کیا جنگ ہو سکتی ہے؟
22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف ایک انسانی المیہ تھا بلکہ اس نے جنوبی ایشیا میں پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید نازک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ اس واقعے میں 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ بغیر کسی تحقیق اور عدالتی یا بین الاقوامی انکوائری کے، بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ ماضی کے بیانیے کو دہراتے ہوئے نئی دہلی نے پاکستان کو عالمی دہشت گردی کے سرپرست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
بھارت نے صرف زبانی الزامات پر اکتفا نہیں کیا۔ سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 سے دونوں ممالک کے درمیان آبی اشتراک کا ضامن تھا، معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے گئے، سفارتی عملے کو واپس بھیجا گیا، اور عوامی سطح پر پاکستان مخالف مہم چلا کر ماحول کو جنگی جنون میں جھونک دیا گیا۔ اس سے بھی بڑھ کر، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی مزید اجیرن بنا دی گئی۔
پاکستان نے بھی اس جارحیت کا موثر سفارتی اور دفاعی جواب دیا۔ بھارت کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی، جس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 1200 بھارتی پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اب ان پروازوں کو لمبے راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے وقت، ایندھن اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کو فضائی راستوں کے محدود ہونے کی وجہ سے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدے کو بھی معطل کر دیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا۔
یہ دونوں اقدامات اگرچہ وقتی جوابی کارروائیاں ہیں، لیکن ان کے سفارتی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب عالمی برادری کی توجہ اس خطے میں پہلے ہی کشیدگی اور عدم استحکام پر مرکوز ہے۔
بھارت کو امید تھی کہ اس کی یہ جارحیت بین الاقوامی حمایت حاصل کرے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ امریکہ، جو خطے میں بھارت کو چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے ایک کلیدی اتحادی سمجھتا ہے، نے اس بار حیرت انگیز طور پر غیر جانب دار موقف اپنایا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ ہے اور انہیں مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔ اس ردعمل نے بھارت کو سفارتی محاذ پر تنہا کر دیا، جو خود کو عالمی برادری کے سامنے ایک مظلوم ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔
اس پورے واقعے میں جو بات سب سے زیادہ قابلِ غور ہے، وہ بھارت کا فوری، منظم اور جارحانہ ردعمل ہے۔ یہ بات ماننی پڑے گی کہ بھارت نے جس تیز رفتاری سے بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی، وہ قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے میڈیا، سفارت کاری اور اندرونِ ملک عوامی ردعمل کو اس انداز سے مرتب کیا کہ بھارت کو ایک شدید زخمی، مجبور اور ’خود پر قابو رکھنے والا‘ ملک دکھایا گیا۔
اس کے برعکس، جب پاکستان کے اندر، خاص طور پر بلوچستان میں، دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں جن میں بے گناہ شہریوں کا خون بہتا ہے، تو ہم صرف مذمت پر اکتفا کرتے ہیں۔ الزام ضرور بھارت یا ’را‘ پر لگا دیتے ہیں، لیکن عملی اقدامات میں نہ تو وہ شدت ہوتی ہے، نہ ہی کوئی عالمی بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ ہر واقعے کے بعد صرف ایک پریس کانفرنس یا سوشل میڈیا پوسٹ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
یاد رہے، یہی بھارت ہے جس نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو یک طرفہ طور پر ختم کیا تھا، اور کشمیریوں کی شناخت، آبادی اور حقوق کو کچلنے کے لیے قانون سازی کی تھی۔ اس وقت ہماری حکومت نے ہر جمعے کے روز صرف آدھے گھنٹے کے احتجاج کا اعلان کیا، اور وہ بھی زیادہ تر محض علامتی حیثیت رکھتا تھا۔ ’ہمارے اس وقت کے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اور میں کیا کروں؟ کیا بھارت پر حملہ کر دوں؟‘ اس موقع پر اگر پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط، مستقل اور موثر سفارتی مہم چلاتا، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔
اس بار، جب بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا تو پاکستان کی جانب سے یہ موقف آیا کہ ہم اس اقدام کو ’جنگ کے مترادف‘ سمجھیں گے۔ یہ ایک درست، واضح اور دلیرانہ موقف ہے، جس کی ضرورت ہمیں پہلے بھی تھی۔ پانی ایک بنیادی حق ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کو معمولی نہیں لیا جا سکتا۔
اب سوال یہ ہے کیا جنگ ہو سکتی ہے؟
میری رائے میں، مکمل جنگ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور جنگ کی صورت میں نقصان کا دائرہ صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہے گا۔ البتہ، بھارت کسی ’فیس سیونگ‘ کے لیے محدود پیمانے پر کوئی اشتعال انگیزی ضرور کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ یا لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔
ایسے وقت میں ہر ذی شعور شخص کو امن کی دعا کرنی چاہیے۔ جنگوں سے قومیں تباہ ہوتی ہیں، نسلیں برباد ہوتی ہیں، اور صرف ہتھیار بولتے ہیں۔ لیکن اگر دشمن ہم پر جنگ مسلط کرتا ہے، تو پاکستانی قوم اور افواج اپنے جذبۂ ایمانی، جذبۂ شہادت اور قومی اتحاد کے ساتھ اس کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں اپنے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ بھارت کو سب سے زیادہ ڈر ہماری عسکری صلاحیت سے نہیں، بلکہ ہمارے ”جذبۂ ایمانی“ اور ”جذبۂ شہادت“ سے ہے، جو ہمیں ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔
ہماری اصل جنگ اب سفارت کاری، ابلاغ، اور موثر قومی بیانیے کی جنگ ہے۔ ہمیں اس میدان میں بھارت کے مقابل آنا ہو گا۔ جارحانہ انداز میں، لیکن حکمت کے ساتھ۔

