نہروں کا معاملہ: ناکامی کے طعنے سہنے والی پارٹیاں پھر ناکام ہوئیں؟


گزشتہ کئی دنوں سے سندھ میں نہروں کا معاملہ تمام معاملات پر چھایا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کے لیے دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر بنی۔ جس کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر میدان گرماتے ہوئے سندھ میں روزمرہ زندگی کا کاروبار ہی ٹھپ کر دیا۔ بے شک پانی کا معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لیکن کیا نہروں کا معاملہ حل کرانے کے لیے یہی آخری راستہ تھا جو اختیار کیا گیا؟

صحافت اور سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے سیاسی ناسمجھی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو جس طرح اٹھایا، وہ اتنی بڑی جدوجہد کا متقاضی ہی نہ تھا بلکہ اس معاملے کو آسان اور سیدھے طریقے سے حل کرنے کے لیے اور بھی کئی آئینی، قانونی اور سیاسی راستے موجود تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ تمام جماعتیں جنہوں نے اس معاملے کے آغاز میں مشعل برداری کا کردار ادا کیا، ان میں سے اکثر پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والی اور پیپلز پارٹی مخالف سیاسی اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے ) کا حصہ تھیں اور جی ڈی اے وفاقی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی اتحادی تھی۔

لہٰذا نہروں کے معاملے پر جس طرح پیپلز پارٹی جا کر نون لیگی قیادت سے بات کر سکتی تھی، وہی باتیں پی پی پی مخالف سیاسی جماعتیں بھی کر سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے سندھ اور قومی اسمبلی میں آواز اٹھانے سمیت یہ پارٹیاں سیاسی ریلیوں اور جلسوں میں اپنی طاقت کا مظاہروں اور وفاق کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس معاملے کا منطقی حل تلاش کر سکتی تھیں۔ اگر وہ ایسی حکمت عملی اختیار کرتیں تو شاید پیپلز پارٹی اس سارے معاملے میں صوبائی حکومت رکھنے کے باوجود بے بس ہو جاتی۔ لیکن ان جماعتوں نے ایسا نہ کیا اور اپنی سیاست کا سارا زور سڑکوں پر جوشیلی تقریروں اور جذباتی نعروں پر لگاتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید اور الزامات کے انبار لگانے پر دیا۔

نہروں کی مخالف اس تحریک کے دوران سیاسی جماعتوں کی حکمت عملیوں کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ میں سیاسی جماعتیں آج تک نفسیاتی طور پر خود کو 80 کی دہائی اور ضیاء الحق کے آمرانہ دور کی احتجاجی سیاست سے باہر نہیں نکال سکیں ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے اکابرین آج بھی سمجھتے ہیں کہ احتجاج، سڑکیں بند کرنا، کارکنوں پر لاٹھیاں برسوانا، ان کی زندگیاں جیلوں کی نذر کرنا، جذباتی نعرے لگانا اور جوشیلی تقاریر کرنا ہی ان کی سیاسی کامیابی کی ضمانت ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ تقریباً اٹھارہ سالوں سے ملک میں کوئی آمر براہ راست حکمران نہیں بنا ہے۔ اس کے برعکس ملک میں لولا لنگڑا ہی سہی، لیکن جمہوری نظام رائج ہے اور 40۔ 45 سال قبل آمریت کے خاتمے کے لیے بنائی گئی ان کی سیاسی حکمت عملیاں بھی اب متروک ہو چکی ہیں۔ اس وقت سامنے جو قوتیں نظر آتی ہیں وہ سیاسی ہیں جو معاملات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے سیاست اور بات چیت کو ترجیح دیتی ہیں اور آمریت بھی اپنا روپ بدل کر بالواسطہ کے بجائے بلاواسطہ آمریت یعنی ”ہائبرڈ رجیم“ کا لبادہ اوڑھ چکی ہے۔

ایسی صورتحال میں اسے اس حکمت عملی سے شکست نہیں دی جا سکتی جو حکمت عملی ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے خلاف اختیار کی گئی تھی لیکن یہ بات اور دور حاضر کی سیاسی ضروریات ان کی سمجھ میں نہیں آتیں، اس لیے نہروں کے معاملے پر ہی انہوں نے جو تحرک پیدا کیا، جب وہ تحریک کی شکل اختیار کرنے لگا تو وہ سب جو اس تحریک کے سرکردہ رہنما ہونے چاہیے تھے غیر متعلقہ بن گئے اور تحریک کی باگ ڈور کسی اور جگہ منتقل ہو گئی۔

”ہائبرڈ رجیم“ کے دور میں 80 کی دہائی کی سیاسی حکمت عملیوں کے تحت سیاست کرنے والی جماعتوں کے سربراہان کی دوسری غلطی یہ بھی ہے کہ وہ جمہوری حکمرانوں کے خلاف بھی وہی رویہ اختیار کرتی ہیں جو وہ آمروں کے خلاف روا رکھتی تھیں۔ لیکن جب وہ ایسا کرتی ہیں تو وہ بھول جاتی ہیں کہ وہ خود بھی سیاستدان ہیں اور اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو یہی میدان ہے اور یہیں مقابلہ ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ مخالف سیاستدانوں اور آمروں کے خلاف یکساں رویہ اختیار کرنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ انہیں سیاسی نظام پر یقین ہی نہیں، جس کی وجہ سے لاعلمی میں وہ اپنے کارکنوں اور عام ہمدرد عوام کو سیاسی نظام سے بدظن کر دیتے ہیں۔ ان کے ایسے رویے کے سبب عام آدمی کا سیاسی عمل سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ نہروں کے معاملے پر ببرلو میں دیے گئے دھرنے سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جہاں ہم سب نے الٹی گنگا بہتی دیکھی۔

پوری دنیا میں سیاسی قوتیں سیاسی تحریکوں کی قیادت کرتی ہیں اور پھر طلبہ، ادیب، فنکار، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ان تحریکوں سے جڑ جاتے ہیں۔ لیکن ببرلو میں جھنڈے تو ان کی پارٹیوں کے تھے، لیکن وہ خود کہیں بھی موجود نہ تھے۔ کارکن تو ان کے ہی تھے، لیکن نعرے ان کے نہ تھے۔ وہاں ایک ہی نعرہ تھا کہ یہ دھرنا غیر سیاسی ہے۔

آپ پوچھیں گے کہ یہ دھرنا غیر سیاسی کیوں ہے؟ اس کا جواب سادہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو سیاست، سیاسی عمل اور سیاسی نظام پر یقین ہی کرنے نہیں دیا تاکہ وہ فخر سے کہہ سکیں کہ یہ جلسہ سیاسی ہے اور یہ لوگ کسی سیاستدان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔

دیکھا جائے تو ان سیاسی جماعتوں کی ناسمجھی سیاسی میدان میں بھی انہی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ میری رائے میں انتخابی سیاست میں ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ بھی ملک کے سیاسی نظام پر ان کا عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے اس نظام کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کے ذہنوں میں اس نظام کے خلاف مایوسی پیدا کی ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون یا پھر پی ٹی آئی، ان کو حکومتیں بنا کر دی جاتی ہیں۔ انہیں انتخابات جتوائے جاتے ہیں۔

سیاسی عمل کا حصہ بننے، سیاسی جنگ لڑنے کر اپنی جگہ بنانے کے بجائے نظام کو مسترد کر کے مایوسی پھیلانے کا نتیجہ انہیں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کی پھیلائی گئی مایوسی کے نتیجے میں جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو نظام سے مایوس ان کے کارکن اور حامی پورے سیاسی ماحول سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشین ہو جاتے ہیں اور اس کا سیدھا فائدہ ان کے سیاسی مخالف کو ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی پر جتنی بھی تنقید کریں لیکن انہوں نے ہمیشہ سیاسی نظام پر یقین رکھا ہے اور اپنے ووٹر اور حامی کو ہمیشہ یہ باور کرایا ہے کہ وہ ان کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اس کی مثال انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کے جوش و خروش سے باآسانی دی جا سکتی ہے۔ سیاسی نظام پر اعتماد کے نتیجے میں چاہے آئی جے آئی بنائی جائے، کارکنوں اور قیادت کو جیلوں میں ڈالا جائے، پوری طاقت سے پیپلز پارٹی کے ہر طرح سے راستے روکے جائیں، لیکن وہ جیسے تیسے کر کے ایوان تک اپنا راستہ بنا کر دکھاتے ہیں۔

ن لیگ پر کتنے ہی الزامات ہوں، قیادت کی گرفتاریاں، جلاوطنی اور نا اہلی کے فیصلوں کے باوجود وہ بھی اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں۔

اسی طرح پی ٹی آئی سے ہزار اختلاف ہوں، لیکن جب ان کی پارٹی سے نشان تک چھین لیا گیا، جب ان کی پوری قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا، سیاسی میدان پر ان کے تمام راستے بند کر دیے گئے، تب بھی آزاد امیدواروں کی حیثیت سے ہی سہی، لیکن انہوں نے ایوانوں تک پہنچنے کا راستہ بنا لیا۔

یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ ان کے کارکنوں اور حامیوں کو اس نظام پر یقین تھا اور انہوں نے، جیسا بھی ہو، اس نظام کو قبول کر کے اس میں اپنی جگہ بنائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی سیاستدانوں اور سیاست کی کامیابی ہے بھلے سارے راہیں معدوم ہوں بند ہوں، چاہے ہزار مشکلات ہوں لیکن آپ اپنا راستہ بنا لیں۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایم آر ڈی کے دوران جب ضیاء الحق کے دور میں جونیجو حکومت کی جانب سے 1987 میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تو شہید بینظیر بھٹو نے اس وقت اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کریں۔

پیپلز پارٹی کے اس فیصلے پر ایم آر ڈی کی باقی قیادت ناراض ہو گئی اور انہوں نے پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کی مخالفت کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جونیجو حکومت کے اعلان کردہ انتخابات میں حصہ لینا اس غیر آئینی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، لیکن بینظیر بھٹو نے اپنا واضح موقف رکھتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکنوں کے لیے آٹھ سال تک سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد اب انتخابات کی تیاری کا تجربہ انتہائی ضروری ہے اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی یہ تیاری ملک میں آئندہ عام انتخابات میں بھی جان ڈال دے گی۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو بھی اب سندھ میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے کارکنوں کو سیاسی تیاری کروانی چاہیے۔ گزشتہ اٹھارہ سال سے ملک میں انتخابات کے ذریعے حکومتیں بن رہی ہیں۔ پہلی بار اقتدار پر کسی آمر کے قبضے کے بجائے کوئی وزیر اعظم عدم اعتماد یعنی ایوان سے ووٹ کے ذریعے گھر بھیجا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی نظام چلتا رہا ہے۔

تو پھر ہماری سندھ کی جماعتوں کو بھی آمریت کے خلاف جدوجہد اور احتجاج والی سیاسی نفسیات کو خیرآباد کہہ کر اپنے کارکنوں کو انتخابی سیاست کی تربیت دینی چاہیے اور اس نظام پر ان کا اعتماد بحال کراتے ہوئے انہیں یہ باور کرانا چاہیے کہ وہ اسی نظام میں آ کر ہی اس نظام کو درست کر سکتے ہیں اور یہ بھی ایک جھٹکے میں معجزاتی یا انقلابی طریقے سے ممکن نہیں ہو گا بلکہ آہستہ آہستہ بالکل ارتقائی اصول کے تحت ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS