یوم مئی 2025 کی مناسبت سے


شہدائے شکاگو ( 1886 ) کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کو حقیقی معنوں میں خراج عقیدت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی مزدور تحریک سے اظہار یکجہتی کے لیے چند سطور پیش خدمت ہیں۔ پیدائش دولت کے تمام ذرائع یا مآخذ جس میں کان کنی، کھیت کھلیان، صنعت و تجارت اور دوسرے زمینی، ہوائی و سمندری وسائل سے لے کر کر تہذیب و تمدن، علم و ہنر، سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام ارتقائی مرا حل کو عام انسانوں نے ہی اپنی محنت اور خون پسینے سے سینچا ہے۔ یونانی فلاسفہ سے لے کر جدید عہد کے فلاسفہ یا اہل علم، مسلم سائنس دانوں سے لے کر عہد جدید کے سائنس دان جنہوں نے دنیا کو علم، حقوق کے شعور اور آسائشات سے روشناس کروایا یہ تمام لوگ مزدورں کے بیٹے یا بیٹیاں تھے اور طبقاتی طور پر خود بھی مزدور ہی تھے۔ واضح رہے کہ مزدور کی تعریف کے بارے میں خاصے فکری ابہام موجود ہیں مثال کے طور پر پرولتاریہ، صنعتی مزدور، ٹریڈ یونین میں منظم مزدور، دیہاڑی دار مزدور، کھیت مزدور وغیرہ۔ یہاں ہماری مزدور سے مراد ہر وہ شخص ہو سکتا ہے جس کے پاس سوائے اپنی جسمانی و ذہنی محنت فروخت کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار یا وسیلہ نہ ہو۔ اس لحاظ سے سرمایہ دار، زمیندار، مالک جائیداد کے علاوہ تقریباً تمام لوگ مزدور کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ کسی مزدور کی مزدوری یا اجرت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ زیادہ اجرت حاصل کرنے والے مزدور عام طور پر اپنے آپ کو مزدور طبقہ سے علیحدہ تصور کر لیتے ہیں۔

مزدور اپنی فطرت میں ہمیشہ امن پسند، ایماندار، مہذب، صلح جو اور انسان دوست رہا ہے۔ مزدوروں کی انہیں خوبیوں کو کمزوری جان کر طالع آزماء یا قبضہ گیر ذہنیت نے مزدور کی پیدا کردہ دولت کو ناصرف لوٹا بلکہ وقتاً فوقتاً ان کا بے دریغ خون بھی بہایا۔ بادشاہ، امراء، جاگیردار، دس ہزاری، نواب، سردار، خوانین، سرمایہ دار، سامراج اسی قبضہ گیر ذہنیت کے ہی جدید نام ہیں۔ قبضہ گیریت کی طویل تاریخ کے نتیجہ میں آج صورت حال یہ ہے کہ دنیا کی 97 % دولت پر 30 %آبادی کا کنٹرول ہے اور دنیا کی 1 %آبادی دنیا کی 50 % دولت یا وسائل پر قابض ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت دنیا کی سیاست اور پالیسی سازی بھی چند ہزار خاندانوں یا خانوادوں کے ہی ہاتھوں میں مقید ہے۔ قبضہ گیریت کی تاریخ اپنی اصل میں جنگوں کی ہی تاریخ ہے۔ جنگ عظیم اول و دوئم کے بعد سرد جنگ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اب صرف یوکرائن اور فلسطین کی جنگوں کے نتیجہ میں لاکھوں انسانی جانوں کا ضیاع، اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کے بعد ایٹمی حملوں اور ایٹمی تباہی کی دھمکیوں کی خبریں آئے دن کا معمول ہیں۔

انقلاب فرانس 1789، پیرس کمیون 1871 اور یوم مئی 1886 شکاگو امریکہ یہ تحریکیں بنیادی طور پر عام انسانوں یا مزدورں کی طرف سے دنیا کو بدلنے کی ایک کوشش تھیں اور ان تحریکوں نے دنیا بھر میں بیشمار سیاسی و معاشی اثرات بھی مرتب کیے۔ انقلاب روس، چین، کیوبا اور مشرق بعید کے انقلابات اور نو آبادیاتی تسلط کا خاتمہ بھی انہیں تحریکوں کا تسلسل ہیں۔

تحریک پاکستان کا اگر طبقاتی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ مزدوروں، کسانوں اور طلبہ نے قائد اعظم کی قیادت میں منظم تحریک برپاء کر کے تاج برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے قبل کے حکمران طبقات اور پاکستان کے موجودہ حکمران طبقات کا تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی ہے۔ پہلے یہ انگریز سامراج کے پٹھو تھے اور آج یہ امریکہ اور دیگر سامراجی قوتوں کے حاشیہ بردار ہیں۔ باقی دنیا کی مزدور تحریک کی طرح تحریک پاکستان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا یعنی پاکستان کو مزدوروں اور کسانوں نے بنایا لیکن اس پر قبضہ گیروں نے قبضہ جما لیا۔

آج کی دنیا آبادی کے لحاظ سے وسیع اور مسائل کے اعتبار سے پیچیدہ دنیا ہے۔ علم و سائنس کے عروج اور دولت کے انبار ہونے کے باوجود ”دنیا کی قیادت“ غربت و افلاس جیسے سیدھے اور معمولی مسائل کو بھی حل کرنے سے نہ صرف قاصر ہے بلکہ نت نئے اور مہلک مسائل پیدا کرنے کا سبب ہے۔ ایک چور دولت کو چرا تو سکتا ہے لیکن دولت کو کیسے پیدا کیا جاتا ہے اس کا ادراک صرف مزدور و کسان طبقہ ہی رکھتا ہے۔ چور تو چوری شدہ دولت کا استعمال بھی ڈھنگ سے نہیں کر پاتا۔ آج کی پیچیدہ دنیا کے مسائل کا حل کرنا ان قبضہ گیر قوتوں کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ بادی النظر میں ان قبضہ گیر قوتوں کے خلاف کوئی تحریک یا اپوزیشن نظر نہیں آتی مگر پاکستان سمیت دنیا کی موجودہ سیاسی قیادت روزانہ کی بنیاد پر اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔

مندرجہ بالا تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے آسانی سے کہا جا سکتا ہے اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ مزدور و کسان طبقہ منظم ہو کر دنیا کی موجودہ سیاسی قیادت کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے اور دنیا کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے اور دنیا کو انصاف، امن، خوشحالی، علم و ادب کے گہوارے میں بدل دے۔

Facebook Comments HS