کینیڈا کا الیکشن اور ہماری ننھی ننھی حسرتیں


اس بار کینیڈا کے الیکشن کے بارے میں شنید تھی کہ کچھ گہما گہمی ہو گی۔ جسٹن ٹروڈو کی ٹرم ختم ہونے سے پہلے ریزائن۔ ارلی الیکشن کا غوغا، مہنگائی، جاب مارکیٹ کے دگرگوں حالات، کساد بازاری اور امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات نے فضا ہی کچھ ایسی بنا دی کہ ایسا سوچنا کچھ غلط بھی نہیں تھا۔ ٹرمپ فینامنا امریکہ تک ہی محدود نہیں اس کی ایک کاربن کاپی یہاں بھی موجود ہے۔ ایسا وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو مقامی ہیں اور کئی نسلوں سے یہاں آباد ہیں۔ انہوں نے اپنی پسند و ناپسند کا اظہار ایسے کیا کہ بیس سال تک اپنی رائڈنگ ( حلقہ) کی نمائندگی کرنے والا لبرل کے ہاتھوں ہار گیا۔ کاربن کاپی کی تھر تھلی مچانے کی کوشش خود ہی اسے لے ڈوبی۔ ہینڈسم کے جانے کے بعد بھی لبرل کا سنبھلے رہنا یہ واقعی کمال کی بات تھی۔ وجہ سادی سی کہ ووٹ پارٹی کو پڑتا ہے کسی ایک فرد کو نہیں۔ علامہ کے شعر کی عملی تصویر بھی یہیں دیکھی گئی کہ،

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

شخصیت کا تھوڑا بہت چارم ہوتا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ نہ ہو تو پارٹی ہی بیٹھ جائے۔ یہاں لیڈر ناکام ہو جائے تو خود ہی گھر کی راہ لیتا ہے۔ پارٹی ترنت دوسرا لیڈر چُن لیتی ہے۔ یہ سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ اب کیا ہو گا؟ پارٹیوں میں ورکر کارکردگی کی بنیاد پہ گراس روٹ لیول سے اوپر آتے ہیں۔ این ڈی پی کے جگمیت سنگھ بھلے مانس تھے مگر ہار کے بعد گھر کو پیارے ہوئے۔ مارک کارنی کے نام سے ہم جیسے بہتیرے ناواقف تھے مگر آفرین کہ لبرلز کی مقبولیت میں دس اعشاریہ نو فیصد کا اضافہ بھی ہو گیا۔ ہم جس شہر میں ہیں وہاں امیگرنٹس کی تعداد دوسرے شہروں کی نسبت خاصی کم ہے۔ گھمسان کا رن پڑنے کے باوجود ہمارے حلقے میں لبرل لگ بھگ ساڑھے چار سو ووٹوں سے ہار گئے۔ گویا مُقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا۔ ایک بات کہنی پڑے گی کہ لوگ خاصے سمجھدار ہیں یہاں پیا من بھائے کا مقولہ ہنسی ٹھٹھے میں اڑا دیا جاتا ہے۔ نہ کھلاڑی نہ اناڑی بازی اُسی کے ہاتھ رہتی ہے جو کارکردگی دکھاتا ہے۔

اس انتخابی خبر نامے کے چکر میں جو کہنا تھا وہ ہم بھول ہی گئے کہ اپنی فطرت تو ہنگامہ پرور ہے۔ ارے بھئی کیسے نہ ہو کہ پیدائش کے وقت سے اب تک بھانت بھانت کے ہنگامے اور تماشے ہی دیکھتے آ رہے ہیں۔ وطن سے دور ہیں تو کیا ہوا ٹی وی وہاں ہونے والی سب دھما چوکڑی دکھا کر ہماری فطرت کی تسکین کرتا رہتا ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ اب آئے گا مزا یہاں بھی۔ کشاں کشاں ووٹ ڈالنے کے پیچھے کچھ ایسی سوچ کارفرما تھی کہ

ہے خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

امیدوں کے برعکس نہ تو غالب کے پرزے اُڑے اور نہ ہی تماشا دیکھنے کو ملا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ نہ ڈھول ڈھمکا نہ چیخم پکار اور سر پھٹول، یہاں تک کے کہ کوئی ہنگامہ اور ہلچل بھی نہیں۔ نہ لمبی لمبی قطاریں نہ دھکم پیل اور دھینگا مشتی۔ کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام نہیں اور نہ ہی یہ کہ آپ کا ووٹ ڈل چکا ہے۔ نہ مُہریں نہ ٹھپے حد تو یہ کہ ووٹ کے بعد انگوٹھے پہ انمٹ سیاہی سے نشان تک نہیں لگایا۔ آئی ڈی دیکھ کر بیلٹ کارڈ دے دیا۔ دو میزوں پہ کارڈ بورڈ لگا کر تھوڑی سی پرائیویسی کا بندوبست اور بس۔ کتنے ٹھنڈے لوگ ہیں یارو کمبخت اتنے سکون سے ووٹ ڈالتے ہیں کہ مزہ ہی نہیں آیا۔ گالیاں کھانے والے بھی اتنے بے مزہ نہ ہوتے ہوں گے جتنے ہم ہوئے۔ پولنگ سٹیشن کے باہر تو کیا پورے گاؤں میں کوئی انتخابی کیمپ نہیں۔ نہ کوئی بینر اور نہ ہی دیواریں انتخابی نشانوں اور نعروں سے کالی۔ نہ بریانی کی پلیٹ ملی نہ ہی ملا برگر اور تو اور موسم کی مناسبت سے ایک کافی کا کپ بھی کسی نے نہ پوچھا، بھلا یہ بھی کوئی الیکشن ہوا؟ پیر کا دن سب کاروبار زندگی حسب معمول جاری و ساری اور الیکشن بھی بھگتا دیا۔

گو یہ ہمارا پہلا الیکشن نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی ووٹ ڈال چکے ہیں مگر پچھلے شہر میں لائنیں قدرے لمبی ہوا کرتی تھیں۔ بڑا شہر ہونے کی وجہ سے آبادی بھی زیادہ تھی اور کافی دیسی لوگ بھی تھے تو گپ شپ اور دکھ سکھ کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا مگر اپنی طرف والی بات پھر بھی نہیں تھی کہ دیسی بھی بدیس میں کافی سدھر جاتے ہیں۔ ووٹنگ کارڈ بھی مختصر سا تھا کل چھ خانے تھے۔ ایک خوشی البتہ ہوئی کہ ایک آزاد امیدوار بھی تھا یعنی لون وولف یہاں بھی ہوتے ہیں۔ کوئی بھانت بھانت کے انتخابی نشان نہیں۔ نہ لوٹا نہ مینڈک نہ ہاکی امیدوار کے نام کے آگے ایک سرکل بس ٹک مارک کرو فولڈ کرو اور باکس میں ڈال دو، اللہ اللہ خیر صلہ! گاڑی پارک کرنے سے ووٹ ڈالنے تک بمشکل پانچ چھ منٹ لگے ہوں گے۔ ہم جیسے ہنگامہ پرور لوگوں کو مایوسی تو ہونی ہی تھی کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے للو کہ گردش مدام سے جی بھی نہ گھبرائے!

اس ٹھنڈے ٹھار ماحول سے ہمیں پاکستان کا وہ الیکشن یاد آ گیا جس میں ہم نے آخری بار ووٹ ڈالا تھا۔ ان دنوں ہم پاکستان یاترا پہ تھے اور اس وقت تک ہمیں کینیڈا کی شہریت نہیں ملی تھی۔ پی آر کارڈ تھا جسے آپ گرین کارڈ سمجھ سکتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ سویرے چلے جاتے ہیں تاکہ جلد فارغ ہو سکیں مگر ہائے ری قسمت شام کے چھ بجے فارغ ہوئے۔ لائن میں کھڑے کھڑے پیر سوجھ گئے۔ چلچلاتی دھوپ اور سر پہ سایہ نہ سائبان۔ دن بارہ بج کے بعد تو بیلٹ باکس آئے اور وہ بھی ایک امیدوار کی گاڑی میں۔ اب وہ کس حیثیت میں یہ کارروائی کر رہے تھے یہ تو ہمیں معلوم نہیں۔ پر اتنا یاد ہے کہ الیکشن بھی وہی جیتے تھے۔ ان کی آمد پہ ہونے والی نعرہ بازی اور پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی وکٹری کاوی بنانا بھی دیدنی تھا۔

حلقہ کراچی کے پوش علاقے کا تھا جسے عرف عام میں پل سے پار کا علاقہ کہا جاتا ہے اور بقول شخصے ممی ڈیڈی اور بچے سبھی برگر کہلاتے ہیں۔ کوئی پانی کی بوتلیں بانٹ رہا تھا کوئی ڈونٹ اور کوئی سینڈوچ۔ پیٹ میں دوڑتے چوہوں کی کارروائی سے گھبرا کر ہم نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے کیوں کہ سب نے بزعم خود ہی سمجھ لیا تھا کہ ہم اُن کی پارٹی سے ہیں۔ ہم نے چائے کا ایک کپ یہ سوچ کر پیا تھا کہ گیارہ بجے تک واپسی ہو جائے گی تو گھر آ کر ناشتہ کریں گے پر اس دن یقین آ گیا کہ ایک منصوبہ بندی انسان کرتا ہے اور دوسری کہیں اور ہوتی ہے۔ کئی بار جی میں آیا کہ اس خواری سے بہتر ہے کہ گھر کی راہ لیں پر اندر کا جمہوریت پسند لٹھ لے کر لعنت ملامت پہ تل گیا تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مُنا بھائی قطار میں لگے رہے کہ اب تو ووٹ ڈال کر ہی جائیں گے۔

یاد رہے کہ یہ قطار پولنگ سٹیشن سے باہر کی تھی۔ گیٹ کے اندر دوسری قطار تھی۔ اندر کا ماحول باہر سے بالکل مختلف یعنی کے باہر بھائی بندی تھی تو اندر آپا دھاپی۔ سکیورٹی ڈیوٹی پہ بے شمار سرکاری اہلکار اور سینکڑوں کی تعداد میں انتخابی عملہ اور پولنگ ایجنٹ۔ مردانہ اور زنانہ سیکشن الگ الگ۔ کئی لسٹوں میں نام چیک ہوا تب جا کر بیلٹ پیپر ملا۔ ہم نے تو خاموشی سے پردے کے پیچھے جا کر مہر لگائی اور ووٹ بیلٹ باکس کے حوالے کیا مگر کئی جی دار ایسی بھی دیکھیں کہ مہر لگا کر کھلا پیپر باہر لے آئیں اور فخریہ سب کو دکھا کر بیلٹ باکس کے حوالے کیا تاکہ سند رہے کہ ووٹ کس کو ڈالا ہے۔ پولنگ ایجنٹوں کی ایسی بحثا بحثی کہ الامان و الحفیظ ایسے ہی موقعوں کی مناسبت سے شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ مجرعی ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا۔

گو یہ سب قصہ پارینہ ہے مگر جس نے ایسے نظارے دیکھے ہوں اُس کی مایوسی بجا ہے۔ ایک چرچ میں پولنگ سٹیشن نہ کوئی پولیس نہ رینجر نہ ہی بے حساب انتخابی عملہ۔ ووٹ ڈالنا یہاں لازم ہے قومی ذمہ داری ہے ورنہ گھر پہ سرکاری پھرّا آ جاتا ہے کہ وجوہات بیان کی جائیں تو بھیا کون ان بکھیڑوں میں پڑے بہتری اسی میں ہے کہ ووٹ ڈال آؤ۔ گپ شپ کرنے کو کوئی ملا نہیں تو ہم نے ٹھرک مٹانے کو باہر کھڑی ایک والنٹیئر سے گپ لگائی اسے اپنے ہاں کے تجربے سے نمک مرچ لگا کر مستفید کیا اس امید کے ساتھ کہ وہ شرما حضوری ہی ہم سے کچھ سیکھیں پر اس کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ امید بر نہیں آنی۔ اپنی اس آخری کوشش کو اکارت جاتے دیکھ کر گھر کی راہ لی۔ روانگی سے واپسی تک بمشکل پندرہ سولہ منٹ میں لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔

گھر آ کر ٹی وی آن کیا تو وہی ڈھاک کے تین پات یعنی کہ ہر جانب ٹھنڈ تھی۔ کوئی اینکر ملکہ جذبات کا کردار ادا نہیں کر رہا تھا۔ فارم پینتالیس اور سینتالیس کا بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ آخری اطلاعات آنے تک لبرل 168 سیٹیں جیت چکے ہیں حکومت بنانے کو ایک سو بہتر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کنزرویٹیو نے 144 سیٹیں جیتی ہیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اگلی حکومت بھی لبرل کسی اور جماعت کے تعاون سے بنائیں گے کیوں کہ واضح برتری ان کے پاس بھی نہیں ہے۔ ہمارے اندر کے شیطان کو اب کنزرویٹیو سے امید واثق ہے کہ وہ دھاندلی کا شور مچائیں گے فارم پینتالیس اور سینتالیس کا قضیہ چھیڑیں گے پھر سے ارلی الیکشن کا راگ الاپیں گے تاکہ کچھ تو ہنگامہ ہو اور ہماری طبع شوریدہ کو کچھ تو قرار آئے اور ہم فخریہ کہہ سکیں کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ بھی ہمارے جیسے ہی ہیں۔ ہائے ہماری ننھی ننھی آرزوئیں کہ پوری ہو کر ہی نہیں دیتیں کہ نہ کوئی ملک دشمن ٹھہرا نہ غدار۔ جیتنے والے کہہ رہے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں اور یہ ایک نیا دن ہے اور ہارنے والے اپنی ہار تسلیم کر رہے ہیں اور جیتنے والوں کو مبارکباد دے رہے ہیں اور ہم ہونقوں کی طرح سوچ رہے ہیں کہ اے بسائے آرزو کہ خاک شُد۔

Facebook Comments HS