی رائے دیکھی کہ پاکستان اپنی پوزیشن، مرتبہ کے مطابق اپنے آپ کو استعمال نہیں کر پاتا ہے اور جو بہت سارے مسائل کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑتا ہے وہ در حقیقت صرف اپنی پوزیشن کے درست طور پر استعمال نہ کرنے کے باعث ہوتا ہے اور میں روسیوں کے اس تجزیہ سے سو فیصد متفق ہوں۔
انطالیہ کے سب سے بڑے سیاحتی مقام ہیڈرین گیٹ کو، جو دوسری صدی عیسوی میں رومی شہنشاہ ہیڈرین کے دورے کی یادگار کے طور پر آج تک قائم ہے، اور تاریخی عجائب گھر کو دیکھنے کے بعد انطالیہ کو خدا حافظ کہا نہایت خوش گوار یادوں اور دنیا بھر سے نت نئے دوستوں کے بننے کے استنبول کی جانب محو سفر ہو گیا۔
استنبول میں پہلی مصروفیت استنبول یونیورسٹی میں جانا تھا۔ یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر عثمان بلنت سے ملاقات رہی، پاکستان پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ پروفیسر وقار بادشاہ پاکستانی ہیں اور ان کو ترک پروفیسر عبد الحمید برشک کے جن کا تعلق مرمرہ یونیورسٹی سے ہے، کے ذریعے میری آمد کی اطلاع ہوئی، پاکستانی کمیونٹی میں بہت متحرک شخص ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی طلبا بھی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہے ہیں۔ پاکستانی طلبا کے صدر عبد الرحمان رزاق، جمال مٹھہ ٹوانہ سے، سید مسلم پاک پتن جبکہ عبد الرحمان لاہور سے تعلق رکھنے والے استنبول میں بہت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

