ارے بھارت، جنگ کا ڈرامہ چھوڑو، پڑوسیوں سے پیار کرو
ہائے ہائے، ہمارا پڑوسی بھارت پھر سے ”جنگی جنون“ کے موڈ میں ہے! صبح شام ٹی وی پر خبریں، سوشل میڈیا پر ہاہا ہوہو، اور بالی ووڈ تو بس نئی فلم کا ٹریلر لانچ کر رہا ہے : *بارڈر 2.0 : ایک گولی، دس دشمَن! * ارے بھائی، ایک منٹ رکو، پاپ کارن لاؤ، اور ذرا سوچو کہ یہ ”جنگ جنگ“ کا ٹھمکا لگا کر تمہارا کیا بھلا ہو رہا ہے؟
بھارتی میڈیا کو تو بس ایک بہانہ چاہیے۔ کوئی سرحد پر پرندہ بھی اڑ جائے تو بریکنگ نیوز: ”دشمن کا جاسوس کبوتر پکڑا گیا!“ ارے، وہ تو بس بھٹکا ہوا کبوتر تھا، اسے دال چاول کھلاؤ اور واپس بھیج دو! لیکن نہیں، میڈیا والے تو رات بھر ڈبیٹ کریں گے کہ ”کیا یہ کبوتر ایٹمی ہتھیار لے کر آیا تھا؟“ اور پھر اینکر چیخیں گے : ”ہم ابھی دشمن کو سبق سکھائیں گے!“ ارے بھائی، سبق تو تم اپنی معیشت کو سکھاؤ، جو اس شور شرابے میں سانس لینے کو ترس رہی ہے!
اور بالی ووڈ؟ واہ، کیا بات ہے! ہر سال ایک نئی فلم: ہیرو اکیلا پوری فوج کو للکارتا ہے، ایک ہاتھ سے ٹینک اٹھاتا ہے، دوسرے سے میزائل پکڑتا ہے، اور بیک گراؤنڈ میں بھارتی پرچم لہراتا ہے۔ واہ واہ! لیکن یار، یہ فلمیں سینما ہال تک ٹھیک ہیں، اصلی زندگی میں یہ ڈرامہ نہ کرو۔ جنگ کوئی *یوری اٹیک* یا *ٹائیگر زندہ ہے * نہیں کہ تین گھنٹے میں سب ٹھیک ہو جائے، اور آخر میں ہیرو ہیروئن کے ساتھ آئس کریم کھائے۔ جنگ تو وہ چکر ہے جو معیشت کو کنگال کرتا ہے، غریب کو اور غریب، اور پڑوسیوں سے تعلقات کو ایسا گھونسلا بنا دیتا ہے کہ دہائیاں لگ جاتی ہیں صاف کرنے میں۔
دیکھو بھارت، تم تو آئی ٹی کا پاور ہاؤس ہو، خلائی تحقیق میں جھنڈے گاڑ رہے ہو، تمہارا چندریان چاند پر جا کر سیلفی لے رہا ہے! یہ سب کیا کم ہے؟ لیکن نہیں، تمہارے کچھ لیڈرز اور میڈیا کو لگتا ہے کہ ”چلو، پڑوسیوں کو دو چار دھمکیاں دے دیں، ریٹنگ ملے گی، ووٹ ملے گا!“ ارے، ووٹ تو پھر بھی مل جائے گا، لیکن اگر پڑوسیوں سے تجارت کرو، سرحدیں کھولو، تو ڈالر بھی ملے گا، سمجھے؟
پاکستان، چین، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا۔ سب کے ساتھ مل کر دھندا کرو! تمہاری ”مک این انڈیا“ والی پالیسی زبردست ہے، لیکن اگر پڑوسی تم سے چیزیں نہ خریدیں تو فیکٹریاں کیا اچار ڈالیں گی؟ سیاحت بڑھاؤ، ثقافتی میلے کرو، ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرو۔ ارے، ہمارے یہاں عید پر سویاں کھاؤ، تمہارے یہاں دیوالی پر مٹھائی کھائیں گے۔ کیوں، ٹھیک ہے نا؟
اور یہ جنگی جنون؟ اس سے تو تمہارا ہی نقصان ہے۔ ایک میزائل کی قیمت میں کتنے سکول بن سکتے ہیں؟ ایک جنگی جہاز کی قیمت میں کتنے ہسپتال؟ اور اگر جنگ ہوئی تو پھر نہ سکول رہے، نہ ہسپتال، بس رہ جائے گا ایک لمبا چوڑا بل، جو تمہاری آنے والی نسلیں چیخ چیخ کر ادا کریں گی۔
تو بھارت، ہمارا مشورہ مانو۔ میڈیا کو بولو کہ کبوتر کو چھوڑ دیں، بالی ووڈ کو بولو کہ ایکشن فلمیں کم بنائیں، اور اپنی بندوق کی نالی نیچے کرو۔ پڑوسیوں سے ہاتھ ملاؤ، سموسے کھاؤ، اور مل کر ترقی کرو۔ جنگ کا ڈرامہ چھوڑو، کیونکہ جنگ میں جیت کوئی نہیں، ہار سب کی ہوتی ہے۔ اور اگر پھر بھی دل نہ مانے تو ہمارے گھر آؤ، ہم تمہیں پہلے کی طرح چائے پلائیں گے اور اس بار پلاؤ بھی کھلائیں گے، اور پھر بات کریں گے کہ دونوں مل کر کیسے چاند پر جھنڈا گاڑیں۔


