بارہ من کی دھوبن اور رادھیکا کے توڑے
خبریں تو بہت ہیں۔ پہلگام کا غبار ابھی بیٹھا نہیں۔ مشرقی سرحد پر تناؤ موجود ہے۔ دونوں ممالک کی خبر منڈیوں میں سنسنی فروش صحافیوں کی چاندی ہے۔ فرق شاید یہ ہے کہ بھارت میں صحافتی شور کے شانہ بشانہ سفارتی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں۔ نریندر مودی نے درجن بھر عالمی رہنماؤں سے فون پر بات کی ہے۔ دہلی میں سو سے زائد سفارت خانوں کے وفود کو بھارتی دفتر خارجہ میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں یہ اطلاع اہم ہے کہ بھارتی سفارت کاری دو نوں ممالک میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے نہیں بلکہ بھارت چاہتا ہے کہ عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف کسی بڑے اقدام پر قائل کیا جا سکے۔ اس میں یہ مشکل درپیش ہے کہ پہلگام واقعے میں بھارت اب تک نہ تو حملہ آوروں کی ٹھیک تعداد کا تعین کر سکا ہے اور نہ ان کی شناخت کی جا سکی ہے۔ لائن آف کنٹرول سے 175 کلومیٹر پرے اس حملے کا پاکستان سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا جا سکا۔ بھارتی وزیراعظم بھی اپنی شعلہ بیانی میں براہ راست پاکستان کا نام لینے سے گریزاں ہیں۔ لے دے کے بھارتی حکام کے پاس ماضی کے کچھ واقعات کا حوالہ رکھا ہے۔ مغربی سفارت کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی کی بنیاد پر دو ہمسایہ ممالک میں کسی فوجی تصادم کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں البتہ نچلی سطح کی قیادت کے کچھ نمائشی بیانات ہیں۔ ایک دو دوست ممالک کی طرف سے ثالثی کی پیشکش ہے۔ دنیا اس وقت غزہ، یوکرین اور تجارتی جنگ جیسے معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔ دہلی کے ساؤتھ بلاک میں یہ خوش فہمی پائی جاتی ہے کہ ’موجودہ عالمی صورتحال میں دنیا کو جنوبی ایشیا میں دلچسپی نہیں ہو گی‘ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے نیاز رائے زنی سے قطع نظر دنیا ایٹمی صلاحیت رکھنے والی پونے دو ارب آبادی کے تصادم سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ تاہم پاکستان اور بھارت میں کسی عسکری تصادم کے بے قابو ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
دوسری طرف تین روز میں مغربی سرحد پر دراندازی کرنے والے 75 طالبان مارے گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں حسن خیل کے مقام پر 54 طالبان پاکستان میں گھسنے کی کوشش میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے ملک دشمن عناصر کی دیدہ دلیری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال پوچھنا تو خیر قومی مفاد کے منافی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی لگائی باڑ موثر کیوں ہے؟ 2017ء سے افغان سرحد پر 2400 کلومیٹر طویل آہنی باڑ لگانے کی ہماری خبروں کی حقیقت کیا یہی ہے کہ چمن سے طورخم تک نقاب پوش جگہ جگہ نقب لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ایسے حملوں کی پیش بندی میں قابل ذکر کامیابی ہوئی ہے تاہم غیر متناسب لڑائی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر منظم فوج چھاپہ مار گروہوں کو مکمل طور پر تباہ نہیں کرتی تو اسے چھاپہ مار عناصر کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ یہ امکان بعید از قیاس نہیں کہ بھارت براہ راست کسی قابل ذکر اقدام کی بجائے افغانستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعے پاکستان کو ایک سے زیادہ محاذوں پر الجھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اسی سے منسلک خبر ہے کہ کوئٹہ کے شمال میں صنوبر کے گھنے جنگلات سے ڈھکے ضلع زیارت سے سات افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ کچھ خبر نہیں کہ یہ کن خاک نشینوں کے لاشے ہیں۔ مقامی افراد ہیں یا دہشت گرد۔ سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں یا ہتھیار بند باغی گروہوں کا نشانہ بنے ہیں۔ بار بار عرض کی گئی ہے کہ بلوچستان میں بدامنی اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے سیاسی عناصر کے ساتھ گفت و شنید ہونی چاہیے اور ہتھیار بند گروہوں کے خلاف طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز سیاسی پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے طاقت پر بھروسا کر رہے ہیں۔ اس یک رخی پالیسی کی مخالفت کرنے والوں کا نقطہ نظر ایک نہایت حساس معاملے پر درست ثابت ہوا ہے۔ نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف سندھ میں ردعمل کے پیش نظر عرض معروض کی تھی کہ پانی پر سندھی ہم وطنوں کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے سیاسی سطح پر معاملات سلجھانے کے لیے قومی مفادات کی کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے۔ یہ اجلاس 2 مئی کو طلب کیا گیا تھا تاہم معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 28 اپریل ہی کو طلب کر لیا گیا اور وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاق کے اس اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے نے سندھ حکومت کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے چھ نئی نہروں کی تعمیر روک دی ہے۔ اس ضمن میں اب تک ہونے والی دستاویزی کارروائی منسوخ کرتے ہوئے صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ سیاسی قیادت کا مدبرانہ اقدام ہے۔ پاکستان معاشی، سیاسی اور قومی سلامتی کے موجودہ مسائل میں ایک نیا تنازع کھڑا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک پاک بھارت کشیدگی کا تعلق ہے، درویش کی عمر کو پہنچنے والوں کو ہمارے گلی کوچوں میں گھومنے والا ایک کردار یاد ہو گا جو چند پیسوں کے عوض بچوں کو سیربین کہلانے والے ایک ڈبے میں جھانکنے کی اجازت دیتا تھا اور اپنی دھیمی آواز میں بے ربط مناظر دہراتا تھا۔ کہیں بادشاہ کا دربار دکھاتا تھا تو کہیں بارہ من کی دھوبن۔ ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا کہ لوہے کے اس گول ڈبے میں ٹوٹی ہوئی رنگین چوڑیاں رکھی تھیں اور بارہ من کی دھوبن ہمارے اپنے تخیل کا کرشمہ تھی۔ 2004ء کے بعد سے بھارتی کشمیر میں دراندازی کی شدت ختم ہو چکی۔ البتہ بھارت کی داخلی سیاست اسے اپنے عوام کے لیے اسی طرح زندہ رکھے ہوئے ہے جیسے سیربین والا بوڑھا ہمیں بارہ من کی دھوبن دکھاتا تھا۔ پاکستان کے داخلی معاملات میں سندھ طاس کے نازک زاویوں پر سیاسی حکمت عملی کی کامیاب پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ہر مسئلے پر کمان میں بان جوڑنا مناسب طریقہ نہیں۔ سیاسی عمل وہ محاوراتی ’نو من تیل‘ ہے جس کے بغیر امن اور خوشحالی کی رادھیکا رقص نہیں کر سکتی۔ ظفر اقبال کا ایک خوبصورت شعر دیکھئے۔
سب مورچے باندھے ہوئے بیٹھے ہیں چھتوں پر
دروازہ ہے ٹوٹا ہوا، دالان ہی نشتے


چند باتیں معلومات کے لئے:
2017ء سے افغان سرحد پر 2400 کلومیٹر طویل آہنی باڑ لگانے کی ہماری خبروں کی حقیقت کیا یہی ہے کہ چمن سے طورخم تک نقاب پوش جگہ جگہ نقب لگانے کی کوشش کرتے
ڈیورنڈ لائن مکمل میدانی یا ہموار سرحد نہیں ہے۔ اونچی نیچی ، ناہموار پہاڑیاں، گڑھے، گھاٹیاں اور درے، ساتھ دریائے کرم، گومل، کابل اور سوات کے پانی۔
سرحد کے دونوں طرف آباد علاقوں میں متعدد ایسے گھر بھی موجود ہیں جو زیرزمین سرنگوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تو 2400 کلومیٹر آہنی باڑ نہ تو مکمل موجود ہے اور نہ مکمل محفوظ۔
باڑھ بعض جگہ موجود ہے لیکن پہرہ دینے والے سنتری پوری پٹی پر 24/7 موجود نہیں ہوتے تو بارش رات یا کسی بھی وقت ان باڑھ کو کاٹ کر کوئی بھی آسکتا ہے۔
دہشت گرد تو بہت بعد کی بات ہے ان علاقوں کے درمیان گاڑیوں کی اسمگلنگ بھی اب تک نہیں رک سکی ہے۔ بس کم ہوگئی ہے۔
سو یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔
–
انڈیا اور پاکستان کے درمیان بالخصوص لائن آف کنٹرول اور کشمیری علاقوں میں بھی ہرجا کہ باڑھ موجود ہے لیکن سینکڑوں کلومیٹر سے بھی زائد علاقہ دلدلی ہے یا دریا سرحد کا کام انجام دے رہا ہے۔ اس میں چناب، ستلج راوی یا نیلم یا نہیں سر کریک میں سمندری پٹی بھی ایسی ہی ہے۔
اسی طرح انڈیا کا اپنے جاسوسوں کو پاکستان میں داخل کرنے کا پسندیدہ راستہ یہ سرحدی مقام نہیں بلکہ سندھ بلوچستان کے ساحلی راستوں، افغان یا ایران کی سرحدیں زیادہ ہیں۔
جب کہ پاکستانی غالب امکان ہے پہلے نیپال سے انڈیا میں داخل ہوتے تھے اب شاید بنگلہ دیش سے بھی داخل ہونے لگے ہونگے۔
بارہ من کی دھوبن سے یاد آیا کہ اقلیتوں کے حوالے سے ہماری ملکی تاریخ کے ایک کردار "جگن ناتھ ازاد” بھی تھے۔ جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کا کلام کچھ عرصے تک پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ ہرجاء کہ اس کو رد کرنے والے بھی بے شمار ہیں۔
–
جگن ناتھ آزاد سن 2004 میں 86 برس میں انڈیا میں سرمہ خاک ہوئے۔
–
آزاد کی شاعری میں کئی خوبصورت نظمیں شامل ہیں ان میں ایک "تماشے والا” بھی شامل ہے۔
بچپن میں لکھنوء سے میرے تایا سید فیض علی نوشہ اور پھوپھی حوا خاتون (دونوں کو دیکھنے اور ملنے کی حسرت ہی رہی) بچوں کا رسالہ "ٹافی” نکالتے تھے۔ 1969 کے اچھے دن تھے کہ لکھنوء کے رسائل کراچی تک پہنچ جاتے تھے۔ ساتھ محبت یادیں اور خلوص بھی کہ یہاں سب اچھا ہے۔
–
اسی ٹافی میں جگن ناتھ آزاد کی نظم تماشے والا بھی پڑھی تھی جس میں بارہ من کی دھوبن کا تذکرہ تھا۔
یہ کلائیڈو اسکوپ تماشے والا بعد میں گلیوں اور میلوں ٹھیلوں میں متعدد بار گھر کے برتنوں پر قلعی کرانے والوں کے ہمراہ اکنی دکھا کر دیکھا۔
–
آپ اور جگن ناتھ آزاد کے نام ان کی نظم "تماشے والا” :
–
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو
نظارے دکھلانے والا
–
جگ کی سیر کرانے والا
ڈبہ اپنے سر پہ اٹھائے
–
گلی گلی میں جانے والا
آج تمہارے گھر کے باہر رنگ جمانے آیا
–
دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو
–
اس نے ڈبہ لا کر رکھا
تم نے اک شیشے میں جھانکا
–
تصویروں پر تصویریں ہیں
بلی کتا مینا طوطا
–
کھیل تماشے والا اک سنسار بسانے آیا
دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
–
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو
کتنا اچھا رنگ جمایا
–
ایک ذرا سا پیچ گھمایا
تم نے چاندنی چوک کو کھو کر
–
کلکتے کے شہر کو پایا
سر پہ اٹھا کر کلکتے کا شہر دکھانے آیا
–
دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو
–
آگرے آؤ تاج کو دیکھو
کل کو دیکھو آج کو دیکھو
–
چاہو اگر تو یورپ جا کر
افرنگی کے راج کو دیکھو
–
تم کو سیر سپاٹے کا شوقین بنانے آیا
دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
–
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرو
گاڑی لایا انجن لایا
–
پیرس لایا لندن لایا
گٹھڑی اپنے سر پہ اٹھائے
–
بارہ من کی دھوبن لایا
جتنے روتے بچے تھے ان سب کو ہنسانے آیا
–
دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
اور جب بات رادھا گویا رادھیکا کی آئے تو کشور ناہید کی ایک غزل پیش ہے۔
–
بگڑی بات بنانا مشکل بگڑی بات بنائے کون
کنج تمنا ویرانہ ہے آ کر پھول کھلائے کون
–
تن کی دولت من کی دولت سب خوابوں کی باتیں ہیں
نو من تیل نہ ہو تو گھر میں رادھا کو نچوائے کون
–
اپنا غم اب خود ہی اٹھا لے ورنہ رسوائی ہوگی
تیرا بھید چھپا کر دل میں ناحق بوجھ اٹھائے کون
–
چلتی گاڑی نام کا رشتہ کیا موہن کیا رادھا آج
بن کے سنور کے راس رچا کے موہن آج منائے کون
–
ساگر پار کی خبریں دیکھے ہمسائے کا پتا نہیں
آج کا انساں عالم فاضل اس کو اب سمجھائے کون
–
ناامیدی نام تمنا اپنا مقدر ہجر مسلسل
درد کے خارستان میں آ کے دامن دل الجھائے کون
–
رات بھی کالی چادر اوڑھے آ پہنچی ہے زینے میں
مہندی لگائے بیٹھی سوچے لٹ الجھی سلجھائے کون
–
برادرانہ شفقت پر شکرگزار ہوں