ہونڈورس والے ابو عمر کی دوسری شادی
آئیں آپ کو اپنے تاجر میمن ایکسپورٹر دوست ابو عمر کاپڑیا سے ملوائیں۔ بحر الکاہل اور کیریبئن سمندر کے درمیاں آباد اس وسطی امریکہ کے ملک کا نام ہے ہونڈورس۔ مگر ہسپانوی زبان میں ہ کو ڈراپ کر کے بولا جاتا ہے اسی لیے وہاں مقامی لہجے میں اسے اون دو رس پکارتے ہیں، جب کہ امریکہ میں اسے ہونڈورس پکارتے ہیں۔ اب وہ وہاں رہتا ہے۔
ابو عمر پہلے ایسا نہیں تھا۔ اب عیاش بھی بہت ہو گیا ہے۔ کراچی میں کم رہتا ہے۔ زیادہ وقت Puerto Cortes میں جہاں بندرگاہ ہونے کی وجہ سے زندگی، خوش گوار اور آزاد ہے۔ پڑوس کے ممالک ہیٹی، نکاراگوا اور گیانا کی بھی چند عورتوں کو ملازم رکھا ہے۔ چار تو اس کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ ہم نے پوچھا یہ چار کیوں ساتھ رہتی ہیں تو عبیداللہ علیم کا یہ شعر پڑھ کر مسکرا دیا کہ
محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا
کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے

یہاں کی عورت مرد سے اپنے تعلقات میں ممانی کی مرضی اور محلے کی فکر نہیں رکھتی۔ ”ہسدے آؤ۔ ہسدے جاؤ“ کی پالیسی پر عمل پیرا رہتی ہے۔ اپنی مرضی سے آتی جاتی ہیں۔ رمضان میں ابو عمر البتہ رب الرحمن الرحیم سے سالانہ معافی کے لیے اپنا کیمپ سعودیہ عرب میں عمرے کے بہانے لگا لیتا ہے۔ بیٹی نے بھی قریبی عزیز شوہر سے طلاق لے لی ہے۔ کسی سکھ کے ساتھ فلوریڈا میں اوپن ریلیشن شپ میں ہے۔
ہنڈارس میں ٹھکانا جمانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ابو عمر کو اپنی بہو منیرہ سے جو سگی بہن کی بیٹی ہے سے پچھلے چند ماہ سے بہت گلہ شکوہ ہو گیا ہے۔ منیرہ کی لگژری لائف اسٹائل گزارنے کے حوالے سے ڈیمانڈز بہت بڑھ گئی ہیں۔
ابو عمر اس میمن تاجر جنریشن کے بجھتے چراغ ہیں جو تمام زندگی بہت Low۔ Key میں گزارنا پسند کرتی ہے۔ ان کا دوست کلوڑی تو کھلا پاجامہ اور ململ کا کرتا پہن سر پر پہنی بڑی سی ٹوپی میں رقم چھپا کر سویرے سویرے گھر سے کنٹریکٹ رکشہ میں بیٹھ نکل پڑتا تھا۔ اس کا ایسا ماننا تھا کہ اس کی دولت میں زندہ انسانوں کے علاوہ ان مزارات کا بھی برابر کا حصہ ہے جو کراچی کے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ دعا مانگتا، تجارت کے منافع کو اپنی دعا سے جوڑتا اور پھر اگلی صبح نذرانے لے کر آ جاتا۔
ابو عمر کو گلہ تھا کہ سگی بھانجی کو بہو اس لیے بنایا تھا کہ اس کی اپنی ماں اور بہن نے منتیں ترلے کیے تھے۔ بہن نے تو اپنا دوپٹہ اس کے پیروں میں ڈال دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بڑی بیٹی کا میاں اسکول وین چلاتا ہے۔ اس سے چھوٹی عارفہ کا میاں کورئیر سروس میں ڈیلوری بوائے ہے۔ گھر کی بچی ہے۔ مرحوم ممانی کی یاد بھلادے گی۔ ماموں کی خدمت کرے گی
منیرہ دیکھنے میں بالکل رانی مکرجی لگتی تھی مگر رانی مکرجی کا قد چھوٹا اور رنگ بجھا ہوا سانولا سا ہے۔ جب کہ منیرہ دراز قد اور رنگت جھل جھل کرتی اجلی۔ ابو عمر کا کہنا تھا کہ بہن کو خبر تھی کہ میرے چھوکرے جہانگیر کی ماں اپنے باپ کی اکیلی بیٹی تھی۔ نانا کی فیکٹری بنگلہ سب اس کی طرف سے میری ایک بیٹی مریم اور بیٹے جہانگیر کو ملے گا۔
ابو عمر کی بہن سلمہ نے لو میرج کی تھی۔ اس کا میاں تھا تو ہماری کمیونٹی کا مگر سالا ٹپوڑی۔ پانچ بیٹیاں ایک بیٹا پیدا کیے۔ ہم لوگ نے اپنا کھارادر والا فلیٹ چھوڑا تو یہ سب وہاں رہنے لگے۔ بڑی دونوں بہنوں کی شادی نمٹا چکے ہیں۔ ماں اور بہن نے دوپٹہ قدموں پر ڈال دیا کہ ابو عمر تو نہیں کرے گا تو ہماری بیٹی منیرہ has no future۔ دیکھنے میں اچھی تھی تو جہانگیر بھی آئس کریم بن کر پگھل گیا۔
اب یہ ہے منیرہ اور یہ ہے فیوچر۔ طارق روڈ پر ہمارا پرانا مگر بڑا بنگلہ ہے سارا اوپر کا فلور اس کے پاس ہے۔ اس کو ڈرائیونگ بھی سکھا دی۔ ایک گاڑی تو ایکسیڈنٹ میں ٹوٹل کر دی۔ اتنا تیز چلاتی ہے کہ جیسے ڈکیتی کر کے یا کسی کا پرس موبائل چھین کر بھاگ رہی ہو اور پیچھے پولیس لگی ہو۔ اب اس کو سٹی برانڈ نیو لے کر دی ہے۔ ماں کے گھر میں تھی تو اس کی مرضی والی سائیڈ پر مسلم شاور نہیں لگاتے تھے۔ اس دو کمرے کے چال والے کھارادر کے فلیٹ میں جہاں جلدی ہو تو پڑوسی بھی ٹوائلیٹ میں گھس جاتے تھے۔ یہ دس لوگ رہتے تھے اس کی نانی اور دادی بھی ساتھ۔ دھوبی کو چادر مہینے میں ایک دفعہ دھلنے دیتے تھے۔

کووڈ کے بعد بھارت سے آرڈر کینسل ہوا تو ہم لوگ کو Windfall income ملی۔ گھر میں بیٹے نے بتا دیا کہ ہم نے مانو لاٹری جیتی ہے۔ بس کیا ہے کہ تب سے ضد پکڑ لی کہ ”دوبئی کے علاقے فرجان میں ولا، کراچی میں ڈیفنس فیز آٹھ میں بنگلہ اور اوڈی گاڑی چاہیے۔ میری ساری دوستیں جو فرحت ہاشمی کے موٹی ویشنل لیکچرز میں جاتی ہیں اور سپر فٹ جم میں میل پرسنل ٹرینر رکھتی ہیں۔ سب کے سب سال میں چار دفعہ دوبئی اور ایک دفعہ لندن ضرور جاتی ہیں۔ میں تو طارق روڈ سے لیاری اور لیاری سے طارق روڈ پر گھسٹتی رہتی ہوں۔ ’ان لوگ کے بنگلے میں سوئمنگ پول، جاکوزی سب ہے۔ اشٹائل اور کلاس بھی کوئی چیز ہے۔ ماموں یہ فیکٹری یہ دولت قبر میں لے کر جائیں گے کیا؟“
ہم نے کہا ”اس کا اوڈی والا تلفظ درست نہیں۔ کہنے لگا“ جہانگیر کو بھی آپ والی بیماری ہے۔ بہت لڑائی ہوئی۔ جب اس نے سمجھایا کہ اصل تلفظ آؤو۔ ڈی ہے۔ بیٹے سے بدتمیزی کرنے لگی اتنی فرنچ آتی ہے تو باپ کے لیے دوسری بیوی، پیرس سے لانی تھی۔ نمائش چورنگی کی دو بچوں کی ماں کو بڈھے کے سر کیوں مارا؟
میں نے پردے کے پیچھے یہ ڈائی لاگ سنا تو بہت دکھ ہوا۔ بہن کو کتنا Accomodate کیا ورنہ ایک سے ایک چنیوٹی چھوکری فیس بک اور انسٹا پر کنواری بیٹھی تھی۔ لمز، آئی بی اے، این سی میں بھی بہت تھیں۔ کریزی آفٹر جہانگیر میں اس کو بس اتنا بولا کہ ”آؤو۔ ڈی جرمن لگژری کار ہے۔ کہنے لگی“ ماموں اس کے چار اور اولمپک کے پانچ سرکلز، اندھے کو بھی دکھائی دے جاتے ہیں میری انگلش جرمن فرنچ کی فکر مت کرو؟ ”
میں نے بیٹے کو کہا فیز ایٹ والے بنگلے کو Asset سمجھ۔ اس کی پسند کی آؤو۔ ڈی بھی لے دے۔ طارق روڈ والے گھر کو بہن مریم کو دے دے۔ بہن سے پوچھ کر کمپنی لیز پر چڑھا دے۔ نزہت نقوی والے Fiasco کے بعد میں بھی بہت Heart Broken ہوں۔

ایک فیکٹری Hondarus میں ڈال لیتے ہیں مریم بھی قریب فلوریڈا میں ہے۔ جس پر جہانگیر بولا ’پے (ابو) منیرہ نے خاندان کی ناک کاٹ ڈالی۔ سالی سکھ چھوکرے کی live in girl۔ friend بن کر اوپن ریلشن شپ میں رہتی ہے۔ ایسا پاکستانی چھوکری کو تھوڑی شوبھا دیتا ہے۔ منھ کالا کرنا تھا تو اپنے مسلمان عرب چھوکرے کم ہیں۔ یہاں بھی میاں کو اگنور مان کر پارٹیاں کرتی تھی ”۔ باپ نے جواب نہیں دیا۔ ابو عمر جانتا تھا کہ اس کی جانب سے جو پلان سرسری لہجے میں بیان ہوا تھا وہ جہانگیر کی طرف کل سے عملی جامے پہننے کی طرف گامزن ہو گا۔ جہانگیر بہت منظم دماغ اور کاروباری صلاحیت کا مالک تھا۔
ہمیں نزہت نقوی کا ابو عمر سے تعلقات کا علم اس دن کے شکوہ شکایت سیشن میں ہوا۔
ابو عمر ایسا نہیں کہ ساری بات ایک سیشن میں بتادے۔ ایک رات جب اس کے ہاں مدعو تھے۔ کھانے کے برتن اٹھا لیے گئے اور اس کے کمرے میں کشمیری چائے اور زعفرانی کیسری آئس کریم کا دور چلا تو بتانے لگا۔ بیگم کے انتقال کے بعد ایک سال تک تو was totally lost I
اپنے دفتر سے نکل کر سعید جان محمد کے شہید ملت والے دفتر چلا جاتا تھا۔ ہال میں دس بارہ کا اسٹاف بیٹھتا تھا۔ نزہت کا کیبن سعید کے باہر تھا۔ عبایا۔ بیوٹی، کلرڈ آنکھیں۔ سعید اس کے کیریکٹر کی بہت تعریف کرتا تھا۔ بولتا تھا ”ابو عمر آنکھیں کلرڈ ہونے کے باوجود نیچی نظریں رکھتی ہے۔ میرے سے تنخواہ لیتے وقت بھی یا کوئی پیپر دیتے وقت بھی آنکھ بس ٹیبل پر جمی ہوتی ہے۔ سب بولتے ہیں۔ کیریکٹر ہووے تو نزہت جیسا“ ۔
ابو عمر خود بھی سید منور حسن سابق امیر جماعت اسلامی جیسا لگتا ہے۔ لباس البتہ ان سے بہت بہتر پہنتا ہے۔ پان پراگ جو بھارتی گٹکا ہے اس میں خاص طور پر کشمیر یا ایران کی زعفران ڈلواتا ہے، ہسپانوی زعفران پر اس کا دل نہیں آتا۔

جب ان کے عزیز دوست خلیل صدیقی پرنسپل اپریزر ایکسپورٹ کسٹمز والوں نے بیوی کی موت کے بعد سمعیہ میرانی سے دوسری شادی میں ان کو اپنا گواہ بنایا تو ان کو بھی خیال آیا کہ ’آسماں ٹوٹے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک‘۔
سعید جان محمد کا وہ فقرہ ان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا کہ ”آنکھیں کلرڈ ہونے کے باوجود نیچی نظریں رکھتی ہے۔ میرے سے تنخواہ لیتے وقت بھی یا کوئی پیپر دیتے وقت بھی آنکھ بس ٹیبل پر جمی ہوتی ہے“۔ سعید کی اس بات کی گواہی کی تصدیق کے لیے کسی بہانے سے اسے کہہ کر نزہت کو کمرے میں بلایا۔ عبائے کے باوجود سائیڈ سے نزہت کے خطوط دیکھ کر انہیں لگا کہ ان کی یہ عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے۔ سعید نے جب نزہت سے پوچھا کہ اس کے لیے ایک رشتہ ہے اس سلسلے میں وہ کس سے بات کرے۔ نزہت نے بہت آہستہ سے جواب دیا کہ ہمارے لیے تو مائی باپ ہمارا سیٹھ ہی ہے۔ دین کا حکم بھی بیوہ خواتین کو شادی کے وقت ترجیح دینے کا ہے۔ رشتہ ابو عمر صاحب کا ہے تو میں کل تک اپنی امی کو اعتماد میں لے کر جواب دے دوں گی۔
اگلے جمعے کو ان کا نکاح ہو گیا۔ ابو عمر کو پہلی رات کی حد تک کوئی شکایت نہیں تھی۔ آنکھیں واقعی صندلی تھیں۔ اس میں کوئی جھوٹ نہیں تھا۔ ورنہ اسے بخوبی علم تھا کہ اس کی اپنی بیٹی مریم نے اپنے سکھ بوائے فرینڈ من۔ راج سنگھ کے چکر میں اپنی آنکھوں میں سمندری ہرے رنگ کے لینس پہنا شروع کر دیا تھا۔ باپ نے پوچھا تو کہنے لگی ”ابا جب سے آپ نے مجھے طارق روڈ والا گھر گفٹ کیا ہے اور من راج ملا ہے مجھے سب ہرا ہرا سوجھتا ہے“ ۔ سوجھنا میمنی گجراتی اور ہندی میں دکھائی دینے کو بھی کہتے ہیں۔
سعید نے نزہت کو ہینڈ شیک پر اور ابو عمر سے شادی پر اس کا وکیل بن کر سر پر ہات رکھ کر رخصت کیا تھا۔ شادی بھی اس کے گھر ہی ہوئی تھی۔ ماں کے علاوہ کسی اور عزیز کی عدم شرکت پر ابو عمر کو عجیب لگا مگر نزہت نے اس کی بانہوں میں سمٹ کر اسے کہا ہم سید بھلے سے مسلمان ہو گئے ہوں۔ میمنوں کو تیسری ذات کے ویشیا ہندو ہی سمجھتے ہیں۔ میرے قرابت دار کبھی یہ تسلیم نہ کرتے کہ ہم نجیب الطرفین سیدوں کی ہڈی میں ویشا ہندو گوت والا پیوند لگ گیا ہے۔ ابو عمر نے بھی مذاق میں کہہ دیا کہ پاکستان ہندوستان میں اتنے سید ہیں کہ لگتا ہے سید عورتیں صرف بچے پیدا کرتی تھیں۔ نزہت کو بات اچھی تو نہ لگی مگر اسے خیال ہوا کہ اسے بھی نجیب الطرفین سید کی ہڈی میں ویشا ہندو والے پیوند کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ابو عمر تیسری ذات کا ہندو ہو کر بھی اب تو مسلمان ہے اور اس کا مجازی خدا بھی۔
سہاگ رات ثانی کے اس مست پہر کو جب ابو عمر نے نزہت نقوی پر نگاہ ڈالی تو اسے لگا کہ یہ خطوط ایسے جان لیوا اور آتنک وادی ہیں کہ عبایہ اور دھوبی کی چادر جیسے لان کے پرنٹس انہیں واقعی مسنگ پرسن کی طرح غائب کر دیتے ہیں۔ نائیٹی پینٹی میں نزہت تو دوبئی کے نائٹ کلب بلو کی کوئی بے باک ناری لگتی تھی۔ نزہت کے لطف و کرم کے بادل پانچ رات خوب برسے۔ کوئی انکار نہ تھا، کچھ حجاب و ہچکچاہٹ نہیں۔ ڈاڑھی میں مہندی رنگ اور عود کا عطر لگا ہونے کے باوجود ابو عمر کو لگا کہ کہ سیدہ نزہت نقوی چشم گریزاں والی سعید جان محمد کی سیکرٹری نہیں بلکہ سلمان خان کی فلم اور بستر کے فارم ہاؤس پر جلوے لٹاتی ہیروئن تمنا بھاٹیا ہے اور وہ بھلے عمر میں سلمان خان کے برابر ہو مگر نزہت اب صرف اور صرف اس کی ہے اور آنکھیں کلرڈ ہونے کے باوجود کم از کم اسے آنکھ کھول کر ضرور دیکھتی ہے
نزہت سے اس کے اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے بتایا کہ اس کی سترہ سال کی بیٹی بتول زہرہ ہے اور پندرہ سال کا بیٹا سیدین۔ وہ پندرہ سال کی تھی جب اس کی شادی اپنے کزن سے ہوگئی تھی۔ وہ ایک فوجی ہیلی کاپٹرکے حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ وہ اس میں بطور ٹیکنیشئین فلائی کر رہا تھا۔ سارے فوائد میاں کے گھر والے لے اڑے۔ میں اپنی امی کے پاس سی ایریا۔ لیاقت آباد میں منتقل ہو گئی۔ اجازت ہو تو میں بتول اور سیدین کو ساتھ لے آؤں۔
ابو عمر کو یہ مطالبہ سن کر بہت برا لگا کہ یہ بات نزہت نقوی نے اسے شادی کے وقت کیوں نہیں بتائی۔ ابو عمر کو لگا کہ وہ جو شادی میں والدہ کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کی عدم شرکت یہ سب حکمت عملی کا حصہ تھی۔ اس کا سوال سن کر نزہت نے جواب دیا کہ ایک تو اس نے کچھ پوچھا نہیں دوسرے شادی شدہ عورت چاہے مطلقہ ہو کہ بیوہ بچے تو ہوتے ہی ہیں۔ ابو عمر کی طرف سے تادیر خاموشی اور آنکھوں میں تا دیر کربناک بے یقینی دیکھ کر نزہت نے اس مسئلے کا حل یہ تجویز کیا کہ وہ واپس امی کی طرف چلی جاتی ہے ہفتے اتوار کو آجایا کروں گی جیسا ان دنوں جاپان میں ہوتا ہے۔
ابو عمر کا کہنا ہے اس کے چھوٹے بھائی کا جاپان سے پری۔ اونڈ گاڑیوں کی امپورٹ کا بزنس ہے۔ جاپانی مرد دفتر سے اٹھ کر سیدھا گھر نہیں جاتا۔ بار میں یا اپنی دوست گئیشا کی طرف جاتا ہے رات کو دیر گئے گھر آتا ہے اور اسے ابن انشا کی طرح سجنی سے کوئی بہانا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ گئیشا کا لفظ اردو میڈیم نزہت کے لیے نیا تھا لہذا اس نکتے پر مزید بحث تو نہ ہوئی مگر اسے ابو عمر کی اس بات کا برا لگا کہ ”میں ہفتے میں دو دن والی تین بیویاں کر لوں۔ سنڈے کو ریسٹ کروں“
جب نزہت کے ساتھ ابو عمر کے پہلا ہفتہ گزر رہا تھا اور جسم و جاں کے عذاب دھل رہے تھے۔
دو دن پہلے ہی اپنے کتیانہ میمن اسکول والے بچپن کے دوستوں والے گروپ میں بیٹھ کر بہت بونگیاں ماری تھیں۔ اس کی شادی کو تین راتیں اور چار دن ہوئے تھے۔ رات ہوتی تو نزہت اسے، تائیوان اور چین، تھائی لینڈ کے ساحلوں کے درمیان اٹھلاتا ساؤتھ چائنا سی لگتی تھی جس پر وہ اپنی جسمانی خواہشات اور پورن فلموں سے سیکھی اسپیڈ بوٹس دوڑاتا پھرتا تھا۔ وہ ان سب کو یہ درس ہدایت دیتا کہ ”پیور پریکٹکل گائیڈ اینڈ مینول کے دوسری شادی کرنی ہو، تو Always remember عورت کلرڈ آئیز والی، کراچی کی سید ہو، اردو بولتی ہو اور اس کی زبان پر ”نہ“ یا ”جانو آج رات میرے سر میں درد ہے“ یا ”سویٹ ہارٹ میں کل بھی اسی بستر میں سوؤں گی“ جیسے ریڈی میڈ بہانے نہ ہوں۔ ”
بچپن کے دوست جانتے تھے کہ ایسا کچھ نہیں ابو عمر کی دس سال سے ترسی ہوئی نگاہوں وجود زن سے محروم بانہوں اور روزہ دار بستر کو کو لطف یک جائی کا شرف حاصل نہیں رہا۔ اس کا بستر بغیر کنال کے صحرائے تھل و چولستان بنا رہا ہے۔ اس دوران وہ ان کے ساتھ تھائی لینڈ، لاؤس، کمبوڈیا یا دوبئی بھی کمر سیدھی کرنے نہیں گیا۔ اسے وہ بہرحال چھیڑتے ہوئے جتلاتے کہ
یکم جنوری ہے نیا سال
دسمبر میں پوچھیں گے کیا حال ہے
جس طرح لوگوں کے گھر میں بار ہوتے ہیں۔ ابو عمر کے گھر میں اس کے اپنے کمرے میں آئس کریم بار تھا۔ مختلف خشک میوہ جات حتیٰ کہ چلغوزے والی بھی مل جاتی تھی۔ اس کی کیسری کشمیری زعفرانی آئس کریم ہماری من پسند تھی۔ کھا لو تو لگتا تھا گلے میں مولوی طارق جمیل کی مجلس شروع ہو گئی ہے
یہ کوئی انہونی بات نہیں۔
ہمارے ایک دوست کے ہاں ٹکیلا اور رم کا بہترین کلیکشن ہر وقت موجود رہتا ہے ہیں حالانکہ خود حب میں بنی چین کی بئیر پیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جہاں کا پانی اچھا وہاں کی شراب اچھی اسکاچ وہسکی اس لیے ہی دنیا میں دھوم مچاتی ہے کہ وہاں کا پانی بہت صحت افزا ہے۔
ابو عمر نے اس کی ویک اینڈ وائف والی تجویز سن کر کہا ”میں نے شادی companionship اور حلال سیکس کے لیے کی تھی۔ ایک فیملی پالنے کے لیے نہیں۔ میرے من میں آپ سے بچہ پیدا کرنے کی آرزو ہے۔ وہ اسی کارن اپنے دوست سعید جان محمد سے ناراض رہا کہ اس نے کیوں نہیں بتایا کہ نزہت کے نوجوان بچے ہیں۔
سعید جان محمد نے اسے سمجھایا کہ کلرڈ آنکھ والی پے ور اوہ pure کو پے ور کہتا تھا سید بیوٹی تو ابھی طائف اور تہران میں نہیں ملتی Old man you are so lucky۔ تیرے کو یہاں شہید ملت روڈ پر میرے آفس میں مل گئی۔ شادی سے پہلے کوئی مطالبہ بھی نہیں رکھا وہ تو ابو عمر تو نے حاتم طائی بن کر مہر پچاس لاکھ روپے رکھا، ورنہ میری تو اتنی سنتی ہے کہ شرعی مہر بتیس روپے پچاس پیسے پر پٹ جاتی۔ بچے گھر میں ہوں گے تو اسٹریس کم ہوگی۔ روزی روٹی تو اللہ کی طرف سے بندہ بندے کو تھوڑی کھلاتا ہے۔ یتیم سمجھ کے رکھ لے۔ زیادہ محبت کرے گی۔
ابو عمر نے روہانسے لہجے میں کہا کہ ”ابھی مجھے دوپہر کو پیار آئے تو نزہت کے سر پر پستول رکھنا پڑتا ہے تب جاکر قابو آتی ہے۔ رو رو کہ کہتی مجھے مت مارو۔ جو کہتے ہو۔ دوں گی۔ میرا سب تمہارا ہے۔ بتول زہرہ کی شادی دیکھنی ہے، سیدین کو گوگل میں جاب ملنے تک میں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔
اسے پتہ نہیں کہ یہ کھلونا پستول ہے
بتول زہرہ کے آنے کے بعد یہ ہوا کہ نزہت زیادہ وقت اس کے کمرے میں یا یدین کے کمرے میں گزارتی تھی۔ رات جب کمرے میں آتی تو ابو عمر کا شوق وصال نیند کی درگا دیوی کے ہات میں دم دے رہا ہوتا۔ جب تک اس کے خراٹے بلند نہ ہوتے وہ وہ اپنی نماز عشا کو طول بخشتی۔ ابو عمر پوچھتا کہ اتنی لمبی نماز کس لیے تو کہتی بھلے میرا پہلا میاں ایکٹیو فوجی نہ تھا۔ ہیلی کاپٹر ٹیکنیشن تھا اور ہیلی کاپٹرائر وائس مارشل کی بیگم صاحبہ کی شادی میں شرکت کے لیے انیتا ڈونگرے کے کراچی میں دوبئی سے لائے گئے جوڑے لے کر چک لالہ جا رہا تھا مگر ہماری فیملی کے نزدیک وہ شہید ہے ان لائن آف ڈیوٹی مارا گیا ہے۔ اس کی بخشش کے لیے نفلیں پڑھتی ہوں۔
بتول زہرہ کے آنے کے بعد ایک ماہ تک ابو عمر کو دن میں بہت کم پستول نکالنا پڑا مگر بستر کا مکالمہ بدل گیا تھا۔ اب بتول زہرہ کی شادی کے مطالبے ہوتے تھے۔ اس کے لیے رشتوں کے پہلے سے انبار لگے تھے سو چناؤ کر کے اسے پرایا کرنا ہے۔ بچیاں کچا دودھ ہوتی ہیں۔ گھر کے برتن میں دیر تک پڑی رہیں تو پھٹ جاتی ہیں۔ ابو عمر کو بتول زہرہ کی شادی پچاس لاکھ کی پڑی جس کا ففٹی پرسنٹ مہر کے ایڈوانس پے منٹ نزہت نقوی نے ادا کیا۔
دونوں میں طلاق کی نوبت اس وقت آئی جب سیدین کے لیے نزہت نے بڑے بھائی جہانگیر جیسی فورچیونر دلانے کا مطالبہ کیا۔ ابو عمر کا کہنا تھا کہ انجئینرنگ کالج جانے کے لیے وہ ماں کی کار استعمال کرے یا وین لگا لے۔ کار ہوگی تو نشے چھوکری ہزار لفڑے واندے (میمنی میں مسائل) کرائم۔
نزہت کا کہنا تھا کہ ایک گھر میں اسحق اسماعیل والا سلوک ہو گا تو سیدین کی شخصیت کو بہت نفسیاتی چرکے لگیں گے۔ ناراضگی ہوئی تو سعید جان محمد کی مداخلت پر طلاق کے لیے زیر استعمال جیولری، بیس ہزار مہینہ اور ٹاپ اپ کر کے ایک کروڑ مہر پر جان چھوٹی۔
ابو عمر کو دکھ اس وقت ہوا جب سعید کے پرانے نوکری سے نکالے ہوئے ملازم نے بتایا کہ سعید نے نزہت کو اپنے طارق روڈ والے فلیٹ پر رکھیل بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کام دفتر میں ہی کرتی ہے۔
ابو عمر نے صرف اتنا کہا کہ ضروری نہیں ہر میمنی بولنے والا دوست Sincere ہو اور ہر کلرڈ آنکھوں والی نیچی نظریں رکھنے والی اردو اسپیکنگ سیدہ Loyal بھی ہو۔
دل ٹوٹا تو منیرہ کے پاس ابو عمر چلا گیا۔ اس کے بوائے فرینڈ من راج کے ماموں کا ہنڈارس میں اسٹور تھا۔ دل بہلانے کو اسی نے اپنے غیر شرعی سسر کو ہنڈارس بھیجا۔
ہوندورس دو دوروں میں ابو عمر کو سب سمجھ آ گیا کہ کام صاف ستھرا ہے۔ Puerto Cortes میں فیکٹری ڈالو۔ کراچی سے ٹیکسٹائل بھیجتے ہیں۔ اس میں ایک ری بیٹ تو ایکسپورٹ کا پاکستان سے ملے گا۔ اور دوسرا ڈیوٹی ریلیف ہنڈارس میں ملتا ہے۔
جہاں اس فیکٹری میں ملازم کم سخن تندرست صوفی مزاج لڑکیاں ان فیبرکس کو مختلف ملبوسات کا روپ دیتی ہیں۔ ہنڈارس میں بھتہ نہیں دینا پڑتا۔ ری ایکسپورٹ میٹریل ہونے کی وجہ سے وہاں اسے ڈیوٹی کی چھوٹ کے ساتھ Rebate کا بھی Incentive ہے یوں ایک ہی مال پر دو دفعہ Rebate کمایا پہلے اپنے ملک میں پھر دوسرے ملک میں۔ مانو فیبرک کی لاگت زیرو ہو گئی۔ جب یہ مال امریکہ آئے گا تو یقین کے ساتھ جلدی اور وقت پر پہنچے گا امریکہ میں Hondarus کے مال پر ڈیوٹی آدھی سے کم ہے یوں سستا مان کر بکے گا۔ فیکٹری چل پڑی اور ابو عمر نہال ہو گیا۔
ابو عمر اچھا انسان ہے۔ نزہت کے داماد کا لالو کھیت میں کام ہے۔ یہ دھندا بتول زہرہ کی شادی کے وقت نہ مذکور تھا نہ ظاہر۔ ابو عمر نے پوچھا بھی نہیں۔ نزہت کو وہ پیکنگ میٹریل اور لیبل کا ٹھیکا دے دیتا ہے۔ لیبل اور یہ میٹریل داماد کے ہاں بنتا ہے لیبل پر انگریزی میں لکھا ہوتا ہے
میڈ فار۔ یوایس۔ اے۔ ان۔ ہونڈارس
ان۔ گاڈ۔ وی۔ ٹرسٹ
نزہت اب اکثر دوپہر میں جب ابو عمر یہاں ہو اس کے گھر آجاتی ہے۔ ہم نے پوچھا وہ کھلونا پستول اب بھی استعمال کرنا ہوتا ہے۔ جھینپ کر کہنے لگا نزہت کہتی ”ابو جانی آپ ٹھیک بولتے ہو۔ دھندے سے بڑا کوئی دھرم اور سہولت کار نہیں۔ پیکنگ میٹریل سے مجھے مہینے کے لاکھ روپے مل جاتے ہیں۔ آپ کے گھر سے کون خالی ہات گیا۔ سکھ من راج کو بھی منیرہ مل گئی تو میرا آنا جانا بھی پرانے تعلقات کی روشنی میں نگاہ کرم کا محتاج ہے۔
ہم نے پوچھا کہ سعید جان محمد کا کیا ہوا۔ کہنے لگا فلیٹ نزہت کے پاس ہے وہ وہیں رہتی ہے۔ سعید بھی چکر مار لیتا ہے مگر دفتر میں ایک سواتی سیکرٹری رکھی ہے۔ وہ بات کرتے وقت ٹیبل تو نہیں دیکھتی مگر اس کی آنکھیں نزہت سے زیادہ کلرڈ ہیں۔








واہ۔
ایک بار پڑھا ہے بار بار پڑھنے کی ہوس ہے۔
دیدار سے بچے ہمارے آل راؤنڈر عبدالرزاق بھی ببلی باؤنسر تمنا بھاٹیہ کے جال میں پھنستے بال بال بچے تھے۔
سریلی انکھیوں والی سارا خان شادی شدہ اور بال بچے داربچی ہے اس کی تصویر کی وجہ تسمیہ سمجھ نہیں آئی