تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (1)
وہ فوجی افسر اُس سمے سخت الجھن میں تھا کہ الف ب سے کوری اپنی اس بھاوج، جسے وہ بھاوج تو کم پر ماں زیادہ سمجھتا ہے کیونکر سمجھائے کہ پھولدار گلابی ٹیونک کو دونوں ہاتھوں سے مسلتی یہ لڑکی پرابلم چائلڈ ثابت ہو ر ہی ہے اور ڈنڈا سونٹا اس کے لئے بیکار ہے۔
کھرے بان کی چارپائی پر بیٹھی وہ بھی جن کے کندھے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے جھکے ہوئے تھے اپنی سوچ میں کسی حد تک حق بجانب تھیں۔ اب اگر انہوں نے ”ڈیوی“ کو پڑھا ہوتا تو یقیناً اپنی اس لڑکی کی الٹی پلٹی حرکتوں سے اس حد تک ہراساں نہ ہوتیں۔
انہوں نے اپنے دیور کو ایک نظر دیکھا۔ وہ خاکی وردی میں ان کے سامنے تیار کھڑا تھا۔ انہیں یاد آیا کہ اسے ڈیوٹی پر جانا ہے۔ تب وہ محبت سے بولیں۔
” جاؤ اللہ کی حفاظت میں۔ کام پر وقت سے پہلے پہنچتے ہیں۔“
ڈیوڑھی کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے کہا۔
” بی بی جان اسے مارنا نہیں!“
انہوں نے رخ پھیر کر کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی لڑکی کو دیکھا جو ٹیونک کو بلا وجہ ہی مسلے جا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں طمانیت تھی، ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ، اور وہ انہیں اس سکون سے دیکھ رہی تھی جیسے اس کی ماں اس کے چچا سے ہمسایوں کے کسی شیطان بچے کا ذکر کر رہی ہو یا پھر روزمرہ کی طرح آٹے گھی کی مہنگائی کا رونا رو رہی ہو۔
یوں اس گیارہ سالہ لڑکی کی بعض عادتیں تھیں بھی بہت نرالی۔ اسکول میں باجہ بجتے دیکھتی تو خریدنے کی ضد۔ ہمسایوں کے ہاں کتا دیکھ آتی تو پاؤں پسار لیتی کہ مجھے بھی یہ چاہیے۔ ہر وقت ناچتی تھرکتی رہتی۔ کسی پل چین نہیں تھا اُسے۔ اس کو مار اس کو پیٹ، سارا محلہ نالاں رہتا۔
اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے اس نے ہر روز کی طرح سوچا۔
”کہ اس کی بی بی جان اور ماں جی (نانو ) کیسی ہیں۔ لٹھ لئے ہر وقت اسی کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔“
تبھی وہ چونکی۔ اس نے باورچی خانے کی طرف دیکھا جہاں سے خاص قسم کی خوشبو نکل کر انگنائی میں پھیل رہی تھی۔
”مچھلی پک رہی ہے۔ آج کیا نذرل چچا آنے والے ہیں؟ محسن چچا نے تو بتایا ہی نہیں۔“
اس کے منہ میں پانی آنا شروع ہو گیا تھا۔
کچھ دیر وہ وہاں بیٹھی رہی، پھر اٹھ کر ساتھ والوں کے گھر چل دی۔
”چلو کچھ دیر جیکی سے کھیلا جائے! “ اُس نے سوچا۔ سنہرے بالوں اور چمکتی آنکھوں والی جیکی، جسے اپنے گھر رکھنے کے لئے اس نے بہت واویلا مچایا۔ پر اس کی ایک نہ چلی۔ ماں جی کیسے تڑخ کر بولی تھیں۔
”لو اور سنو اب یہ کتے بلیاں پالے گی۔ آج تک اس گھر میں ایسے نکمے شوق کسی نے کیے نہیں۔“
تب ماں جی نے بہت پیار اور نرمی سے اسے سمجھانا شروع کیا۔
”دیکھو بیٹے کتا نجس چیز ہے۔ مسلمانوں کو اسے اپنے گھر میں نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ اگر گھر میں رہے تو رحمت کے فرشتے اور دولت نہیں آتی۔“
”لو کیسی بے ڈھنگی بات ہے۔ “ اُس نے اپنے دل میں کہا اور پھر بی بی جان کی طرف دیکھتے ہوئے پھٹ سے بولی۔
”آپ جھوٹ بولتی ہیں ماں جی! فوزیہ اور خالد کے گھروں میں بھی تو کتے ہیں۔ پر ان کے ہاں کاریں ہیں، نوکر ہیں اور بھی ڈھیر ساری چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں کیا ہے؟“
بی بی جان نے غصے میں آ کر اس کی خوب ٹھکائی کی۔
وہ جیکی کو اپنے گھر تو نہ لا سکی پر اس سے کھیلنا ختم نہ ہوا۔ جب بھی موقع ملتا ہمسایوں کے گھر چلی جاتی۔
اس وقت بھی وہ اس سے کھیلنے یہاں آئی تھی۔ پر یہ آرزو پوری ہوتی نظر نہ آ رہی تھی۔ امرود کے درخت کے نیچے بیٹھا گڈو اپنی چھوٹی بہنوں اور جیکی کے ساتھ اون سم سنڈے مارننگ (On some Sunday morning) کھیل رہا تھا۔
”ارے تو میں اس سے نہیں کھیل سکوں گی۔“ پاؤں غصے سے فرش پر پٹختے ہوئے وہ خود سے بڑ بڑائی۔
پر وہ جاتے جاتے رکی۔ فوزیہ نے اسے ڈرائینگ روم کی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا اور آواز بھی دے ڈالی تھی۔ فوزیہ ان دنوں کسی میوزک ماسٹر سے پیانو بجانا سیکھ رہی تھی۔ جس کا ذکر اس نے اِترا اِترا کر کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کی یہ اتراہٹ اسے زہر لگی۔
”االلہ کرے تم تو مر ہی جاؤ۔ یہ سب کچھ تم مجھے جلانے کے لئے سنا رہی ہو۔ کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ مجھے پیانو سیکھنے کا بہت شوق ہے اور میرے گھر والے مانے نہیں۔ بھاڑ میں جاؤ تم اور جہنم میں جائے تمہارا پیانو۔ مجھے کیا سنا رہی ہو۔“
اُس نے کڑھ کڑھ کر اپنے آپ کو کوسا اور ساتھ ہی اپنے گھر والوں کو بھی۔
”کتے بور ہیں اللہ۔ یہ ماں جی اور بی بی جان تو ایک عذاب ہیں۔ میری تو ہر بات سے انہیں چڑ ہے۔ کوئی پوچھے پیانو بجانا بری بات ہے۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب مس ولسن اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے بجاتی ہیں۔ بس سو جانے کو جی چاہتا ہے۔“ وہ اکتائی اور جانے کے لئے اٹھ گئی۔
٭٭٭


