پاپائے اعظم پوپ فرانسس :ایک درویش، ایک بابصیرت رہنما
مندرجہ بالا عنوان کا آدھا حصہ میں نے پاپائے اعظم پوپ فرانسس کی وفات کے بعد پیٹر جیکب کے جیو نیوز کو دیے گئے تاثرات میں سے مستعار لیا ہے اور دوسرا میرے دل کی آواز ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن پیٹر جیکب کے مطابق، ”ایک درویش نہ طمع کرتا ہے، نہ جمع کرتا ہے۔ یہ خاصیت خاص طور پر پوپ فرانسس میں پائی جاتی تھی۔ باوجود یہ کہ وہ ویٹیکن کے سربراہ تھے اور پوپ کے عہدے کا بڑا اثر و رسوخ ہوتا ہے وہ اپنے کام خود کرتے تھے۔ اپنی زندگی کسی بڑے محل میں گزارنے کی بجائے انھوں نے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہنے کو ترجیح دی۔ انھوں نے عام لوگوں کے لئے، قیدیوں کے لئے، مہاجرین کے لئے اور جنگ سے ستائے لوگوں کے لئے اپنی آواز بلند کی۔ وہ دنیا میں بقائے باہمی کے اصولوں پر امن کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ انھوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل پیا ر کیا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کی صورت اور جنگ کے دنوں میں انھیں امید کی کرن اور روشنی کے مینار کی صورت دیکھا جاتا تھا۔ پوپ فرانسس کی وفات ساری دنیا کے لئے بڑی سوگوار کرنے والی خبر ہے“ ۔
پوپ صاحب کے اچھے اقوال اور اعمال کے بارے میں خبریں تو مختلف اوقات میں پڑھنے کو ملتی رہیں اور میں ان کے خیالات سے متاثر ہوں لیکن میں نے دو مواقع پر خصوصی دلچسپی لی۔ ایک تو جب انھوں نے 2015 میں امریکہ کا دورہ کیا تو میں نے خاص طور پر ان کی ساری تقریریں سنیں۔ دوسرے ابھی 21 اپریل کو ان کی وفات کے بعد ان کے بارے میں کافی پڑھا اور سنا ہے۔ پوپ فرانسس کلیسیاء کے اعلیٰ ترین عہدے پر بیٹھے تھے لیکن ایک نہایت سادہ آدمی تھے۔ انھوں نے اپنے پیشرووں کے مقابلے میں پاپائیت کے بارے میں کم نقطہ نظر رکھنے کو ترجیح دی۔ ایک جیسیوٹ پوپ کی حیثیت سے انھوں نے واضح کیا کہ وفاداروں کا بنیادی کام قواعد کی اتنی پابندی نہیں جتنا یہ جاننا ضروری ہے کہ خدا انھیں کیا کرنے کے لئے بلا رہا ہے۔ انھوں نے کاہنوں کی ثقافت کو تبدیل کیا۔ وہ کہتے چرچ کے چرواہوں کو بھیڑوں کی خوشبو رکھنی چاہیے اور ہمیشہ اپنے لوگوں کے قریب رہنا چاہیے۔ پوپ فرانسس کی زندگی میں انھیں ان کی عاجزی، خدا کی رحمت پر زور، پوپ کے طور پر بین الاقوامی سطح پر پر اثر مرئیت، غریبوں کے لئے فکر مندی، بین الا مذاہب مکالمے کے عزم اور انسانی وقار کی ترویج کے لئے جانا جاتا رہا۔ انھوں نے دوسرے مسیحی فرقوں کے ساتھ ایکیومینزم کو فروغ دینے، دوسرے مذاہب کے ساتھ مکالمے کی حوصلہ افزائی اور سیکولر افراد کے ساتھ امن کی حمایت کر کے دوسری ویٹیکن کونسل کی روایت کو برقرار رکھا۔
پوپ فرانسس کو ترقی پسند یا لبرل اعتدال پسند کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ دسمبر 2013 میں ٹائم اور دی ایڈووکیٹ میگزین دونوں نے انھیں سال کا بہترین شخص قرار دیا۔ ایسکوائر میگزین نے ان کے سادہ لباس کا حوالہ دیتے ہوئے 2013 کے لئے بہترین لباس والا آدمی قرار دیا۔ رولنگ سٹون میگزین نے جنوری 2014 میں ان پر فرنٹ کور بنا یا۔ فارچون میگزین نے بھی انھیں عظیم ترین رہنماوٗں کی فہرست میں اول نمبر پر رکھا۔ 2014 اور 2016 میں انھیں فوربس کی دنیا کے طاقتور ترین افراد کی فہرستوں میں شامل کیا گیا۔
اپنے انتخاب کے بعد پہلی پاک جمعرات کو انھوں نے روم کے ایک حراستی مرکز کے دس مرد اور دو لڑکیوں کے پاوں دھو کر انھیں بوسہ دیا جس سے انھیں یہ بتایا کہ یہ پاک رسم اس بات کی علامت ہے کہ وہ ان کے خدمتگار ہیں۔ ان میں سے ایک مرد اور ایک لڑکی قیدی مسلمان تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک پوپ نے اس رسم میں خواتین کو شامل کیا تھا۔ بیشک وہ آرچ بشپ کے عہدے پر بھی جیلوں، اسپتالوں، اولڈہومز اور کچی آبادیوں میں پاک جمعرات کو عورتوں اور مردوں کے پاؤں دھونے کی مقدس رسم ادا کرتے رہے تھے۔
انھوں نے 31 مارچ 2013 کو اپنے ایسٹر کے خطاب میں عالمی امن کے لئے درخواست کی اور خاص طور پر مشرق و سطیٰ، افریقہ، اور شمالی اور جنوبی کوریا کا ذکر کیا۔ انھوں نے امریکہ اور کیو با کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کو بحال کرنے میں مدد کی۔ اکتوبر 2022 میں انھوں نے پیوٹن سے براہ راست اپیل کی کہ وہ یو کرین میں تشدد اور موت کی لہر کو روکے۔ پوپ فرانسس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے زیر قیادت حملے کی مذمت کی اور بعد میں غزہ میں ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیل کے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی حوصلہ افزائی کی۔ ریاست فلسطین کے ساتھ ویٹیکن کے پہلے معاہدے پر دستخط کیے جس میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اپنے آخری عوامی ظہور میں بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور غزہ میں افسوسناک انسانی صورتحال کی مذمت کی۔ اکتوبر 2023 سے وفات تک وہ غزہ کی پٹی کے واحد کیتھولک چرچ کے لوگوں سے ہر رات فون پر بات کرتے تھے۔
پوپ فرانسس نے داعش کی طرف سے مسیحیوں پر ظلم و ستم کی مذمت کی اور اسلامی عسکریت پسندوں کو عراق میں مذہبی اقلیتوں پر حملے کرنے سے روکنے کا کہا۔ جنوری 2018 میں انھوں نے یزیدی پناہ گزینوں سے ملاقات کی، ان کی مذہبی آزادی کے حق کی حمایت کا اظہار کیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یزیدی نسل کشی پر خاموش اور غیر فعال تماشائی نہ بنیں۔ انھوں نیلبنان، ما لی، موزمبیق، ہیٹی، وینزویلا، نکاراگوا، یوکرین، غزہ، سوڈان، ڈی آر کانگو اور میانمار میں عالمی سطح پر شہری آبادی کے خلاف تنازعات، دباؤ کی کارروائیوں اور جنگوں پر اپنی تنقید جاری رکھی۔ پوپ فرانسس دنیا کی سب سے بڑی ترقی یافتہ معیشتوں G 7 کے رہنماوٗں کے اجلاس میں شرکت کرنے والے پہلے پوپ تھے۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے زور دیا کہ یوکرین اور غزہ میں ہونے والی جنگوں کی وجہ سے انسانیت شدید خطرے میں ہے۔
فروری 2019 میں پوپ فرانسس نے شیخ محمد بن زید النہیان کی دعوت پر ابو ظہبی، عرب امارات کا دورہ کیا۔ زید اسپورٹس سٹی میں دعائیہ تقریب میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ حاضرین نے شرکت کی اور اس طرح جزیرہ نما عرب میں اجتماع کے ساتھ عبادت کرنے والے وہ پہلے پوپ بن گئے۔ مارچ 2021 میں پوپ فرانسس نے عراق کے اعلیٰ شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی کے ساتھ ایک تاریخی ملاقات کی۔ دونوں نے مسلم اور مسیحی برادریوں پر زور دیا کہ وہ پر امن بقائے باہمی کے لئے مل کر کام کریں۔ ستمبر 2024 میں پوپ فرانسس اور جکارتہ، انڈونیشیا کی استقلال مسجد کے گرینڈ امام نے وہاں ہونے والے بین المذاہب مکالمے کے نتیجے میں مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام مذہبی روایات میں مشترک اقدار کو تشدد اور بے حسی کے کلچر کو شکست دینے اور مفاہمت اور امن کو فروغ دینے کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ اس میں پروٹیسٹنٹ اور دیگر مذاہب بشمول ہندو، بدھ مت، کنفیوشس اور لوک مذاہب بھی موجود تھے۔
پوپ فرانسس نے LGBTQ کے حوالے سے کہا کہ اگرچہ چرچ ایک ہی جنس کے لوگوں کی شادی کی اجازت نہیں دیتا لیکن ہمیں ان لوگوں سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ وہ حد سے زیادہ ترقی اور صارفیت کے نقاد تھے۔ ستمبر 2024 میں انھوں نے ہمہ گیر بنیادی آمدنی کے ساتھ ساتھ ارب پتیوں پر زیادہ ٹیکسز کی تجدید کی۔ انھوں نے تارکینِ وطن کے تحفظ کو تہذیب کا فرض قرار دیا اور امیگریشن مخالف سیاست پر تنقید کی بشمول ڈونلڈ ٹرمپ کی۔ ٹرمپ کے پچھلے دور میں بھی انھوں نے دیواریں بنانے کی حوصلہ شکنی کی اور پل تعمیر کرنے کو سراہا۔
انھوں نے موسمیاتی تبدیلی پر ایکشن کو اپنی پاپائیت کا اہم مرکز بنایا۔ ان کا اپنے لئے فرانسس نام منتخب کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اسیسی کے سینٹ فرانسس کے ان خیالات کی پیروی کرتے ہیں کہ تمام مخلوقات کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔ 2015 میں انھوں نے ماحولیات کے بارے میں ایک بڑا انسائیکیکل جاری کیا۔ 2017 میں ورلڈ فوڈ ڈے پر انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سائنسی علم کے ذریعے اس کے حل پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی برادری کے پیرس معاہدے جیسے قائم کردہ قانونی فریم ورک سے کچھ قومیں الگ ہو رہی ہیں۔ انھوں نے ماحولیاتی نظام کے توازن سے بے حسی، محدود وسائل کو کنٹرول کرنے پر یقین اور منافع کے لالچ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے ان لوگوں کے خلاف بات کی جو لالچ سے بھری اس دنیا میں فطرت کو تباہ کرتے ہیں۔ انھوں نے بنی نوع انسان سے ماحولیات کے تحفظ کے ذریعے اس کائنات کا بہترین سر پرست بننے کی التجا کی۔
2019 میں انھوں نے کہا قدرتی ماحول کی تباہی ایک گناہ ہے اور اسے امن کے خلاف جرائم کی پانچویں قسم بنا دیا جانا چاہیے۔ اکتوبر 2023 میں اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP 23 ) سے پہلے انھوں نے ایک دستاویز جاری کی جس میں انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر زور دیا اور اس سے انکار کی مذمت کی۔ 2024 میں پوپ فرانسس نے ایک ماحولیاتی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا جس نے ماحولیاتی تبدیلی سے مزاحمت کے لئے ایک پروٹوکول جاری کیا جس کے تین ستون ہیں ؛اول گرین ہاوٗس گیسوں کے اخراج میں کمی، دوم ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنا، سوم سماجی تبدیلی۔ انھوں نے ماحولیات کے مسٗلے پر خاص توجہ دی اور اس حوالے سے کئی خصوصی دستاویزات تیار کروائی۔ انھوں نے بتایا کہ اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ اس کائنات کا خیال رکھیں، فطرت کے تحفوں کو محفوظ کریں اور دوسروں سے بانٹیں۔ یہ الفاظ حقیقتاً پوپ صاحب کی شخصیت کی غمازی کرتے ہیں۔
انھوں نے سزائے موت کو ہر صورت میں ناقابلِ قبول سمجھا اور کیتھولک چرچ کی طرف سے دنیا بھر میں اس کے خاتمے کا عہد کیا۔ 2018 میں اپنے ایک خطاب میں انھوں نے فرمایا، انجیل کی روشنی میں سزائے موت ناقابلِ تسلیم ہے۔ یہ شخص کے وقار اور عزت پر حملہ ہے اور کیتھولک چرچ دنیا بھر میں اس کے خاتمے کے عزم کے ساتھ کام کرتا ہے۔ 2020 میں اپنے انسائیکلیکل فریٹیلی ٹوٹی میں دہرایا، سزائے موت قبول نہیں ہے اور اس پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا۔ 9 جنوری 2022 میں ویٹیکن کے سفیروں سے اپنی سالانہ تقریر میں کہا، سزائے موت کو ریاستی انصاف کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اس کی کوئی واپسی نہیں اور نہ ہی یہ متاثرین کے لئے انصاف فراہم کرتی ہے۔ یہ صرف انتقام کی پیاس کو ایندھن دیتی ہے۔
اگرچہ پوپ فرانسس کے دور میں بھی خواتین کے کاہن بننے پر پابندی عائد رہی انھوں نے رومن کیتھولک کیوریہ کو بڑا کیا اور اس میں خواتین کو مختلف Dicasteries میں مکمل رکن بنایا جو پہلے نہیں تھا۔ جنوری 2021 میں پوپ نے بشپ صاحبان کو ایک خط جاری کیا کہ خواتین کو Acolyte اور Lector کیMinistries میں شامل کیا جائے جبکہ یہ پہلے مردوں کے لئے مختص تھیں۔ اگلے مہینے پوپ فرانسس نے خواتین کو کئی ایسے عہدوں پر مقرر کیا جن پر پہلے صرف مرد ہوتے تھے۔ ایک فرانسیسی مشنری، ناتھلی بیکورٹ کو بشپ صاحبان کے Synodکا انڈر سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اطالوی میجیسٹریٹ، کیٹیاسمریا ویٹیکن کی اپیلوں کی عدالت میں پہلی خاتون منصف بنیں۔ اپریل 2023 میں پوپ فرانسس نے اعلان کیا کہ 35 خواتین کو بشپس کے Synod کی سولہویں عام جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا اختیار ہو گا۔ اس طرح پہلی بار بشپس کی کسی کیتھولک Synod میں خواتین نے ووٹ ڈالا۔
انھوں نے نئے پوپ کے انتخاب پر ویٹیکن کے ملازمین کو دیے جانے والے بونس کو ختم کر دیا جس سے بچائے گئے کئی ملین یورو خیرات میں عطیہ کیے گئے۔ انھوں نے ویٹیکن بینک کے بورڈ میں خدمات سر انجام دینے والے کارڈینلز کے سالانہ بونس کو بھی ختم کر دیا۔
کرونا ویکسین لگوانے کو پوپ نے اخلاقی ذمہ داری قرار دیا اور اس وبا سے ہونے والے معاشی نقصان کے جواب میں پوپ فرانسس نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی بنیادی اجرت پر عمل در آمد پر غور کیا جائے۔ 26 نومبر 2020 کو وہ نیویارک ٹائم کے لئے oped لکھنے والے پہلے پوپ بن گئے جس میں انھوں نے کووڈ 19 میں عوامی اجتماعات پر پابندیوں اور عالمی یک جہتی کی بات کی۔
پوپ فرانسس کے مشہور قول پر میں اس اظہار عقیدت کا اختتام کرتی ہوں ”دریا اپنا پانی خود نہیں پیتے، درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے، سورج اپنے لئے نہیں چمکتا اور پھول اپنے لئے خوشبو نہیں بکھیرتے۔ دوسروں کے لئے جینا اصول ِفطرت ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کی مدد کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ جب آپ خوش ہیں تو زندگی اچھی ہے لیکن یہ بہت ہی اچھی ہے جب آپ کی وجہ سے دوسرے خوش ہوں چاہے یہ جتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو“ ۔


