کیا جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اپنے آئینی اقلیتی کردار سے دستبردار ہونے لگی ہے؟


محترم وائس چانسلر صاحب
جامعہ ملیہ اسلامیہ
نئی دہلی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکات،
عزت مآب،

خاکسار جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک سابق طالب علم، نہایت عزت و احترام کے ساتھ یہ خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہے۔ میں ان دنوں برطانیہ کی ایک قدیم و ممتاز درسگاہ، سوانزی یونیورسٹی، میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہوں، مگر میرے دل و روح آج بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سنگ و خشت سے جڑے ہیں۔ یہ ادارہ میرے لیے محض ایک تعلیمی مرکز نہیں، بلکہ میری علمی، فکری، روحانی، اور اخلاقی تربیت کا سرچشمہ ہے۔ جامعہ کی مٹی سے میری شناخت وابستہ ہے، اس کے نظریات سے میری فکر نے روشنی پائی، اور اس کے عظیم اساتذہ و طلباء کی قربانیوں سے میرا عزم مضبوط ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں مجھے ذرائع ابلاغ کے توسط سے یہ اطلاع ملی کہ آپ کی قیادت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے آئینی اقلیتی کردار سے دستبردار ہونے پر غور کر رہی ہے، تو میرا دل شدید صدمے اور رنج سے بھر گیا۔ یہ خبر میرے لیے ایک ذاتی دھچکے سے کم نہ تھی، جیسے میرے وجود کا کوئی اٹوٹ حصہ چھن گیا ہو۔ یہ صدمہ صرف میرا نہیں، بلکہ ان ہزاروں سابق طلباء و طالبات، اساتذہ، اور جامعہ سے محبت رکھنے والوں کا ہے، جنہوں نے اس ادارے کی نظریاتی شناخت، اقلیتی حیثیت، اور تاریخی میراث کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیوں کے قیمتی برس وقف کیے۔

محترمی! جامعہ ملیہ اسلامیہ کوئی عام تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ایک زندہ و جاوید باب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ادارے کے اہم ترین عہدے پر فائز آپ جیسی با علم اور باخبر شخصیت اس تاریخی حقیقت سے نا واقف نہ ہو گی کہ اس کی بنیاد 1920 میں اس وقت رکھی گئی تھی جب ہندوستان انگریزی استعمار کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ڈاکٹر ذاکر حسین، اور دیگر عظیم رہنماؤں نے اس ادارے کو قوم پرستی، خودداری، علم دوستی، اور اقلیتوں کے تعلیمی تحفظ کے اصولوں پر استوار کیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کے مسلمان، ہندو، اور دیگر طبقات مل کر انگریزی تسلط کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ خلافت تحریک ( 1919۔ 1924 ) کے دوران، جب ہندوستانی مسلمان عثمانی خلافت کی حمایت اور انگریزی استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کچھ طلباء اور اساتذہ نے انگریزی تعلیمی نظام کے تابع ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ نظام ہندوستانی اقدار، اسلامی تہذیب، اور آزادی کے جذبے کے منافی ہے۔ اسی جذبے نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو جنم دیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا تھا: ”ہماری تعلیم کا مقصد صرف نوکریوں کا حصول نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل کی تعمیر ہے جو اپنی آزادی، اپنے حقوق، اور اپنی تہذیب کے لیے کھڑی ہو۔“

جامعہ کی بنیاد صرف اینٹوں اور گارے سے نہیں، بلکہ خون، پسینے، اور خلوص سے رکھی گئی۔ اس کے ابتدائی دنوں میں مالی وسائل کی شدید کمی تھی جسے پورا کرنے کے لئے مسلم اساتذہ نے اپنی تنخواہیں تک چھوڑ دیں، اور مسلم طلباء نے اپنی جیب خرچ سے ادارے کو چلایا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین، جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے، انہوں نے اپنی ذاتی آمدنی سے جامعہ کی مدد کی۔ حکیم اجمل خان نے اپنی طبی مہارت اور سماجی اثر و رسوخ کو ادارے کے استحکام کے لیے وقف کیا۔ یہ قربانیاں محض کہانیاں نہیں، بلکہ اس ادارے کی روح ہیں۔

جامعہ کی ابتدائی جدوجہد خلافت تحریک کے پس منظر میں شروع ہوئی، جو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم حصہ تھی۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم بلکہ کردار سازی، قومی شعور، اور تہذیبی اقدار کی حفاظت کا مرکز بنا۔ 1925 میں، جب جامعہ کو علی گڑھ سے دہلی منتقل کیا گیا، تو اسے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کے بانیان کی لگن اور طلباء کی محنت نے اسے ایک مضبوط ادارہ بنا دیا۔

عزت مآب وائس چانسلر صاحب! جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اقلیتی حیثیت کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ یہ ایک حق ہے، جو طویل قانونی، سماجی، اور فکری جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا۔ 1962 میں جب جامعہ کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، تو اس کی اقلیتی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ اس فیصلے نے جامعہ کے طلباء، اساتذہ، اور اولڈ بوائز کو ایک نئی تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا۔

1988 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے تحت جامعہ کی اقلیتی حیثیت کی بحالی کے لیے منظم کوششیں شروع ہوئیں۔ اس جدوجہد میں نہ صرف جامعہ کے اندرونی حلقوں نے حصہ لیا، بلکہ سیکولر دانشوروں، ملی قائدین، اور انصاف پسند حلقوں نے بھی اپنی حمایت دی۔ طلباء نے سڑکوں پر احتجاج کیا، مقدمات لڑے، پولیس کی لاٹھیاں برداشت کیں، اور اپنے تعلیمی کیریئر کو داؤ پر لگایا۔ 2006 میں، جب جامعہ کی اقلیتی حیثیت کے خلاف قانونی چیلنج سامنے آئے، تو طلباء نے دہلی کی سڑکوں پر مارچ کیا اور اپنی آواز عدالتوں تک پہنچائی۔

بالآخر، 2011 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز نے جامعہ کو اقلیتی ادارہ قرار دیا۔ یہ کامیابی ایک عدالتی فتح سے کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ ملت کے اجتماعی شعور، جذبے، اور عزم کی فتح تھی۔ ہندوستان کے آئین کی دفعہ 30 اقلیتوں کو اپنے تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کی انتظامیہ کا حق دیتی ہے۔ یہ حق کوئی عطیہ نہیں، بلکہ ایک بنیادی آئینی ضمانت ہے، جو ہندوستان کی کثیر الثقافتی شناخت کی حفاظت کرتی ہے۔

دفعہ 30 کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ہندوستان کی آئینی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ 1950 میں، جب ہندوستان کا آئین نافذ ہوا، تو اس نے اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی تحفظ فراہم کیا۔ اس کی وجہ ہندوستان کا متنوع معاشرہ تھا، جہاں مختلف مذہبی، لسانی، اور ثقافتی گروہ اپنی منفرد شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔ دفعہ 30 اس تنوع کی حفاظت کا ایک ستون ہے۔ جامعہ کی اقلیتی حیثیت اس دفعہ کی عملی شکل ہے، جو اسے اپنے داخلوں، نصاب، اور انتظامی فیصلوں میں اقلیتی طلباء کے مفادات کو ترجیح دینے کا حق دیتی ہے۔

محترم وائس چانسلر صاحب، یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ آج اسی جامعہ کی سربراہی، جو اس تاریخی میراث کی امین ہونی چاہیے، اس کے اقلیتی کردار کو کمزور کرنے پر غور کر رہی ہے۔ کیا یہ ایک المیہ نہیں کہ جس ادارے کی حفاظت ہمارا فرض ہے، اس کے نظریاتی بنیادوں کو ہم خود کمزور کر رہے ہیں؟

اقلیتی کردار کی بحالی کے لیے جامعہ کے سپوتوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور صرف اسی کے لیے نہیں بلکہ ہر ظلم کے خلاف جامعہ نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ سی اے اے این آر سی احتجاج تو بہت سامنے کی مثالیں ہیں۔ جامعہ کے طلباء نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنا کردار ادا کیا۔ 1947 کی تقسیم کے بعد ، جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، جامعہ نے ہندو۔ مسلم اتحاد کی ایک مثال قائم کی۔ 1970 کی دہائی میں، جب ایمرجنسی نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا، جامعہ کے طلباء نے آمریت کے خلاف آواز اٹھائی۔ ایک تاریخ اور صحافت کے طالب علم کی حیثیت سے، میں نے جامعہ کی کہانی پڑھی ہے اور دیکھا ہے کہ کس طرح ہمارے اجداد نے ہر دور میں قوم کی امیدوں کو زندہ رکھا۔ آج، جب جامعہ کا اقلیتی کردار خطرے میں ہے، تو یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی حفاظت کریں۔

مکرمی! تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب قیادت اپنی قوم کے مفادات سے انحراف کرتی ہے، تو اس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ چند تاریخی مثالیں اس کی گواہی دیتی ہیں مثلاً پلاسی کی جنگ ( 1757 ) میں میر جعفر نے انگریزوں سے مل کر نواب سراج الدولہ کے خلاف سازش کی۔ اس غداری نے بنگال کو انگریزی غلامی میں دھکیل دیا۔ آج میر جعفر کا نام غداری کی بدترین مثال ہے۔ اپنے جد امجد کی شرمناک حرکت کو خوشنما بنانے کے لئے آج اس کے ورثا کو طرح طرح کی توجیحات پیش کرنی پڑ رہی ہیں۔ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ لوگ ان کے جد امجد کی قبر پر محض تھوکنے کے لئے جاتے ہیں (بحوالہ انڈیا ٹوڈے 31 جنوری 1994 ) میر جعفر کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ذاتی مفادات کے لیے قوم سے خیانت ہمیشہ ذلت کا باعث بنتی ہے۔ سرنگاپٹم کی جنگ ( 1799 ) میں میر صادق نے ٹیپو سلطان کو دھوکہ دیا، جس کے نتیجے میں سلطنت میسور تباہ ہوئی۔ ٹیپو سلطان کی بہادری اور میر صادق کی غداری کی کہانی ہر ہندوستانی کے لیے ایک سبق ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں یاد کیا ہے :

صادق از بنگال، جعفر از دکن
ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن

ناروے ( 1940 ) دوسری جنگ عظیم میں وہاں کے سیاستدان کوئسلنگ نے نازی جرمنی کے ساتھ مل کر اپنی قوم کو بیچا۔ اس کا نام آج بھی غدار کے مترادف ہے۔ کوئسلنگ کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے ہیں۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ کو بھی اسی زمرے میں رکھا جا سکتا ہے جہاں گزشتہ چند دہائیوں میں کئی تعلیم یافتہ افغان رہنماؤں نے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے اپنی قوم سے غداری کی۔ نتیجہ؟ بدامنی، خانہ جنگی، اور بربادی۔ افغانستان کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قیادت کی ذمہ داری صرف اقتدار نہیں، بلکہ قوم کی عزت اور وقار کی حفاظت ہے۔

یہ تمام مثالیں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ قوم سے وفاداری صرف میدان جنگ میں نہیں، بلکہ قلم، سوچ، اور فیصلہ سازی کے ہر لمحے میں ہوتی ہے۔ ایک اقلیتی ادارے کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس امانت کی حفاظت کریں، نہ کہ اسے مصلحت یا مفاد کی بھینٹ چڑھائیں۔

وائس چانسلر صاحب! اقلیتی تعلیمی اداروں کی اہمیت صرف ہندوستان تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اقلیتی ادارے اپنی کمیونٹی کی ثقافتی، مذہبی، اور تعلیمی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ہسٹوریکلی بلیک کالجز اینڈ یونیورسٹیز (HBCUs) : یہ ادارے افریقی۔ امریکی کمیونٹی کے لیے تعلیمی مواقع اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ ہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی اور مورہاؤس کالج نے افریقی۔ امریکیوں کو تعلیم، سیاست، اور سماجی انصاف کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ HBCUs کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ اقلیتی ادارے سماجی ترقی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یا پھر کینیڈا میں فرسٹ نیشنز یونیورسٹیز: یہ ادارے مقامی قبائل کی زبانوں، ثقافت، اور روایات کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ فرسٹ نیشنز یونیورسٹی آف کینیڈا نے مقامی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے اور ان کی ثقافتی شناخت کو مضبوط کیا۔ اسی طرح یورپ میں یہودی تعلیمی ادارے : یورپ کے کئی ممالک میں یہودی کمیونٹی نے اپنی تعلیمی اداروں کے ذریعے اپنی شناخت اور تاریخ کو زندہ رکھا۔ پولینڈ اور جرمنی میں یہودی یونیورسٹیاں ہولوکاسٹ کے بعد اپنی ثقافت کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی ہندوستان کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ اس کا اقلیتی کردار اسے یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے داخلوں، نصاب، اور انتظامی فیصلوں میں اقلیتی طلباء کے مفادات کو ترجیح دے۔ اگر یہ حیثیت ختم ہوئی، تو جامعہ اپنی منفرد شناخت کھو دے گی، اور یہ ایک عام یونیورسٹی بن کر رہ جائے گی۔ ایک صحافی کی حیثیت سے، میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح اقلیتی ادارے پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی مواقع کا دروازہ کھولتے ہیں۔ جامعہ کا اقلیتی کردار اسی مشن کا حصہ ہے۔

اگر جامعہ کا اقلیتی کردار کمزور یا ختم ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف جامعہ تک محدود رہیں گے، بلکہ پوری قوم پر مرتب ہوں گے۔ چند اہم اثرات یہ ہیں :تعلیمی مواقع میں کمی: اقلیتی کردار کے تحت جامعہ کو 50 فیصد نشستیں اقلیتی طلباء کے لیے مختص کرنے کا حق ہے۔ اگر یہ حیثیت ختم ہوئی، تو غریب اور پسماندہ طبقات کے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر :

· جامعہ کے شعبہ صحافت میں ہر سال سینکڑوں غریب طلباء داخلہ لیتے ہیں، جو اقلیتی کوٹے کے بغیر یہ موقع کھو دیں گے۔

· وظائف اور مالی امداد پر اثر: اقلیتی اداروں کو ملنے والے خصوصی وظائف اور مالی امداد متاثر ہوں گی۔

· نیشنل مائنارٹی اسکالرشپ اسکیم کے تحت ہزاروں طلباء کو مالی مدد ملتی ہے، جو جامعہ کے اقلیتی کردار کے بغیر خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

· ثقافتی شناخت کا زوال: جامعہ اسلامی تہذیب اور ہندوستانی اقدار کا ایک امتزاج ہے۔ اس کا اقلیتی کردار اسے اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ اس کے خاتمے سے یہ شناخت دھندلا جائے گی، اور جامعہ کی منفرد تہذیبی میراث خطرے میں پڑ جائے گی۔

· سماجی انصاف پر اثر: اقلیتی ادارے سماجی انصاف اور مساوات کے اصولوں کو فروغ دیتے ہیں۔ جامعہ کا اقلیتی کردار ختم ہونے سے یہ اصول کمزور ہوں گے، اور اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ایک تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے، میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح تعلیمی اداروں کی پالیسیاں معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ جامعہ کا اقلیتی کردار ختم ہونے سے نہ صرف طلباء متاثر ہوں گے، بلکہ یہ ہندوستان کی کثیر الثقافتی شناخت کے لیے بھی ایک دھچکا ہو گا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی قیادت میں جامعہ اس تاریخی المیے کا شکار ہو؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں آپ کو اس فیصلے کے لیے موردِ الزام ٹھہرائیں؟

محترم وائس چانسلر صاحب، آپ ایک تعلیم یافتہ اور فہم و فراست رکھنے والی شخصیت ہیں۔ آپ سے یہ توقع نہیں تھی کہ آپ ملت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گے۔ آپ کی کرسی محض ایک انتظامی عہدہ نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔ اس کرسی سے اٹھنے والے فیصلے صرف کاغذات پر نہیں لکھے جاتے، بلکہ قوموں کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم قائدین وہی ہوتے ہیں جو مشکل حالات میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں گزارے، مگر اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی اسی روایت کو آگے بڑھائیں۔ مہاتما گاندھی نے انگریزوں کے ظلم کے باوجود ستیہ گرہ کی راہ اختیار کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے تعلیم اور آزادی کی جدوجہد کو کبھی نہیں چھوڑا۔ اس عظیم ادارے کے بانیان مولانا محمد علی جوہر اور حکیم اجمل خان نے ملک کی آزادی اور اس ادارے کے قیام اور کامیابی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے جامعہ کی بنیاد رکھتے وقت ایک خواب دیکھا تھا۔ ایک ایسی نسل کی تعمیر جو علم، عزت، اور آزادی کے ساتھ جیئے۔ انہوں نے فرمایا تھا: ”ہماری جدوجہد صرف عمارات بنانے کی نہیں، بلکہ کردار بنانے کی ہے۔“ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس خواب کو زندہ رکھیں۔

جامعہ کا اقلیتی کردار کوئی حکومت کا دیا ہوا عطیہ نہیں، بلکہ ایک حق ہے، جو ملت نے اپنے خون اور آنسوؤں سے حاصل کیا تھا۔ کیا آپ بھول گئے کہ 2019 میں پولیس نے جامعہ پر دھاوا بولا، ہاسٹلوں میں گھس کر طلباء کو پیٹا؟ کیا آپ کو یاد ہے کہ کئی نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا؟ کیا آپ نے ان بزرگوں کی فریادیں نہیں سنیں جنہوں نے اپنی اولادوں کی شہادت کے باوجود جامعہ سے وفاداری نہ چھوڑی؟ کیا وہ سب قربانیاں بے معنی ہو گئیں؟

ہندوستان کا آئین اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ دفعہ 30 اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق دیتا ہے۔ یہ حق ہندوستان کی کثیر الثقافتی شناخت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے متعدد فیصلوں میں اس حق کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، جیسے کہ ٹی۔ ایم۔ اے۔ پائی فاؤنڈیشن بنام ریاست کرناٹک ( 2002 ) اور پی۔ اے۔ انعامدار بنام ریاست مہاراشٹر ( 2005 ) ۔ ان فیصلوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اقلیتی ادارے اپنی شناخت کو برقرار رکھنے اور انتظامی خودمختاری کے حق دار ہیں۔

میں، جامعہ کے بہت سے سابق طلباء، اپنے ساتھیوں، اساتذہ، اور خیر خواہوں کے دلی جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا جامعہ کے اقلیتی کردار کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ اسے کسی بھی دباؤ یا مصلحت کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ عدالت عظمیٰ میں جامعہ کے مفادات کا بھرپور اور بے باک دفاع کریں۔ بہترین قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کریں۔ جامعہ کے فیصلوں میں طلباء، اساتذہ، سابق طلباء، اور ملی اداروں کو اعتماد میں لیں۔ کوئی فیصلہ خفیہ طور پر نہ کیا جائے۔ ان عناصر سے ہوشیار رہیں جو جامعہ کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان کی شناخت کریں اور ان کے عزائم ناکام بنائیں۔ اپنے فیصلوں سے ثابت کریں کہ آپ جامعہ کی عظمت کے محافظ ہیں۔

محترم وائس چانسلر صاحب، تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔ یہ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو قوم کی امانت سے خیانت کرتے ہیں۔ لیکن یہ ان لوگوں کو ہمیشہ عزت دیتی ہے جو مشکل حالات میں حق اور انصاف کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ نہ یہ کہ اس دنیا میں سرخ رو ہوں اور جب اس ملی ادارے کا ذکر آئے تو آپ کی آئندہ نسلیں آپ کا ذکر فخر کے ساتھ کریں بلکہ مالک کائنات کی اعلیٰ عدالت میں بھی آپ کے چہرے کا نور آپ کے نیک اعمال اور ملت کی خدمت کی گواہی دے رہا ہو۔

محترمی، یہ خط کوئی تنقید یا ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک درد مند دل کی آواز ہے۔ یہ ایک سابق طالب علم کی التجا ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کا کرب ہے جو جامعہ کو اپنی شناخت سمجھتی ہے۔

میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس خط کو تنقید نہ سمجھیں، بلکہ ایک خیر خواہی، ایک اخلاص، اور ایک محب کی پکار سمجھیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت، حکمت، اور جرات عطا فرمائے تاکہ آپ جامعہ کی عظمت کو بحال کریں اور اسے وہ مقام دیں جو اس کا حق ہے۔

قلم کی غداری تلوار سے زیادہ مہلک ہوتی ہے۔ تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے جو قوم کا وقار بچاتے ہیں۔ آپ کے فیصلے آپ کو یا تو عظیم رہنما بنائیں گے یا ایک افسوسناک باب۔ ہم دعا گو ہیں کہ آپ جامعہ کی عظمت کو بحال کریں۔

والسلام،
خاکسار
محمد علم اللہ
سابق طالب علم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
زیر تعلیم: سوانسی یونیورسٹی، برطانیہ

 

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah