معصوم مینڈکوں کا عالیشان بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہایت ہی پرانے زمانے میں یونان میں ایسوپ نامی ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی ایک مشہور حکایت ہے جو کہ چند ایسے مینڈکوں کے بارے میں ہے جن کو اپنی عظیم قوم اور عالی شان تالاب کے شایان شان ایک ذی جاہ بادشاہ چاہیے تھا تاکہ ساری دنیا پر ان کی دھاک جم سکے۔ آئیے حکایت پڑھتے ہیں۔

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک حسین و جمیل اور مسحور کر دینے والے تالاب میں کوئی بیس بائیس مینڈک رہتے تھے۔ وہ مل جل کر جمہوری طریقے سے تالاب کا نظام چلاتے تھے اور انہیں اتنی آزادی میسر تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ سارا دن فارغ بیٹھ کر ٹر ٹر کرتے رہتے تھے۔ حتی کہ وہ ایک دوسرے کی آوازیں سن سن کر بور ہو گئے اور ان کے دل میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوچا کہ ایسی حکومت قائم کی جائے کہ شاہی جاہ و جلال سے کام لے کر ان کو متاثر کرے، اور ان کو احساس دلائے کہ ان کا بھی کوئی بادشاہ ہے اور دور نزدیک کے لوگوں پر بھی ان کی دھاک جم جائے اور اس بادشاہ کے ذریعے ان کی قوم کو باقی جانوروں پر اقتدار حاصل ہو اور ان کے عظیم تالاب کو سب رشک کی نگاہ سے دیکھیں۔

مینڈکوں نے اپالو دیوتا کو فریاد کی کہ ان کو کوئی مناسب بادشاہ دیا جائے کیونکہ یہ جمہوری حکومت ان کی عظمت کو دنیا پر واضح نہیں کرتی ہے اور نہایت ہی کرپٹ ہے۔ اپالو دیوتا کو معلوم تھا کہ یہ مینڈک عقل سے فارغ ہیں، اس لیے ان کو خوش کرنے کے لیے اس نے تالاب میں ایک لکڑ کا ایک موٹا سا شہتیر پھینک دیا جو زوردار چھپاکے سے پانی میں گرا۔ مینڈک آواز سے سہم کر ادھر ادھر کونوں کھدروں میں چھپ گئے اور سوچنے لگے کہ ہمارا نیا بادشاہ تو بڑا غصے والا ہے۔ لیکن کچھ عرصے میں انہوں نے جب یہ دیکھا کہ شاہ شہتیر تو بس سکون سے چرسیوں کی طرح پڑا ہی رہتا ہے تو ان کے دل سے ڈر نکلنے لگا (اہم وضاحت: پاکستان کے کسی مارشل لا سے اس حکایت کا ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسوپ اس سے ڈھائی ہزار سال پہلے فوت ہو چکا تھا)۔

کچھ دن میں ہی چھوٹے چھوٹے مینڈک شاہ شہتیر کو ڈائیونگ بورڈ کے طور پر استعمال کر کے نہانے لگے، تو سست قسم کے چرسی مینڈک اس کو میٹنگ روم بنا کر اس پر سارا دن بیٹھے دھوپ تاپتے پائے جانے لگے، اور دوبارہ اپالو دیوتا سے شکایت کرنے لگے کہ ہمیں بالکل ہی نسواری سا چرسی بادشاہ دیا ہے۔ کوئی جاہ و جلال والا بادشاہ کیوں نہیں دیا؟ لگتا ہے کہ ہمارے مخالفین نے کوئی سازش کر دی ہے اور دیوتا کو کوئی بھینٹ لگا دی ہے جو اس نے ہمیں اتنا چرسی بادشاہ دیا ہے۔

یہ الزام سن کر اپالو دیوتا کو غصہ چڑھ گیا۔ اس نے نے ایک موٹا تازہ سا بگلا تالاب میں بادشاہ مقرر کر کے بھیج دیا۔ بگلے نے دائیں بائیں ہر طرف سے ننھے منے لذیذ مینڈک عوام اٹھا کر ہڑپ کرنے شروع کر دیے اور سارے تالاب میں سنسنی پھیلا دی۔ مینڈکوں نے اپالو دیوتا سے فریاد کی کہ اس خونخوار آمر قسم کے بادشاہ سے ان کی جان بخشی کرائی جائے ورنہ وہ سارے مارے جائیں گے۔

اپالو دیوتا ناراض ہو کر چلایا ’اب آرام ہے؟ سکون ہو گیا ہے؟ تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق بادشاہ مل گیا ہے۔ اب موج کرو‘۔

نتیجہ: تبدیلی لانے کے لئے خود اپنی حالت بہتر کرو، کسی بھی طرزِ حکومت کے نام پر شخصی آمریت کا پرچار مت کرو اور جمہوریت پر خدا کا شکر ادا کرو، ورنہ معصوم مینڈکوں کی طرح مارے جاؤ گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1118 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar