کائنات ایسی کیوں ہے؟


جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہر اعتبار سے مستحکم نظر آتی ہے۔
زمین سمیت سیارے اپنے مداروں میں رواں دواں ہیں۔
سورج میں ایٹم چند قوتوں کے زیر اثر مدغم ہو رہے ہیں اور روشنی اور حرارت پیدا کر رہے ہیں۔
سورج سمیت لاتعداد ستارے روشنی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔
ستارے کہکشاؤں کے مرکز کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔

غرض کائنات میں موجود ہر چیز چند قوانین فطرت کے تحت حرکت کرتی نظر آتی ہے۔ اگر سائنسی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو حیرانی کی بات ہے کہ یہ وسیع و عریض کائنات چند قوانین کے تحت ارتقا پذیر ہے۔ یہ قوانین دور دراز ستاروں اور کہکشاؤں میں اسی طرح لاگو ہیں جس طور ہمارے زندگی کے ہر پہلو میں۔ ان قوانین کی روشنی میں ہم مستقبل کی پیشن گوئی کرنے کے قابل ہیں کہ ستارے، سیارے ایک یا دس سال یا پھر سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال بعد کہاں ہوں گے؟

چاند گرہن کب ہو گا؟
سورج کب اپنی روشنی کھو دے گا؟
ایک کہکشاں کب دوسری کہکشاں سے ٹکرائے گی؟
دمدار ستارا کب واپس آئے گاَ؟
یہ چند مثالیں ہیں۔
سائنسی قوانین کی نوعیت سے وابستہ دو اہم باتیں ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قوانین ریاضیاتی مساواتوں کی شکل میں لکھے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر نیوٹن نے دریافت کیا کہ دو چیزوں کے درمیان ہمیشہ کشش کی طاقت ہوتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی یا کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں۔ یہ قوت ان چیزوں کی کمیت کے متناسب ہے۔ یعنی بھاری چیزوں کے مابین کشش کی طاقت، ہلکی اشیا کے مقابلے میں زیادہ ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ جیسے جیسے دو اجسام کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، ان کے مابین کشش کمزور ہوتی جاتی ہے۔ اگر اجسام کے درمیان فاصلہ دگنا کر دیا جائے تو کشش ثقل چوتھائی ہو جائے گی اور اگر فاصلہ تین گنا ہو جائے تو کشش نواں حصہ رہ جائے گی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان قوانین کی بنیادوں میں چند خاص مقداریں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایک کلوگرام کے دو اجسام جب ایک میٹر کے فاصلے پر ہوتے ہیں تو وہ کس قوت سے ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، اس نمبر کا تعین بھی قدرت نے کیا ہے اور یہ نمبر، جس کو G سے نامزد کیا جاتا ہے، ساری مشاہدہ کردہ کائنات میں ہر جگہ اور ہر وقت یکساں ہے۔ اسی طرح روشنی کی رفتار، تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ، کائنات میں ہر جگہ ایک ہی ہے۔ اس طرح کی چھبیس مقداریں ہیں جو ان قوانین کی اساس ہیں جن کے تحت اس کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان مقداروں کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس بات کی کوئی توجیہہ نہیں ہے کہ قدرت نے ان کا انتخاب کیوں کیا ہے۔ یہ constants  دوسرے مقداروں سے اخذ نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے بجائے، ان کی پیمائش محض تجربات اور مشاہدات کے ذریعے کی جاتی ہے۔

اس وقت جو قوانین کائنات میں ہونے والے ہر واقع کی وضاحت کرنے کے قابل ہیں، ان میں کوانٹم مکینکس کے قوانین اور نظریہ اضافیت سر فہرست ہیں۔ کوانٹم مکینکس کی بنیادی مساوات شروڈنگر نے 1926 میں تجویز کی تھی، جبہہ نظریہ اضافیت آئن سٹائن نے 1915 میں پیش کیا تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قوانین فطرت کہاں سے آئے ہیں۔ یہ فیصلہ کب اور کن حالات میں ہوا کہ کائنات کا نظام ان قوانین کے تحت ارتقا پذیر ہو گا۔

سائنسدان ان سوالات کا حتمی جواب پانے کی منزل سے ابھی دور ہیں۔

یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ ان قوانین کی نوعیت اس سے مختلف ہوتی جو ہمیں نظر آتی ہے۔ اور پھر روشنی کی رفتار، کشش ثقل سے وابستہ constant، الیکٹرون اور پروٹون کی کمیت اور برقی چارج جیسی بنیادی مقداریں وہ کیوں ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں۔ یہ مختلف بھی تو ہو سکتی تھیں۔ ان مقداروں میں تبدیلی نہ صرف اس کائنات کی موجودہ ہیئت میں تبدیلی کا باعث ہوتی بلکہ اس کائنات کو اس حد تک غیرمستحکم کر سکتی تھی کہ اس کا موجودہ حال تک پہنچنا ناممکن ہو جاتا۔

یہاں میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ رفتار نظریہ اضافیت کی سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ زمان و مکاں کی نوعیت کا انحصار اس رفتار پر ہے۔ روشنی کی رفتار یہ بھی تعین کرتی ہے کہ اس کائنات میں مادہ زیادہ سے زیادہ کس رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔ اگر روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی بجائے تیس میٹر فی سیکنڈ ہوتی تو ہماری عام زندگی کے مشاہدات کہیں مختلف ہوتے۔ ایک پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ چلتی گاڑی میں بیٹھے افراد کو اپنے اردگرد کی چیزوں کا سائز بہت مختصر نظر آتا۔ اور جیسے جیسے گاڑی آہستہ ہوتی جاتی، ان چیزوں کی لمبائی بڑھتی جاتی۔

کوانٹم مکینکس کی سب سے اہم مقدار پلانک کونسٹنٹ (Planck constant) ہے جس کو h سے نامزد کیا جاتا ہے۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کوانٹم اثرات کا مشاہدہ نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پلانک کونسٹنٹ کی مقدار انتہائی کم ہے۔ اسی لیے کوانٹم اثرات ایٹم اور الیکٹرون جیسے چھوٹے ذرات میں تو نمایاں ہوتے ہیں مگر بڑے ذرات میں ان اثرات کو دیکھنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اگر پلانک کونسٹنٹ کی مقدار موجودہ مقدار سے ایک ارب گنا زیادہ ہوتی تو ہمیں اردگرد کی چیزیں اور لوگ مخصوص مقامات پر متعین نظر نہ آتے۔ بلکہ ان تمام چیزوں کی نوعیت بادلوں کی سی ہوتی۔ یہ بادل حرکت کرتے پھیل رہے ہوتے۔ لیکن یہ بادل کوئی حقیقی بادل نہ ہوتے بلکہ یہ تو امکانات کے بادل ہوتے۔ جیسے ہی ہم مشاہدہ کرتے تو یہ بادل ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتے۔

جو چیز انتہائی حیران کن ہے، وہ یہ کہ سائنسی قوانین اس کائنات اور اس زمین پر اس طرح لاگو ہیں کہ ان میں معمولی سا بھی تغیر اس کے وجود کو ختم کر سکتا تھا۔ اسی طرح قوانین فطرت سے وابستہ constants اتنے نازک ہیں کہ ان سے تھوڑا سا انحراف بھی زندگی کی موجودگی کو ناممکن بنا دیتا۔ یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

فطرت کی دو سب سے بنیادی قوتیں کشش ثقل اور برقی مقناطیسی قوتیں ہیں۔ کشش ثقل دو اشیا کے درمیان ایک پرکشش قوت ہے اور اس زمین پر ہمارے وجود کی ذمہ دار ہے۔ جب کہ برقی مقناطیسی قوت دو چارجز کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ مخالف چارجز کے درمیان ایک پرکشش قوت ہوتی ہے مگر ایک ہی جیسے چارجز کو ایک دوسرے سے دور لے جاتی ہے۔ سب سے چھوٹے چارجز پروٹون اور الیکٹرون ہوتے ہیں۔ پروٹون پر مثبت چارج ہوتا ہے اور الیکٹرون پر منفی چارج۔ ثقلی قوت برقی مقناطیسی قوت کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہے۔ یہ دونوں قوتیں ستاروں اور کہکشاؤں کو برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہیں۔ دو پروٹون کے درمیان برقی مقناطیسی قوت اور کشش ثقل کی طاقت کا تناسب تقریباً ( 1 کے بعد 36 صفر) ہے۔ یہ انتہائی بڑا فرق ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہ تناسب صرف تھوڑا سا مختلف ہوتا، تو کائنات ستاروں اور کہکشاؤں کے بننے سے پہلے ہی منہدم ہو چکی ہوتی۔

تمام اشیا ایٹموں سے بنی ہیں۔ ایٹم کا مرکزی حصہ نیوکلیئس کہلاتا ہے جو پروٹون اور نیوٹرون پر مشتمل ہوتا ہے۔ نیوٹرون پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔ نیوکلیئس الیکٹرانوں سے گھرا ہوتا ہے۔ نیوکلیئس میں موجود نیوٹرون کا وزن پروٹون کے مقابلے میں تھوڑا سا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر نیوٹرون اور پروٹون کا تناسب جو 1.00137841931 کے برابر ہے، پلٹ دیا جائے اور پروٹون کو نیوٹرون سے زیادہ بھاری بنا دیا جائے تو ایٹموں کا ہونا ممکن نہ ہوتا۔ اس صورت میں کائنات اور زندگی کا وجود ناممکن ہوتا۔ اگر الیکٹرون کا برقی چارج صرف تھوڑا سا مختلف ہوتا تو ستارے چمکنے کے قابل نہیں ہوتے، اس صورت میں ہائیڈروجن ایٹم فیوژن پراسس کے ذریعے ہیلیم میں تبدیل نہ ہو سکتے۔ یہ پراسس سورج اور ستاروں میں پیدا ہونے والی روشنی اور حدت کا سبب ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

یہ ایسے اتفاقات کا بہت چھوٹا نمونہ ہے، جو اس کائنات کی موجودہ شکل اور اس میں زندگی کی موجودگی کے لیے ضروری ہیں۔ سائنس دان، نہ صرف طبیعیات اور فلکیات میں بلکہ سائنس کی دیگر شاخوں میں بھی، بہت بڑی تعداد میں ایسے اتفاقات سامنے لائے ہیں، جو کائنات میں زندگی کی موجودگی کا سبب ہیں۔ ان میں سے بہت سے یہاں درج فہرست سے بھی کہیں زیادہ ڈرامائی ہیں۔

یہ کیونکر ہے کہ کائنات کے قوانین اتنے نازک ہیں کہ ان سے بہت معمولی انحراف زندگی، بلکہ پوری کائنات، کی موجودگی کو ناممکن بنا دیتا؟

اسی سوال سے وابستہ ایک اور سوال یہ ہے کہ ایک مستحکم کائنات قائم کرنے میں ممکنہ ”میکانزم“ کیا ہیں جو ہماری کائنات کو وہ خصوصیات دیتے ہیں جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں؟

کائنات کا پہلا سیکنڈ کائنات کی زندگی میں سب سے اہم تھا۔ ان ابتدائی لمحات میں جو کچھ ہوا اس نے بنیادی طور پر اس بات کا تعین کیا کہ یہ کس قسم کی کائنات ہوگی اور فطرت کے وہ کون سے قوانین ہوں گے جن کے تحت یہ کائنات اور اس میں موجود تمام مادہ اور توانائی اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ اس لیے سب سے پہلے موجودہ نظریات کی بنیاد پر اس اہم سیکنڈ میں کائنات کے ارتقا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

کائنات کے سب سے ابتدائی لمحات بگ بینگ کے وقت سے لے کر اس وقت تک پھیلے ہوئے تھے، جو ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے کھربویں حصے کے اربویں حصے کے برابر ہے۔ یہ ایک ناقابل یقین حد تک مختصر وقت ہے۔ یہ وہ دور ہے جب توانائی اور اس سے وابستہ اتار چڑھاؤ یعنی Fluctuations، کا غلبہ تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم کائنات کے ان بالکل ابتدائی لمحات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس دور میں جو کچھ ہوا اسے اس وقت تک پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا جب تک کہ دو بڑے نظریات، کوانٹم مکینکس اور نظریہ اضافیت، کو ایک متحد نظریہ میں یکجا نہیں کیا جاتا۔ اس دور کو پلانک دور کہا جاتا ہے، جسے جدید کوانٹم مکینکس کے بانی میکس پلانک کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

پلانک دور کے اختتام پر کائنات ایک الیکٹرون کے سائز سے کھربوں گنا چھوٹی تھی۔ یاد رہے کہ الیکٹرون کا سائز ایک ملی میٹر کے کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب فطرت کی تمام قوتیں، کشش ثقل، برقی اور مقناطیسی قوتیں، نیوکلیائی قوت جو نیوکلیس کو آپس میں جوڑتی ہے، اور وہ کمزور قوت جو نیوکلیس سے ذرات کے اخراج کی اجازت دیتی ہے، یہ سب یکجا تھیں۔ یہ سب ایک ہی قوت کا پرتو تھیں۔ اس وقت نہ ہی کسی قسم کے قوانین فطرت موجود تھے اور نہ ہی مختلف constants موجود تھے۔

کائنات کی پیدائش سے وابستہ سب سے اہم یہ واقعہ وقوع پذیر ہوا کہ پلانک دور کے اختتام پر ایک انتہائی مختصر عرصے میں کائنات ایک ناقابل یقین حد تک پھیلتی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کائنات صرف توانائی پر مشتمل تھی اور کسی قسم کے کوئی ذرات موجود نہیں تھے۔ اس وقت توانائی کی کثافت بہت زیادہ تھی۔ اس وقت درجہ حرارت اور دباؤ ناقابل یقین حد تک زیادہ تھا، بالکل اس طرح جیسے ایک پریشر ککر میں بھاپ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں کائنات بہت قلیل لمحے کے دوران انتہائی تیزی سے پھیلی۔ اس دور میں، جسے Inflation کا دور کہا جاتا ہے، کائنات کے حجم میں (یعنی ایک کے بعد 78 صفر) گنا اضافہ ہوا۔

اب ہم اس سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ ہماری مشاہدہ کردہ کائنات میں قوانین فطرت کی نوعیت وہ کیوں ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور ان آفاقی constants کی مقدار وہ کیوں ہے جو ہمیں کائنات میں ہر جگہ یکساں نظر آتی ہیں۔ یہ مقداریں اتنی نزاکت کے ساتھ اس کائنات میں موجود ہیں کہ ایک معمولی سا رد و بدل اس کائنات کو یا تو پنپنے نہ دیتا یا پھر موجودہ شکل تک پہنچنے میں مانع ہوتا۔ اس صورت میں زمین جیسے سیارے پر زندگی کا وجود ناممکن بن جاتا۔

ابتدائی لمحات میں انتہائی تیز رفتاری سے پھیلتی کائنات میں موجود ناہمواریاں اس پھیلی ہوئی کائنات میں اتنے بہت سے خطوں میں اس طور موجود ہیں کہ ہر خطے میں کوئی ناہمواری نہیں۔ اور ان میں سے ایک خطہ ہماری مشاہدہ کردہ کائنات ہے۔

اب ایک منظر نامہ یہ ہے کہ جب کائنات ابتدائی لمحات میں پھیلی تو یہ پھیلاؤ کائنات کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں ختم ہو گیا اور کائنات کے ان حصوں میں پھیلاؤ کی رفتار سست ہو گئی۔ ہماری مشاہدہ کردہ کائنات میں inflation سے وابستہ یہ زبردست پھیلاؤ 13.8 ارب سال پہلے ختم ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہماری مشاہدہ کردہ کائنات کے قوانین فطرت طے ہوئے۔ اسی وقت ان بنیادیconstants کی مقداریں بھی طے ہوئیں۔ نتیجہ یہ کہ ان قوانین اور constants کی بدولت وہ کائنات وجود میں آئی جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس میں ہم اور زندگی کی دوسری شکلوں کے پیدا ہونے کے لیے سازگار حالات تھے۔

لیکن کائنات کے دوسرے حصوں میں inflation کے تحت کائنات کا پھیلاؤ دوسرے اوقات میں ختم ہوا۔ امکان ہے کہ وہاں کے قوانین فطرت ہماری مشاہدہ کردہ کائنات سے بہت مختلف ہوں گے۔ نتیجہ یہ کہ کائنات کے ان حصوں کا ارتقا ہماری مشاہدہ کردہ کائنات سے بہت مختلف ہوا ہو گا۔

غرض اس منظر نامے کے مطابق یہ کائنات بہت سی چھوٹی چھوٹی کائناتوں پر مشتمل ہے اور ہرچھوٹی کائنات میں قوانین اور ان سے وابستہ constants کی مقداریں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان چھوٹی کائناتوں میں سے ایک وہ کائنات ہے جس میں ہم موجود ہیں۔

سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ ایک عمل جس کو spontaneous symmetry breaking کا نام دیتے ہیں، شاید ایک دن اس بات کی وضاحت کر سکے کہ ہماری کائنات میں روشنی کی رفتار جیسے constants کی وہ مقدار کیوں ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ عمل جدید سائنس کے مختلف شعبوں میں استعمال ہو تا ہے۔

اس عمل کو سمجھنے کے لیے ایک پنسل کی مثال پر غور کرتے ہیں جو اپنی نوک پر انتہائی غیر مستحکم حالت میں کھڑی ہے۔ اس حالت میں چاروں طرف سے پنسل یکساں حالت میں نظر آئے گی۔ اگر ہر رخ کسی قوت یا constant کی ایک خاص مقدار کی نمائندگی کرتا ہو تو اس صورت میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تمام مقداروں کا امکان مساوی ہے۔ لیکن پنسل اس غیر مستحکم مگر symmetric حالت میں زیادہ دیر نہیں کھڑی رہ سکتی۔ جلد ہی یہ گر پڑے گی لیکن اس کی سمت کسی بھی طرف ہو سکتی ہے۔ جس رخ میں گرے گی، اس سے وابستہ قوت کی ایک مخصوص مقدار ہو گی۔ اگر یہ تجربہ بار بار کیا جائے، تو ہر دفعہ پنسل کی سمت مختلف ہو گی۔

اس مثال کی روشنی میں ایک ممکنہ منظر نامہ یہ ہے کہ پیدائش کے وقت کائنات کا درجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ کسی بھی constant سے وابستہ ہر مقدار ممکن تھی۔ لیکن جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی، درجہ حرارت میں کمی آتی گئی۔ اور کائنات کے مختلف حصوں میں مخصوص مگر random قوانین فطرت بنتے گئے۔ ان کائناتوں میں سے ایک ہماری مشاہدہ کردہ کائنات ہے جس میں موجود قوانین ایسے ہیں جن کی بدولت زندگی کا ظہور ممکن ہو سکا۔ اگر ہم کبھی اس قابل ہوئے کہ اربوں نوری سالوں کا سفر کر کے کائنات کے ایک اور حصے میں وارد ہوئے تو اس بات کا خوب امکان ہے کہ وہاں قوانین فطرت کی نوعیت مختلف ہو گی۔

یہ منظرنامہ اس وقت محض ایک مفروضہ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ لیکن کائنات کے ان رازوں کو جاننے کے لیے سرتوڑ سائنسی ریسرچ جاری ہے۔ شاید ایک دن آئے گا جب ہم یہ جان سکیں گے کہ یہ قوانین فطرت، جو اتنے خوبصورت ہیں اور جن کے تحت ہماری کائنات ارتقا پذیر ہے، ان کا منبع کیا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy