مقیّد مسکراہٹ


گرمیوں کے دن اپنے عروج پر تھے۔ صبح کی دھوپ بھی تیز محسوس ہوتی تھی۔ سکول کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں۔ میٹرک کا امتحان ہو چکا تھا، بستہ ایک طرف رکھ دیا تھا، اور دل میں ایک عجب سکون اتر آیا تھا۔ کہتے ہیں کالج کی زندگی میں آزادی ہوتی ہے، اور یہی سوچ کر میں خود کو آزاد محسوس کر رہا تھا، خوابوں سے بھرپور ایک موسم کی طرح۔

ان ہی دنوں کی ایک سہ پہر میرے بڑے بھائی نے مجھے آواز دی،
”سنو! تم نویں کلاس کی ایک لڑکی کو ٹیوشن پڑھا سکتے ہو؟“
”ہاں کیوں نہیں؟ کون ہے؟“

”نام مریم ہے۔ اُسے میں پڑھا رہا تھا، لیکن اب چونکہ میں یونیورسٹی کے ہاسٹل منتقل ہو رہا ہوں، تو تم سنبھال لو۔“

میں نے جھٹ سے ہامی بھر لی۔ ویسے بھی میں کلاس میں اکثر دوستوں کو ٹیسٹ کی تیاری کرواتا تھا، اور اساتذہ کی نظر میں سمجھ دار اور محنتی طالبعلم مانا جاتا تھا۔ دل میں خیال آیا، ”نویں جماعت کی لڑکی کو پڑھانا کیا مشکل ہو گا؟“

مریم کا گھر ہمارے محلے میں ہی تھا، ایک بڑی کوٹھی جس کے اطراف اونچی دیواریں اور اُن پر خار دار تاریں تھیں۔ باہر سے ہی ایک خاموش سا رعب محسوس ہوتا تھا۔

پہلی بار جب وہاں گیا، دروازہ اُس کے والد نے کھولا۔ درمیانی عمر کے سخت مزاج کشمیری صاحب تھے۔ مجھے اندر بلانے کی بجائے لان میں ہی روک لیا۔

انہوں نے پوچھا، ”کون سی کلاس میں ہو؟“
”میں نے ابھی دسویں پاس کی ہے، انکل۔“
”دوست کیسے ہیں تمہارے؟ کیا کرتے ہو شام کو؟“

سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔ میں صرف سولہ سال کا تھا، میرے جوابات میں سادگی تھی، مگر وہ مطمئن دکھائی دیے۔ آخرکار بولے، ”کل سے آ جاؤ۔“

اگلے دن جب میں پہنچا، دروازہ ایک بچے نے کھولا، اس کی عمر شاید دس سال رہی ہوگی۔ خاموشی سے مجھے ڈرائنگ روم میں لے گیا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد ، مریم داخل ہوئی۔ دبلی پتلی، سر پر دوپٹہ، چادر میں لپٹی، کتابیں سینے سے لگا رکھی تھیں۔

”سلام سر،“ اُس نے آہستہ سے کہا۔
”وعلیکم السلام۔“ میں نے پہلی بار سنا کہ کسی نے مجھے ”سر“ کہا ہو۔ عجیب سا فخر محسوس ہوا۔
وہ کھڑی رہی۔ میں نے کہا، ”بیٹھ جاؤ۔“
وہ دھیرے سے بیٹھ گئی۔ اُس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، جیسے جذبات کہیں چھپے ہوں۔

پھر وہی لڑکا جس کا نام یوسف تھا، چائے اور بسکٹ لے آیا اور ایک طرف بیٹھ کر خاموشی سے پزل کھیلنے لگا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ صرف چھوٹا بھائی نہیں، بلکہ نگرانی کرنے والا ”چپ سادھو پہرہ دار“ بھی ہے۔

میں نے مریم سے پوچھا، ”کون کون سے مضامین مشکل لگتے ہیں؟“
”انگلش اور کیمسٹری،“ اُس نے آہستگی سے کہا۔

میں نے انگریزی کے قواعد و ضوابط سمجھانے شروع کیے، افعال، اسم، جملے کی ساخت۔ پھر کیمسٹری کے سوالات پر آئے۔ وہ ہر بات کو غور سے سنتی، جواب مختصر ہوتے، آواز ہلکی، بات چیت کم۔ ہر روز یہی ماحول ہوتا۔

ایک دن جب گیا، دروازہ نہ کھلا۔ اگلے دن پوچھا، ”کل کیا ہوا تھا؟“
مریم نے کہا، ”یوسف کی طبیعت خراب تھی۔“
تب سمجھ آیا کہ یوسف کی موجودگی کے بغیر مجھے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ مریم ہر کام وقت پر مکمل کرتی، پڑھائی میں دلچسپی لیتی، لیکن چہرہ ویسا ہی سپاٹ رہتا۔
پھر ایک دن وہ لمحہ آیا، جو شاید میری محنت کا انعام تھا۔
”سر، انگلش کے ٹیسٹ میں مجھے کلاس میں سب سے زیادہ نمبر ملے ہیں!“
اور پھر پہلی بار، وہ مسکرائی۔
ایک ہلکی سی، صاف، اور خوبصورت مسکراہٹ۔ جیسے کسی قید سے آزاد ہوئی ہو۔
ارے واہ، شاباش کہہ کر میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو آج بالکل الگ نظر آ ریا تھا۔

اُس دن کے بعد اُس کے لہجے میں زندگی آ گئی۔ وہ سوال کرتی، کبھی کبھار ہنستی بھی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ کھل رہی ہے، جیسے کوئی پھول دھوپ دیکھ کر کھل جائے۔

کچھ دن بعد کلاس ختم ہوئی تو اُس کے والد آئے۔ ”ہم مریم کی کارکردگی سے خوش ہیں، اور تم ایک مہذب لڑکے ہو۔“

یہ کہہ کر ایک لفافہ میرے ہاتھ میں دیا۔

اگلے دن محلے کے لڑکوں نے کرکٹ میچ رکھا ہوا تھا۔ ٹیم کے پاس صرف ایک بیٹ تھا۔ میں نے وہی لفافے والی رقم نکالی، دوستوں کے ساتھ گیا اور جناح اسپورٹس بندر روڈ سے نیا بیٹ خرید کر لایا۔

میچ کی رات ہم نے بجلی کے تاروں سے لائٹس جوڑ کر میدان روشن کیا۔ لوگ بھی جمع ہو گئے۔ میچ دلچسپ تھا، میں بغیر رن بنائے آؤٹ ہو گیا، مگر ہماری ٹیم جیت گئی۔

اگلے دن میں معمول کے مطابق پڑھانے گیا۔ دروازہ اُس کے والد نے کھولا، چہرہ سخت تھا۔
”اب آپ کو آنے کی ضرورت نہیں۔“
”کیا کچھ ہوا انکل؟“
”ہمیں لگتا ہے صرف انگلش بہتر ہوئی ہے۔ باقی کچھ خاص نہیں۔“
دروازہ بند کر دیا۔ وضاحت کی گنجائش نہ دی۔
میں ساکت رہ گیا۔ جانتا تھا وہ حقیقت بیان نہیں کر رہے۔ کچھ نہ کچھ اور بات تھی۔
جب واپس مڑنے لگا، یوسف گیٹ پر کھڑا ملا۔
”باجی نے کہا ہے وہ شرمندہ ہیں۔ اُنہیں اچھا نہیں لگا جو ہوا۔“
میں نے پوچھا، ”ایسا کیا ہوا تھا، یوسف؟“
وہ دھیرے سے بولا، ”ہم کل چھت سے میچ دیکھ رہے تھے، بابا نے دیکھ لیا۔“
میرے قدم رک گئے۔ دل بیٹھ گیا۔
شاید وہ سمجھ بیٹھے کہ میں مریم کو بگاڑ رہا ہوں۔ شاید ایک معصوم سی مسکراہٹ بھی ان کے نزدیک جرم تھی۔
راستے بھر خاموشی میرے ساتھ رہی۔

مگر دل میں ایک اطمینان ضرور تھا، کہ ایک سہمی ہوئی، خاموش، قید میں لپٹی لڑکی نے میرے سامنے پہلی بار مسکرانا سیکھا تھا۔

اور میرے لیے، وہی کافی تھا۔

Facebook Comments HS