لیڈی ڈاکٹر: خواب، محبت اور زندگی (16)
لیڈی ڈاکٹر
ڈاکٹر نعیم کی جگہ ایک لیڈی ڈاکٹر (خواتین ڈاکٹرز کے لئے استعمال ہونے والی قدیم برطانوی /پاکستانی اصطلاح) کا تقرر ہوا۔ ویسے تو اس تقرری سے ساری کالونی میں ہلچل مچی لیکن ہماری فیملی پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ لیڈی ڈاکٹر امریکہ سے ایم ڈی کی ڈگری لے کر آئی تھی جو اس زمانے میں ایک لڑکی کے لئے بہت بڑی بات تھی۔ وہ ایک سمارٹ خاتون تھی اور غیر شادی شدہ تھی۔ وہ اکثر بغیر آستین کی قمیصیں پہنتی تھی جو ماڈرن ہونے کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت تک کالونی کے افسران کی بیگمات میں سے کوئی سلیو لیس قمیصیں نہیں پہنتی تھیں۔ ابی کو بہت شوق تھا کہ امی بغیر آستین کی قمیصیں پہنیں لیکن امی اس کے لئے خود کو ذہنی طور پر کبھی تیار نہیں کر پائیں۔ ہمارے گھر میں آنے والے انگریزی رسالوں میں میموں نے کالر والے لمبے فراک پہنے ہوتے تھے، ابی کو بہت شوق تھا کہ امی کالر والی قمیصیں
پہنیں۔ امی نے اپنے ٹیلر سے کئی مرتبہ کالر والی قمیص سلوانے کی کوشش کی لیکن زنانہ کپڑے سینے والا ٹیلر کبھی بھی صفائی سے کالر نہیں لگا پایا اور امی نے تنگ آ کر یہ کوشش چھوڑ دی اور ابی کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔
ایک اور ”ماڈرن“ چیز جس کی ابی کو کبھی گھر میں اجازت نہیں ملی، وہ گھر میں کتا رکھنا تھی۔ ابی کو کتا پالنے کا بہت شوق تھا لیکن آپا، ہماری نانی کا کہنا تھا کہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے، وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اس کے علاوہ آپا کی صبح صبح بلند آواز میں تلاوت سے بھی ابی کی نیند اور اس کے نتیجے میں موڈ خراب ہوتا تھا۔ ایک بات جس پر امی کو غصہ آتا تھا، وہ ماہانہ بجٹ کا خراب ہونا تھا۔ سودا سلف لانا آپا کی ذمہ داری تھی اور وہ بہت سی وہ چیزیں بھی خرید لاتی تھیں جو امی نے نہیں منگوائی ہوتی تھیں۔ یہ اور بات کہ ان کے تیار کردہ پکوان سب مزے لے لے کر کھاتے تھے۔ ہمارے گھر میں نمکین کشمیری چائے روز بنتی تھی اور ابی بھی اس میں چینی ڈال کے شوق سے پیتے تھے لیکن کھانوں میں دلی اور کشمیری پکانے کا انداز مسئلہ پیدا کرتا تھا۔ امی اور آپا دوپہر میں روٹی اور رات کو ابلے ہوئے چاول کھاتی تھیں۔ ابی دونوں وقت روٹی کھانا پسند کرتے تھے۔ ابی کی وجہ سے کچھ سالنوں میں مرچیں بہت ڈالی جاتی تھیں جب کہ کچھ کشمیری کھانوں میں گڑ یا چینی ڈلتی تھی۔ ہم بچوں سے مرچوں والا سالن نہیں کھایا جاتا تو امی
گرم گرم ابلے ہوئے چاولوں میں خالص گھی اور چینی ڈال کر ہمیں پلیٹ بنا کر دے دیتی تھیں جو ہم بہت شوق سے کھاتے تھے۔ ابی کے پان کھانے کی عادت کی وجہ سے بتدریج ان کی تیز مرچیں کھانے کی عادت چھٹ گئی کیونکہ اکثر پان میں چونا تیز ہو جانے کی وجہ سے ان کی زبان کٹ جاتی تھی اور تب وہ تیز مرچوں والا سالن نہیں کھا سکتے تھے۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ انہیں میٹھے کشمیری کھانے اچھے لگنے لگے۔ ناشتے میں پراٹھے کھانا ہم بچوں کو بہت اچھا لگتا تھا۔ دوپہر میں آپا کبھی ہمارے لئے چوکور شکل کا میٹھا پراٹھا اور رات کو کبھی گڑ والے چاول بھی بنایا کرتی تھیں۔ گرمیوں میں اکثر چھٹی والے دن ابی گھر میں ہاتھ سے چلانے والی مشین میں آئس کریم بنایا کرتے تھے جو پورے گھرانے کی مشترکہ سرگرمی ہوتی تھی۔
خیر بات ہو رہی تھی لیڈی ڈاکٹر کی جو اپنی آمد کے بعد سے سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ خواتین اپنے نسوانی مسائل کی وجہ سے اسے گھیرے رہتی تھیں اور مرد اس کے سمارٹ اور غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ اس کی طرف راغب ہوتے تھے۔ جلد ہی وہ امی کی سہیلی بن گئی اور اس کا ہمارے گھر آنا جانا شروع ہو گیا۔ ابی کو تو ماڈرن خواتین ویسے بھی پسند تھیں۔ خود ابی بھی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھے، شاید اسی لئے لیڈی ڈاکٹر کی نظر انتخاب بھی ان ہی پر پڑی۔ لیڈی ڈاکٹر کو ہمارے گھر کے سامنے والا بنگلہ ملا تھا جہاں پہلے ڈاکٹر نعیم رہتے تھے۔ آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے ہمارے گھر کی چھت سے اس کے بنگلے کا صحن اور کچھ اندرونی حصہ نظر آتا تھا۔
لیڈی ڈاکٹر کی ماں کبھی کبھار اس کے پاس رہنے کے لئے آیا کرتی تھی۔ وہ ایک لمبی چوڑی بردبار خاتون تھیں اور ان کے ہاتھوں میں موٹے دانوں والی ایک لمبی تسبیح رہتی تھی۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی اپنی بیٹی کی شادی کی فکر لاحق تھی۔ وہ اکثر امی سے بھی اپنی پریشانی کا ذکر کرتی تھیں۔ لیڈی ڈاکٹر کا ایک کزن اس سے شادی کا خواہشمند تھا اور اس کی ماں بھی یہی چاہتی تھی لیکن ان کی بیٹی اسے پسند نہیں کرتی تھی۔ کالونی میں یہ بھی افواہ اڑی ہوئی تھی کہ خود چیئرمین صاحب بھی لیڈی ڈاکٹر سے شادی کے خواہشمند ہیں۔ قصہ مختصر ایک پرکشش اور غیر شادی شدہ خاتون ہونے کی وجہ سے اس کی شادی کا معاملہ کالونی والوں کا محبوب ترین موضوع بن چکا تھا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ابی کا لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔
(جاری ہے)

